Skip to content
Sitaar Urdu







16 پیغام رسانی


پیغام رسانی ہماری زندگی کا اٹوٹ حصہ ہے۔ پیغام رسانی کی ہماری زندگی میں غیر معمولی اہمیت رہی ہے۔ اس کی غیر موجودگی سے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس کا احساس ابتدا ہی سے رہا ہے، لہذا اس اہم انسانی ضرورت کی تکمیل کے لیے مختلف ادوار میں مختلف تدابیر اختیار کی گئی ہیں۔ ڈاک کا نظام شروع میں صرف پیغام بھیجنے اور موصول کرنے تک محدود تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ ترقی کر کے یہ محکمہ اب بہت سارے کام انجام دے رہا ہے۔

Screenshot 2025-09-12 at 09-34-58 huky120.pdf

ہندوستان میں ڈاک نظام کی ابتدا 1766 میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے زیر نگیں لارڈ کلائیو نے کی۔ یکم اکتوبر 1854 کو اسے عوامی سطح پر شروع کیا گیا۔ پہلا ڈاک خانہ کلکتہ میں قائم کیا گیا اور پہلا کاغذی ڈاک ٹکٹ ملکہ وکٹوریہ کی تصویر کے ساتھ جاری ہوا۔ بعد میں مدراس اور ممبئی میں بھی ڈاک خانے قائم ہوئے اور لندن سے منگوائے ہوئے لیٹر باکس مختلف مقامات پر لگائے گئے ۔

Screenshot 2025-09-12 at 09-35-13 huky120.pdf

کچھ ہی عرصے میں ملک کے متعدد علاقوں میں باقاعدہ ڈاک کا نظام قائم ہو گیا۔ ہندوستان میں بعض انوکھے ڈاک خانے بھی بنائے گئے۔

جیسے جموں و کشمیر میں شکارے اور کشتیوں پر ڈاک گھر کھولے گئے۔ ریگستانی علاقوں میں اونٹوں کے ذریعے ڈاک خانوں کا نظام قائم کیا گیا۔ آسام میں برہم پتر ملک کی بڑی ندیوں میں ایسی ندی ہے جو آج بھی آبی مواصلات کا بڑا وسیلہ ہے۔ یہاں فیری بوٹ پوسٹ آفس بنائے گئے ۔ جن کا آغاز 1976 میں ہوا ۔ ان سب ڈاک گھروں نے عوام کی بڑی خدمت کی ۔ ایسے مقامات پر خطوط پہنچانے کی سہولت فراہم کی جہاں پہنچنا دشوار تھا۔

Screenshot 2025-09-12 at 09-35-21 huky120.pdf

مغربی بنگال میں خچر ڈاک گھر دارجلنگ (Darjeeling) ڈویژن کے پہاڑی گاؤں میں شروع کیے گئے جو بہت ہی کار آمد ثابت ہوئے۔ میدانی علاقوں میں سائیکل اور رکشہ ڈاک گھر کا تجربہ کیا گیا لیکن بعد میں با قاعدہ ڈاک خانے قائم ہوئے اور سائیکل سوار ڈاکیوں نے گھر گھر ڈاک پہنچانے کا کام کیا۔

وزارت مواصلات اور اطلاعات کا محکمہ ڈاک ملک کا سب سے قدیم اور اہم محکمہ ہے جس سے نہ صرف خطوط بلکہ تار اور منی آرڈر بھی بھیجے جاتے تھے۔ آزادی کے بعد ملک کے پہلے مواصلاتی وزیر رفیع احمد قدوائی نے رات کی ہوائی ڈاک کا نظام قائم کیا جو شروع میں محدود تھا لیکن بعد میں اس نے بڑی وسعت حاصل کی۔ موجودہ دور میں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مواصلاتی نظام میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئیں ہیں۔ لیکن ڈاک نظام کی اہمیت ابھی بھی قائم ہے۔

Screenshot 2025-09-12 at 09-35-29 huky120.pdf

دور دراز علاقوں میں رابطے کا ذریعہ ڈاک ہی ہے۔ ایسے علاقے جہاں انٹرنیٹ یا موبائل نیٹ ورک کی سہولیات بہت کم دستیاب ہیں وہاں ڈاک ہی رابطے کا سب سے قابل بھروسہ ذریعہ ہے۔

خط، بل سرکاری دستاویز اور دیگر پیغامات ڈاک کے ذریعے پہنچائے جاتے ہیں۔ پاسپورٹ، شناختی کارڈ، عدالتی نوٹس اور دیگر سرکاری کاغذات آج بھی ڈاک کے

Screenshot 2025-09-12 at 09-35-36 huky120.pdf

ذریعے ہی محفوظ طریقے سے بھیجے جاتے ہیں۔ ڈاک نظام سے خط ، پارسل ، تحفے اور کتابیں وغیرہ بھیجی جا سکتی ہیں۔ پوسٹ آفس کی اسپیڈ پارسل سروس آج بھی مقبول ہے ۔ اس لیے ڈاک نظام کو قابل اعتماد اور محفوظ ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

Screenshot 2025-09-12 at 09-35-47 huky120.pdf

محکمہ ڈاک 160 سال سے زیادہ کے عرصے سے ہندوستان کے مواصلاتی نظام کی ریڑھ کی ہڈی رہا ہے۔ اس نے ملک کی سماجی، اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بتدریج ان خدمات میں ترقی اور توسیع ہوتی رہی ہے۔ گذشتہ دس بارہ برسوں میں ان سہولیات میں خاصی تیزی اور بہتری دیکھی گئی ہے۔ پہلے اگر ملک کے لاکھوں شہری ان سہولیات سے مستفید ہوتے تھے تو اب ان کی تعداد بڑھ کر کروڑوں تک پہنچ گئی ہے۔ پہلے اگر سیکڑوں دیہی علاقے ڈاک کی سہولیات سے فیض یاب ہوتے تھے تو اب ایسے لاکھوں دور دراز کے علاقے فیض یاب ہو رہے ہیں۔ جو پہلے ان سہولیات سے محروم تھے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے جو انقلابی سہولیات کا اضافہ کیا ہے ان سے ڈاک خانے کی خدمات میں بھی قابلِ قدر تیزی آئی ہے اور رفتار میں بھی حیرت انگیز تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔ بہت سی بینکنگ اور پوسٹل خدمات اب گھر بیٹھے حاصل ہو جاتی ہیں۔

دہلی کے شاستری بھون میں ملک کا پہلا خواتین ڈاک گھر شروع ہوا۔ یہ مارچ 2013 میں شروع کیا گیا۔ ہندوستان کی پہلی خاتون ڈاکیہ اندر اوتی ہیں، جن کا تقرر دہلی کے کناٹ پلیس ڈاک گھر میں ہوا تھا۔

Screenshot 2025-09-12 at 09-35-56 huky120.pdf

محکمہ ڈاک میں بڑے پیمانے پر جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی پروجیکٹ کے آغاز کے بعد صورت حال میں زبردست تبدیلی آئی ہے۔ محکمہ ڈاک نے اپنے ڈاک خانوں کے وسیع نظام

کو بغیر رکاوٹ کے ایک مرکزی بینکنگ پلیٹ فارم سے جوڑ دیا ہے ، جو صارفین کو ملک بھر میں انٹر نیٹ بینکنگ، ای۔ پاس بک ، این ای ایف ٹی ، آرٹی جی ایس کے ذریعے کئی جدید بینکنگ سہولیات فراہم کر رہا ہے۔

پہلے پینشن یافت گان کو اپنی لائف سرٹیفکٹ (Life Certificate) دینے کے لیے سال میں ایک مرتبہ بینک یا پوسٹ آفس میں حاضری دینی پڑتی تھی اب ڈاک کے ذریعے IPPB کی مدد سے ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ (DLC) خدمات نے اس مشکل کو بھی آسان کر دیا ہے۔

Screenshot 2025-09-12 at 09-36-16 huky120.pdf

محکمہ ڈاک نے شہریوں کے فائدے کے لیے پاسپورٹ اور آدھار فراہم کرنے کے لیے وسیع پوسٹل نیٹ ورک مہیا کر دیا ہے۔

430 سے زیادہ ڈاک خانے پاسپورٹ سیوا کیندر (POSK) کھولے گئے ہیں۔ یہ کیند رو ہی سہولیات فراہم کرتا ہے جو کسی بھی پاسپورٹ سیوا کیندر کے ذریعے مہیا کی جاتی تھیں، اب یہ بھی آن لائن پورٹل سے منسلک ہو گئے ہیں۔ ڈاک خانے موجودہ دور میں شہریت ترمیم قانون کے تحت تارکین وطن کو رجسٹریشن کی خدمات بھی فراہم کر رہے ہیں۔

-اداره

Screenshot 2025-09-12 at 09-36-25 huky120.pdf

لفظ و معنی

زیر نگیں : ما تحت تصرف
قائم : بنیاد رکھنا
آغاز : ابتداء شروعات
محدود : حد کے اندر، گھر اہوا
وسعت : چوڑائی، کشادگی
مواصلاتی نظام : خبر پہنچانے والا انتظام
رونما : سامنے آنا، ظاہر ہونا
کار آمد : کام کی چیز ، فائدہ مند
اقتصادی : مالی، معاشی
بتدریج : ایک کے بعد ایک
توسیع : بڑھانا، وسعت دینا
مستفيد : فائدہ اٹھانا
فیض یاب : فیض حاصل کرنا، فائدہ اٹھانا
تقرر : بنیاد رکھنا
صارفین : استعمال کرنے والا، صارف کی جمع
یافتگان : پانے والا، حاصل کرنے والا
منسلک : جڑا ہوا، وابسطہ
تارکین وطن : وطن چھوڑنے والے لوگ
ترمیم : اصلاح، درستی، تبدیلی
Screenshot 2025-09-12 at 10-05-23 huky120.pdf

غور کیجیے

ہندوستان میں ڈاک نظام 1766 میں قائم ہوا اور پہلا ڈاک گھر کلکتہ میں کھولا گیا۔ 1877 میں پارسل سروس، 1879 میں پوسٹ کارڈ ، 1880 میں منی آرڈر اور 1911 میں الہ آباد سے پہلی ہوائی ڈاک کی شروعات ہوئی۔ ہمارے ملک میں 1986 میں اسپیڈ پوسٹ سروس شروع کی گئی۔

خوش بودار ڈاک ٹکٹ ہندوستان میں پہلی بار 2006 میں جاری کیے گئے جس میں گلاب اور چندن کی خوش بو تھی۔

قومی ڈاک عجائب گھر (میوزیم) دہلی میں واقع ہے۔ یہاں پوری دنیا بھر کے ٹکٹوں کا انوکھا ذخیرہ ہے۔ یہ میوزیم ڈاک بھون سردار پٹیل چوک نئی دہلی میں ہے۔

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے ڈاک خانے کی خدمات میں متعد دنئی سہولیات کا اضافہ ہوا ہے جیسے آن لائن بینکنگ، ای پاس بک، این ای ایف ٹی اور آرٹی جی ایس وغیرہ۔

بہت سے ڈاک خانے 24 گھنٹے اور روز کھلے رہتے ہیں۔

سوچیے اور بتائیے

  1. دور دراز علاقوں تک ڈاک کی رسائی کے لیے کیا طریقے اپنائے گئے؟
  2. اطلاعات و نشریات تک وزارت نے ڈاک نظام کو کس طرح مستحکم کیا؟
  3. موجودہ دور میں ڈاک کے نظام میں کیا تبدیلیاں آئی ہیں؟
  4. موجودہ دور میں ڈاک خانہ شہریوں کو کونسی سہولیات مہیا کر رہا ہے؟

●نیچے لکھے وضاحتی فقرے کے لیے ایک لفظ لکھیے:

  1. خط پہنچانے والا کارندہ________
  2. خط ڈالنے کی جگہ________
  3. خطوط کی تقسیم کا نظام چلانے والا گھر________
  4. لفافہ پر چسپاں کیا جانے والا ٹکٹ________
  5. بذریعہ ڈاک پیسہ روانہ کرنا________
  6. جسے خط لکھا جائے________
Screenshot 2025-09-12 at 10-10-19 huky120.pdf

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے

ان جملوں کو غور سے پڑھیے۔

-ابھی کچھ رات باقی ہے۔

-ابھی دن نہیں نکلا ہے۔

پہلے جملے سے مثبت خیال ظاہر ہو رہا ہے۔ ایسے جملے کو مثبت، جملے کہتے ہیں۔ دوسرے جملے میں لفظ نہیں آیا ہے جس کی جہ سے یہ جملہ منفی جملہ “ کہلاتا ہے۔ لیکن انھیں پڑھنے سے معلوم ہو رہا ہے کہ پہلے اور دوسرے جملے میں بات ایک ہی کہی گئی ہے۔

درج ذیل جملوں کو منفی جملوں میں تبدیل کیجیے:

  1. یہاں سے بچ کر جانا اب دشوار ہے۔
  2. میں آپ کی ہر بات ماننے کو تیار ہوں۔
  3. وہ کیوں ان میں شمار کیا جائے؟
  4. موبائل نیٹ ورک کی سہولیات دستیاب ہیں۔

مثال میں دیے گئے اشارے کی مدد سے خالی جگہ بھریے :

مثال: یہ خط نا معلوم پتے سے آیا ہے۔ (سابقہ) نا
1. پیغام رسانی پہلے مشکل تھی مگر اب آسان ہو گئی ہے۔ (متضاد) _____
2. 2006 میں خوش بودار ٹکٹ جاری کیے گئے تھے۔ (لاحقہ) _____
3. ڈاکیے نے دروازے کے آگے خط ڈال دیا۔ (ظرف مکان) _____
4. میں نے کل ایک پارسل بھیجا تھا۔ (ظرف زمان) _____
5. رضیہ نے محنت سے اپنا لوہا منوایا۔ (محاوره) _____

●درست الفاظ استعمال کیجیے:

1. ڈاک خانہ ایک ___ ہے۔ (رنگ پرنده / ادارہ )
2. خط ___ کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے۔ (ڈاکٹر / استاد / ڈاکیہ )
لفافے پر _________چپکاتے ہیں (نوٹ اسکہ ٹکٹ)
پیغام کچھ دنوں میں ___کے ذریعے پہنچ جاتا ہے۔ اسپیڈ پوسٹ / ایس ایم ایس (خط)

●دیے گئے جدول میں پیغام رسانی کے قدیم اور موجودہ طریقے لکھیے :

قدیم طریقے جدید طریقے






تلاش کیجیے

پوسٹ کارڈ حاصل کیجیے اور اس کے استعمال کے بارے میں پتہ کیجیے۔

آج کھانے پینے اور روزمرہ استعمال کی چیزیں پارسل کے ذریعہ منگوائی جارہی ہیں۔ معلوم کیجیے کہ اس کو بھیجنے اور حاصل کرنے کا طریقہ کار کیا ہے۔

اپنے ڈاک خانہ کا نام، پتہ اور پن کوڈ (Pin Code) معلوم کیجیے۔

تخلیقی اظهار

تصور کیجیے آپ کسی مقام کی سیر کو گئے ہیں۔ اپنے سفر کا حال اپنے دوست کو خط لکھ کر بیان کیجیے۔

اسکول انتظامیہ کو ای میل (Email) بھیج کر معلوم کیجیے کہ گرمیوں کی تعطیلات کب سے شروع ہو رہی ہیں۔

اپنے محلے یا علاقے کے ڈاک خانہ میں جائیے اور معلوم کیجیے وہاں کون سے کام انجام دیے جاتے ہیں۔ اپنی جمع کی گئی معلومات کی بنیاد پر ایک رپورٹ تیار کیجیے۔

عملی کام

اپنے والدین کی مدد سے قریبی ڈاک خانے میں اپنا کھاتا کھو لیے۔ اپنے انعام اور تہواری کی رقم جمع کر کے بچت کے طریقوں پر اپنے ہم جماعت ساتھیوں کے ساتھ گفتگو کیجیے۔

ٹکٹ کب جاری ہوتا ہے؟

موقع یا شخصیت کا انتخاب کس طرح کیا جاتا ہے؟

کن کن شخصیات پر ڈاک ٹکٹ جاری کیے جاچکے ہیں؟

ڈاک ٹکٹ کا مطا کا مطالعہ (Philately) کیا ہے؟ نیچے دیے گئے ویب لنک سے معلوم کیجیے۔

www.postagestamps.gov.in/
philataley

اپنے علاقے کے ڈاکیہ سے گفتگو کیجیے اور ڈاک نظام کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے۔

Screenshot 2025-09-12 at 11-10-49 huky120.pdf