Skip to content
Sitaar Urdu







15 مصنوعی ذہانت


ہر جاندار ایک چھوٹا یا بڑا دماغ رکھتا ہے۔ اس کا بہتر اور مناسب استعمال ذہانت کہلاتا ہے۔ انسانوں میں یہ دماغ اور اس کی کار کردگی اعلی ترین سطح پر نظر آتی ہے۔ اسی ذہانت کی مدد سے انسان صدیوں سے نت نئی ایجادات کر رہا ہے، نئی نئی مشینیں بنارہا ہے ۔ شروع میں پیشینیں ہاتھ سے چلتی تھیں پھر بھاپ کی طاقت سے چلیں اور اب بجلی یا سورج کی توانائی سے چلنے لگی ہیں۔ ان کو خاص وقت پر اپنے آپ چلانے کے طریقے کو ہم خود کاری اور ایسی مشین کو خود کار یعنی آٹو میٹک کہتے ہیں۔ حیدر آباد دکن کے مشہور سالار جنگ میوزیم میں ایسی ہی ایک خود کار میوزیکل گھڑی لگی ہوئی ہے جس میں ہر گھنٹے پر ایک دروازہ کھلتا ہے اور ایک درباری دونوں ہاتھوں میں گھنٹہ بجانے کے گرز لے کر باہر نکلتا ہے اور ٹھیک وقت پر وہ اس سے گھنٹہ بجادیتا ہے۔ چار بجے چار گھنٹے اور بارہ بجے بارہ گھنٹے۔ یہ خود کار کردگی مشین میں میکانیکل یعنی مشینی پرزوں کی مدد سے سیٹ کی گئی تھی۔

Screenshot 2025-09-11 at 14-19-28 huky118.pdf

کمپیوٹر کی ایجاد نے مشینوں کی خود کاری ( آٹومیشن) کو بہت بہتر اور تیز کر دیا۔ ہماری کپڑے دھونے کی مشین اب اپنے آپ کام مکمل ہونے پر رک جاتی ہے، کھانا گرم کرنے والے مائیکرو ویو اون ہمارے حکم ( کمانڈ ) کے مطابق 5 یا 10 منٹ کھانا گرم کر کے خود رُک جاتے ہیں۔ لیکن یہ خود کاری کی و قسم تھی جس کو ہم سیٹ کرتے ہیں۔ آپ سوچیں کہ اگر کوئی مائیکرو ویو کھانے کو دیکھ کر خود فیصلہ کرے کہ اس کو کس طرح اور کتنی دیر گرم کرے تو یہ کتنا اچھا ہو گا یعنی ہم خود مشین کے اندر ذہانت پیدا کر دیں کہ وہ سوچ سکے، کام کو سمجھے اور ضرورت کے

Screenshot 2025-09-11 at 14-19-41 huky118.pdf

مطابق ایک فیصلہ لے کر اُس پر عمل کرنے لگے۔ اسی کو ہم مصنوعی ذہانت کہتے ہیں یعنی انسان کے ذریعے بنائی گئی ذہانت جو مشینوں کو خود سوچنے، سمجھنے، دیکھنے ، سننے اور کام کرنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ ہمارے روبوٹ اس کا نمونہ ہیں۔

آپ گھر میں سیری ، الیکسا یا گوگل اسسٹنٹ کو کچھ کرنے کو کہتے ہیں یا کچھ پوچھتے ہیں تو وہ جواب دیتا ہے۔

گوگل پر جب آپ کوئی سوال ٹائپ کرتے اور جواب پاتے ہیں، یا آپ کے گھر میں ایسا موبائل فون ہے جو استعمال کرنے والے کا چہرہ پہچان کر کھلتا ہے۔ یہ سب مصنوعی ذہانت کے کرشمے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کمپیوٹر سائنس کا ہی ایک نیا شعبہ ہے۔ اس میں اسی طرح کے سوفٹ ویئر ، یعنی کمپیوٹر پروگرام بنائے جاتے ہیں جو مشینوں کو اپنے ماحول کو سمجھنے، اطراف کی ہر چیز کو سکھنے پہچاننے اور ان کے بارے میں اپنی سمجھ سے فیصلہ کرنا سکھاتے ہیں تا کہ وہ مطلوبہ کام کر سکیں۔ اس کی شروعات اگر چہ 1956 میں ہوئی تھی لیکن کمپیوٹر سائنس میں ہونے والی پیش رفت اور تیز رفتار ترقی کے بعد 2000 سے مصنوعی ذہانت کے میدان کو بھی وسعت ملنے لگی اور پھر 2020 کے دہے سے ذہین، مشینیں، کمپیوٹر، آلات اور موبائل تیزی سے بنے اور پھیلنے لگے۔

Screenshot 2025-09-11 at 14-19-53 huky118.pdf

انسان اور اُس کے ہم نسلوں کے دماغ کی بنیادی اکائی سیل (خلیہ ) ہوتے ہیں اُن کو نیورون کہا جاتا ہے۔ یہ سیل لمبوترے ہوتے ہیں جن کے دونوں سروں پہ بہت ساری شاخیں نکلی رہتی ہیں ( تصویر -1)۔ ایک سیل کی شاخیں دوسرے سیل کی شاخوں تک پیغامات بہت ہلکی، کم قوت کی بجلی کے ذریعے پہنچاتی ہیں۔ یعنی ہمارے دماغ میں ہر وقت بہت کم لاکھوں کروڑوں ہلکی بجلی کے سرکٹ چلتے رہتے ہیں جن کی مدد سے پیغام وصول بھی ہوتے ہیں اور دماغ سے جسم کے تمام حصوں کو جاتے بھی ہیں۔ یہی نیورون ہمیں ذہانت دیتے ہیں۔ ہم چیزیں دیکھ اور پہچان سکتے ہیں ، سمجھ سکتے ہیں،

بول اور رٹن سکتے ہیں۔ ہماری یہ تمام صلاحیتیں بچپن میں ہمارے ہوش سنبھالتے ہی پہنے لگتی ہیں۔ بچہ ہلکے ہلکے اپنے آس پاس کی آوازوں اور چیزوں کو پہچانے لگتا ہے۔ آوازوں کو سنے لگتا اور پھر بولنے لگتا ہے۔ اسی طرح مشینوں کو ذہین بنانے کے لیے ان میں انسانی دماغ کی طرح لیکن مصنوعی، نیورل نیٹ ورک بنائے جاتے ہیں جو اب کلی کون چپس (Chips) پہ بن رہے ہیں۔ ان میں ایک پرت پیغام وصول کرنے والی ان پٹ پرت ہوتی ہے، ایک آؤٹ پٹ یعنی پیغام دینے والی اور درمیان کی پرت میں ہی مصنوعی ذہانت کے نیٹ ورک آنے والے پیغام کی بنیاد پر آؤٹ پٹ یعنی ایک کام یا نتیجہ دیتے ہیں ( تصویر (2)۔ ان مصنوعی نیٹ ورکس کو بھی ان پٹ دے کر پہلے سکھایا جاتا ہے کہ کیا چیز کیسی ہے، ہر ارنگ کیسا دکھتا ہے، یا بلی کیسی ہوتی ہے۔

Screenshot 2025-09-11 at 14-20-01 huky118.pdf

چھوٹے بچے کی طرح یہ مصنوعی نیورون بھی ہلکی ہلکی چیزوں مصنوعی ذہانت پیدا کرنے والے نیورون کو پہچان کر ان کو اپنی یاد داشت آؤٹ پٹ نیورون میں ڈاٹا کی شکل میں محفوظ کر لیتے ہیں۔ اس بنیادی معلومات کے بعد پھر مزید پیچیدہ معلومات سکھائی جاتی ہیں، زبانیں، ان کے حروف، اُن کی آوازیں سکھائی جاتی ہیں۔ پھر جذبات یعنی مسکراہٹ، ان بٹ نیورون مصنوعی نیورل نیٹ ورک آنسو، غصے کی کیفیت کو پہچاننا اور تصویر (2) اُس کے مطابق رد عمل دینا۔ یہ ارتقا درجہ بہ درجہ ہوا۔ اسی لیے شروع میں بننے والے روبوٹ صرف مشین جیسے نظر آتے تھے پھر رفتہ رفتہ وہ ایک شکل لینے لگے۔ ایک روبوٹ کھی کی طرح اڑے گا، آواز پیدا کرے گا لیکن اُس کی آنکھوں میں لگا ہوا کیمرہ جہاں وہ ہے وہاں کی تصویر میں اپنے مالک کو پہنچا دیا۔ انسان کے کام کرنے والے روبوٹ اب انسانوں کی شکل اور رنگ روپ میں نظر آتے ہیں۔ پہلے یہ روبوٹ دھات کے بنے نظر آتے تھے آج سیلی کون اور دیگر مادوں سے یہ انسان کی طرح نرم گوشت پوست والے دکھائی دیتے ہیں۔ ہم سے باتیں کرتے اور ہماری بات کو سمجھ کر ان کا جواب دیتے ہیں۔ ایک طرح سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کمپیوٹر زندہ ہو گئے ہیں۔

Screenshot 2025-09-11 at 14-20-11 huky118.pdf

اس مصنوعی ذہانت کو ہم کسی بھی انسان کی آواز کے ریکارڈ سناکر، بالکل اُس انسان جیسی آواز بنا سکتے اور کسی کی بھی شکل جیسا دوسرا انسان بنا سکتے ہیں۔ یعنی آج ہم اپنے کمپیوٹر پر کسی بڑی شخصیت کو حال کے کسی مسئلے یا موضوع پر بات کرتے ہوئے خود دیکھ سکتے ہیں۔ ہر نئی ترقی کے بہت سارے فائدے ہیں تو کچھ نقصانات بھی ہوتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت بھی انسانیت کے لیے کئی میدانوں میں خطر ناک ثابت ہو رہی ہے۔ ایک بڑا خطرہ اصل اور نقل کا ہے۔ آپ ویڈیو میں دیکھتے ہیں کہ آپ پیرس کے ڈاؤن ٹاؤن میں گھوم رہے ہیں جب کہ آپ تو وہاں کبھی گئے ہی نہیں۔ لوگ ایک دوسرے کی شکل، میک اپ کے ذریعے نقلی (Fake) بناتے تھے جو بڑی حد تک اصل جیسی لگتی تھی لیکن اب مصنوعی ذہانت اتنی گہری نقل بناتی ہے کہ وہ اصل ہی لگتی ہے۔ اس لیے اس کو ڈیپ فیک کہتے ہیں۔

اس ڈیپ فیک کی وجہ سے دھوکا بازی اور جعل سازی کے خطرات بہت بڑھ گئے ہیں۔ اب اس کے ماہرین لوگوں کو خبر دار کر رہے ہیں کہ آپ اپنے گھر کے افراد اور رشتہ داروں کی تصویر یں، ویڈیو یا آوازوں کے کلپ سوشل میڈیا پر ڈالتے وقت احتیاط سے کام لیں۔ تا کہ کوئی بھی اُن کا لفاظ استعمال کر کے آپ کی ویڈیو اور آواز سے کوئی غلط پیغام میڈیا پر نہ ڈال سکے۔

Screenshot 2025-09-11 at 14-20-22 huky118.pdf

دوسری طرف اس تکنیک کے بہت فائدے بھی ہیں۔ اب انٹر نیٹ پر کسی بھی موضوع کو تلاش کرنا اور اس کا مواد حاصل کرنا آسان ہو گیا ہے اور ہر چیز کی بھر پور تفصیل مل جاتی ہے۔ نیشنل کونسل آف ایجو کیشنل ریسرچ اینڈ ٹرینگ کے وکشا (DIKSHA) پورٹل پر ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ ای مواد دستیاب ہے جو ویڈیو ، آڈیو اور تصویروں کی شکل میں ہیں۔ ان سے

Screenshot 2025-09-11 at 14-20-32 huky118.pdf

ہم چند ساعتوں میں اپنی ضرورت کا مواد آسانی سے تلاش کر لیتے ہیں۔ اسی طرح این سی ای آرٹی کی ایک اور پیش کش ای جادوئی پٹارہ میں تین مصنوعی ذہانت بوٹ (A bots نصب ہیں۔ ایک پڑھنے پڑھانے کے طریقوں سے متعلق ہے، دوسرا کہانیاں تلاش کر کے سنانے اور تیسرا بچوں کی پرورش کی خاطر والدین کے لیے۔ چیٹ جی پی ٹی ، گوگل جیمنی ، گروک ایسے چند تیز ترین کھوجی ہیں جو انٹرنیٹ کی دنیا سے آپ کی مطلوبہ معلومات کو منٹوں میں لے کر آجاتے ہیں۔ بلکہ اس کو اپنے طور سے بہتر کر کے آپ کو مضمون ، تقریر، کہانی، ڈرامہ یا سلائیڈس کی شکل میں دے دیتے ہیں۔ کسی بھی چیز کو از خود اپنی ذہانت اور حکمت سے بنانے کی ان کی صلاحیت ان کو انسانی دماغ کے قریب لے آئی ہے۔ آنے والے وقت میں یہ ذہین، مشینیں سائنسدانوں کو اُن کی ریسرچ میں، ڈاکٹروں کو نئی دوائیں کھوجنے، اساتذہ کو درس و تدریس، شہروں میں صفائی ، ٹریفک کے نظم و نسق اور ماحولیات کے مسائل حل کرنے میں انسانوں کی بہترین ساتھی اور معاون ہوں گی۔

-ڈاکٹر محمد اسلم پرویز

Screenshot 2025-09-11 at 14-20-41 huky118.pdf

لفظ و معنی

توانائی : طاقت، قوت، زور
خودکار : اپنے آپ کام کرنے والی مشین
خود مختار : آزاد، با اختیار
وسعت : کشادگی، پھیلاؤ
مطلوبه : طلب کیا گیا، جس کی خواہش کی گئی ہو
پیش رفت : آگے بڑھنا، پیش قدمی
ڈاؤن ٹاون : تجارتی، تاریخی یا تہذیبی اہمیت کا حامل شہر
ڈیپ فیک : کمپیوٹر کے ایک ایپ (APP) کا نام جو مصنوعی ذہانت میں اصل کی نقل بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔
جعل سازی : دھو کے بازی، نقل بناکر دھوکا دینا
کلپ : ویڈیو یا فلم کا مختصر

غور کیجیے

اکیسویں صدی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی صدی ہے۔ کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کے بعد مصنوعی ذہانت ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی جدیدترین اور تیز رفتار ایجاد ہے۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے خود کار مشینوں میں پروگرامنگ اس طرح کی جاتی ہے کہ بغیر انسانی مدد کے ہمارے روزانہ کے کام بآسانی ہو جاتے ہیں میشین طے کر لیتی ہے کہ اسے کب تک چلنا ہے اور کب رک جانا ہے۔ جیسے واشنگ مشین، مائیکرو ویو اور اون وغیرہ۔ اسی طرح کمرے کا اے سی (AC) کمرے کے بدلتے ہوئے درجہ حرارت کے مطابق کم اور زیادہ ہو جاتا ہے۔ یہ سب مصنوعی ذہانت کے استعمال کے فوائد ہیں۔

سلی کون ایک کیمیائی مادہ ہے جس کی دریافت سب سے پہلے 1824 میں سویڈن میں ہوئی تھی۔ یہ کمپیوٹر چپس (Chips) اور روبوٹ بنانے میں استعمال ہو رہا ہے۔

سوچیے اور بتائیے

  1. مصنوعی ذہانت سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
  2. مصنوعی ذہانت کی ایجاد نے ہماری زندگی پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں؟
  3. جدید ترین روبوٹ پرانے روبوٹوں سے کس طرح مختلف ہیں؟
  4. ممکنہ سائبر خطرات کون کون سے ہیں اور ان سے کیسے محفوظ رہا جا سکتا ہے؟
  5. مصنوعی ذہانت کا استعمال کہاں کہاں ہو رہا ہے؟

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے

●نیچے دیے گئے جملوں کو فعل نا تمام میں بدل کر لکھیے۔

فعل کے بارے میں آپ پڑھ چکے ہیں۔ اس کے دو حصے ہوتے ہیں۔ فعل تمام اور فعل نا تمام ۔ اب سلی کون چپس بن رہے ہیں۔ اس جملے سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ کام شروع تو ہوا ہے لیکن مکمل نہیں ہوا ہے۔ اسے فعل نا تمام کہتے ہیں۔ جیسے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کمپیوٹر زندہ ہو گئے ہیں۔ اس جملے سے پتہ چلتا ہے کہ کام مکمل ہو چکا ہے تو یہ فعل تمام کی مثال ہے۔ نیچے دیے گئے جملوں کو فعل نا تمام میں بدل کر لکھیے۔

فعل تمام فعل ناتمام
i. مصنوعی نیوران بنائے جاچکے ہیں۔ ____________
ii. سلی کون اور دیگر ماڈوں کا استعمال کر لیا گیا ہے۔ ____________
iii. مشینوں میں کام کرنے کی صلاحیت پیدا ہو گئی ہے۔ ____________
iv. مشینیں پرزوں کی مدد سے بنائی گئی ہیں۔ ____________

●نیچے دیے گئے اقتباس کو غور سے پڑھیے۔ ان میں رموز اوقاف کی نشان دہی کرتے ہوئے ان کے نام لکھیے:

ماں نے کہا: ” بیٹا کھانے کا وقت ہو گیا ہے، آجاؤ۔“ علی نے جواب دیا : ”امی ! میں ابھی آتا ہوں۔“ وہ کل کے امتحان کی تیاری کر رہا تھا۔ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ ٹھکا ٹھک ! علی نے پوچھا: ” کون ہے؟“ باہر سے آواز آئی، ” میں ہوں، احمد ۔“

  1. _______________
  2. _______________
  3. _______________
  4. _______________

●سبق کا عنوان مصنوعی ذہانت ہے، اس میں مصنوعی لفظ صفت ہے جو ذہانت سے اپنی نسبت ظاہر کرتا ہے۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر صفت نسبتی کے الفاظ تلاش کر کے اپنی کاپی پر لکھیے اور یہ بھی لکھیے کہ وہ کس صفت کو ظاہر کرتے ہیں۔

  1. _______________
  2. _______________
  3. _______________

●مصنوعی ذہانت سے متعلق درج ذیل بیانات کے سامنے صحیح یا غلط کا نشان لگائیے :

  1. روبوٹ ہمیشہ انسانوں سے زیادہ سمجھدار ہوتے ہیں۔( )
  2. مصنوعی ذہانت کا مطلب انسانوں کے بغیر کام کرنے والی مشین سے ہے۔()
  3. AI کا تعلق زبان کے ترجمے سے نہیں ہے؟()
  4. مصنوعی ذہانت انسانوں کی طرح سوچ سکتی ہے۔()
  5. سفر کے دوران AI کی مدد سے گاڑی کو منزل مقصود تک لے جاسکتے ہیں۔()

تلاش کیجیے

●چیٹ بوٹس کے متعلق معلومات حاصل کیجیے اور اس کے استعمال کے طریقے لکھیے۔

●آج کل ڈرون کا استعمال عام ہو گیا ہے۔ اس کا ہم کس طرح اور کہاں کہاں استعمال کر رہے ہیں کمرۂ جماعت میں گفتگو کیجیے۔

تخلیقی اظهار

●ڈیجیٹل ٹیکنالوجی صحت و صفائی کے سلسلے میں کس طرح کار آمد ثابت ہو سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایک پیراگراف لکھ کر کمرۂ جماعت میں سنائیے۔

●AI روبوٹ سے بات کرنے کے لیے کسی موضوع پر ایک سوال نامہ تیار کیجیے۔

●عام زندگی میں AI کا استعمال کس طرح کیا جاتا ہے معلومات حاصل کیجیے اور ایک پیراگراف لکھیے۔

عملی کام

●دیے گئے لنک کی مدد سے سائبر تحفظ اور سیکورٹی کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے۔ اپنے ساتھیوں سے اس کے متعلق گفتگو کیجیے۔

https://ciet.ncert.govt.in cyber-safety-security

●نیچے دیے گئے ویب لنک کی مدد سے ہم ای جادوئی پٹارہ تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

https://ejaaduipitara.ncert.gov.in https://diksha.gov.in

●بازار میں مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کرتے ہوئے آپ کس طرح کی سہولیات حاصل کر سکتے ہیں۔ اپنے ہم جماعت ساتھیوں سے گفتگو کیجیے۔

●آپ اپنے آس پاس اور گھروں کو دیکھیے کہ کن کن کاموں میں ایسے ساز و سامان استعمال کیے جاتے ہیں جن میں مصنوعی ذہانت کا استعمال شامل ہے۔ ان کاموں کی فہرست بنائیے اور ان کے متبادل اشیا پر غور کیجیے جن میں انسانی ذہن کا استعمال کرتے ہوئے دستی متبادل شامل ہوں، مثلا کپڑے دھونے کی مشین کے استعمال میں وقت سیٹ کرنے کے بجائے خود کی گھڑی پر وقت مقرر کر کے اس کا استعمال کیا جائے۔

Screenshot 2025-09-11 at 15-37-03 huky118.pdf