اسٹیفن ہاکنگ
اسٹیفن ہاکنگ 8 جنوری 1942 کو آکسفورڈ، انگلینڈ میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے انھیں ریاضی اور سائنس سے خاص دل چسپی تھی۔ 21 سال کی عمر میں وہ ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہو گئے جس میں ان کا اعصابی نظام پوری طرح مفلوج ہو گیا۔ اس بیماری نے ان کے پورے جسم کو بے حرکت بنادیا۔ وہ اپنی انگلیاں ہلانے سے بھی معذور ہو گئے لیکن انھوں نے ہار نہیں مانی۔
وہیل چیئر کی مدد سے چلنے پھرنے والے اسٹیفن نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کا وسیلہ ڈھونڈ نکالا۔ وہ اپنے رخسار کو جنبش دے کر کمپیوٹر کو احکامات دیتے اور کمپیوٹر اسے نوٹ کر کے دنیا تک پہنچا دیتا۔ وہ تخلیق کائنات کے رموز جاننا چاہتے تھے۔ کیمبرج یونیورسٹی میں داخل ہونے کے بعد انھوں نے بلیک ہولز اور نظریات اضافیت پر تحقیق کی اور کائنات کی ابتدا کے متعلق بگ بینگ (Big Bang) کے نظریے کو ریاضی کے مختلف پیمانوں سے ثابت کیا۔
اسٹیفن ہاکنگ نے 1988 میں ایک کتاب تحریر کی جس میں وقت کے تصور کو ایک نیا رخ دیا اور ریاضی کے اصولوں سے بہت سی ایسی باتوں کو ثابت کیا جواب تک دنیا کی نظر سے پوشیدہ تھیں۔ ان کی اس کتاب کا نام 'اے بریف ہسٹری آف ٹائم (A Brief History of Time) ہے۔
ان کی چند اہم دریافتوں میں بلیک ہولز اور ہاکنگ ریڈی ایشن شامل ہیں۔ ہاکنگ نے ثابت کیا کہ بلیک ہولز مکمل طور پر سیاہ نہیں ہوتے بلکہ وہ خاص قسم کی شعاعیں خارج کرتے ہیں جنھیں انھیں کے نام پر 'ہاکنگ ریڈی ایشن کہا گیا۔ یہ دریافت فلکیات کی دنیا میں ایک انقلاب ثابت ہوئی۔
کائنات کی ابتدا کا نظریہ پیش کرتے ہوئے ہاکنگ نے بگ بینگ تھیوری پر تحقیق کی اور یہ ثابت کیا کہ کائنات کی ابتدا ایک دھماکے سے ہوئی اور ذرات پوری کائنات میں پھیل گئے جو بعد میں وسعت اختیار کر کے موجودہ کائنات میں تبدیل ہو گئے۔
نئی نسل کو دل چسپ اور افسانوی انداز میں سائنسی معلومات سے آگاہ کرنے کے لیے اسٹیفن ہاکنگ نے جارج نام کے ایک ایسے بچے کا کردار تخلیق کیا جو کائنات کے رموز کو جاننے کی خواہش رکھتا اور بڑی کوششوں کے بعد خلائی سفر پر روانہ ہو جاتا ہے۔ اس بچے کے خلائی سفر میں پڑھنے والے خود کو شریک محسوس کرتے ہیں اور وہ ان سب تحریکات کا لطف لیتے ہیں جن سے یہ بچہ گزر رہا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی کتاب 'جارج سیکرٹ George's Secret( کی ٹو دی یونیوورس Key to the Universe 2007 میں شائع ہوئی۔ نو سال کے عرصے میں اس سیریز کی پانچ کتابیں منظر عام پر آئیں۔
ہاکنگ نے سائنسی کانفرنسوں میں شرکت کے لیے دنیا کے بہت سے ملکوں کا سفر کیا۔ 2001 میں انھوں نے ہندوستان میں بھی ایک سائنسی کا نفرنس سے خطاب کیا۔ دوران سفر وہ ہندوستان کی مہمان نوازی کی تہذیب و ثقافت سے بے حد متاثر ہوئے۔
اسٹیفن ہاکنگ کے عالمی دورے ان کے عزم اور علم کے فروغ کے جذبے کی مثالیں ہیں۔ انھوں نے بیشتر ممالک میں سائنسی تحقیق کوئی تحریک دی اور دنیا بھر کے لوگوں کو حوصلہ دیا کہ علم کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔
اسٹیفن ہاکنگ کیمبرج یونیورسٹی میں طبیعیات کے پروفیسر تھے۔ انھوں نے اپنے لیکچروں سے لوگوں کو جینے کا حوصلہ دیا۔ وہ وہیل چیئر پر سیکڑوں، ہزاروں افراد کے سامنے اسٹیج پر آتے اور کمپیوٹر کے ذریعے لوگوں سے خطاب کرتے۔ جسمانی حس و حرکت اور قوت گویائی سے محرومی کے باوجود انھوں نے کبھی شکست تسلیم نہیں کی، عزم و ہمت کی علامت، عظیم سائنسی خدمات، انسانی جد و جہد اور کبھی شکست تسلیم نہ کرنے والے اسٹیفن ہاکنگ کا 76 سال کی عمر میں 14 مارچ 2018 کو انتقال ہو گیا۔ ان کی تقریر کا ایک بڑا مشہور اور حوصلہ افزا جملہ ہے:
میرے جیسا انسان جو ہر لحاظ سے معذور ہے، صرف پلکوں کے ذریعے اتنا کام کر سکتا ہے تو آپ کے تو ہاتھ پاؤں ہیں۔ چل پھر سکتے ہیں، بول سکتے ہیں، اتنے اعضا کے مالک ہیں تو آپ کیوں نہیں بڑے کام کر سکتے ہیں ، بس عزم اور ہمت ہونی چاہیے۔“
-اداره
(پڑھنے کے لیے)