Skip to content

Screenshot 2026-05-11 121316 کرشنا سوبتی
1925-2019

کرشنا سوبتی کا اصل نام وی . ایس کرشنا سوبتی ہے۔ وہ ایک مشہور افسانہ نگار ، مضمون نگار اور مصنفہ تھیں۔ ان کی تعلیم شملہ اور دہلی میں ہوئی ۔ تقسیم ہند کے بعد انھوں نے راجستھان کے مہاراجہ تیج سنگھ کے یہاں بطور افسر انتظامیہ کام کیا۔ 1980 تک وہ دہلی انتظامیہ کے محکمہ تعلیم بالغان میں ایڈیٹر رہیں۔

کرشنا سوبتی نے 1950 کی دہائی کے آغاز میں افسانے لکھنے شروع کیے اور جلد ہی ادبی دنیا میں اپنی شناخت قائم کر لی۔ ان کا پہلا ناول 'ڈار سے بچھڑی 1958 میں شائع ہوا جو بہت مقبول ہوا۔ اس کے علاوہ متر و مر جانی ، یاروں کے یار ، کافی مشہور ہوئے ، انھوں نے انسانی قدروں کے زوال، استحصال زدہ طبقے اور خصوصاً عورت اور مرد کے تعلقات کی پیچیدگیوں کو اپنا موضوع بنایا۔

ان کی کہانیوں کے مجموعوں میں بادلوں کے گھیرے ، سورج مکھی اور اندھیرے شامل ہیں۔ ناولوں میں زندگی نامہ ، دل و دانش ، اے لڑکی وغیرہ اہم نام ہیں۔ ہم حشمت ان کی یاد داشت ہے۔ انھیں گیان پیٹھ ایوارڈ اور ساہتیہ اکادمی ایوارڈ اعزازات سے نوازا گیا۔ میاں نصیر الدین ان کے ہندی مجموعے ہم حشمت سے لیا گیا ہے۔

Qr




میاں نصیر الدین


صاحبو! اس روز ہم مٹیا محل کی طرف سے نہ گزرتے تو سیاست، ادب اور فن کے ہزار ہا مسیحاؤں کے دھوم دھڑ کے میں نان بائیوں کے مسیحا میاں نصیر الدین کو کیسے پہچانتے؟ اور کیسے اٹھاتے لطف ان کے مسیحائی انداز کا!

ہوا یہ کہ ہم ایک دو پہر جامع مسجد سے لگے ہوئے محلے مٹیا محل کے گڑھیے محلے کی طرف نکل گئے۔ ایک نہایت معمولی اندھیری سی دکان پر پٹا پٹ آٹے کا ڈھیر گندھتے دیکھ ٹھٹکے سوچا، سویوں کی تیاری ہو گی۔

Screenshot 2026-05-11 122408

مگر پوچھنے پر معلوم ہوا خاندانی نان بائی میاں نصیر الدین کی دکان پر کھڑے ہیں۔ میاں مشہور ہیں، چھپیں قسم کی روٹیاں پکانے کے لیے۔

ہم نے جو اندر جھانکا تو پایا کہ میاں چار پائی پر بیٹھے مزہ لے رہے ہیں۔ موسموں کی مار سے پکا چہرہ، آنکھوں میں کائیاں، بھولا پن اور پیشانی پر منجھے ہوئے کاریگر کے تیور ۔

ہمیں گاہک سمجھ کر میاں نے نظر اٹھائی فرمائیے!“

جھجک کر کہا: ” آپ سے کچھ سوال پوچھنے تھے۔ آپ کو وقت ہو تو ...

میاں نصیر الدین نے پنج ہزاری انداز میں سر ہلایا: ” نکال لیں گے وقت تھوڑا۔ مگر یہ تو کہیے کہ آپ کو پوچھنا کیا ہے؟“

پھر گھور کر دیکھا اور بولے: ”میاں! کہیں اخبار نویس تو نہیں ہو؟ یہ تو کھوجیوں کا شوق ہے۔ ہاں! کام کاجی آدمی کو اس سے کیا غرض ؟ خیر ! آپ نے یہاں تک آنے کی زحمت اٹھائی ہی ہے تو پوچھیے ، کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟“

پوچھنا یہ تھا کہ قسم قسم کی روٹیاں پکانے کا علم آپ نے کہاں سے حاصل کیا؟“

میاں نصیر الدین نے آنکھوں کے ڈھیلے ہم پر جمادیے۔ پھر تریر کر بولے:” کیا مطلب؟ بھلا بتائیے صاحب، نان بائی علم حاصل کرنے کے لیے کہیں اور جائے گا؟ کیا نگینہ ساز کے پاس؟ کیا آئینہ ساز کے پاس؟ کیا مینا ساز کے پاس؟ کیا فرمایا صاحب؟ یہ تو ہمارا خاندانی پیشہ ٹھہرا۔ ہاں علم کی بات پوچھیے تو جو کچھ بھی سیکھا اپنے والد استاد سے ہی مطلب یہ کہ ہم گھر سے نہ نکلے کہ کوئی پیشہ اختیار کریں گے۔ جو باپ دادا کا ہنر تھا وہی ان سے پایا اور والد مرحوم کے اُٹھ جانے پر آبیٹھے انھیں کے ٹھیے پر ۔“

آپ کے والد ....؟“

میاں نصیر الدین کی آنکھیں پل بھر کے لیے کسی بھٹی میں گم ہوگئیں۔ لگا گہری سوچ میں ہیں۔ پھر سر ہلایا: ” کیا آنکھوں کے سامنے چہرہ زندہ ہو گیا ! ہاں! ہمارے والد صاحب مشہور تھے ، میاں برکت شاہی نان بائی گڑھیا والے کے نام سے اور ان کے والد یعنی کہ ہمارے داد ا صاحب تھے اعلیٰ نان بائی میاں کلن !“

"آپ کو ان دونوں میں سے کسی کی کوئی نصیحت یاد ہے؟"

“ نصیحت کا ہے کی میاں! کام کرنے سے آتا ہے، نصیحتوں سے نہیں ، ہاں!“

"بجا فرمایا ہے۔ مگر یہ تو بتائیے کہ جب آپ (ہم نے بھٹی کی طرف اشارہ کیا ) اس کام پر لگے تو والد صاحب نے کچھ نہ کچھ ہدایت تو دی ہو گی!“

نصیر الدین صاحب نے گلا صاف کیا اور بڑے انداز سے بولے: ” اگر آپ کو کچھ کہلوانا ہی ہے تو بتائے دیتے ہیں۔ آپ جانیں، جب بچہ استاد کے یہاں پڑھنے بیٹھتا ہے تو استاد کہتا ہے : ” کہہ الف!“

بچہ کہتا ہے : ”الف“

استاد کہتا ہے : ” کہہ ب“

بچہ کہتا ہے : ”ب“

کہہ جیم !“

بچہ کہتا ہے : ”جیم “

سمجھے صاحب! ایک تو پڑھائی اس طرح ہوتی ہے۔ اور دوسری بات بیچ میں چھوڑ کر سامنے سے گزرنے والے میر صاحب کو آواز دے ڈالی : ” کہو بھائی میر صاحب! صبح نہ آنا ہوا۔ مگر کیوں؟“

میر صاحب نے سر ہلایا : ”میاں ! ابھی لوٹ کر آتے ہیں تو بتائیں گے۔“

آپ دوسری پڑھائی کے بارے میں کچھ کہہ رہے تھے نا؟“

اس بار میاں نصیر الدین نے یوں سر ہلایا جیسے سقراط ہوں ۔ ”ہاں! ایک دوسری پڑھائی بھی ہوتی ہے۔ سینے ! اگر بچے کو بھیجا مدرسے تو بچہ ...

نہ کچی میں بیٹھا

نہ بیٹھا وہ پکی میں

نہ دوسری میں ۔

اور جا بیٹھا تیسری میں ہم یہ پوچھیں گے کہ ان تین جماعتوں کا کیا ہوا؟ کیا ہوا ان تین کلاسوں کا؟“

اپنا خیال تھا کہ میاں نصیر الدین نان بائی اپنی بات کا نچوڑ بھی نکالیں گے مگر وہ ہم ہی پر نشانہ سادھتے رہے۔ ” آپ ہی بتائیے ... ان دو تین جماعتوں کا ہوا کیا؟“

" یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے۔“

اس بار شاہی نان بائی میاں کلکن کے پوتے اپنے بچے کھچے دانتوں سے کھلکھلا کر ہنس دیے۔

مطلب میرا کیا صاف نہ تھا۔ لو صاحبو! ابھی صاف ہوا جاتا ہے۔ ذرا سی دیر کو مان لیجیے ...

ہم برتن دھونانہ سیکھتے

ہم بھٹی بنانانہ سیکھتے

بھٹی کو آنچ دینانہ سیکھتے

Screenshot 2026-05-20 095523

تو کیا ہم سیدھے سیدھے نان بائی کا ہنر سیکھ جاتے؟“

میاں نصیر الدین نے ہماری طرف کچھ اس طرح دیکھا کہ جیسے اُنھیں ہم سے جواب طلب کرنا ہو۔ پھر بڑے ہی منجھے ہوئے انداز میں کہا: ” کہنے کا مطلب صاحب یہ ہے کہ تعلیم کی تعلیم بھی بڑی چیز ہوتی ہے!“

سر ہلایا: ” ہے صاحب! مانا۔“

میاں نصیر الدین جوش میں آگئے۔ ”ہم نے نہ لگایا ہو تا خوانچہ تو آج کیا یہاں بیٹھے ہوتے؟“

میاں کو خوانچے والے دنوں میں بھٹکتے دیکھ کر ہم نے بات کا رخ موڑا: ” آپ نے خاندانی نان بائی ہونے کا ذکر کیا۔ کیا یہاں اور بھی نان بائی ہیں؟“

میاں نے گھور کر ہماری طرف دیکھا: ”بہتیرے ہیں۔ مگر خاندانی نہیں۔ سنیے۔ دماغ میں چکر کاٹ گئی ہے ایک بات۔ ہمارے بزرگوں سے بادشاہ سلامت نے یوں کہا ... میاں نان بائی کوئی نئی چیز کھلا سکتے ہو ؟“ حکم دیجیے، جہاں پناہ!“

بادشاہ سلامت نے فرمایا: ” کوئی ایسی چیز بناؤ جو نہ آگ سے پکے، نہ پانی سے بنے۔“

” کیا ان سے بنی ایسی چیز ؟“

کیوں نہ بنتی صاحب۔ بنی اور بادشاہ سلامت نے خوب کھائی۔ اور خوب تعریف کی !“

یوں لگا کہ ہمارا آنا کچھ رنگ لایا چاہتا ہے۔ بے صبری سے پوچھا: ” وہ پکوان کیا تھا ... کوئی خاص چیز رہی ہو گی !“

میاں کچھ دیر سوچ میں کھوئے رہے۔ سوچا پکوان پر روشنی ڈالنے والے ہیں۔ مگر نصیر الدین صاحب اچانک بڑی رکھائی سے بولے : ” یہ ہم نہ بناویں گے۔ بس آپ اتنا سمجھ لیجیے کہ ایک کہاوت ہے نا کہ خاندانی نان بائی کنوئیں میں بھی روٹی پکا سکتا ہے۔ کہاوت جب بھی گڑھی گئی ہو۔ ہمارے بزرگوں کے کرتب پر ہی پوری اترتی ہے۔“

مزہ لینے کے لیے ٹو کا: ” کہاوت یہ بچی بھی ہے کہ ...؟“

میاں نے اترا کر کہا: ” اور کیا جھوٹی ہے؟ آپ ہی بتائیے روٹی پکانے میں جھوٹ کا کیا کام؟ جھوٹ سے روٹی پکے گی! کیا پکتی دیکھی ہے کبھی۔ روٹی جناب پکتی ہے آنچ سے، سمجھے!“

سر ہلانا پڑا: ” درست فرماتے ہیں۔“

اس دوران میں میاں نے کسی کو پکار لیا: ”میاں رحمت ! اس وقت کدھر کو ؟ ارے وہ بچی نہ آئی رومالی روٹی لینے۔ شام کو منگوالیجیو !“

میاں، ایک بات اور آپ کو بتانے کی زحمت اٹھانی پڑے گی۔“

بولے: ”پوچھیے۔ ارے بات ہی تو پوچھیے گا۔ جان تھوڑی لے لیں گے۔ اس میں بھی اب کیا دیر بستر کے ہو چکے۔ پھر جیسے اپنے آپ سے کہہ رہے ہوں : ” والد مرحوم نے تو کوچ کیا اسی پر ۔ مگر کیا پتا، اتنی مہلت ہمیں بھی ملے، نہ ملے۔“

اس مضمون پر ہم سے کچھ کہتے نہ بن آیا تو کہا: ”ابھی یہی جاننا تھا کہ آپ کے بزرگوں نے شاہی باورچی خانے میں کام کیا ہی ہو گا ؟“ میاں نے بے رُخی سے ٹو کا: ” وہ بات تو پہلے ہو چکی نا!“

ہو تو چکی صاحب، مگر جانا یہ تھا کہ دلّی کے کسی بادشاہ کے یہاں آپ کے بزرگ کام کیا کرتے تھے ؟“ اجی صاحب ! کیوں بال کی کھال نکالنے پر تلے ہیں ؟ کہہ دیانا کہ بادشاہ کے یہاں کام کرتے تھے۔

بس یہ کافی نہیں ؟“

ہم کھسیانی ہنسی ہنس دیے ۔ ” ہے تو کافی ، مگر نام لیتے تو اسے وقت سے ملا لیتے!“

وقت سے ملا لیتے ، خوب! مگر کسے ملاتے جناب آپ وقت سے؟“

میاں ہنس پڑے جیسے ہمارا مذاق اڑا رہے ہوں۔

وقت کو وقت سے کسی نے ملایا ہے آج تک اخیر ! پوچھے کس کا نام جاننا چاہتے ہیں؟ دتی کے بادشاہ کا ہی نا؟ ان کا نام کون نہیں جانتا۔ جہاں پناہ بادشاہ سلامت ہی نا!“

کون سے؟ بادشاہ ....

میاں نے زچ ہو کر کہا: ” پھر الٹ پلٹ کر وہی بات لکھ لیجے بس یہی نام ۔ آپ کو کون سا خط رقعہ بادشاہ کے نام بھیجنا ہے کہ ڈاک خانے والوں کے لیے صحیح نام پتہ ہی ضروری ہے!“

ہم کو اپنی طرف گھورتے دیکھا تو سر ہلا کر اپنے کاریگر سے بولے: ”ارے بٹن میاں! بھٹی سُلگا دو تو کام سے نپیٹیں!“

یہ بتن میاں کون ہیں صاحب؟“

میاں نے رکھائی سے جیسے پھانک ہی کاٹ دی ہو ۔ اپنے کاریگر اور کون؟“

جی میں آیا کہ پوچھ لیں : ” آپ کے بیٹے بیٹیاں ہیں؟“

لیکن میاں نصیر الدین کے چہرے پر کسی دبے ہوئے اندھڑ کے آثار دیکھ کر مضمون نہ چھیڑ نے کا فیصلہ دو کیا۔ اتنا ہی کہا: ” یہ کار یہ کاریگر لوگ آپ کی شاگردی کرتے ہیں؟“

خالی شاگردی ہی نہیں صاحب! گن کے مزدوری دیتا ہوں۔ دو روپے من آٹے کی مزدوری۔ چار روپے من میدے کی مزدوری ! ہاں!“

زیادہ تر بھٹی پر کون سی روٹیاں پکا کرتی ہیں؟“

میاں کو اب تک اس مضمون سے کوئی دل چیپسی باقی نہ رہی تھی ، پھر بھی ہم سے چھٹکارا پانے کے لیے بولے : ” باقر خانی، شیر مال، تافتان، بیسنی، خمیری، رومالی، گاؤ دیده، گازے بان، تنکی۔“

پھر تیوری چڑھا کر ہمیں گھورتے ہوئے بولے: "تنگی پاپڑ سے زیادہ ہین ہوتی ہے۔ مہین۔ ہاں! کسی دن کھلائیں گے آپ کو ۔ “

یکا یک میاں کی آنکھوں کے سامنے کچھ کو ند گیا۔ ایک لمبی سانس بھری اور کسی گم شدہ یاد کو تازہ کرتے ہوئے بولے : ”اٹھ گئے وہ زمانے اور گئے وہ قدر دان جو پکانے کھانے کی قدر کرنا جانتے تھے۔ میاں اب رکھا کیا ہے ... نکالی تندور سے .... نگلی اور ہضم !“

--کرشنا سوبتی

(ہندی سے ترجمہ )

لفظ و معنی

مسیحا   :   دوبارہ زندگی دینے والا مراد بھلائی چاہنے والا، حضرت عیسی کا معجزہ

نان بائی   :   روٹی بنانے والا

ریرنا   :  آنکھیں پھاڑ کے دیکھنا / ٹکٹکی باندھ کے دیکھنا

نگینه ساز   :   نگ تراشنے والا، جوہری

آئینه ساز   :   آئینہ بنانے والا

میناساز   :   نقش و نگار بنانے والا، مینا کاری کرنے والا

زچ ہو کر   :   جھلا کر

پنج هزاری انداز   :   شاہانہ انداز

پھانک   :   ٹکڑا، فاش، حصہ

اندھر   :   آندھی، جھگڑ

اٹھ جانا   :   محاوره به عنی انتقال، موت

غور کیجیے

  • یہ مضمون ایک نان بائی میاں نصیر الدین کے انٹرویو پر مبنی ہے۔ اس میں خاندانی نان بائی میاں نصیر الدین کی شخصیت، دل چسپی اور مزاج کو بڑے خوب صورت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ میاں نصیر الدین اپنے مسیحائی انداز سے روٹی پکانے کے ہنر اور اس میں اپنی خاندانی مہارت کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ ایسے انسانوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو اپنے پیشے کو فن کا درجہ دیتے ہیں اور کر کے سیکھنے کو اصلی ہنر بتاتے ہیں۔
  • سبق میاں نصیر الدین ، ہندی سے ترجمہ ہے لیکن اس کی زبان بے ساختہ ، جملے چست اور برجستہ ہیں۔ یہ دتی کی پیشہ ورانہ زبان کی عمدہ مثال ہے۔ میاں نصیر الدین ایک حقیقی کردار ہے اس طرح کے کردار ہمارے آس پاس موجود ہوتے ہیں جن میں تصنع نہیں ہوتا ہے۔

سوچیے اور بتائیے

  1. میاں نصیر الدین کسی وجہ سے شہور تھے۔ ان کی دکان کہاں واقع تھی؟
  2. روٹیاں پکانے کا علم آپ نے کہاں سے حاصل کیا ؟ اس بات کا نصیر الدین نے کیا جواب دیا؟
  3. بادشاہ کا نام پوچھنے پر میاں نے زچ ہو کر کیا جواب دیا؟
  4. میاں نصیر الدین پکوان کا ذکر کرتے ہوئے لمبی سانس بھرنے کی کیا وجہ تھی ؟
  5. میاں نصیر الدین کو نان بائیوں کا مسیحا کیوں کہا ہے ؟

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے

  • خاندانی نان بائی کنویں میں بھی روٹی پکا سکتا ہے ۔ “ یہ کہاوت فن اور ہنر کی تعریف پیش کرتی ہے، ہر کہاوت کے پیچھے ایک کہانی ہوتی ہے، دو کہاوتیں اور ان کے پیچھے چھپی کہانی کو نیچے لکھیے:
Screenshot 2026-05-11 135229
  • سبق میں آئے محاوروں کو تلاش کیجیے اور انھیں اپنے جملوں میں استعمال کیجیے جیسے رنگ لانا، بال کی کھال نکالنا، روشنی ڈالنا وغیرہ۔
Screenshot 2026-05-11 135326

گفتگو کیجیے

درج ذیل اقتباس کو پڑھیے اور اس کا مفہوم اپنی زبان میں لکھیے:

بھلا بتائیے صاحب، نان بائی علم حاصل کرنے کے لیے کہیں اور جائے گا؟ کیا نگینہ ساز کے پاس؟ کیا آئینہ ساز کے پاس؟ کیا مینا ساز کے پاس؟ کیا فرمایا صاحب؟ یہ تو ہمارا خاندانی پیشہ ٹھہرا۔ ہاں علم کی بات پوچھیے تو جو کچھ بھی سیکھا اپنے والد استاد سے ہی مطلب یہ کہ ہم گھر سے نہ نکلے کہ کوئی پیشہ اختیار کریں گے۔ جو باپ دادا کا ہنر تھا وہی ان سے پایا اور والد مرحوم کے اُٹھ جانے پر آبیٹھے انھیں کے ٹھیے پر۔

انٹرویو کیجیے

  • انٹرویو کے معنی ہیں کسی شخص سے رسمی سوالات پوچھ کر اس کے جوابات حاصل کرنا۔ انٹر ویو حقائق کی دریافت، نقطہ نظر سے واقفیت اور شخصی معلومات فراہم کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ انٹرویو کے کچھ اصول متعین ہیں مثلاً: سوالات کی فہرست تیار کرنا، انٹرویو کا وقت اور مقام پہلے سے طے کرنا وغیرہ۔ اپنے علاقے کی ادبی شخصیت سے انٹرویو کیجیے اور سوالات و جوابات کو انٹرویو کی شکل میں تحریر کیجیے۔
  • اگر مصنفہ کی جگہ آپ میاں نصیر الدین سے ملاقات کرتے تو آپ اُن سے کیا گفتگو کرتے؟ لکھیے۔

تجزیہ کیجیے

  • سبق میں مختلف اقسام کی روٹیوں کا ذکر آیا ہے۔ آپ کتنی قسم کی روٹیوں کے بارے میں جانتے ہیں؟ اس پر اپنے ساتھیوں سے بات چیت کیجیے اور انھیں پکانے کے طریقے پر بھی روشنی ڈالیے۔
  • ان جملوں میں کون سی صفت کا استعمال ہوا ہے :
  1. آنکھوں کے سامنے چہرہ زندہ ہو گیا۔ _______
  2. روٹی جھوٹ سے نہیں آنچ سے پکتی ہے۔ _______
  3. خاندانی نان بائی کنویں میں بھی روٹی پکا سکتا ہے۔ _______

تخلیقی اظہار

  • نصیر الدین جیسے کردار ہمارے آس پاس موجود ہوتے ہیں اپنے اسکول یا اطراف میں نظر ڈالیے اور ایسے ہی کسی کردار پر ایک مزاحیہ ضمون تحریر کیجیے۔
  • انگریزی یا کسی اور زبان میں لکھے دس اطلاعاتی اشتہاروں کا ترجمہ اپنی زبان میں کیجیے مختلف نعروں مثلاً Donate blood, Save life وغیرہ تلاش کیجیے اور ان کا ترجمہ اردو زبان میں کیجیے، اسی طرحاردو نعروں کا ترجمہ کسی دوسری زبان میں کیجیے۔
  • دیے گئے جملوں کی مدد سے آپ اپنی زبان میں ایک اقتباس لکھیے:
  1. میاں مشہور ہیں چھین قسم کی روٹیاں پکانے کے لیے۔
  2. نکال لیں گے وقت تھوڑا۔
  3. دماغ میں چکر کاٹ گئی ہے بات۔
  4. روٹی جناب پکتی ہے آنچ سے۔

عملی کام

ہندوستان ایک کثیر ثقافتی اور کثیر لسانی ملک ہے ۔ یہاں طرح طرح کے کھانے، لباس، رسم و رواج ، زبانیں اور مذاہب کے ماننے والے رہتے ہیں۔ آپ کے علاقے میں بھی کچھ کھانے مشہور ہوں گے۔ اپنے پسندیدہ کھانوں کے نام لکھیے اور یہ بھی بتائیے کہ کون سا کھانا کس موقعے پر پکایا جاتا ہے؟

اضافی مطالعہ

  • ترجمہ ایک زبان کے متن کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کا عمل ہے جس زبان سے ترجمہ کیا جاتا ہے اسے بنیادی زبان اور جس زبان میں ترجمہ کیا جاتا ہے اسے مطلوبہ زبان کہتے ہیں۔ ترجمے کے ذریعے ایک زبان سے دوسری زبان کے علمی سرمائے اور ادبی ذخیرے تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔
  • ترجمے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں زبانوں کے بنیادی نکات جیسے قواعد ، علم بیان، محاورے، تہذیبی تناظر اور بنیادی متن کی صنف یا نوعیت سے واقفیت ہو۔ ترجمہ کے عمل میں متن کو کسی دوسری دوسری زبان میں اس طرح منتقل کیا جاتا ہے کہ اصل زبان کی خوبیاں باقی رہیں۔
  • ترجمہ ایک فن ہے اس کے لیے ایک سے زائد زبانوں کی واقفیت ضروری ہے۔ اس سے زبان و ادب کے ذخیرے میں اضافہ ہوتا ہے اور نئے رجحانات اور تازہ خیالات سے واقفیت حاصل ہوتی ہے۔