Skip to content
مضمون

مضمون ایک غیر افسانوی نثری صنف ہے، اس میں کسی بھی موضوع پر مربوط انداز میں اظہار خیال کیا جاتا ہے، اس کے لیے موضوع کی کوئی قید نہیں لیکن خیالات کا تسلسل ضروری ہے۔ مضمون بنیادی طور پر کسی ایک موضوع کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لیے لکھا جاتا ہے۔ اس میں علمی سنجیدگی پائی جاتی ہے اور طرز بیان و زبان کی بھی بڑی اہمیت ہے۔ الفاظ میں جس قدر قطعیت اور بیان میں و شفافیت ہو گی اسی قدر مضمون نگاری کا حق ادا ہو گا۔
مضمون کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ادبی موضوعات پر لکھے گئے مضامین کی نوعیت تنقیدی، تحقیقی اور لسانیاتی ہوتی ہے۔ غیر ادبی موضوعات میں مذہب، فلسفہ، سوانح، سماج، سیاست، اقتصادیات، صنعت و حرفت، تجارت، زراعت، ماحولیاتی آلودگی، طب، صحت، قانون اور سائنس و ٹیکنالوجی وغیرہ سے متعلق معلوماتی مضامین شامل ہیں۔
مضمون کی کامیابی کا انحصار ربط و ترتیب اور تنظیم کی خوبی پر ہے۔ ایک اچھے مضمون میں موضوع یا مسئلے کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ اس کے تمام اہم پہلو زیر بحث آجائیں۔ تمہیدی حصے میں موضوع کا ایسا تعارف کرایا جاتا ہے جس سے اس کی اہمیت اور لکھنے والے کی منشا پوری طرح واضحہو جاتی ہے۔ اس کے بعد منطقی ترتیب میں سنجیدہ اور مدلل طریقے سے اہم نکتوں کو سامنے لایا جاتا ہے۔ انتشار سے بچتے ہوئے ضروری وضاحت اور صراحت کے ساتھ بات پوری کی جاتی ہے اور کسی نتیجے پر پہنچ کر مضمون کو ختم کر دیا جاتا ہے۔
اردو میں مضمون نگاری کا باقاعدہ آغاز سرسید سے ہوتا ہے۔ انھوں نے اس صنف کو سماجی اصلاح کے ایک وسیلے کے طور پر استعمال کیا۔ محمد حسین آزاد، الطاف حسین حالی، شبلی نعمانی ، نذیر احمد ، میر ناصر علی، نیاز فتح پوری، رشید احمد صدیقی، مرزا فرحت اللہ بیگ، محفوظ علی بدایونی، ابوالکلام آزاد، خواجہ غلام السیدین، رشید جہاں، سید احتشام حسین، آل احمد سرور، کلیم الدین احمد ، شمس الرحمن فاروقی، گوپی چند نارنگ وغیرہ اردو کے اہم مضمون نگار ہیں۔

Screenshot 2026-05-11 092038 سید مبارزالدین رفعت
1918-1976

Qr




اجنتا اور ایلورا


آپ نے پہاڑ دیکھے ہوں گے لیکن ایسے پہاڑ بہت کم ہیں جن کے اندر انھیں سے تراشی ہوئی مورتیاں ہوں اور چاروں طرف تصویریں بھی بنی ہوں اور ان کی شکل بھی غار کی سی ہو ۔ مہاراشٹر میں اورنگ آباد کے قریب اجنتا اور ایلورا کے غار ایسے ہی ہیں۔ یہ قدرتی نہیں ہیں بلکہ چٹانوں کو کاٹ کر بنائے گئے ہیں۔ یہ غار بہت پرانے ہیں لیکن دیکھیے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھیں آج ہی بنایا گیا ہے۔

اجنتا کے غار بڑی خوب صورت جگہ پر ہیں۔ یہاں قدرتی آبشار ہیں۔ یہیں پر ایک پر فضا وادی میں یہ غار چٹانوں کو تراش کر بنائے گئے ہیں۔ ان علاقوں میں بڑے بڑے راجاؤں نے اس کام کے لیے بہترین فن کاروں کو جمع کیا۔ یہ غار بدھ مت کے ماننے والوں ہی نے بنائے تھے۔ انھیں اپنے مذہب سے سچی محبت تھی اور انھوں نے یہ کام دل و جان سے کیا۔

اجنتا میں سب سے پرانے غار تو وہ ہیں جو آج سے تقریباً بائیس سو سال پہلے بنائے گئے تھے۔ پھر آخری غار وہ ہیں جو چھٹی صدی عیسوی میں بنے تھے۔ اس طرح یہ غار تقریباً آٹھ سو سال میں بنے ہیں۔ ان غاروں کے بنانے میں کئی نسلوں نے حصہ لیا۔
Screenshot 2026-05-11 093317

ایک وسیع ہال میں مہاتما بدھ کا ایک بڑا مجسمہ بنا ہوا ہے۔ دیواروں پر مہاتما بدھ کے پچھلے جنموں کی کہانیاں تصویروں کی زبانی بیان کی گئی ہیں۔ چھتوں پر نازک نازک بیل بوٹوں کے نقش و نگار ہیں۔ یہاں ایک استوپ (Stupa) ہے جس میں مہاتما بدھ کا مقدس بال اور چتا کی راکھ محفوظ ہے۔ یہاں بھکشو عبادت کرتے تھے، ساتھ ساتھ تصویریں بنانے کا کام بھی کرتے رہتے تھے۔ غاروں میں اندھیرا تو تھا ہی، اس لیے تصویریں بنانے میں خاصی مشکل پیش آتی تھی۔ چناں چہ غار کے منھ پر فولاد کے صیقل کیے ہوئے بڑے بڑے آئینے رکھ دیے جاتے۔ جب ان پر سورج کی کرنیں پڑتیں تو ان کا عکس غاروں کے اندر پڑتا اور یہی نہیں بلکہ غار کے اندر بھی اس طرح کے اور آئینے رکھ دیے جاتے پھر ان پر باہر کے آئینوں کا عکس پڑتا اور یوں غار میں ہر طرف روشنی ہی روشنی ہو جاتی تھی۔ یوں تو مشعل جلا کر بھی روشنی کی جاسکتی تھی لیکن مشعل کا دھواں بنی ہوئی تصویروں پر بیٹھ جاتا، اس لیے انھوں نے مشعلیں استعمال نہیں کیں۔

اجتنا میں تقریباً ایک ہزار برس تک زندگی بڑی پرسکون رہی۔ بھکشوؤں کی کئی نسلیں آئیں اور گزر گئیں۔ اجتنا میں غار بنتے گئے۔ مشہور چینی سیاح ہیون سانگ ساتویں صدی عیسوی میں یہاں آیا تھا، اُس نے اپنے سفر نامے میں ان غاروں کی بہت تعریف کی ہے۔

زمانہ سدا ایک حال پر نہیں رہتا۔ دھیرے دھیرے ہندوستان میں بدھ مت کے ماننے والوں کی تعداد کم ہوتی گئی۔ یہاں تک کہ اجنتا میں بھی کوئی باقی نہ رہا۔ لوگوں کے دلوں سے بھی آہستہ آہستہ اس کی یاد مٹ گئی اور سیکڑوں برس تک لوگوں کو ان غاروں کے بارے میں

Screenshot 2026-05-11 093438 Screenshot 2026-05-11 093641

کچھ بھی پتہ نہ چل سکا۔ جب انگریز ا ہندوستان آئے اور 1819 میں انگریزوں اور مرہٹوں کے درمیان انھیں پہاڑیوں کے آس پاس لڑائی چھڑی تو انگریزی فوج کے سپاہی اس وادی کو ایک اچھا مورچہ جان کر اس کے اندر اُتر گئے۔ یہاں پہنچے تو انھیں غاروں کا بیرونی حصہ نظر آیا۔ یہ غارمٹی سے اٹے پڑے تھے۔ کچھ سپاہی ان غاروں میں گھس گئے اور ان کے اندر تصویریں دیکھ کر حیران ہوئے اور پھر جلدی ہی ان کی شہرت پھیل گئی۔ بڑے بڑے مصوروں نے ان کی تصویریں تیار کیں۔ ان تصویروں کی لندن اور پیرس میں نمائش ہوئی۔ غاروں کو صاف کیا گیا تا کہ لوگ ان کو دیکھنے کے لیے آسکیں۔

ایلورا کے غار بنانے والوں کو اجنتا کے غاروں جیسا دل کش منظر تو نہ مل سکا، تاہم قدرتی مناظر کے لحاظ سے یہ مقام بھی اچھا ہے۔ ایلورا میں کل ملا کر چوستیں غار ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایلورا کے غار بنانے والوں کے ہاتھ میں پتھر بھی موم ہو گیا تھا۔ پتھر کو انھوں نے جس طرح چاہا تر اشا، بنایا، سنوارا اور اپنے جذبے کی آنچ اس میں شامل کر دی۔ کیلاش کا مند رایلو را کے غاروں کی جان ہے۔ یہ مندر راشٹر کوٹ کے راجا کرشنا کی سر پرستی میں بنا تھا۔ اس کے پرکھوں نے یہاں ایک مندر بنوایا تھا۔ راجا کرشنا کو یہ بہت پسند آیا۔ اس نے حکم دیا کہ ایسا ہی مندر بنایا جائے۔ چناں چہ ایک بہت بڑی چٹان کاٹ کر اُس میں کیلاش مندر کو بنانے میں کوئی دولاکھ ٹن پتھر باہر نکالنا پڑا۔

ایلورا کے مندر بھی کئی سو برس میں بن پائے۔ یہ غار اجنتا کی طرح نظروں سے اوجھل تو نہیں ہوئے لیکن ان کی اہمیت ختم ہو گئی تھی۔ جگہ جگہ مورتیاں ٹوٹ پھوٹ گئی تھیں۔ لیکن محکمہ آثار قدیمہ نے ان کی طرف توجہ کی اور اب اس جگہ کی رونق بھی بڑھ گئی ہے۔

- سید مبارزالدین رفعت

لفظ و معنی

آبشار   :   جھرنا، اونچی جگہ سے گرنے والا قدرتی پانی

مجسمه   :   مورتی

استوپ   :   بدھ مذہب کی عبادت گاہ

بھکشو   :   بدھ مذہب کا درویش

صیقل   :   پالش، صفائی

مصور   :   تصویر بنانے والا

دل کش   :   دل کو لبھانے والا

پر کھے   :   باپ، دادا، بزرگ

او جهل   :   غائب، نگاہوں سے دور

محکمہ آثار قدیمہ  :   حکومت کا وہ شعبہ جو پرانی تاریخی عمارتوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔

غور کیجیے

  • اجنتا اور ایلورا کے غار قدیم چٹان سے بنے ہندوستانی فن اور فن تعمیر کی تاریخ میں ایک یاد گار کارنامہ ہیں۔ وہ قدیم ہندوستان کی مذہبی، ثقافتی اور سماجی زندگی کے بارے میں انمول بصیرت فراہم کرتے ہیں، نیز ان کاریگروں کی ذہانت اور فن کارانہ صلاحیتوں کا ثبوت ہیں جنھوں نے یہ دل کش یادگاریں تخلیق کی ہیں۔
  • ایلورا کے غار نمبر 16 میں کیلاش مند ر دنیا کا سب سے بڑا پہاڑی معبد ہے۔ اسے ایک بڑی چٹان
  • (Monolithic) کو تراش کر بنایا گیا ہے۔ کیلاش مند ر دنیا کا خوب صورت ترین مندر ہے جو تعمیراتی معجزہ کاری وصناعی، تاریخی اہمیت، فنی جودت، جغرافیائی، انفرادیت، اقتصادی غلبہ اور روحانی وراثت کی یادگار ہے۔ شان دار ایلو را غاروں کو 1983 میں یونیسکو کی عالمی ورثہ فہرست میں شامل کیا گیا۔
Screenshot 2026-05-11 094929

سوچیے اور بتائیے

  1. اجنتا اور ایلورا کے غاروں کی انفرادیت کیا ہے؟
  2. غاروں میں روشنی کے انتظام کے لیے کون سی تکنیک اپنائی گئی تھی اور کیوں؟
  3. ان غاروں کی بازیافت کب اور کیسے ہوئی؟
  4. غار بنانے والوں کے ہاتھوں میں پتھر بھی موم ہو گیا۔ جملے کی وضاحت کیجیے۔

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے

  • درج ذیل جملے کو غور سے پڑھیے:

"یہ غار بہت پرانے ہیں۔“

اس جملے میں غار ، مبتدا ہے بہت پرانے ہیں خبر ہے۔ کسی جملے میں ایک مبتدا اور ایک خبر ہو تو وہ جملہ مفرد جملہ کہلاتا ہے۔ آپ پانچ مفر و جملے سبق سے تلاش کر کے لکھیے۔ یہ بھی بتائیے کہ جملے میں مبتدا کیا ہے اور خبر کیا ہے؟

Screenshot 2026-05-11 095724
  • سبق میں بیل بوٹا لفظ آیا وٹا لفظ آیا ہے جو نقش و نگار کے معنی میں استعمال ہوا ہے، اسے مرکب لفظ کہتے ہیں۔ ان لفظوں کو الگ الگ کر کے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر چاند تارے، تاج محل وغیرہ۔ اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ بات چیت کیجیے اور نیچے دیے گئے مرکب الفاظ کے معنی اور ان کو الگ الگ جملوں میں استعمال کیجیے :

قوس قزح _________      __ __________

پن چکی _________         __ __________

بیل گاڑی ________      ___ __________

الٹ پھیر _________     __ __________

  • زمانہ سدا ایک حال پر نہیں رہتا۔ “ اس جملے کا مفہوم ہے کہ زمانے میں وقت کے حساب سے اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔ کبھی حالات ساز گار ہوتے ہیں اور کبھی ناساز گار ۔ نیچے دیے گئے جملوں کا مفہوم سمجھیے اور لکھیے:
  1. آہستہ آہستہ اس کی یاد مٹ گئی۔
  2. اپنے جذبے کی آنچ بھی اس میں شامل کر دی۔
  3. کیلاش مند ر ایلورا کے غاروں کی جان ہے۔
  4. دیواروں پر مہاتما بدھ کے پچھلے جنموں کی کہانیاں تصویروں کی زبانی بیان کی گئی ہیں۔
  • درج ذیل جدول میں دیے گئے حروف کی مدد سے غاروں کے نام تلاش کیجیے اور لکھیے:
  1. ادے گیری
  2. _______
  3. _______
  4. _______
  5. _______
  6. _______
Screenshot 2026-05-11 100414
  • آپ کو معلوم ہے کہ جس فعل کا فاعل معلوم ہو، اُسے فعل معروف کہتے ہیں اور جس فعل کا فاعل معلوم نہ ہوا سے فعل مجہول کہتے ہیں۔ درج ذیل جملوں کو فعل معروف میں تبدیل کیجیے :
  1. غار میں ہر طرف روشنی کی گئی ہے۔ _________
  2. یہاں ایک مندر بنوایا گیا تھا۔ _________
  3. تصویروں کی زبانی بیان کی گئی ہے۔ _________
  4. یہ قدرتی نہیں ہیں بلکہ چٹانوں کو کاٹ کر بنائے گئے ہیں۔ _________
  • سبق سے تلاش کر کے اسم خاص اور اسم عام کی چار چار مثالیں دیے گئے جدول میں لکھیے:
Screenshot 2026-05-11 102845

گفتگو

  • ملک کی تاریخی اور ثقافتی عمارتوں کی اہمیت اور افادیت پر کمرۂ جماعت میں گروپ بنا کر گفتگو کیجیے۔
  • دیواروں پر مہاتما بدھ کے پچھلے جنموں کی کہانیاں تصویروں کی زبانی بیان کی گئی ہیں۔ “ آپ کے خیال میں دیواروں پر تصویروں کے ذریعے کہانی بیان کرنے کی روایت کس تاریخی یا ثقافتی ماحول کی نشان دہی کرتی ساپر ہے۔ دوستوں کے ساتھ گفتگو کیجیے اور اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔
  • آپ بصری اظہار (Visual Expression) کو زیادہ موثر سمجھتے ہیں یا تحریری اظہار کو ؟ ساتھیوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیجیے۔

تجزیہ کیجیے

دیے گئے ویب لنکس کی مدد سے اجنتا اور ایلورا کے بارے میں مطالعہ کیجیے۔ دونوں غاروں کا موازنہ کیجیے۔

https://culture.gov.in/ellora-caves

https://culture.gov.in/ajanta-caves

پروجیکٹ

  • محکمہ آثار قدیمہ ملک کی قومی اہمیت کی یادگاروں اور ثقافتی مقامات کی حفاظت کرتا ہے۔ اس نے ملک کی بہت سی تاریخی عمارتوں کو اس میں شامل کیا ہے۔ چند تاریخی عمارتوں کے بارے میں ایک پروجیکٹ تیار کیجیے جس میں اُن کا مختصر تعارف، تہذیبی اہمیت اور تصاویر شامل ہوں۔

تخلیقی اظہار

  • ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے اہم پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی پسند کے کسی موضوع پر ایک مضمون لکھیے۔ آپ اپنے استاد یا بڑوں کی مدد لے سکتے ہیں۔
  • اپنے صوبے کی ایسی عمارت کی تاریخی اور تہذیبی اہمیت کے بارے میں لکھیے جو محکمہ آثار قدیمہ کی فہرست میں شامل ہو۔

عملی کام

  • لائبریری سے سکندر علی وجد کی نظم 'اجنتا حاصل کیجیے اور اسے پڑھیے۔

اضافی مطالعہ

  • جس طرح یونیسکو (UNESCO) دنیا کی نادر تاریخی عمارتوں کو اپنے انڈیکس میں عالمی سطح پر شامل کر کے ان کی حفاظت کرتا ہے، اسی طرح ہندوستان کا محکمہ آثار قدیمہ قومی سطح پر ملک کی تاریخی اور تہذیبی عمارتوں کی فہرست بناکر ان کے تحفظ کا انتظام کرتا ہے۔
  • تاریخی مقامات پر جگہ جگہ بورڈ نصب کیے جاتے ہیں، جس پر اُس مخصوص جگہ کی تفصیل درج ہوتی ہے۔ بیشتر جگہوں پر یہ بورڈ، بریل میں بھی ہوتے ہیں۔ اکثر و بیشتر جگہ کیو آر کوڈ بھی موجود ہوتا ہے۔ اسے اسکین کر کے کیو آر کو ڈ ریڈر کی مدد سے معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔
Screenshot 2026-05-11 103504