نیتی شتکم
علم کے زیور سے قائم آدمی کی شان ہے
دولت محفوظ ہے، ہر عیش کا سامان ہے
گیان، راجہ ہے، رشی ہے، دیوتا، بھگوان ہے
گیان سے محروم انساں واقعی حیوان ہے
ہے حق پرستوں کا ہر دم شعار
مصیبت لڑتے ہیں مردانہ وار
کسی کا وہ احسان لیتے نہیں
نه مانگیں کسی وہ ہرگز اُدھار
تشدد نہ حرص و ہوں ہے ہو کام
کرو بے کسوں کی باد صبحو شام
ہر اک فرد و ملت کے ہو خیر خواه
سبھی مذہبوں کا کرو احترام
اک بوند گر کے تپتے توے پر ہوئی فنا
اک بوند جاکے سیپ میں موتی ہے بے بہا
اک بوند سے ہے پھول کے چہرے پر آب و تاب
صحبت جدا جدا تھی تو قسمت جدا جدا
دودھ سے پانی کی ہو جاتی ہے یاری پیاری
آتی ہے پانی میں بھی دودھ کی رنگت ساری
دودھ کھولا ہے تو پانی ہی جلا ہے پہلے
یوں ہی اچھوں میں ہوا کرتی ہے اچھی یاری
-بھرتری ہری، مترجم امتیاز الدین خاں
(پڑھنے کے لیے)
بھرتری ہری کا شمار مسکرت کے عظیم شاعروں میں ہوتا ہے۔ کئی صدیاں گذر جانے کے بعد بھی ان کے کلام سے دل چسپی برقرار ہے۔ اردو کے متعدد شعرا نے ان کے کلام کے منظوم ترجمے کیے ہیں۔ یہاں معروف شاعر و ادیب امتیاز الدین خاں کے بھرتری ہری کے بعض شلوکوں کے منظوم ترجمے پیش کیے گئے ہیں۔)