Skip to content

Screenshot 2026-05-08 104208 انتظار حسین
1925-2016

انتظار حسین کی پیدائش اترپردیش کے ضلع بلند شہر کے قصبہ ڈِبائی میں ہوئی۔انھوں نے ابتدائی تعلیم گھر پرحاصل کی۔ ہاپوڑ سے ہائی اسکول اور میرٹھ کالج سے اردو میں ایم ۔اے کی سند حاصل کی۔ تقسیم کے بعد وہ لاہور چلے گئے اور وہیں اُن کا انتقال ہوا۔ انتظار حسین ممتاز افسانہ نگار اور ناول نگار تھے۔ وہ ایک معروف مضمون نگار بھی تھے۔ان کے افسانوں میں داستانوی فضا ملتی ہے۔ انھوں نے اساطیری روایات کو بھی عصری تناظر میں پیش کیا ہے۔ قدیم روایات اور لوک کہانیوں کے اثرات، پراسراریت، علامتی انداز، تاریخی و اساطیری کرداروں اور موضوعات کا استعمال ان کے افسانوں کی امتیازی خصوصیات ہیں۔

ان کا پہلا افسانہ‘قیوما کی دکان’ اور پہلا افسانوی مجموعہ’گلی کوچے‘ تھا۔ اس کے بعد ان کے کئی مجموعے ‘کنکری’، ‘آخری آدمی’، ’شہرِ افسوس‘، ‘خیمے سے دور’، ‘خالی پنجرہ’ اور ‘شہرزادکے نام’ وغیرہ کے نام سے شائع ہوئے۔ ‘چاند گہن’، ‘بستی’، ‘دن اور داستان’، ‘تذکرہ’ اور ‘آگے سمندر ہے’ ان کے مشہور ناول ہیں۔ انتظار حسین نے کئی کتابوں کے ترجمے بھی کیے۔

حکیم اجمل خاں کی سوانح حیات ’اجملِ اعظم‘ کے نام سے لکھی۔ ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ’علامتوں کا زوال‘ اور کالموں کا مجموعہ ‘ذرّے ’کے نام سے شائع ہوئے ہیں۔

افسانہ ’مانوس اجنبی ‘اُن کے افسانوی مجموعے ‘شہرزاد کے نام’ میں شامل ہے۔

Qr




مانوس اجنبی


میرے ارادے کا اس میں ایسا کوئی دخل نہیں تھا، بس محفل خود بہ خود ہی آراستہ ہوتی چلی گئی۔ میں نے اس گھر میں آکر اگر بر آمدے میں بیٹھ کر ناشتہ کرنا شروع کیا تھا تو اس کی وجہ صرف اتنی تھی کہ سامنے صحن میں ایک امرود کا درخت کھڑا تھا۔ قریب ہی میں نے ایک کیاری بھی بنائی تھی جس میں مختلف پودے لگائے تھے۔ جب پھول آتے تھے تو یہ پودے بہت بھلے لگتے تھے۔ آنکھوں میں ٹھنڈک اور دل میں طراوت اترتی محسوس ہوتی تھی تو بس مجھے اچھا لگتا تھا کہ صبح کھلی فضا میں بیٹھ کر ناشتہ کروں اور اخبار پڑھوں۔ فطرت سے رشتہ قائم کرنے والے تو خالی ایک پودے کے وسیلے سے بھی رشتہ قائم کر لیتے ہیں اور یہاں تو پودوں کے سوا ایک ہرا بھرا امرود کا پیڑ بھی تھا۔

Screenshot 2026-05-08 111633

مگر بہت جلد ایسا ہوا کہ میرے ناشتے کے اوقات میں ایک چڑیا نے میرے آس پاس منڈلانا شروع کر دیا۔ میں نے ایک دو دفعہ از راہ مروت توس کے کچھ ریزے میز کے قریب فرش پر بکھیر دیے۔ بس وہ ہل گئی اور مجھ سے بے تکلف ہوتی چلی گئی۔ اس کی دیکھا دیکھی ایک دو اور چڑیوں نے بھی میرے گرد منڈلانا شروع کر دیا۔ میں نے محض ان چڑیوں کی سہولت کی خاطر توس کے ریزے فرش پر ڈالنے کے بجائے امرود کے درخت کے سائے تلے بکھیر نے شروع کر دیے۔ چڑیوں نے واقعی بہت سہولت محسوس کی۔ اب وہ زیادہ اطمینان کے ساتھ توس کے ریزے چگتی نظر آتی تھیں اور اب چڑیوں کی تعداد دیکھ کر میں نے ان کے راشن میں اچھا خاصا اضافہ کر دیا تھا۔ یہ اضافہ مجھے اس لیے بھی کرنا پڑا کہ اب بلبلوں کا ایک جوڑا بھی یہاں آن پہنچا تھا اور چڑیوں کے دانے دنکے میں حصہ دار بن گیا تھا۔

پھر میں نے ریسوچ کر کہ آخر کھانے کے بعد پانی کی بھی تو طلب ہوتی ہے، درخت تلے ایک کو نڈار کھ دیا جو مستقل پانی سے لبریز رہتا اور اب کسی کسی صبح میں پی نظر دیکھتا کہ چڑیاں ایک ایک کر کے کونڈے میں غوتے لگارہی ہیں۔ رفتہ رفتہ مجھے اندازہ ہوا کہ ہفتے عشرے میں ایک دو دن ایسے بھی آتے ہیں جب چڑیاں باجماعت اشنان کرتی ہیں۔ اب کبھی کبھی ایک فاختہ بھی یہاں اتر آتی تھی مگر اسے چڑیوں کے دانے دنکے سے کوئی غرض نہیں تھی۔ وہ تو بس پانی کے ایک دو گھونٹ لیتی، ارد گرد پھیلی ہوئی گھاس میں تھوڑی چہل قدمی کرتی اور اُڑ جاتی۔

میں نے سوچا کہ فاختہ شاید توس کے ریزوں اور روٹی کے ٹکڑوں سے مانوس نہیں ہے، باجرہ اگر ہو تو شاید یہ چگنا پسند کرے گی۔ سو میں نے تھوڑے سے باجرے کا اہتمام کیا مگر فاختہ نے باجرے سے بھی بے نیازی برتی۔ اس نے جیسے طے کر لیا تھا کہ یہاں آکر بس پانی پینا ہے، کھانے دانے میں شرکت نہیں کرنی ہے۔ باجرے کو چڑیوں نے بھی منھ نہیں لگایا۔ وہ روٹی، پراٹھے اور توس کے ریزوں سے اتنی مانوس ہو گئی تھیں کہ اب انھیں باجرہ جیسی روکھی سوکھی غذا بالکل پسند نہیں آتی تھی۔ پھر ایک گڑسل کے جوڑے نے یہ گھر دیکھ لیا۔ عین اس وقت جب میں روٹی کے یا توس کے ریزے بکھیر چکتا وہ دو گٹر سلیں اڑتی اڑتی آتیں۔ پہلے منڈیر پر بیٹھ کر گرد و پیش کا جائزہ لیتیں پھر نیچے اتر آتیں۔ ان کی آمد کو شاید چڑیوں نے پسند نہیں کیا۔ ان کے ہوتے ہوئے وہ تھوڑی بے آرامی

محسوس کرتیں لیکن سب سے زیادہ پریشان وہ اس وقت ہوئیں جب ایک گلہری ان کے پیچ آن دھمکی اور ان کے کھانے دانے میں شریک غالب بن گئی۔ یہ گلہری ایک صبح اچانک نمودار ہوئی۔ وہ تیزی سے امرود کی شاخوں کے بیچ سے سرسراتی ہوئی تنے کے سہارے نیچے اتری اور فوراً ہی ادھر ادھر دیکھے بغیر کھانے پر منڈھ گئی۔ چڑیوں نے پریشان ہو کر اسے دیکھا اور تتر بتر ہوگئیں۔ خیر یہ اچھا ہوا کہ جس تیزی سے وہ آئی تھی اسی تیزی سے رخصت ہو گئی۔ اس کے جانے پر چڑیوں نے اطمینان کا سانس لیا پھر وہ واپس آئیں اور ریزے چگنے میں مصروف ہوگئیں۔

پھر تو گلہری کو چاٹ لگ گئی۔ اس نے روز آنا شروع کر دیا اور آندھی دھاندی آتی اور کھانے میں جٹ جاتی۔ بیچاری چڑیاں پریشان ہو کر تتر بتر ہو جاتیں۔ مگر گلہری تو ایک بے قرار روح ہے، کسی بھی جگہ خواہ وہ اسے کتنی ہی مرغوب ہو وہ زیادہ دیر تک تک نہیں سکتی ، طبیعت میں قرار جو نہیں ہے۔ یہ آئی وہ گئی مگر ان چند گھڑیوں میں کیا قیامت مچاتی تھی۔ چڑیوں کی سبھا درہم برہم ہو جاتی تھی۔ اس سمجھا کو دو ڈھائی دفعہ ایک کوے نے بھی درہم برہم کیا۔ اس کے جارحانہ رویے سے چڑیاں سہم جاتیں۔ جتنی دیر وہ وہاں رہتا، چڑیوں کو کھانے دانے کے قریب نہیں آنے دیتا تھا۔ مجھے کوے کی یہ جارحانہ روش مطلق پسند نہیں آئی۔ میرا تو جو بھی رشتہ اور تعلق تھا وہ چڑیوں سے تھا، نہ کہ اس کالے کوے سے۔ اس کے آتے ہی میں چھڑی لے کر کھڑا ہو جاتا۔ کوے کو بھا گئے ہی بنتی۔ رفتہ رفتہ اسے احساس ہو گیا کہ اس کے لیے یہاں حالات مطلق ساز گار نہیں ہیں۔ پھر اسے یہ بھی نظر آرہا تھا کہ یہاں تو توس کے، روٹی کے یا پراٹھے کے ریزے ہوتے ہیں، ریزوں کے لیے اس جھنجھٹ میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے، سو وہ جلدی یہاں سے کنارہ کر گیا۔

کوے کی حد تک تو میں نے چڑیوں کے جذبات کا پورا احترام کیا۔ اسے یہاں قدم جمانے کا موقع نہیں دیا۔ مگر گلہری کے معاملہ میں یہ رویہ میں اختیار نہیں کر سکتا تھا۔ وہ ایسی ویسی مخلوق تو نہیں ہے۔ گلہری نے سری رام چندر کی آنکھیں دیکھ رکھی ہیں۔ لنکا کی چڑھائی کے سے ہندوستان اور لنکا کے درمیان جو پل بنا تھا، اس کی تعمیر میں اس نے حصہ لیا ہے۔ بندروں نے اس کے ساتھ جب بدسلوکی کی تو انھیں منھ کی کھانی پڑی۔ رام چندر جی نے اس کی دل جوئی کی۔ اس کی پشت پر جو لہر یا بنا ہوا ہے یہ انھیں کی انگلیوں کے نشان

یں۔ انھوں نے پیار سے اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تھا اور جس طرح وہ اکڑوں بیٹھ کر توس کے ریزے پنجوں میں پکڑ کر کھارہی تھی۔ اسے دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ اس کے یہاں یہ آدمیت جو آئی ہے وہ بھی رام چندر جی کی صحبت کا فیض ہے۔ اس صحبت میں اس نے یہ سیکھا کہ تمیز کی بات یہی ہے کہ جو کھاؤ ہاتھ میں لے کر کھاؤ۔ سو یہ سب باتیں میرے سامنے تھیں۔ بھلا میں کیسے اسے اس طرح دھتکار تا جیسے کوے کو دھتکارا تھا۔

مطلب یہ کہ مجھے چڑیاں بھی عزیز تھیں اور گلہری بھی۔ سو میں ان دونوں کے بیچ غیر جانب دار ہو گیا۔ پھر جیسے چڑیوں نے حالات سے سمجھوتا کر لیا ہو۔ اب وہ گلہری کی آمد پر پہلے کی طرح پریشان ہو کر تتر بتر نہیں ہوتی تھیں ، بس تھوڑا سرک جاتی تھیں۔ انھیں اندازہ ہو گیا تھا کہ اسے زیادہ دیر یہاں ٹکنا نہیں ہے اور واقعی اس طرح آئی جیسے وہ کوئی ضروری کام بیچ میں چھوڑ کر آئی ہے اور ضروری کام یہاں انجام دے کر الٹے پیروں چلے جانا ہے۔ لپک جھپک آئی، جلدی جلدی تھوڑے ریزے پنجے سے چنے، جلدی جلدی انھیں کھایا اور یہ جاوہ جا۔ شتابی آئی ، شتابی گئی۔ چڑیاں جو اس کے آنے پر پرے ہٹ جاتیں دوبارہ آتیں اور چکنے میں منہمک ہو جاتیں۔ امرود کے پیر میں آخر وہ کون سا کھلکھل تھا جس میں ہی گلہری رہتی تھی، مجھے تو کبھی اس کا پتہ چلا نہیں وہ تو چھلا واتھی چھلاوا ۔ پتوں میں جا کر اس طرح سکتی تھی کہ پتہ بھی نہ چلتا تھا کہ گئی کہاں؟

Screenshot 2026-05-08 112407

ہاں صبح کے اوقات ہی میں کبھی کبھی مجھے اوپر آسمان کی بلندیوں میں ایک ہری لکیر تیزی سے پھنچتی اور گزرتی نظر آتی طوطوں کی یہ قطار شور مچاتی تیزی سے گزر جاتی۔ یا اللہ یہ کون سے باغ سے آتے ہیں اور کون سے باغ میں جاکر اتریں گے ۔ بلندی میں اڑتے ہوئے پرندے مجھے ہمیشہ کسی دوسری ہی دنیا کی مخلوق نظر آئے۔ بس یوں لگتا ہے کہ جیسے وہ کہیں بلندیوں ہی میں رہتے ہیں۔ اگر نیچے اترتے بھی ہیں تو کسی دور کی اقلیم میں، کوئی ایسی اقلیم جو زمین پر آسمان کا ٹکڑا ہے، جس کی جھیلیں آسمانی ہیں اور باغ ماورائی شان رکھتے ہیں۔ بلندیوں میں تیزی سے گزرتی چہکتی سبز ڈار کو دیکھتے ہوئے مجھے کبھی یہ دھیان نہیں آیا کہ ہمارے برآمدے میں لٹکے ہوئے پنجرے میں جو ایک طوطا چہکتا رہتا تھا وہ اسی ڈار سے بچھڑا ہوا پرندہ تھا۔ اچھا کہا واقعی وہ پرندہ تھا۔ پرندوں والی کون سی بات اس میں رہ گئی تھی۔ پرندوں کو ہم پنجروں اور کا بکوں میں بند کر کے اپنے سانچے میں ایسا ڈھالتے ہیں کہ پھر وہ بے چارے پرندے ہی نہیں رہتے۔ جب ہی تو طوطے پنجرے سے نکل بھاگنے والے طوطے کو اپنی ڈار میں شامل نہیں ہونے دیتے۔ مانس گند ، مانس گند ۔ اسے چونچیں مار مار کر گھائل کر دیتے ہیں۔ لو میں بہک کر کدھر نکل گیا۔ میں کیا کہہ رہا تھا۔ ہاں ، وہ جو کبھی کبھار صبح ہی صبح طوطوں کی ڈار چہکتی شور مچاتی تیزی سے بالا ہی بال گزر جاتی تھی اس کا میری ترسی ہوئی نگاہیں اس وقت تک تعاقب کرتیں ، جب تک وہ آنکھوں سے اوجھل نہ ہو جاتی۔ ساتھ ہی اپنی محرومی اور اپنے امرود کی بے چارگی کا احساس ساہونے لگتا۔ یہ امرودوں کی فصل تھی اور ہمارے آنگن میں کھڑا پیڑ کچے پکے امرودوں سے لدا ہوا تھا مگر صرف گلہری کبھی کبھی امرودوں کو کترتی نظر آتی۔ طوطوں کی کسی ڈار نے اس کو ابھی تک نہیں نواز تھا اور وہ جو طوطوں کی ڈار بلندیوں پر پرواز کرتی نظر آتی، اس کے متعلق تو میرا یہ گمان تھا کہ پستی میں کھڑا یہ درخت ان کی نظروں میں کیا سمائے گا مگر ایک صبح عجب ہوا، جب میں نہا دھو کر برآمدے میں آکر بیٹھا تو مجھے احساس ہوا کہ امرود کا پیر آج روز کی طرحساکت اور خاموش نہیں ہے۔ جیسے اس کے اندر زندگی کی لہر دوڑی ہوئی ہے۔ میں متنجس اس کے قریب گیا۔ ایک دم سے شاخوں کے بیچ سے بہت سے طوطے بھڑ اکھا کے اڑے اور شور مچاتے یہ جا وہ جا۔ میں دیکھتا کادیکھتا رہ گیا۔ خوش بھی ہوا اور تھوڑا افسردہ بھی خوش یہی سوچ کر کہ ہمارے امرود کو بھی بالآخر شرف قبولیت حاصل ہو گیا۔ امرود کا پیڑ تو اس وقت ہی امرود کا پیر مانا جائے گا جب طوطے اس کے وجود کو تسلیم کر لیں۔ افسردہ یہ دیکھ کر ہوا کہ کترے ہوئے کچے پکے امرودوں کا ایک فرش پیر تلے بچھا ہوا تھا۔ دم کے دم میں وہ کتنا کچھ برباد کر گئے تھے۔ شرف قبولیت کی کتنی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔

ارے ہاں سل کھٹیا کو تو میں بھولا ہی جارہا تھا۔ اچھا ہمارے یہاں تو اسے کھٹیا ہی کہا جاتا تھا۔ ویسے وہ کھٹ بڑھی ہے یا کچھ پھوڑا۔ اگر ہد ہد کہیں تو اس کا مرتبہ اتنا بلند ہو جاتا ہے کہ حضرت سلیمان اور ملکہ بلقیس کا حوالہ دین لازم آجاتا ہے مگر میں اتنا اونچا اڑنا نہیں چاہتا۔ میں تو اس ننھی سی برادری کا ذکر کر رہا ہوں جو ایک وقت میں ہمارے آنگن میں جمع ہو گئی تھی۔ مگر سل کھٹیا کو اس برادری سے جیسے نفور ہو۔ ایسے وقت میں آکر اترتی تھی جب چڑیاں بلبلیں، گڑسلیں، گلہری سب چک کر تتر بتر ہو چکی ہوتیں۔ دو پہر سہ پہر کو میں کبھی برآمدے میں آنکلتا تو کیا دیکھتا ہوں کہ مسل کھٹیا اکیلی چہل قدمی کر رہی ہے۔ مجھے دیکھا اور پھر سے اڑ گئی۔ لگتا تھا کہ اسے خلوت کچھ زیادہ ہی پسند ہے۔ اتنی کہ کبھی جوڑے کے ساتھ نظر نہیں آئی بس جب بھی دکھائی دی، اکیلی ہی دکھائی دی۔

تو یہ تھی وہ چھوٹی سی برادری جو ایک وقت میں اس آنگن میں اکٹھی ہو گئی تھی۔ چاہیں تو آپ اسے لان کہہ لیں۔ میں نے یہاں ایک کیاری بنائی تھی جس میں کچھ پھول پودے لگا لیے تھے باقی ڈھا کہ والی گھاس بچھادی تھی اور امرود کا درخت تو خیر تھا ہی تھوڑا کھانے دانے کا بھی میں نے انتظام کر دیا تھا۔ ایک کو نڈا پانی کا۔ ارے پرندوں کو اور کیا چاہیے اور چڑیاں تو ایسی ہل گئی تھیں کہ ہر پھر کر یہیں آجاتی تھیں۔ دانہ دنکا نہ بھی ہوتا تو یہاں چیں چیں کرتی رہتیں۔ ویسے اپنے لیے تھوڑا رزق تو وہ گھاس کے پیچ کرید کر بھی برآمد کر لیتی تھیں۔ باقی پر ندوں کا یہ تھا کہ دن کی جس گھڑی میں بھی انھیں پیاس لگتی، دور سے اڑ کر یہاں آن اتر تے۔ دو گھونٹ پانی پیا اور پھر اڑ گئے۔

مگر آسمان کو زمین پر زیادہ چہل پہل اچھی نہیں لگتی ۔ ویسے سچ پوچھو تو آسمان مفت میں بد نام ہے۔ زمین پر جو بھی فساد بر پا ہوتا ہے وہ زیادہ تر خود زمین والے ہی کھڑا کرتے ہیں۔ یہاں بھی یہی ہوا۔ ارباب شہر کو اچانک خیال آیا کہ آبادی بڑھ گئی ہے اور سڑکوں پر ٹریفک بہت ہو گیا سو سڑ کیں چوڑی ہونی چاہئیں۔ جو سڑ کیں تنگ نظر آئیں اور وسعت کی طالب دکھائی دیں، ان میں ہماری سڑک بھی تھی۔ لیجیے بل ڈوزر آن پہنچے۔ بہت سے مزدور پھاوڑوں، کلہاڑیوں ، آروں سے مسلح ایسے آئے جیسے انھیں اس علاقہ پر چڑھائی کرنی ہے۔ درخت کٹنے لگے۔ سڑک اُدھڑ نے لگی۔ دن بھر پھاوڑا بجتا، کلہاڑیاں چلتیں۔ اونچے اونچے گھنے درخت دم کے دم میں زمیں بوس ہو گئے۔ ایک یہاں گرا، دوسرا وہاں گرا۔ درختوں کے گرنے کا شور الگ۔ کلہاڑیوں اور پھاوڑوں کے چلنے کا شور الگ۔ اوپر سے گرد کا طوفان۔ اس قیامت میں کتنے پرندے گھر سے بے گھر ہو گئے۔ درخت ایک گرتا تھا، اس کے ساتھ کتنے آشیا نے اجڑتے تھے۔ پرندے شور مچاتے ہوئے اڑتے، کچھ دیر اسی علاقے میں حواس باختہ چکر لگاتے رہتے ۔ پھر دور نکل جاتے۔ اس صورت میں اس علاقہ سے پرندوں کی ہجرت شروع ہو گئی۔ ہمارا آنگن اس قیامت کے اثرات سے کب تک محفوظ رہتا۔ گرد اڑ اڑ کر یہاں بھی آتی تھی۔ ساتھ میں شور بھی۔ ہمارا جو چھوٹا سا سبزہ زار تھا وہ اچھا خاصار یک زار بن گیا بلبلیں ، گڑ سلیں، گلہری سب پریشان کہ یہ کیسا آشوب ہے۔ فاختائیں الگ خفا مگر گلہری سب سے نازک مزاج نکلی۔ سب سے پہلے یہاں سے اس نے کنارہ کیا بلبلیں کچھ دن حواس باختہ نظر آئیں۔ پھر وہ بھی نظروں سے اوجھل ہوگئیں۔

Screenshot 2026-05-08 112611

فاختہ کا جو جوڑا یہاں وقت بے وقت آن اثر تا تھا وہ بھی غائب ہو گیا۔ سل کھٹیا تو پابندی سے آتی ہی نہیں تھی۔ اس لیے نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے کب آنا موقوف کیا۔

چڑیوں نے البتہ خاصی ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ وہ کافی دنوں تک اُسی اپنے پرانے دستور کے مطابق چیں چیں کرتی نظر آتیں۔ ریزے چگتیں، پانی کے کونڈے پر تھوڑی دیر منڈلاتیں پھر اڑ جاتیں۔ چڑیوں میں ایسے معاملات میں صبر کا مادہ اس لیے بھی زیادہ ہے کہ وہ تو رہتی ہی ہیں آدمیوں کے درمیان۔ ان کے اچھے برے جو بھی کام ہوتے ہیں وہ ان کی عادی ہو گئی ہیں مگر صبر کی بھی حد ہوتی ہے۔ سڑکوں کی تعمیر کا کام ختم ہونے ہی میں نہیں آرہا تھا ، درخت سارے کٹ چکے تھے۔ پھاوڑا رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ گرد کے بادل دبیز ہوتے چلے جارہے تھے۔ رفتہ رفتہ میں نے محسوس کیا کہ اب چڑیاں بھی صبر کا دامن چھوڑ رہی تھیں۔ اب وہ بہت بے چین نظر آتی تھیں۔ ان کی چیں چیں میں جو ایک لہک ہوا کرتی تھی وہ اب غائب تھی۔ تعداد بھی ان کی کم ہو گئی تھی۔ پانی کے کونڈے پر بھی اب وہ زیادہ دیر نہیں سکتی تھیں۔ اشنان تو کم و بیش موقوف ہی تھا۔ آئیں، ریزے چگے، گھونٹ بھر پانی پیا اور اڑ گئیں۔ پھر دن بھر نظر نہیں آتی تھیں۔

کیسی شاد آباد صحبت تھی اور کس طرح برہم ہوئی۔ صبح اب یہاں خاموش گزرتی تھی۔ چہک مہک غائب۔ بلبل کے تو دیکھنے کو آنکھیں ترس گئیں۔ لگتا تھا کہ اس علاقے ہی سے سارے پرندے ہجرت کر گئے ہیں۔ جہاں وہ سب گئے وہاں اس آنگن میں اترنے والے پرندے بھی چلے گئے۔

سڑک کی تعمیر کا معاملہ اس شہر میں ہمیشہ سے یہی رہا کہ کام تو شروع ہو جاتا ہے، ختم مشکل ہی سے ہوتا ہے۔ اب کے بھی یہی ہوا تعمیر کا کام لمباہی ہوتا چلا گیا۔ یا اللہ ، یہ سڑک آخر کب بن چکے گی۔ کیا ہمارے آنگن سے جب آخری چڑیا بھی رخصت ہو جائے گی اس وقت بن کر تیار ہو گی۔ کیا واقعی اس سڑک کو آخری چڑیا کی رخصتی کا انتظار ہے اور واقعی یہی ہوا تعمیر کے آخر دنوں میں سچ مچ یوں لگتا تھا کہ اس نواح سے پرندے ایک ایک کر کے سب رخصت ہو گئے ہیں۔ اب تو کسی منڈیر سے کوے کی بھی کائیں کائیں سنائی نہیں دیتی تھی اور ہمارا آنگن یالان جو بھی کہو بالکل ویران ہو چکا تھا۔

سڑک کی تعمیر کا کام خدا خدا کر کے تکمیل کو پہنچا۔ جب میں نے باہر نکل کر سڑک پر نظر ڈالی تو پہلے تو میں واقعی دنگ رہ گیا کتنی وسیع و عریض سڑک تھی۔ واقعی جدید عہد کی شاہراہ۔ پھر میں نے دائیں بائیں نظر ڈالی۔ دل دھک سے رہ گیا۔ دور دور تک کوئی درخت نظر نہیں آیا۔ کھمبے ہی کھمبے ۔ یہ سڑک اب درختوں سے خالی اور کھمبوں سے معمور تھی۔

چڑیوں کی آمد اب یکسر موقوف تھی پھر بھی کونڈے میں پانی بھر رکھتا تھا۔ کیا جانے کب کوئی پیاسی چڑیا اُتر آئے ۔ اسے یہاں سے پیاسا تو واپس نہیں جانا چاہیے اور واقعی سڑک بننے کے بعد مجھے لمبا انتظار نہیں کرنا پڑا۔ ایک صبح کیا دیکھتا ہوں کہ ایک چڑیا پھر رپھر ر کرتی آئی اور کونڈے کے کنارے پر بیٹھ کر چونچ کو پانی میں ڈبویا۔ پانی پیا اور اڑ گئی۔ میں نے اطمینان کا سانس لیا۔ میں نے طے کر لیا کہ یہ چڑیا آج آئی ہے تو اب کل بھی آئے گی اور اکیلی نہیں آئے گی۔ یہی ہوا۔ وہ تو بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوئی۔ بس پھر چڑیاں آتی ہی چلی گئیں۔

پھر ایک صبح بلبلوں کا ایک جوڑا نمودار ہوا اور چڑیوں کے ساتھ چگنے میں شامل ہو گیا اور زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ امرود کی شاخ پر دو گڑ سلیں بیٹھی نظر آئیں۔ پوری طرح جائزہ لینے کے بعد پہلے ایک گڑسل نیچے اتری اور توس کے ریزے چگنے میں شامل ہو گئی۔ اسے دیکھ کر دوسری گڑ سل نے ہمت پکڑی۔ وہ بھی نیچے اتر آئی۔

اب میں کتنا خوش تھا۔ سب پرندے ایک ایک کر کے واپس آگئے ۔ ایک نہیں آئی تو گلہری نہیں آئی اور سل کھٹیا کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے۔ اب تو یہ لگتا ہے کہ وہ ماضی قدیم کی کسی منڈیر سے یا شاید حضرت سلیمان کے محل کی فصیل سے اڑ کر آئی تھی۔ وہیں واپس چلی گئی اور گلہری؟ شاید وہ بھی کہیں دور سے آئی تھی۔ شاید لنکا کے پل کی تعمیر کے کام سے تھک کر ادھر نکل آئی تھی۔ وہیں واپس چلی گئی ہو گی۔

--انتظار حسین

لفظ و معنی

آراسته   :   سجا ہوا

طراوت   :   نمی ، ٹھنڈک، تازگی

لبریز   :   پورا بھرا ہوا

عشره   :   دس

گرد و پیش   :   آس پاس

غالب   :   قوی، زبردست، مغلوب کرنے والا

درہم برہم   :   منتشر ، بکھرا ہوا، تتر بتر

جارحانہ   :   حملہ آورانه

مطلق   :   بالکل، قطعی

سازگار   :   موافق

صحبت   :   ساتھ ، سنگت

شتابی   :   جلدی

اقلیم   :   ملک، وطن

ماورائی   :   غیر مادی، تصوراتی

ڈار   :   جھنڈ ، گروہ، غول

شرف قبولیت   :   قبول کرنے کا اعزاز، منظوری کا اعزاز

نفور   :   نفرت

خلوت   :   تنہائی

ارباب شهر   :   شہر کے لوگ

وسعت   :   پھیلاؤ

طالب   :   طلب گار ، خواہش مند

زمیں بوس   :   زمین پر گرنا

حواس باخته   :   ہوش اڑنا

ہجرت   :   ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا، منتقل ہونا

ریگ زار   :   ریت کا میدان، ریگستان

دبیز   :   موٹا

موقوف   :   بند ، وقفہ کیا ہوا، ملتوی

نواح   :   اطراف، آس پاس کا علاقہ

تکمیل   :  مکمل، پورا ہونا

وسیع و عریض   :   لمبا چوڑا

نمودار   :   ظاہر

غور کیجیے

  • اس افسانے میں راوی کے علاوہ باقی کردار چرند و پرند ہیں۔ افسانہ نگار کا چڑیوں سے لگاؤ ، مختلف چڑیوں کی عادات، غذا کے بارے میں پسند و ناپسند ، درختوں سے دل چیپسی وغیرہ، تمام واقعات اس طرح ایک زنجیر میں پروئے گئے ہیں کہ یہ سب افسانے کا ناگزیر حصہ بن گئے ہیں۔
  • یہ افسانه ماحولیات کے بارے میں شعور و آگہی پیدا کرنے کے ساتھ پرندوں کی زندگی اور عادات و اطوار کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرتا ہے۔ انسانی زندگی چرند و پرند اور نباتات کے وجود کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ پیڑ پودے ماحول کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ زیادہ تر پرندوں کی زندگی درختوں اور پودوں پر ہی انحصار کرتی ہے۔
  • افسانے میں حضرت سلیمان اور ہد ہد کا ذکر آیا ہے۔ ہد ہد ایک پرندے کا نام ہے جس نے حضرت سلیمان کو ملکہ بلقیس کی خبر دی تھی اور ہد ہد ہی حضرت سلیمان کا خط ملکہ بلقیس کے پاس لے کر گیا تھا۔

سوچیے اور بتائیے

  1. چڑیوں کی سبھا درہم برہم کیوں ہو جاتی تھی؟
  2. بلندی میں اڑتے ہوئے پرندے دوسری دنیا کی مخلوق کیوں نظر آتے ہیں؟
  3. امرود کے پیر کو شرف قبولیت بخشنے سے کیا مراد ہے؟
  4. آبادی بڑھنے اور نئے شہروں کے بسنے سے ماحولیات کو کیا نقصان پہنچ رہا ہے؟

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے

  • جب ہم کسی چیز کا نام لیتے ہیں تو ہمارے ذہن میں اس سے متعلق کئی الفاظ آتے ہیں۔ مثال کے طور پر قوسِ قزح کا نام آتے ہی بارش، بادل ، بجلی ، سورج، سات رنگ، چمک، دھنگ و غیره الفاظ ہمارے ذہن میں آتے ہیں۔ اپنے دوستوں کے ساتھ گفتگو کیجیے اور ہر لفظ کے آگے اس سے متعلق پانچ الفاظ لکھیے :

مدو جزر   .....    .....    .....

گل و گلزار    .....    .....    .....

آمد و رفت    .....    .....    .....

کھیت کھلیان    .....    .....    .....

چشم حیراں    .....    .....    .....

آپ کو معلوم ہے کہ محاورہ الفاظ کا وہ مجموعہ ہے جو فعل پر ختم ہوتا ہے اور اپنے لغوی معنی کے بجائے دوسرے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً بغلیں جھانکنا، ہاتھوں کے طوطے اڑنا۔ اسی طرحضرب المثل، یا کہاوت وہ فقرہ، جملہ یا قول ہوتا ہے، جسے بات میں زور پیدا پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کہاوت کے پیچھے کوئی واقعہ یا کہانی ضرور ہوتی ہے۔ مثلاً جیسی کرنی ویسی بھرنی، آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا۔ افسانے کو دوبارہ پڑھیے اور محاوروں اور ضرب الامثال کو تلاش کر کے نیچے لکھیے :

محاوره

Screenshot 2026-05-08 122049

ضرب المثل

Screenshot 2026-05-08 122049
  • ہم اکثر لکھتے وقت ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جو تحریر کو دل چسپ اور پر اثر بناتے ہیں، جیسے دانہ دنکا، لپک جھپک، تتر بتر ، لہک چہک۔ ان میں بعض مرکب الفاظ ہیں اور بعض تابع مہمل ہیں۔ جب دونوں الفاظ با معنی ہوں انھیں مرکب لفظ کہتے ہیں جیسے لہک چہک، لپک جھپک وغیرہ۔ لیکن جب دوسر الفظ با معنی نہ ہو لیکن پہلے لفظ کی شدت میں اضافہ کرتا ہو تو اسے ” تابع مہمل ، کہتے ہیں۔ جیسے روٹی ووٹی، پانی وانی وغیرہ۔ اپنے دوستوں کی مدد سے مرکب اور تابع مہمل الفاظ معلوم کر کے لکھیے اور انھیں جملوں میں استعمال بھی کیجیے:
Screenshot 2026-05-08 122338
  • جملوں کو غور سے پڑھیے:

پھر تو گلہری کو چاٹ لگ گئی۔ “، ” مجھے چاٹ پسند ہے۔“

ان جملوں میں خط کشیدہ لفظ چاٹ الگ الگ معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اس سے زبان کی وسعت ظاہر ہوتی ہے۔ اسی طرح کے پانچ الفاظ معلوم کر کے لکھیے جو الگ الگ کیفیتوں میں استعمال کیے جاتے ہوں:

Screenshot 2026-05-08 122350

سبق سے آگے

  • عبارت کو غور سے پڑھیے اور اس کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیے۔ عبارت کا کوئی مناسب عنوان بھی تجویز کیجیے:
قدرت نے دنیا کی ہر چیز کو ضرورت کے اعتبار سے ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے، یہاں ہر ایک چیز دوسری چیز کو کسی نہ کسی طرح متاثر کرتی ہے۔ اس آپسی تعلق کو سمجھنے اور سمجھانے کا نام 'ماحولیاتی سائنس ہے۔ زمانہ قدیم میں انسان اس تعلق سے نہ صرف بہ خوبی واقف تھا بلکہ اس کی زندگی ان قدرتی وسائل کے گرد گھومتی تھی۔ وہ پانی کے ذخیروں کے پاس بستیاں قائم کرتا تھا تا کہ قدرتی پانی اسے حاصل ہوتا رہے۔ جنگلات سے وہ لکڑی، چارہ اور غذا حاصل کرتا تھا۔ زمین وسیع تھی اور آبادیاں کم تھیں۔ رفتہ رفتہ انسانی آبادی بڑھنے لگی تو ان وسائل کی بھی مانگ بڑھی ، ان پر دباؤ بڑھا اور ان کے لیے آپس میں لڑائیاں شروع ہوئیں کسی ملک کے سرسبز اور زرخیز علاقوں کو حملہ آوروں نے لے لیا تو کسی ملک کے جانور اور چرا گا ہیں دشمن کی نظروں میں آگئیں، طاقتور قو میں اور ممالک دوسروں کے وسائل پر قابض ہو کر انھیں بے دریغ استعمال کرنے لگے۔ صنعتی انقلاب نے انسان کو مشینوں سے روشناس کرایا۔ مشینوں کی مدد سے اگر چہ پیداوار میں زبردست اضافہ ہوا اور ایسا ضروری بھی تھا کیوں کہ بڑھتی ہوئی آبادی کی ضرورتیں بڑھتی جارہی تھیں لیکن اس اضافے نے خام مال کی مانگ بڑھادی۔ جہاں کاغذ کے کارخانے لگے وہاں جنگلات ختم ہو گئے، کیوں کہ لکڑی کاغذ بنانے کی نذر ہو گئی۔“

انٹرویو کیجیے

  • . اگر آپ کو اپنے پسندیدہ افسانہ نگار سے ملاقات کا موقع ملے اور آپ ان کا انٹرو یولیں تو پہلے اپنے انٹرویو کے لیے ایک سوال نامہ تیار کیجیے۔ اپنے سوال نامے میں آپ ان عنوانات کو شامل کر سکتے ہیں: ان کا وطن، ان کے والدین، ان کا بچپن، افسانہ نگاری کا شوق، ادبی سفر کا آغاز اور بچوں کو افسانہ لکھنے کے مشورے وغیرہ۔

تخلیقی اظہار

  • سالم علی ایک سائنس داں تھے۔ ان کو ماہر طیور اور پرندوں کا شیدائی بھی کہا جاتا ہے۔ انھیں پرندوں سے قلبی لگاؤ تھا۔ پرندوں کی عادات و اطوار پر انھوں نے کئی کتابیں لکھی ہیں۔ جن میں دی فال آف اے اسپیرو اور ”دی بک آف انڈین برڈس بہت مشہور ہیں۔ نیچے دیے گئے ویب لنک کی مدد سے سالم علی کے بارے میں معلوم کیجیے اور ایک مضمون لکھیے :

www.sacon.in

  • پرندے بھی رہیں اور ترقی بھی ہو۔ ، عنوان سے ایک پیراگراف لکھیے۔
  • نیچے لکھے ہوئے اقتباس کو پڑھ کر آپ کے ذہن میں کیا خیال آتا ہے؟ جیسے اس وقت چڑیاں کیا سوچ رہی ہوں گی؟ گلہری چڑیوں کے درمیان کیا محسوس کر رہی ہو گی؟ وغیرہ ۔ ان خیالات کو مکالموں کی شکل میں لکھیے:
پھر ایک گڑسل کے جوڑے نے گھر دیکھ لیا۔ عین اس وقت جب میں روٹی کے یا توس کے ریزے بکھیر چکتا وہ دو گڑ سلیں اڑتی آتیں۔ پہلے منڈیر پر بیٹھ کر گرد و پیش کا جائزہ لیتیں۔ پھر نیچے اتر آتیں۔ ان کی آمد کو شاید چڑیوں نے پسند نہیں کیا۔ ان کے ہوتے ہوئے وہ تھوڑی بے آرامی محسوس کرتیں لیکن سب سے زیادہ پریشان وہ اس وقت ہوتیں جب ایک گلہری ان کے بیچ آن دھمکی اور ان کے کھانے دانے میں شریک غالب بن گئی۔ یہ گلہری ایک صبح اچانک نمودار ہوئی۔ وہ تیزی سے امرود کی شاخوں کے بیچ سے سرسراتی ہوئی تنے کے سہارے نیچے اتری اور فوراً ہی ادھر اُدھر دیکھے بغیر کھانے پر منڈھ گئی۔ چڑیوں نے پریشان ہو کر اسے دیکھا اور تتر بتر ہوگئیں۔ خیر یہ اچھا ہوا کہ جس تیزی سے وہ آئی تھی اسی تیزی سے رخصت ہو گئی۔ اس کے جانے پر چڑیوں نے اطمینان کا سانس لیا پھر وہ واپس آئیں اور ریزے چگنے میں مصروف ہو گئیں۔ “

گفتگو کیجیے

  • درخت بہت تیزی سے کاٹے جارہے ہیں۔ ہمارے آس پاس رہنے والے پرندے بھی غائب ہوتے جارہے ہیں۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ گفتگو کیجیے اور ایسی تدبیر تلاش کیجیے جس سے پرندوں کو واپس لایا جا سکے۔
  • ” جب ایک درخت گرتا ہے تو اس کے ساتھ کتنے ہی آشیانے اجڑتے ہیں۔“ اس موضوع پر کمرۂ جماعت میں گفتگو کیجیے۔

عملی کام

  • . مختلف پرندوں کی تصاویر جمع کر کے ایک البم تیار کیجیے ۔ ساتھ ہی ساتھ پرندوں کے بارے میں معلومات حاصل کر کے لکھیے جیسے کہ ان کے کھانے، رہنے کے طریقے، ان کے گھونسلوں کی بناوٹ، دوسرے پرندوں کے ساتھ ان کا میل جول وغیرہ۔
  • . بعض پرندے مخصوص دورانیہ میں دوسرے ملکوں سے ہجرت کر کے ہمارے یہاں آتے ہیں اور ایک مدت کے بعد واپس لوٹ جاتے ہیں۔ ان کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے اور اپنی کاپی میں لکھیے۔

اضافی مطالعہ

  • پرندوں کی کئی نسلیں خطرے کی زد میں ہیں، جنھیں انگریزی میں Endangered Species
  • کہا جاتا ہے۔ گوریا کی نسل بھی اسی زمرے میں شامل ہے۔ اسی طرح پرندوں اور باقی جان داروں کی کچھ نسلیں ختم بھی ہو چکی ہیں۔ انھیں Extinct Species کہا جاتا ہے۔ ماریشس کے قومی پرندے ڈوڈو کی نسل کا شمار اسی میں ہوتا ہے۔
  • پرندوں کی حفاظت کے لیے سرکاری اور انفرادی ادارے قائم کیے گئے ہیں، جن میں برڈ سنچریاں بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ انفرادی کاوشوں میں آسام سے تعلق رکھنے والی خاتون پور نیمادیوی برمن کی خدمات کو پرندہ ہر گلا کے تحفظ و بقا کے لیے سراہا جاتا ہے۔ دیے گئے ویب لنک کی مدد سے پور نماد یوی برمن کی خدمات کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں:
  • www.unep.org/champions of earth/laureates/2022/ dr-purnima-devi-barman

  • ریڈ ڈیٹا بک ایک جامع عوامی دستاویز ہے جو ایسے پودوں، جانوروں اور دیگر مقامی انواع و اقسام کی معلومات فراہم کرتی ہے جو معدوم ہونے کے خطرے میں ہیں یا نایاب ہیں۔ ایک بین الاقوامی ادارہ اس پورے (International Union for Conservation of Nature-IUCN) نظام کی دیکھ ریکھ کرتا ہے۔