مکتوب کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ ادبی، ذاتی، سوانحی، تاریخی اور تجارتی وغیرہ۔ اردو میں جدید مکتوب نگاری کا آغاز غالب کے خطوط سے ہوتا ہے۔ ان خطوط سے ہمیں اس عہد کے تاریخی، سیاسی اور سماجی حالات سے واقفیت ہوتی ہے۔
بعض اہل قلم نے مکتوب نگاری کو ایک لطیف فن قرار دیا ہے ۔ ایسے خطوط بڑی تعداد میں موجود ہیں جن میں اعلیٰ تخلیقی ادب کی خصوصیات پائی جاتی ہیں ، ان خطوط کا مطالعہ اور بھی دل چسپ ہو جاتا ہے۔
مکتوب نگاری شخصی اظہار کی ایک شکل ہے ۔ مکتوب نگار کا مخاطب کوئی ایک شخص ہوتا ہے جب کہ ادب کی دوسری اصناف میں ایک ساتھ کئی لوگ مخاطب ہو سکتے ہیں۔ کچھ ادیبوں نے ایسے عمدہ خطوط لکھے کہ اب مکتوب نگاری کو ایک ادبی صنف کا درجہ حاصل ہو چکا ہے۔
مکتوب نگار کا مخاطب کوئی بھی ہو، اگر مکتوب نگار کی تحریر میں کشش ہو تو خط ہر پڑھنے والے کے لیے دل چسپ ہو جاتا ہے اور ایسے خطوط ادب پارے کے طور پر پڑھے جاتے ہیں۔ اردو نثر کی روایت میں مرزا غالب، علامہ شبلی نعمانی، مہدی افادی، چودھری محمد علی رو د ولوی، سید سلیمان ندوی، ابو الکلام آزاد، رشید احمد صدیقی ، صفیہ اختر اور قرۃ العین حید رو غیرہ کے خطوط نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔
مرزا غالب
1797-1869
مرزا اسد اللہ خاں غالب کی ولادت آگرہ میں ہوئی۔ چچا نصر اللہ بیگ نے ان کی پرورش کی۔ شادی کے بعد غالب دہلی آگئے۔ یہاں کے علمی اور ادبی ماحول میں ان کا شعری ذوق پروان چڑھا۔ غالب نظم اور نثر دونوں پر یکساں قدرت رکھتے تھے۔ جو بلند مرتبہ انھیں شاعری میں حاصل ہوا وہی رتبہ انھیں نثر میں بھی ملا۔ ان کی نثر کا عمدہ نمونہ ان کے خطوط ہیں۔
غالب کے خطوط کے مجموعے عود ہندی اور اردوئے معلیٰ کے نام سے شائع ہوئے ہیں۔ انھوں نے خط کو بات چیت کی زبان سے قریب تر کر کے مراسلے کو مکالمہ بنادیا۔ ان کے خطوط کو پڑھ کر ایسا لگتا ہے گویا کہ دو لوگ آپس میں بیٹھے گفتگو کر رہے ہوں۔ غالب کے اردو خطوط میں ان کی اپنی زندگی اور زمانے کی دل چسپ تفصیلات سمٹ آئی ہیں۔ خاص طور پر 1857 کے آس پاس کا ماحول غالب کے خطوط میں جس تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے، اُس کے پیش نظر یہ خطوط ایک تاریخی مواد کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔ انھوں نے جو اسلوب اختیار کیا تھا اس کی نقل کسی سے بھی ممکن نہ ہوسکی۔ ان کے خطوط میں واقعہ نگاری، منظر نگاری اور جذبات نگاری کی غیر معمولی مثالیں موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ طنز و مزاح کا عنصر بھی غالب کی نثر میں ایک خاص حیثیت رکھتا ہے۔
غالب کے خطوط
(1)
منشی ہر گوپال تفتہ کے نام
کیوں صاحب!
روٹھے ہی رہو گے یا کبھی منو گے بھی؟ اور اگر کسی طرح نہیں سنتے تو روٹھنے کی وجہ تو لکھو۔ میں اس تنہائی میں صرف خطوں کے بھرو سے جیتا ہوں۔ یعنی جس کا خط آیا، میں نے جانا کہ وہ شخص تشریف لایا ۔ خدا کا احسان ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں ہوتا، جو اطراف و جوانب سے دو چار خط نہیں آرہتے ہوں بلکہ ایسا بھی دن ہوتا ہے کہ دو دو بار ڈاک کا ہر کارہ خط لاتا ہے۔ ایک دو صبح کو اور ایک دو شام کو ۔ میری دل لگی ہو جاتی ہے۔ دن اُن کے پڑھنے اور جواب لکھنے میں گزر جاتا ہے۔ یہ کیا سبب دس دس بارہ بارہ دن سے تمھارا خط نہیں آیا۔ یعنی تم نہیں آئے۔ خط لکھو صاحب۔ نہ لکھنے کی وجہ لکھو، آدھ آنے میں بخل نہ کرو، ایسا ہی ہے تو بیرنگ بھیجو۔
سوموار، 27 دسمبر 1858
غالب
(2)
منشی ہر گوپال تفتہ کے نام
بندہ پرور!
تم کو پہلے یہ لکھا جاتا ہے کہ میرے دوست قدیم میر مکرم حسین صاحب کی خدمت میں میر اسلام کہنا۔ اب تک جیتا ہوں اور اس سے زیادہ میرا حال مجھ کو بھی معلوم نہیں۔ مرزا حاتم علی صاحب مہر کی جناب میں میر اسلام کہنا۔
تمھارے پہلے خط کا جواب بھیج چکا تھا کہ اُس کے دو دن یا تین دن کے بعد دوسرا خط پہنچا۔ سنو صاحب، جس شخص کو جس شغل کا ذوق ہو اور وہ اُس میں بے تکلف عمر بسر کرے، اس کا نام عیش ہے۔ تمھاری توجہ مفرط بطرف شعر و سخن کے تمھاری شرافت نفس اور حسن طبع کی دلیل ہے۔ اور بھائی یہ جو تمھاری سخن گستری ہے، اُس کی شہرت میں میری بھی تو نام آوری ہے۔ میرا حال اس فن میں اب یہ ہے کہ شعر کہنے کی روش اور اگلے کہے ہوئے اشعار سب بھول گیا۔ مگر ہاں، اپنے ہندی کلام میں سے ڈیڑھ شعر ، یعنی ایک مقطع اور ایک مصرعہ یاد رہ گیا ہے، سو گاہ گاہ جب دل الٹنے لگتا ہے، تب دس پانچ بار می قطع زبان پر آجاتا ہے:
زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالب
ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
پھر جب سخت گھبراتا ہوں اور تنگ آتا ہوں، تو یہ مصرعہ پڑھ کر چپ ہو جاتا ہوں۔
اے مرگ ناگہاں! تجھے کیا انتظار ہے
یہ کوئی نہ سمجھے کہ میں اپنی بے رونقی اور تباہی کے غم میں مرتا ہوں۔ جو دکھ مجھ کو ہے، اُس کا بیان تو معلوم، مگر اُس بیان کی طرف اشارہ کرتا ہوں۔ انگریز کی قوم میں سے جو اُن رو سیاہ ۔۔۔ کے ہاتھ سے قتل ہوئے، اُس میں کوئی میرا امید گاہ تھا اور کوئی میر شفیق اور کوئی میرا دوست اور کوئی میرا شاگرد ہندوستانیوں میں : کچھ معشوق، کچھ عزیز، کچھ دوست، کچھ شاگرد، سو وہ سب کے سب خاک میں مل گئے۔ ایک عزیز کا ماتم کتنا سخت ہوتا ہے جو اتنے عزیزوں کا ماتم دار ہو ، اس کو زیست کیوں کر نہ دشوار ہو ؟
ہائے! اتنے یار مرے کہ جو ، اب میں مروں گا تو میرا کوئی رونے والا بھی نہ ہوگا! انا للہ و انا الیہ راجعون
جون، جولائی 1858
غالب
لفظ و معنی
اطراف : طرف کی جمع ، سمت
جوانب : جانب کی جمع ، طرف، سمت
ہرکارہ : ڈاکیہ، خط پہنچانے والا
بخل : کنجوسی
بیرنگ : وہ مال یا خط وغیرہ جس کا محصول پہلے ادا نہ کیا گیا ہو ، بغیر ٹکٹ کے بھیجا ہوا خط
بندہ پرور : پرورش کرنے والا ( احترام میں بولا جاتا ہے۔ )
شغل : مشغله
ذوق : شوق
بے تکلف : بے ساختہ، بناوٹ کے بغیر
مفرط : بہت زیادہ، حد سے زیادہ
شرافت نفس : نیک طبعی ، طبیعت کی شرافت
حسن طبع : طبیعت کی خوب صورتی، اچھی طبیعت
سخن گستری : شعر گوئی سخن آرائی
نام آوری : معروف ہونا
روش : راسته
گاه گاه : کبھی و کبھی کبھی، کسی کسی وقت
مرگ ناگہاں : وہ موت جو اچانک آجائے
روسیاه : بد کار، گناہ گار
شفیق : شفقت کرنے والا
زیست : زندگی
غور کیجیے
- منشی ہر گوپال نفتہ فارسی کے اچھے شاعر اور مرزا غالب کے عزیز شاگرد تھے۔ غالب اپنے مکتوب میں منشی ہر گوپال تفتہ کو کسی رائج القاب کے بجائے بندہ پرور اور کیوں صاحب کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ اس طرح بے تکلفی سے مخاطب کرنے کے سبب یہ گمان ہوتا ہے جیسے وہ سامنے موجود کسی شخص سے خطاب کر رہے ہوں۔
- غالب کے خطوط کو دستاویز کی حیثیت حاصل ہے۔ مکالماتی انداز کے ساتھ ان کے خطوں میں رشتوں کا ربط، اپنائیت کا احساس، دوستی کا تعلق، خلوص کی گرمی اور جذبات کی سچائی موجود ہے۔ ذاتی زندگی کی عکاسی کے ساتھ ساتھ یہ خطوط اس عہد کی ادبی، سماجی اور سیاسی صورت حال پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔ ان خطوط کو لکھے کم و بیش ڈیڑھ سو سال سے زیادہ ہو گئے لیکن شوخی، شگفتگی اور اظہار کی بے تکلفی کے باعث یہ ادبی شاہکار بن گئے ہیں۔
سوچیے اور بتائیے
- غالب نے اپنا حال کسی انداز میں بیان کیا ہے؟
- خط میں کن سہولتوں کو عیش کہا گیا ہے؟
- خط میں پہلی جنگ آزادی کے بعد کی صورت حال کو کس طرح پیش کیا ہے؟
- خط کے علاوہ پیغام رسانی کے کون کون سے ذرائع ہیں؟
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
دیے گئے جملوں کو غور سے پڑھیے اور ان کے مفہوم اپنی زبان میں لکھیے:
- میں اس تنہائی میں صرف خطوں کے بھرو سے جیتا ہوں۔
- دس دس بارہ بارہ دن سے تمھارا خط نہیں آیا، یعنی تم نہیں آئے۔
- تمھاری توجہ مفرط بطرف شعر و سخن کے تمھاری شرافت نفس اور حسن طبع کی دلیل ہے۔
- یہ کوئی نہ سمجھے کہ میں اپنی بے رونقی اور تباہی کے غم میں مرتا ہوں۔
- یہ جو تمھاری سخن گستری ہے، اس کی شہرت میں میری بھی تو نام آوری ہے۔
- خط کے شروع میں بندہ پرور کہہ کر جس کے نام خط لکھا ہے اُسے مخاطب کیا گیا ہے۔ بندہ پرور کے معنی ہیں پرورش کرنے والا۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ خط کے شروع میں جن الفاظ سے مکتوب الیہ کو مخاطب کیا جاتا ہے وہ القاب و آداب ہوتے ہیں۔ آپ اساتذہ اور بزرگوں کو مخاطب کرنے کے لیے پانچ القاب معلوم کر کے لکھیے:
- پہلے خط میں لفظ ہر کارہ آیا ہے جس کے معنی ہیں خط پہنچانے والا یا ڈا کیہ ۔ اسی لفظ کے دوسرے متبادل ہیں قاصد ، نامه بر، پیامی وغیرہ۔ لغت کی مدد سے پانچ الفاظ اور ان کے متبادلات تلاش کر کے لکھیے۔ ہر ایک لفظ کے دو یا دو سے زیادہ متبادل ہونے چاہیے۔
- درج ذیل فقروں پر غور کیجیے :
پس اے میرے پیارے نوجوان ہم وطنو!
اے میری قوم کے بچو !
جب ہم لفظوں کی جمع بناتے ہیں تو آخر میں نون غنہ لگاتے ہیں، مثال کے طور بھائی سے بھائیوں وغیرہ لیکن جب خطاب کیا جائے تو نون غنہ نہیں لگایا جاتا جیسے بچو !، بھائیو اور بہنو ! ، ساتھیو !، دوستو!۔ آپ پانچ الفاظ اور ان کی جمع معلوم کر کے لکھیے۔ اُن الفاظ کو خطابیہ جملے میں استعمال بھی کیجیے:
- درج ذیل الفاظ کے لیے ایک لفظ لکھیے :
- خط لکھنے والا ...........
- جسے خط لکھا جائے ...........
- خط لکھنا ...........
- خط لے جانے والا ...........
گفتگو کیجیے
- انٹرنیٹ کی سہولت کے بعد مکتوب نگاری پر مرتب ہوئے اثرات کے بارے میں دوستوں کے ساتھ بات چیت کیجیے اور اپنی رائے کا اظہار کیجیے ؟
- عہد غالب کے سیاسی، سماجی اور تہذیبی زندگی کے مطالعہ کے لیے خطوط غالب اہم ترین ماخذ ہیں۔“ اس قول کی روشنی میں خطوط نگاری کی اہمیت و افادیت پر اپنے دوستوں کے ساتھ گفتگو کیجیے۔
آپ کی رائے
- اگر آپ غالب کے عہد میں ہوتے تو کس طرح کی پریشانیوں کا سامنا کیا ہوتا؟ آپ اپنی پریشانی، دوستوں کی جدائی اور حالات کی کش مکش کس طرح بیان کرتے؟
پروجیکٹ
- . ایک انسان کا دوسرے انسان کو جو دور دراز فاصلے پر رہتا ہے خط کے ذریعے پیغام بھیجنے کا طریقہ اتنا ہی پرانا ہے جتنی ہماری تہذیب۔ ہمیشہ سے پیغام یا خبر پہنچانے کا آسان ذریعہ خط رہا ہے۔ پہلے پیغام رسانی کے ذرائع کم تھے تب خط لکھنے کا طریقہ عام تھا۔ آج ای میل، ایس ایم ایس جیسی سہولیات میسر ہیں۔ زمانہ قدیم سے موجودہ دور تک ، خط کے اس سفر کو ظاہر کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کیجیے۔
مطالعہ کیجیے
- . مرزا غالب کے علاوہ سرسید احمد خاں، علامہ شبلی نعمانی، مولانا ابوالکلام آزاد اور صفیہ اختر وغیرہ کئی دوسرے ادیبوں کے خطوط بھی ادبی اہمیت کے حامل ہیں۔ لائبریری سے ان کے خطوط حاصل کیجیے اور ان کا مطالعہ کیجیے۔
تخلیقی اظہار
- . اپنے دوست کے نام ایک خط لکھیے اور اسکول کے سالانہ جلسے میں کی گئی اپنی نظامت کا ذکر کیجیے۔
- ای - میل پیغام رسانی کا اہم ذریعہ ہے۔ ایک ای میل لکھے جس میں کسی ادبی شخصیت سے اسکول کے جلسے کی صدارت کرنے کی درخواست کی گئی ہو۔
عملی کام
- . انٹرنیٹ کی مدد سے غالب کے خطوط کے نمونے حاصل کر کے ایک کولاژ بنائیے اور اس کو کمرۂ جماعت میں چسپاں کیجیے۔
اضافی مطالعہ
- . اردو مکتوب نگاری کی تاریخ میں مولانا ابوالکلام آزاد کا نام اہمیت کا حامل ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی مکتوب نگاری کا انداز غالب سے بہت مختلف تھا۔ آزاد کے خطوط میں بے تکلفی کی فضا نہیں ملتی جو غالب کے خطوں میں پائی جاتی ہے۔ غبار خاطر ، مولانا کے ان خطوط کا مجموعہ ہے جو قلعہ احمد نگر میں اسیری کے زمانے میں اپنے دوست نواب صدر یار جنگ، مولانا حبیب الرحمن خاں شیروانی کو لکھے تھے لیکن بھیجے نہیں گئے۔ یہ خطوط مختلف موضوعات پر معلومات کا خزانہ ہیں۔ مثال کے طور پر مولانا آزاد کے خط کے ایک حصے کو دیکھیے :
- . قلعه احمد نگر
7 جنوری 1943
صدیق مکرم
و ہی صبح چار بجے کا جانفز اوقت ہے۔ سردی اپنے پورے عروج پر ہے۔ کمرہ کا دروازہ اور کھڑ کی کھلی چھوڑ دی ہے۔ ہوا کے برفانی جھونکے دم بہ دم آرہے ہیں۔ چائے دم دے کر ابھی ابھی رکھی ہے منتظر بیٹھا ہوں کہ پانچ چھ منٹ گزر جائیں اور رنگ و کیف اپنے معیاری درجہ پر آجائے تو دور شروع کروں۔ دو مرتبہ نگاہ گھڑی کی طرف اٹھ چکی ہے، مگر پانچ منٹ ہیں کہ کسی طرح ہونے پر نہیں آتے۔ خواجہ شیراز کا ترانہ صبح گاہی دل و دماغ میں گونج رہا ہے۔ بے اختیار جی چاہتا ہے کہ گنگناؤں مگر ہمسایوں کی نیند میں خلل پڑنے کا اندیشہ لبوں کو کھلنے کی اجازت نہیں دیتا۔