افسانہ اردو کی اہم اور مقبول صنف ہے جس میں زندگی کے کسی خاص واقعے، تاثر، تجربے یا پہلو کی عکاسی کی جاتی ہے یا کسی مخصوص نفسیاتی یا جذباتی صورتِ حال کوبیان کیا جاتا ہے۔ افسانے میں واقعات کا بیان، کرداروں کے مکالمے اور منظر وماحول کی پیش کش نپی تلی اور تاثر سے بھرپور ہونی چاہیے۔ یہاں تاثر سے مراد وحدتِ تاثر ہے۔ افسانے کے آغاز اور انجام دونوں کی کامیابی کا تعلق تخلیقی مہارت سے ہے۔
افسانہ اختصار کے ساتھ زندگی کے کسی گوشے کو قاری کے سامنے پیش کرتا ہے۔ افسانہ نگار کا ذاتی مشاہدہ اور انسانی نفسیات کا گہرا مطالعہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ کردار اور واقعات ایسے ہوتے ہیں جو ہماری زندگی اور ہمارے تجربوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔ افسانے کے فن میں پلاٹ، کردار، مکالمے، تکنیک اور زبان واسلوب کی خاص اہمیت ہے۔
ہندوستان میں کتھا کہانی کا رواج صدیوں پرانا ہے۔ اسی طرح داستان اور قصص کی روایت بھی ملتی ہے۔ اردو میں افسانے کا باقاعدہ آغاز بیسویں صدی کے شروع میں ہوا۔اردو کے اہم افسانہ نگاروں میں پریم چند، علی عباس حسینی، سعادت حسن منٹو، کرشن چندر، خواجہ احمد عباس، عصمت چغتائی، راجندر سنگھ بیدی ،قرۃ العین حیدر، جیلانی بانو، انتظار حسین وغیرہ کے نام اہمیت کے حامل ہیں۔ نئے افسانہ نگاروں کی بھی ایک بڑی تعداد ہمارے سامنے آچکی ہے۔اردو کے بہت سے افسانوں کا ترجمہ دنیا کی مختلف زبانوں میں کیا جاچکا ہے۔
منشی پریم چند
1880-1936
منشی پریم چند کا اصل نام دھنپت رائے تھا۔ ان کی پیدائش بنارس کے ایک گائوں لمہی میں ہوئی۔ انٹرمیڈیٹ پاس کرنے کے بعد انھوں نے محکمۂ تعلیم میں ملازمت کی۔ انگریزی دورِحکومت میں سرکاری ملازمت کی وجہ سے حق بات کےاظہار میں رکاوٹ محسوس ہوئی تو ملازمت ترک کرکے تصنیف وتالیف میں مصروف ہوگئے۔ اردو افسانے کا باقاعدہ آغاز پریم چند سے ہوا۔ اردو افسانے کے ابتدائی دور میں جو رجحانات سامنے آئے ان میں سماجی حقیقت نگاری کو خاص اہمیت حاصل ہے، جس کے نمائندہ افسانہ نگار پریم چند تھے۔ انھوں نے دیہی معاشرت اور پسماندہ طبقات کی زندگی کے مسائل کو موضوع بنایا۔ ’سوزِ وطن‘ (1907) پریم چند کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ہے۔ انھوں نے شروع میں کچھ افسانے نواب رائے کے نام سے بھی لکھے پھر پریم چند قلمی نام اختیار کیا اور اسی نام سے مشہور ہوئے۔
پریم چند نے تقریباً ساڑھے تین سو افسانے اور ایک درجن ناول لکھےہیں۔ ان کے افسانوں کے مجموعوں میں واردات، پریم پچیسی، پریم بتیسی ، آخری تحفہ، نجات، زادِراہ اور ناولوں میں چوگانِ ہستی، نرملا، بیوہ، گئودان، میدانِ عمل ، غبن اور بازارِحسن وغیرہ ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔
پریم چند کے ناول اور افسانےسماجی حقیقت نگاری کا عمدہ نمونہ ہیں۔ ان کے افسانوں کا پس منظر مشرقی اتر پردیش کا دیہات ہے۔ پریم چند کی تصانیف میں ہندوستانی کسان اپنی اصل شخصیت کے ساتھ نظر آتا ہے۔ ان کی نثر سادہ اور آسان ہے جسے انھوں نےاپنے اندازِ بیان سےپُرلطف بنا دیا ہے۔
پنچایت
جمّن شیخ اور الگوچودھری میں بڑا یارانہ تھا۔ ساجھے میں کھیتی ہوتی۔ لین دین میں بھی کچھ ساجھا تھا۔ ایک دوسرے پر کامل اعتماد۔ جمّن جب حج کرنے کو گئے تھے تو اپنا گھر الگو کو سونپ گئے تھے اور الگو جب کبھی باہر جاتے تو جمّن پر اپنا گھر چھوڑ دیتے۔ وہ نہ ہم نوالہ تھے، نہ ہم پیالہ، نہ ہم مشرب، صرف ہم خیال تھے اور یہی دوستی کی اصل بنیاد ہے۔
اس دوستی کا آغاز اُس زمانے میں ہوا جب دونوں لڑکے جمّن کے پدرِ بزرگوار شیخ جمعراتی کے روبرو زانوئے ادب تہہ کرتے تھے۔
شیخ جمّن کی ایک بوڑھی بیوہ خالہ تھیں۔ ان کے پاس کچھ تھوڑی سی ملکیت تھی مگر قریبی وارث کوئی نہ تھا۔ جمّن نے وعدے وعید کے سبز باغ دکھا کر خالہ اماں سے وہ ملکیت اپنے نام کرالی تھی۔ جب تک ہبہ نامہ پر رجسٹری نہ ہوئی تھی خالہ جان کی خوب خاطر داریاں ہوتی تھیں۔ خوب میٹھے میٹھے اور چٹ پٹے سالن کھلائے جاتے تھے مگر رجسٹری کی مہر پڑتے ہی ان خاطر داریوں پر مہر ہوگئی۔ جمّن کی اہلیہ بی فہیمن نے روٹیوں کے ساتھ کچھ تیز تیکھی باتوں کے سالن دینے بھی شروع کیے اور رفتہ رفتہ سالن کی مقدار روٹیوں سے بڑھنے لگی۔ بڑھیا عاقبت کے بوریے بٹورے گی کیا؟ دو تین بیگھے اوسر کیا دے دیا ہے گویا مول لے لیا ہے۔ بگھاری دال بغیر روٹیاں نہیں اترتیں، جتنا روپیہ اس کے پیٹ میں جھونک چکے، اس سے تو اب تک کئی گاؤں مول لے لیتے۔ کچھ دنوں تک خالہ جان نے سنا اور ضبط کیا مگر جب برداشت نہ ہوا تو جمّن سے شکایت کی۔ جمّن صلح پسند آدمی تھے۔ ‘مقامی’کارکن کے انتظام میں مداخلت کرنا مناسب نہ سمجھا۔ کچھ دن اوریوں ہی رو دھو کر کام چلا۔ آخر ایک روز خالہ جان نے جمّن سے کہا: ’’بیٹا! تمھارے ساتھ میرا نباہ نہ ہوگا، تم مجھے روپے دے دیا کرو، میں اپنا الگ پکالوں گی۔‘‘
جمّن نے بے اعتنائی سے جواب دیا:‘‘روپیہ کیا یہاں پھلتا ہے ۔’’
خالہ جان نے بگڑ کر کہا:‘‘تو مجھے کچھ نان نمک چاہیے یا نہیں؟’’
جمّن نے مظلومانہ انداز سے جواب دیا: ’’چاہیے کیوں نہیں میرا خون چوس لو!کوئی یہ تھوڑے ہی سمجھتا تھا کہ تم خواجہ خضر کی حیات لے کر آئی ہو۔‘‘
خالہ جان اپنے مرنے کی بات نہیں سن سکتی تھیں۔ جامے سے باہر ہوکر پنچایت کی دھمکی دی ۔جُمّن ہنسے،وہ فاتحانہ ہنسی جو شکاری کے لبوں پر ہرن کو جال کی طرف جاتے ہوئے دیکھ کر نظر آتی ہے۔ کہا :’’ہاں ضرور پنچا یت کرو،فیصلہ ہوجائے، مجھے بھی رات دن کا وبال پسند نہیں۔‘‘
پنچایت کی صدا کس کے حق میں اٹھے گی، اس کے متعلق شیخ جمّن کو اندیشہ نہیں تھا۔ قرب وجوار میں ایسا کون تھا جوان کا شرمندہ ٔمنّت نہ ہو؟ کون تھا جو ان کی دشمنی کو حقیر سمجھے؟کس میں اتنی جرأت تھی جو ان کے سامنے کھڑا ہوسکے۔آسمان کے فرشتے تو پنچایت کرنے آئیں گے نہیں! مریض نے آپ ہی دوا طلب کی۔
اس کے بعد کئی دن تک بوڑھی خالہ لکڑی لیے آس پاس کے گاؤں کے چکرّ لگاتی رہیں۔ کمر جھک کر کمان ہوگئی تھی۔ایک قدم چلنا مشکل تھا مگر بات آپڑی تھی اس کا تصفیہ ضروری تھا۔ شیخ جمّن کو اپنی طاقت، رسوخ اور منطق پر کامل اعتماد تھا ، وہ کسی کے سامنے فریاد کرنے نہیں گئے۔
بوڑھی خالہ نے اپنی دانست میں تو گریہ وزاری کرنے میں کوئی کسر نہیں رکھی مگرخوبی ٔ تقدیر کوئی اس طرف مائل نہ ہوا،کسی نے تو یوں ہی ہاں ہوں کرکے ٹال دیا، کسی نے زخم پر نمک چھڑک دیا :’’ذرا اس ہوس کو دیکھو!قبر میں پیر لٹکائے ہوئے ہیں،آج مریں کل دوسرا دن ہوا مگر صبر نہیں ہوتا۔پوچھو اب تمھیں گھر بار، جگہ زمین سے کیا سروکار۔ ایک لقمہ کھاؤ ٹھنڈا پانی پیو اور مالک کی یاد کرو۔‘‘ سب سے بڑی تعداد
ستم ظریفوں کی تھی۔خمیدہ کمر پوپلا منہ ،سن کے سے بال اور ثقلِ سماعت۔ جب اتنے تفریح کے سامان موجود ہوں تو ہنسی کا آنا ایک قدرتی امر ہے۔ غرض ایسے درد رس، انصاف پرور آدمیوں کی تعداد بہت کم تھی، جنھوں نے خالہ جان کی فریاد کو غور سے سنا ہو اور اس کی تشفی کی ہو۔چاروں طرف سے گھوم گھام کر بڑھیا الگو چودھری کے پاس آئی، لاٹھی پٹک دی اور دم لے کر کہا:‘‘بیٹا تم بھی چھن بھر کو میری پنچایت میں چلے آنا۔’’الگو بے رخی سے بولا:’’مجھے بلاکر کیا کروگی،کئی گاؤں کے آدمی تو آئیں گے ہی۔‘‘
خالہ نے ہانپ کر کہا:’’اپنی فر یاد تو سب کے کانوں میں ڈال آئی ہوں۔ آنے نہ آنے کا حال اللہ جانے؟ ہمارے سیّد سالارگائے گُہار سن کر پیڑھی سے اٹھ آئے تھے،کیا میرا رونا کوئی نہ سنے گا؟‘‘
الگو نے جواب دیا:”یوں آنے کو میں آجاؤں گا مگر پنچایت میں منھ نہ کھولوں گا۔“
خالہ نے حیرت سے پوچھا : “کیوں بیٹا؟”
الگو نے پیچھا چھڑانے کے لیے کہا:”اب اس کا کیا جواب؟ اپنی اپنی طبیعت ،جُمّن میرے پرانے دوست ہیں، اس سے بگا ڑ نہیں سکتا۔“
خالہ نے تاک کر نشانہ مارا:”بیٹا کیا بگاڑ کے ڈرسے ایمان کی بات نہ کہو گے؟“
ہمارے سوئے ہوئےایمان کی ساری جتھا چوری سے لٹ جائے،اسے خبر نہیں ہوتی مگر کھلی ہوئی للکار سن کر وہ چونک پڑتا ہے اورہوشیار ہوجاتا ہے۔ الگو چودھری اس سوال کا جواب نہ دے سکے ۔کیا وہ ”نہیں“کہنے کی جرأت کرسکتے تھے؟
شام کو ایک پیڑ کے نیچے پنچایت بیٹھی۔ٹاٹ بچھا ہوا تھا۔ شیخ جمّن کی مہمان نوازی تھی۔ وہ الگوچودھری کے پاس ذرا دور بیٹھے ہوئے تھے،جب کوئی آتا تھا ایک دبی ہوئی سلام علیک سے اس کا خیر مقدم کرتے تھے، مگر تعجب تھا کہ بااثر آدمیوں میں صرف وہی لوگ نظرآتے تھے،جنھیں ان کی رضا جوئی کی کوئی پروا نہیں ہوسکتی تھی۔کتنے مجلس کو دعوتِ احباب سمجھ کر جھنڈ کے جھنڈ جمع ہوگئے تھے۔
جب پنچایت پوری بیٹھ گئی تو بوڑھی بی نے حاضرین کو مخاطب کرکے کہا:
”پنچو! آج تین سال ہوئے میں نے اپنی سب جائیداد اپنے بھانجے جمّن کے نام لکھوا دی تھی، اِسے آپ لوگ جانتے ہی ہوں گے۔جُمّن نے مجھے تاحین حیات روٹی کپڑا دینے کا وعدہ کیا تھا۔ سال چھ مہینے تو میں نے اس کے ساتھ کسی طرح رودھو کر کاٹے مگر اب مجھ سے رات دن کا رونا نہیں سہاجاتا،مجھے پیٹ کی روٹیاں تک نہیں ملتیں،بےکس بیوہ ہوں، تھانہ کچہری کر نہیں سکتی۔ سوائے تم لوگوں کے اور کس سے اپنا دکھ درد روؤں۔ تم لوگ جو راہ نکال دو اس راہ پر چلوں، اگر میری بُرائی دیکھو میرے منھ پر تھپڑ مارو، جمّن کی برائی دیکھو تو اُسے سمجھاؤ،کیوں ایک بے کس کی آہ لیتا ہے۔“
رام دھن مصر بولے: ”(ان کے کئی اسامیوں کو جمّن نے توڑلیاتھا)جمّن میاں پنچ کسے بناتے ہو، ابھی سے طے کرلو۔“
جمّن نے حاضرین پر ایک اچٹتی ہوئی نگاہ ڈالی۔اپنے تئیں مخالفوں کے نرغے میں پایا۔ دلیر انہ انداز سے کہا:”خالہ جان!جسے چاہیں پنچ بنالیں، مجھےکوئی عذر نہیں ہے۔“
خالہ نے چلّاکر کہا: ”ارے اللہ کے بندے تو پنچوں کے نام کیوں نہیں بتادیتا؟“
جمّن نے بڑھیا کو غضب ناک نگاہوں سے دیکھ کر کہا:”اب اس وقت میری زبان نہ کھلواؤ ،جسے چاہو پنچ بنادو۔“
خالہ نے جمّن کے اعتراض کو تاڑ لیا، بولیں:”بیٹا۔خدا سے ڈر۔میرے لیے کوئی اپنا ایمان نہ بیچے۔ اتنے بھلے آدمیوں میں کیا سب تیرے دشمن ہی ہیں؟ اور سب کو جانے دو،الگو چو دھری کو تو مانے گا؟“
جمّن فرط مسّرت سے باغ باغ ہوگئےمگر ضبط کرکے بولے:”الگو چودھری ہی سہی،میرے لیے جیسے رام دھن مصر، ویسے الگو ،کوئی میرا دشمن نہیں ہے۔“ الگو بغلیں جھانکنے لگے،اس جھمیلے میں نہیں پھنسنا چاہتے تھے،معترضانہ انداز سے کہا:”بوڑھی اماں !تم جانتی ہو کہ میر ی اورجمّن کی گاڑھی دوستی ہے۔“ خالہ نے جواب دیا:”بیٹا دوستی کے لیے کوئی اپنا ایمان نہیں کھوتا، پنچ کا حکم اللہ کا حکم ہے، پنچ کے منھ سے جو بات نکلتی ہے وہ اللہ کی طرف سے نکلتی ہے۔“
الگو کو کوئی چارہ نہ رہا، سرپنچ بنے۔ رام دھن مصر دل میں بڑھیا کو کوسنے لگے۔ الگو چودھری نے فرمایا: ”شیخ جمّن،ہم اور تم پرانے دوست ہیں،جب ضرورت پڑی ہےتم نے ہماری مدد کی ہے اور ہم سے بھی جو کچھ بن پڑا ہے،تمھاری خدمت کرتے آئے ہیں مگر اس وقت نہ تم ہمارے دوست ہو، نہ ہم تمھارے دوست۔یہ انصاف اور ایمان کا معاملہ ہے۔“ خالہ جان نے پنچوں سے اپنا حال کہہ سنایا۔“تم کو بھی جو کچھ کہنا ہو کہو۔”
جمّن ایک شانِ فضیلت سے اٹھ کھڑے ہوئے اور بولے: ”پنچو!، میں خالہ جان کو اپنی ماں کے بجائے سمجھتا ہوں اور ان کی خدمت میں کوئی کسر نہیں رکھتا۔ہاں! عورتوں میں ذرا اَن بَن رہتی ہے۔ اس میں، میں مجبور ہوں مگر ماہوار روپیہ دینا میرے قابو سے باہر ہے۔کھیتوں کی جو حالت ہے وہ کسی سے چھپی نہیں۔آگے پنچوں کا حکم سر اور ماتھے پر ہے۔“
الگو چودھری کو آئے دن عدالت سے سابقہ رہتا تھا، قانونی آدمی تھے۔جمّن سے جرح کرنے لگے۔ ایک ایک سوال جمّن کے دل پر ہتھوڑے کی ضرب کی طرح لگتا تھا۔رام دھن مصر اور ان کے رفیق سر ہلاہلا کر ان سوالوں کی داد دیتے تھے۔جُمّن حیرت میں تھے کہ الگو کو کیا ہوگیاہے۔ ابھی تو یہ میرے ساتھ بیٹھا کیسے مزے مزے کی باتیں کررہا تھا،اتنی ہی دیر میں ایسی کایاپلٹ ہو گئی کہ میری جڑ کھودنے پر آمادہ ہے۔ اچھی دوستی نبا ہی! اس سے اچھے تو رام دھن ہی تھے۔وہ یہ تو جانتے کہ کون کون سے کھیت کتنے پر اُٹھتے ہیں اور کیا نکاسی ہوتی ہے۔ ظالم نے بنابنایا کھیل بگاڑ دیا۔
جرح ختم ہونے کے بعد الگو نے فیصلہ سنایا۔ لہجہ نہایت متین اور تحکمانہ تھا:
”شیخ جمّن !پنچوں نے اس معاملہ پر اچھی طرح غور کیا۔زیادتی سراسر تمھاری ہے۔ کھیتوں سے معقول نفع ہوتا ہے،تمھیں چاہیے کہ خالہ جان کے ماہوارگزارے کا بندوبست کردو، اس کے سوائے اور کوئی صورت نہیں، اگر تمھیں یہ منظور نہیں تو ہبہ نامہ منسوخ ہوجائے گا۔“
جمّن نے فیصلہ سنا اور سنّاٹے میں آگئے۔احباب سے کہنے لگے: ”بھئی اس زمانہ میں یہی دوستی ہے کہ جو اپنے اوپر بھروسہ کرے، اس کی گردن پر چھُری پھیر ی جائے،اسی کو نیرنگی ِروزگار کہتے ہیں، اگر لوگ ایسے دغاباز گندم نما جو فروش نہ ہوتے تو ملک پر یہ آفتیں کیوں آتیں، یہ ہیضہ اور پلیگ انھی مکّاریوں کی سزا ہے۔“
مگر رام دھن مصر اور جگّو سنگھ اس بے لاگ فیصلے کی تعریف میں رطب اللّسان تھے، اس کا نام پنچایت ہے، دودھ کا دودھ پانی کا پانی، دوستی دوستی کی جگہ ہے۔ مقّدم ایمان کا سلامت رکھناہے۔ایسے ہی ستیہ بادیوں سے دنیا قائم ہے ورنہ کب کی جہنم میں مل جاتی۔
اس فیصلہ نے الگو اورجمّن کی دوستی کی جڑیں ہلا دیں۔تناوردرخت حق کا ایک جھونکا بھی نہ سہہ سکا۔وہ اب بھی ملتے تھے مگر تیر وسپر کی طرح۔ جُمّن کے دل سے دوست کی غّداری کا خیال دور نہ ہوتا تھا اور انتقام کی خواہش چین نہ لینے دیتی تھی۔
خوش قسمتی سے موقع بھی جلدی مل گیا۔ پچھلے سال الگوبٹیسر کے میلے سے بیلوں کی ایک اچھی گوئیں مول لائے تھے۔ پچھائیں نسل کے خوب صورت بیل تھے ۔مہینوں تک قرب وجوارکے لوگ انھیں دیکھنے آتے رہے۔
اس پنچایت کے ایک مہینہ بعد ایک بیل مرگیا۔ جمّن نے اپنے دوستوں سے کہا: ”یہ دغا بازی کی سزا ہے۔انسان صبر کرجائے،مگر خدا نیک وبد دیکھتا ہے۔“ الگو کو اندیشہ ہوا کہ جمّن نے اسے زہر دلوادیا ہے۔ اس کے برعکس چودھرائن کوخیال تھا کہ اس پرکچھ کرادیا گیا ہے۔ چودھرائن اور فہیمن میں ایک دن زور شورسے ٹھنی۔ دونوں خاتونوں نے روانیِ بیان کی ندی بہادی۔ تشبیہات اور استعاروں میں باتیں ہوئیں ۔بارے جمّن نے آگ بجھائی۔ بیوی کو ڈانٹا اور رزم گاہ سے ہٹالے گئے۔اِدھر الگو چودھری نے اپنے ڈنڈے سے چودھرائن کی شیریں کلامیوں کی داددی۔
اب ایک بیل کس کام کا۔ اس کا جوڑا بہت ڈھونڈا مگر نہ ملا۔ناچاراسے بیچ ڈالنے کی صلاح ہوئی۔ گاؤں میں ایک سمجھو سیٹھ تھے۔ وہ یکہ گاڑی ہانکتے تھے۔گاؤں میں گُڑگھی بھرتے اور منڈی لے جاتے۔ منڈی سے تیل نمک لاد کرلاتے ۔گاؤں میں بیچتے ۔ اس بیل پر ان کی طبیعت لہرائی ۔ سوچا اسے لے لوں تو دن میں بلا کسی منت کے تین کھیوے ہوں۔ نہیں تو ایک ہی کے لالے رہتے ہیں۔بیل دیکھا۔ گاڑی میں دوڑایا۔بال بھونری کی پہچان کرائی۔ مول بھاؤ کیا اور اپنے دروازے پر لاکر باندھ دیا۔ دام کے لیے ایک مہینہ کا وعدہ ہوا۔ چودھری بھی غرض مند تھے، گھاٹے کی کچھ پروا نہ کی۔
سمجھونے نیا بیل پایا تو پاؤں پھیلائے۔ دن میں تین تین چار چار کھیوے کرتے۔ نہ چارے کی فکر تھی نہ پانی کی۔ بس کھیووں سے کام تھا۔ منڈی لے گئے۔ وہاں کچھ سوکھا بھس ڈال دیا اور غریب جانور ابھی دم بھی نہ لینے پایا تھا کہ پھرجوت دیا۔ الگو چودھری کے یہاں تھے تو چین کی بنسی بجتی تھی۔ راتب پاتے، صاف پانی ،دُھلی ہوئی ارہر، بھوسے کے ساتھ کھلی ،کبھی کبھی گھی کا مزہ بھی مل جاتا۔ شام سویرے ایک آدمی کھریرے کرتا۔ بدن کھجلاتا،جھاڑتا، پونچھتا، سہلاتا، کہاں وہ نازونعمت کہاں یہ آٹھوں پہر کی رپٹ۔ مہینہ بھر میں بیچارے کا کچومر نکل گیا۔یکّہ کا جوا دیکھتے ہی بے چارے کا ہیاؤ چھوٹ جاتا۔ ایک ایک قدم چلنا دوبھر تھا۔ہڈیاں نکل آئی تھیں لیکن اصیل جانور۔ایک دن چوتھے کھیوے میں سیٹھ جی نے دونا بوجھ لادا ۔دن بھر کا تھکا جانور، پیر مشکل سے اٹھتے تھے ۔بیل جگر توڑ کر چلا۔ کچھ دور دوڑا۔چاہا کہ ذرا دم لے ادھر سیٹھ جی کو جلد گھر پہنچنے کی فکر۔ بیل نے ایک بار پھر زور لگایا مگر طاقت نے پھرجواب دے دیا،زمین پر گر پڑا اور ایسا گرا کہ پھر نہ اٹھا۔ سیٹھ کوکچھ اندیشہ ہوا، غور سے دیکھا، بیل کو کھول کر الگ کیا اور سوچنے لگے کہ گاڑی گھر کیوں کر پہنچے ۔بہت چیخے اور چلّائے مگر دیہات کا راستہ بچّوں کی آنکھ ہے، سرِشام بند، کوئی نظر نہ آیا ۔قریب کوئی گاؤں بھی نہ تھا۔ مارے غصّہ کے بولا تجھے مرناتھا تو گھر پر مرتا۔ تو نے آدھے راستہ میں دانت نکال دیے۔ اب گاڑی کون کھینچے گا؟ اس طرح خوب جلے بھنے۔ کئی بورے گڑ اور کئی کنستر گھی کے بیچے تھے، دوڈھائی سو روپے کمر میں بندھے ہوئے تھے۔ گاڑی پر کئی بورے نمک کے تھے۔ چھوڑ کر جا بھی نہ سکتے تھے۔گاڑی پر لیٹ گئے۔ وہیں رت جگا کرنے کی ٹھان لی اور آدھی رات تک دل کو بہلاتے رہے۔ آگ جلائی، تاپا۔اپنی دانست میں تو وہ جاگتے ہی رہے۔ مگر جب پو پھٹی چونکے اور کمر پر ہاتھ رکھا تو تھیلی ندارد۔ کلیجہ سن سے ہوگیا، کمر ٹٹولی تھیلی کا پتہ نہ تھا گھبراکر اِدھر ادھر دیکھا۔ کئی کنستر تیل کے بھی غائب تھے۔ سر پیٹ لیا، پچھاڑیں کھانے لگے۔ صبح کو بہ ہزارخرابی گھر پہنچے۔
سیٹھانی جی نے یہ المناک حادثہ سنا تو چھاتی پیٹ لی۔
اس واقعے کو کئی ماہ گزر گئے۔ الگو جب اپنے بیل کی قیمت مانگنے جاتے تو سیٹھ اور سیٹھانی دونوں جھلّائے ہوئے کتّوں کی طرح چڑھ بیٹھتے۔ یہاں تو سارے جنم کی کمائی مٹّی میں مل گئی ،فقیر ہوگئے۔ انھیں دام کی پڑی ہے۔ مردہ منحوس بیل دیا تھا، اس پر دام مانگتے ہیں۔آنکھ میں دھول جھونک دی۔مراہوا بیل گلے باندھ دیا۔نراپونگا ہی سمجھ لیا ہے۔ کسی گڈھے میں منھ دھو آؤ تب دام لینا۔ صبر نہ ہوتا ہو تو ہمارا بیل کھول لے جاؤ مہینے کے بدلے دو مہینے جوت لو اور کیا لوگے؟ اس فیاضانہ فیصلے کے قدر دان حضرات کی بھی کمی نہ تھی۔ اس طرح جھڑپ سن کر چودھری لوٹ آتے مگر ڈیڑھ سو روپے سے اس طرح ہاتھ دھولینا آسان کام نہ تھا۔
ایک باروہ بھی بگڑے، سیٹھ جی گرم ہو پڑے ۔سیٹھانی جی جذبہ کے مارے گھر سے نکل پڑیں۔
سوال و جواب ہونے لگے۔ خوب مباحثہ ہوا، مجادلہ کی نوبت آپہنچی ۔ سیٹھ جی نے گھر میں گھس کر کواڑ بند کرلیے۔گاؤں کے کئی معزز آدمی جمع ہوگئے۔دونوں فریقوں کو سمجھایا۔ سیٹھ جی کو دلاسا دےکر گھر سے نکالااور صلاح دی کہ اس طرح آپس میں سرپھٹوّل سے کام نہ چلے گا۔ اس سے کیا فائدہ پنچایت کر لوجو کچھ طے ہوجائے اسے مان جاؤ۔ سیٹھ جی راضی ہوگئے ۔ الگو نے بھی حامی بھری فیصلہ ہوگیا۔
پنچایت کی تیاریاں ہونے لگیں۔ دونوں فریقوں نے غول بندیاں شروع کیں۔تیسرے دن اسی
سایہ داردرخت کے نیچے پھر پنچایت بیٹھی۔
پنچایت پوری آبیٹھی، تو رام دھن مصربولے: ’’اب کیوں دیر کی جائے۔ بولوچودھری،کن کن آدمیوں کو پنچ بدتے ہو؟‘‘
الگو نے منکسر انہ انداز سے جواب دیا: ‘‘سمجھو سیٹھ ہی چن لیں۔’’ سیٹھ جی کھڑے ہوگئے اور کڑک کر بولے: ‘‘میری طرف سے شیخ جمّن کا نام لکھ لو۔’’
الگو نے پہلا نام جمّن کا سنا تو کلیجہ دھک سے ہوگیا۔ گویا کسی نے اچانک تھپڑ ماردیا ہو۔ رام دھن مصر الگو کے دوست تھے۔ تہہ پر پہنچ گئے بولے: ‘‘چودھری تم کو کوئی عذرتو نہیں ہے۔’’
چودھری نے مایوسانہ انداز سے جواب دیا: ‘‘نہیں مجھے کوئی عذر نہیں ہے۔’’
اس کے بعد چار نام اور تجویز کیے گئے۔ الگو پہلا چرکا کھاکر ہوشیار ہوگئے تھے خوب جانچ کر انتخاب کیا۔صرف سرپنچ کا انتخاب باقی تھا۔ الگو اس فکر میں تھے کہ اس مرحلہ کو کیوں کر طے کروں کہ یکایک سمجھو سیٹھ کے ایک عزیز گودڑ شاہ بولے: ”سمجھو بھائی! سر پنچ کسے بناتے ہو؟“
سمجھو کھڑے ہوگئے اور اکڑکر بولے: ‘‘شیخ جمّن کو۔’’
رام دھن مصر نے چودھری کی طرف ہمدردانہ انداز سے دیکھ کر پوچھا: ”الگو! تمھیں کچھ عذر ہو تو کہو۔“
الگو نے قسمت ٹھونک لی، حسرت ناک لہجے میں بولے: ’’نہیں مجھے عذر کوئی نہیں ہے۔‘‘
اپنی ذمہ داریوں کا احساس اکثر ہماری تنگ ظرفیوں کا زبردست مصلح ہوتا ہے اور گمراہی کے عالم میں معتبر رہنما۔
ایک اخبار نویس اپنے گوشۂ عافیت میں بیٹھا ہو امجلسِ وزرا کوکتنی بے باکی اور آزادی سے اپنے تازیانۂ قلم کا نشانہ بناتا ہے مگر ایسے مواقع بھی آتے ہیں جب وہ خود مجلسِ وزرامیں شریک ہوتا ہے۔ اس دائرہ میں قدم رکھتے ہی اس کی تحریر میں ایک دل پذیر متانت کا رنگ پیدا ہوتا ہے، یہ ذمّےداری کا احساس ہے۔
ایک نوجوان عالم ِشباب میں کتنا بے فکر ہوتا ہے۔ والدین اسے مایوسانہ نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ اسے ننگِ خاندان سمجھتے ہیں مگر تھوڑے ہی دنو ں میں والدین کا سایہ سر سے اٹھ جانے کے بعد وہی وارفتہ مزاج، ننگِ خاندان کتنا سلامت رو، کتنا محتاط ہو جاتا ہے۔ یہ ذمّے داری کا احساس ہے ۔یہ احساس ہماری نگاہوں کو اور وسیع کر دیتا ہے مگر زبان کو محدود۔شیخ جمّن کو بھی اپنی عظیم الشّان ذمہ داری کا احساس ہوا۔اس نے سوچا میں اس وقت انصاف کی مسند پر بیٹھا ہوں۔ میری آواز اس وقت حکمِ خدا ہے اور خدا کے حکم میں میری نیت کو مطلق دخل نہ ہونا چاہیے۔حق اور ر استی سے جَو بھرٹلنا بھی مجھے دنیا اور دین دونوں ہی میں رو سیاہ بنادے گا۔
پنچایت شروع ہوئی ۔فریقین نے اپنے حالات بیان کیے ۔جرح ہوئی ۔شہادتیں گزریں۔ فریقین کے مددگاروں نے بہت کھینچ تان کی ۔جمّن نے بہت غور سے سنا اور تب فیصلہ سنایا:
’’الگو چودھری اور سمجھوسیٹھ پنچوں نے تمھارے معاملہ پر غور کیا ۔سمجھو کو بیل کی پوری قیمت دینا واجب ہے۔ جس وقت بیل ان کے گھر آیا ۔اس کو کوئی بیماری نہ تھی۔ اگر قیمت اسی وقت دے دی گئی ہوتی توآج سمجھو اسے واپس لینے کا ہر گز تقاضا نہ کرتے۔‘‘’’ رام دھن مصر نے کہا: ’’قیمت کے علاوہ ان سے کچھ تاوان بھی لیا جائے۔ سمجھونے بیل کو دوڑا دوڑا کر مار ڈالا۔‘‘
جمّن نے کہا: ‘‘اس کا اصل معاملہ سے کوئی تعلق نہیں ۔’’
گودڑشاہ نے کہا:’’سمجھو کے ساتھ کچھ رعایت ہونی چاہیے۔ ان کا بہت نقصان ہوا ہے اور اپنے کیے کی سزامل چکی ہے۔‘‘
جمّن بولے: ’’اس کا بھی اصل معاملہ سے کوئی تعلق نہیں۔یہ الگو چودھری کی بھل منسی پر منحصر ہے۔‘‘یہ فیصلہ سنتے ہی الگو چودھری پھولے نہ سمائے اور زور سے ہانک لگائی:
‘‘پنچ پرمیشور کی جے...’’
آسمان پر تارے نکل آئے تھے۔ اس نعرہ کے ساتھ ان کی صدائے تحسین بھی سنائی دی۔ بہت مدھم گویا سمندر پار سے آئی ہو۔
ہر شخص جمّن کے انصاف کی داد دے رہا تھا۔’’انصاف اس کو کہتے ہیں۔ آدمی کا یہ کام نہیں ۔پنچ میں پرماتما بستے ہیں ۔ یہ ان کی مایا ہے۔ پنچ کے سامنے کھوٹے کو کھرا بنانا مشکل ہے۔‘‘گھنٹہ بھر کے بعد جمّن شیخ الگو کے پاس آئے اور ان کے گلے سے لپٹ کر بولے۔
’’بھیّا !جب سے تم نے میری پنچایت کی ہے میں دل سے تمھارا جانی دشمن تھا مگر آج مجھے معلوم ہواکہ پنچایت کی مسند پر بیٹھ کر نہ کوئی کسی کا دوست ہوتا ہے نہ دشمن۔ انصاف کے سوا اور اسے کچھ نہیں سوجھتا۔ یہ بھی خدا کی شان ہے ۔آج مجھے یقین آگیا کہ پنچ کا حکم اللہ کا حکم ہے۔‘‘
الگو رونے لگے۔ دل صاف ہوگئے۔ دوستی کا مرجھا یا ہوا درخت پھر سے ہرا ہوگیا ۔اب وہ بالو کی زمین پر نہیں حق اور انصاف کی زمین پر کھڑےتھے۔
لفظ و معنی
ہم مشرب : ایک عقیدہ کے لوگ
ہم نوالہ و ہم پیالہ : ایک ساتھ کھانے پینے والے
ہم خیال : ایک جیسی سوچ یا فکر رکھنے والے
زانوئے ادب تہہ کرنا : شاگردی اختیار کرنا، حلقہ درس میں بیٹھنا
وعدے وعید : ٹال مٹول کرنا
هبه نامه : وہ کاغذ یا دستاویز جس میں کسی چیز کو بخشنے کا اقرار لکھا جائے
عاقبت کے بوریے بٹورنا ( کہاوت) : لمبی مدت تک جینا
أوسر : بنجر زمین جس میں کچھ پیدا نہ ہوتا ہو
شرمنده منت : احسان مند ، ممنون
رسوخ : رسائی
منطق : عقلی دلیل
دانست : سمجھ نہم
خمیده : ٹیڑھا، جھکا ہوا
ثقل سماعت : سننے میں زحمت، بہر اپن
رضا جوئی : مرضی، اجازت
تاحین حیات : زندگی بھر ، جیتے جی
پر : ڈھال، پناہ
رزم گاه : میدان جنگ
کھیوہ : چکر ، پھیرا
تنگ ظرفی : اوچھی حرکت، کم ظرفی
وارفته : آپے سے باہر ہونا، بے قابو ہونا
غور کیجیے
- منشی پریم چند نے بیشتر افسانوں میں دیہی معاشرت اور پسماندہ طبقاتی زندگی کے مسائل کو موضوع بنایا ہے۔ پنچایت میں بھی گاؤں کی زندگی، وہاں کے لوگ اور ان کے اخلاقی اور سماجی شعور کو بڑی سادگی سے پیش کیا گیا ہے۔ افسانے کا اسلوب بیانیہ ہونے کے ساتھ ساتھ مکالماتی بھی ہے۔
- کہانی کا تانا بانا جمن شیخ اور الگو چودھری کی دوستی کے ارد گرد بنا گیا ہے۔ دونوں گہرے دوست ہیں لیکن ایک دوسرے کے معاملے میں سر پنچ کی حیثیت سے فیصلہ سناتے وقت دوستی کی جگہ انصاف کو اولیت دیتے ہیں۔
- سبق میں لفظ اوسر ، استعمال ہوا ہے۔ او سر اُس زمین کو کہتے ہیں جو اپنی زرخیزی کھو دیتی ہے۔ اس میں فصلیں اچھی طرح نہیں اُگتیں۔ قابل کاشت بنانے کے لیے او سر زمین میں چونا اور نامیاتی کھاد اور گوبر وغیرہ ڈالا جاتا ہے۔ اس سے زمین قابل کاشت ہو جاتی ہے۔
- حین حیات کے معنی ہیں زندگی بھر یا زندگی رہنے تک ۔ افسانے میں حسین حیات کی جگہ تاحین حیات استعمال ہوا ہے جس کے معنی ابھی زندگی بھر کے ہیں۔
سوچیے اور بتائیے
- جمن کو پنچایت کے فیصلے سے متعلق کوئی اندیشہ کیوں نہیں تھا؟
- اگر اُس دن خالہ کے ساتھ انصاف نہ ہوتا تو کیا صورت حال ہوتی؟
- خالہ نے کیوں کہا: تھانہ کچہری کر نہیں سکتی۔
- الگو اور جمن کی دوستی کی بنیادیں کس وجہ سے ہل گئیں؟
- الگو کو کیوں محسوس ہو رہا تھا کہ اُس کے حق میں فیصلہ نہیں ہو گا ؟
عبارت کی تفہیم
نیچے دی گئی سطروں کو سبق میں تلاش کیجیے اور ان کا مفہوم اپنی زبان میں لکھیے:
- رجسٹری کی مہر پڑتے ہی ان خاطر داریوں پر مہر ہو گئی۔
- مجھے بھی رات دن کا و بال پسند نہیں۔
- کہاں وہ ناز و نعمت، کہاں یہ آٹھوں پہر کی ریٹ۔
- جرح ہوئی، شہادتیں گزریں، فریقین کے مدد گاروں نے بہت کھینچ تان کی۔
- دوستی کا مر جھایا ہواد رخت پھر سے ہرا ہو گیا۔ اب وہ بالو کی زمین پر نہیں، حق اور انصاف کی زمین پر کھڑے تھے۔
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
. نیچے دیے گئے جملے پر غور کیجیے:
خالہ نے تاک کر نشانہ مارا: ” بیٹا کیا بگاڑ کے ڈر سے ایمان کی بات نہ کہو گے؟“
اس جملے میں طنز کا پہلو شامل ہے۔ ایسا جملہ جو وضاحت یا طنز کے لیے لکھا یا بولا جاتا ہے، اسے طنزیہ جملہ کہتے ہیں۔ اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ گفتگو کیجیے اور پانچ جملے معلوم کر کے لکھیے جن میں طنز کا پہلو شامل ہو :
آپ پڑھ چکے ہیں کہ جملے کے دو حصے ہوتے ہیں ایک مبتدا اور دوسرا خبر ۔ مثال کے طور پر تناور درخت حق کا ایک جھونکا بھی نہ سہہ سکا۔ “
اس جملے میں درخت مبتدا ہے۔ اس کی وضاحت کے لیے تناور “ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ جو لفظ درخت کی توسیع ہے۔ جب مبتدا کی مزید وضاحت کے لیے کوئی لفظ آئے تو اس کو توسیع مبتدا کہتے ہیں۔ سبق سے ایسے جملے تلاش کر کے لکھیے جن میں توسیع مبتدا کے الفاظ شامل ہوں:
دیے گئے جملوں پر غور کیجیے:
سبز باغ دکھا کر خالہ اتاں سے وہ ملکیت اپنے نام کرالی تھی۔“
اتنی ہی دیر میں ایسی کایا پلٹ ہو گئی کہ میری جڑ کھودنے پر آمادہ ہے۔“
سبز باغ دکھانا ، کایا پلٹ ہو جانا اور جڑ کھودنا محاورے ہیں۔ ایسے ہی کچھ اور محاورے اس افسانے میں استعمال ہوئے ہیں۔ ان محاوروں کو تلاش کیجیے، ان کے مفہوم لکھیے اور جملوں میں استعمال کیجیے:
- مندرجہ ذیل اقتباس کو پڑھیے اور دیے گئے سوالوں کے جواب لکھیے :
- تاحین حیات روٹی کپڑا دینے کا وعدہ سے کیا مراد ہے؟
- کیوں ایک بے کس کی آہ لیتا ہے۔ “ خالہ نے یہ کیوں کہا؟
- اگر میری برائی دیکھو میرے منھ پر تھپڑ مارو، جمن کی برائی دیکھو تو اُسے سمجھاؤ“ کا مفہوم اپنی زبان میں لکھیے۔
- اس عبارت کا عنوان تجویز کیجیے۔ یہ بھی بتائیے کہ آپ نے یہی عنوان کیوں منتخب کیا؟
تجزیہ کیجیے
- آپ جانتے ہیں دو یا دو سے زائد افراد کے درمیان ہونے والی گفتگو کو ”مکالمہ“ کہتے ہیں۔ مکالمہ لکھتے وقت مناسب رموز اوقاف کی مدد لی جاتی ہے تا کہ گفتگو اچھی طرح سمجھ میں آجائے۔ نیچے دیے گئے مکالموں کو پڑھیے اور انھیں ادا کرنے والے کرداروں کی خوبیوں کا تجزیہ کیجیے:
خالہ نے ہانپ کر کہا: ”اپنی فریاد تو سب کے کانوں میں ڈال آئی ہوں، آنے نہ آنے کا حال اللہ جانے؟“
الگو نے جواب دیا: ”یوں آنے کو میں آجاؤں گا مگر پنچایت میں منھ نہ کھولوں گا۔“
خالہ نے حیرت سے پوچھا: ” کیوں بیٹا ؟“
الگو نے پیچھا چھڑانے کے لیے کہا: ” اب اس کا کیا جواب۔ اپنی اپنی طبیعت چمن میرے دوست ہیں۔ اس سے بگاڑ نہیں کر سکتا۔ “
خالہ نے تاک کر نشانہ مارا: ” بیٹا کیا بگاڑ کے ڈر سے ایمان کی بات نہ کہو گے؟“
گفتگو کیجیے
نیچے چے لکھی عبارت کو غور سے پڑھیے:
مہینہ بھر میں بے چارے بیل کا کچومر نکل گیا۔ یکہ کا جواد دیکھتے ہی بے چارے کا ہیاؤ چھوٹ جاتا۔ ایک ایک قدم چلنا دو بھر تھا۔ ہڈیاں نکل آئی تھیں لیکن اصیل جانور ۔ ایک دن چوتھے کھیوے میں سیٹھ جی نے دونا بوجھ لادا۔ “
سیٹھ نے بیل کے ساتھ ایسا برتاؤ کیوں کیا ہو گا اور کیا یہ سلوک درست تھا ؟ اپنے ہم جماعت ساتھیوں کے گروپ میں اس موضوع پر گفتگو کیجیے۔
تخلیقی اظہار
- افسانے میں واقعے کے بیان کی حیثیت بے حد اہم ہے۔ کوئی ایسا واقعہ بیان کیجیے جس نے آپ کو بہت زیادہ متاثر کیا ہو۔ اپنے اس بیانیہ میں پلاٹ، کردار نگاری، منظر نگاری اور وحدت عمل پر خاص توجہ دیجیے۔
- مان لیجیے آپ اسکول کی چھٹیوں میں گاؤں گئے ہیں، وہاں آپ اپنے خاندان کے لوگوں سے بجلی نہ آنے سے ہو رہی پریشانی کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔ آپ کے اور ان کے درمیان ہونے والی گفتگو کو مکالموں کی شکل میں لکھیے :
- . کہانی میں ساجھے کی کھیتی کا ذکر آیا ہے۔ ساجھے سے مراد ہے کسی کام میں حصہ داری یا شراکت۔ آپ نے بھی کبھی ساجھے میں کوئی کام کیا ہو گا، اپنے اس کام کی تفصیل لکھیے اور اپنے کمرۂ جماعت میں سنائیے۔
- . اپنے اسکول میں بچوں کی پارلیمنٹ (Children Parliament) کے کاموں کا مشاہدہ کیجیے۔ اپنے مشاہدات کو جملوں میں لکھیے۔
پروجیکٹ
- طلبا کے کئی گروپ بنائیے اور سبق میں شامل افسانے کے الگ الگ پہلوؤں پر گفتگو کیجیے۔ ایک گروپ اس افسانے کے پلاٹ، دوسرا کردار نگاری، تیسرا منظر نگاری، جزئیات نگاری اور چوتھا و حدت تاثر یا وحدت عمل کے حوالے سے گفتگو کرے۔ ہر گروپ اپنے خیالات کمرۂ جماعت میں پیش کرے۔
- . اپنے ہم جماعتوں کی مدد سے ایک اشتہار بنائیے جس میں پنچایت کا نام، اس کی تصویر ، موجودہ سال کا بجٹ اور خرچ وغیرہ کی تفصیلات بیان کیجیے۔
عملی کام
- اپنے استاد اور ساتھیوں کی مدد سے پنچایت ، سبق کو ڈرامے کی شکل میں پیش کیجیے۔
- لائبریری سے پریم چند کے افسانوں کے مجموعوں کو حاصل کیجیے اور ان کا مطالعہ کیجیے۔
اضافی مطالعہ
- آئین کی دفعہ 40 میں پنچایت کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ ریاست گاؤں کی سطح پر پنچایتوں کو منظم کرنے کے اقدامات کرے گی اور انھیں خود مختار حکومت کے اداروں کے طور پر کام کرنے کے قابل بنائے گی۔ پنچایتی نظام جسے پنچایتی راج بھی کہتے ہیں، ذاتی حکومت کی ایک شکل ہے۔
- پنچایتیں، زمینی سطح پر مقامی مسائل حل کرنے، ترقی کو فروغ دینے کے علاوہ یہ بھی یقینی بناتی ہیں کہ سرکاری منصوبوں اور اسکیموں کے فائدے زمینی سطح پر لوگوں کو پہنچ سکیں۔ شہری علاقوں میں یہ ذمہ داری نگر پالیکا اور میونسپل کارپوریشن کی ہوتی ہے۔ پنچایت اور نگر پالیکامیں کم از کم ایک تہائی (33) فیصد) نشستیں خواتین کے لیے محفوظ ہوتی ہیں۔
- . حکومت ہند نے پنچایتی راج کی فلاح و بہبود اور بہتر معلومات کے لیے میری پنچایت نام سے ایک ایپ جاری کیا ہے جس کے ذریعے آپ ہندوستان میں موجود پنچایتوں کی تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں۔ ذیل میں دیے گئے ویب لنک یا کیو آر کوڈ کی مدد آپ اپنی یا اپنے آس پاس کی پنچایت کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں:
www.meripanchayat.gov.in