غزل کے پہلے شعر کو مطلع کہتے ہیں ۔ مطلع کے دونوں مصرعے ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوتے ہیں۔ بقیہ اشعار کے دوسرے مصرعے میں قافیہ کی پابندی کی جاتی ہے۔ غزل میں قافیے کے بعد ردیف ہوتی ہے۔ کئی شاعروں نے ایسی غزلیں بھی کہی ہیں جن میں ردیف کی پابندی نہیں ہے۔ غزل میں مطلع کے بعد آنے والے شعر کو حسن مطلع کہتے ہیں۔ غزل کا آخری شعر جس میں عام طور پر شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کے تمام اشعار کا ایک بحر میں ہونا ضروری ہے۔ غزل کا ہر شعر موضوع و مضمون کے لحاظ سے اپنے آپ میں مکمل ہوتا ہے، اس لیے شاعر کو صرف دو ہی مصرعوں میں پوری بات کہنی ہوتی ہے۔ چوں کہ تفصیل سے گریز کیا جاتا ہے اس لیے اس میں اشارے، کنایہ، تشبیہ و استعارے اور علامتیں زیادہ استعمال کی جاتی ہیں۔ غزل میں عموماً پانچ یا سات اشعار ہوتے ہیں ان کی تعداد زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔ غزل کے سب سے اچھے شعر کو بیت الغزل ، شاہ بیت‘ یا حاصل غزل بھی کہتے ہیں۔
اردو میں ولی دکنی، خواجہ میر درد، میر تقی میر ، خواجہ حیدر علی آتش، امام بخش ناسخ، انشاء اللہ خاں انشا، شیخ غلام ہمدانی مصحفی ، شیخ ابراہیم ذوق، مرزا غالب، مومن خان مومن، نواب مرزا خاں داغ، حسرت موہانی، جگر مراد آبادی، فراق گورکھپوری، مجروح سلطان پوری، فیض احمد فیض، ناصر کاظمی اور شہر یار وغیرہ غزل کے نمائندہ شعر ا ہیں۔
خواجہ میر درد
1720-1785
خواجہ میر درد کی پیدائش دہلی میں ہوئی۔ اُن کا نام خواجہ میر اور درد تخلص تھا۔ میر درد کا خاندان دہلی میں جادہ تصوف پر فائز تھا۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے والد خواجہ میر عندلیب سے حاصل کی۔ وہ خود بھی مشہور شاعر تھے اس لیے درد کو شاعری کا ذوق ورثے میں ملا۔ طبیعت میں سادگی اور قناعت پسندی تھی۔ یہی سبب ہے کہ دتی کے حالات خراب ہونے پر بیشتر شاعروں نے دوسری ریاستوں کا رخ کیا لیکن میر درد نے دلی سے باہر جانا گوارا نہ کیا۔
خواجہ میر درد کے کلام میں تصوف کا رنگ نمایاں ہے۔ وہ تصوف کے باریک نکات اور نازک سے نازک خیال کو نہایت خوبی سے ادا کرتے ہیں۔ انھوں نے اردو شاعری میں تصوف کی روایت کو سب سے زیادہ فروغ دیا اور فکری بنیاد فراہم کی۔ ان کی تصانیف میں فارسی اور اردو دیوان کے علاوہ علم الكتاب، واردات، اسرار الصلوٰۃ ، نالۂ درد، آه سرد اور درد دل وغیرہ شامل ہیں۔ ان کے اردو دیوان میں تقریباً پندرہ سو اشعار ہیں۔ میر درد کے کلام میں سادگی اور روانی کے ساتھ پاکیزگی اور گہرائی پائی جاتی ہے۔ انھوں نے چھوٹی بحروں میں عمدہ غزلیں کہی ہیں۔
غزل
جگ میں آکر ادھر اُدھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
جان سے ہو گئے بدن خالی
جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا
ناله، فریاد، آہ اور زاری
آپ سے ہو سکا سو کر دیکھا
ان لبوں نے نہ کی مسیحائی
ہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا
زور عاشق مزاج ہے کوئی
درد کو قصہ مختصر دیکھا
-خواجہ میر درد
لفظ و معنی
ناله : شور وغل، فریاد
فریاد : دہائی، ظلم و زیادتی کی شکایت
آہ وزاری : رونا پیٹنا
زور : طاقت
قصد مختصر : لب لباب، مختصر بات
غور کیجیے
- خواجہ میر درد ایک صوفی شاعر تھے۔ ان کے کلام کے زیادہ تر اشعار میں عشق حقیقی کا بیان ملتا ہے۔ عشق حقیقی خالق کا ئنات سے عشق کو کہتے ہیں جب کہ دنیوی چیزوں سے عشق عشق مجازی کہلاتا ہے سبق میں شامل یہ غزل عشق و محبت اور صوفیانہ فکر کا حسین امتزاج ہے۔
- غزل کے دوسرے شعر میں جان سے بدن خالی ہو جانے سے مراد کسی کے نظر بھر کر دیکھ لینے سے جان نکل جانا، ایک علامتی انداز ہے۔ اس میں مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا ہے۔
- تیسرے شعر میں نالہ ، فریاد، آہ اور زاری الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو ہم معنی الفاظ ہیں۔ کلام میں ایسی چیزیں جمع کرنا جن میں کوئی نہ کوئی مناسبت ہو، خواہ آپس میں ضد ہی ہو، اسے رعایت لفظی کہتے ہیں۔
- چوتھے شعر میں لفظ مسیحائی آیا ہے جو مسیحا کی صفت ہے۔ مسیحا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا لقب ہے۔ اس شعر میں حضرت عیسی کے اُس معجزے کی طرف اشارہ ہے جس کی رو سے وہ مریضوں کو اچھا اور مردوں کو زندہ کر دیتے تھے۔
سوچیے اور بتائیے
- تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا اس مصرعے میں تو کس کے لیے استعمال ہوا ہے؟
- جان سے ہو گئے بدن خالی سے کیا مراد ہے؟
- لبوں کی مسیحائی سے کیا معنی مراد لیے گئے ہیں؟
- غزل کے مقطع کا مفہوم اپنی زبان میں لکھیے۔
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
- زور عاشق مزاج ہے کوئی
درد کو قصہ مختصر دیکھا
اس شعر میں میر درد نے خود اپنی تعریف کی ہے۔ جب شاعر شعر میں اپنی بڑائی اور عظمت کو خود ظاہر کرتا ہے تو اسے شاعرانہ تعلی کہتے ہیں۔ تعلی کے اشعار دوسرے شاعروں کے یہاں بھی ملتے ہیں مثال کے طور پر میر تقی میر کا یہ شعر :
سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا
مستند ہے میرا فرمایا ہوا
اسی طرح غالب کے اس شعر میں بھی شاعرانہ تعلی پائی جاتی ہے:
ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور
آپ ایسے دو اشعار تلاش کر کے اپنی کاپی پر لکھیے جن میں شاعرانہ تعلی موجود ہو :
- خواجہ میر درد کی غزلوں میں عشقِ حقیقی کا عنصر پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر نیچے دیے گئے شعر میں د عشق حقیقی کارنگ نمایاں ہے :
جگ میں آکر ادھر اُدھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
خواجہ میر درد کے علاوہ دوسرے شاعروں نے بھی تصوف کے مضامین کو اپنی غزلوں میں نظم کیا ہے۔ اپنے ہم جماعت ساتھیوں کی مدد سے تین ایسے اشعار معلوم کر کے لکھیے جو اسی موضوع کو پیش کرتے ہوں:
- ان لبوں نے نہ کی مسیحائی ہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا
- اس مصرع میں لفظ سود و بار استعمال ہوا۔ بات میں زور پیدا کرنے کے لیے کلام میں ایک لفظ کو دوبار استعمال کیا جاتا ہے، اسے صنعت تکرار کہتے ہیں۔ اس کے استعمال سے زبان میں صوتی تکرار یعنی نغمگی پیدا ہوتی ہے اور بات میں زور پیدا ہوتا ہے۔ نیچے دیے گئے اشعار پر غور کیجیے اور تکرار والے الفاظ تلاش کر کے لکھیے:
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
آتے آتے آئے گا اُن کا خیال
بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں
محترم ________________
معتمد ________________
معتبر ________________
مشترک ________________
لسانی سرگرمی
نیچے دیے گئے لفظوں کو ملا کر شعر بنائیے:
زاری، فریاد، آہ، سے، سو، ہو، کر، نالہ، دیکھا، اور، آپ، سکا
تخلیقی اظہار
- اسکول میں اُردو کلب کی جانب سے غزل خوانی کا مقابلہ منعقد کیجیے اور اس پروگرام کی ایک رپورٹ تیار کیجیے۔
عملی کام
- دیوان میں غزلوں کی ترتیب ردیف یا قافیے کے آخری حرف سے کی جاتی ہے مثلاً سب سے پہلے ان غزلوں کو یکجا کیا جاتا ہے جن کے ردیف یا قافیے کا آخری حرف الف ہو۔ اس کے بعد حروف تہجی کے مطابق غزلوں کی ترتیب رکھی جاتی ہے۔ لائبریری سے درد کا مجموعہ کلام حاصل کیجیے اور ردیف الف نون اوری یا اپنی پسند کے حروف کی غزلوں کا انتخاب کیجیے اور ایک چارٹ پر لکھیے۔ میر درد کی شاعری کے بارے میں ایک پیراگراف بھی لکھیے۔
اضافی مطالعہ
.بحر
بحر (Meter) ان چند موزوں کلموں کا نام ہے جن پر شعر کا وزن ٹھیک کرتے ہیں۔
.وزن
وزن دو کلموں کی حرکات و سکنات برابر ہونے کا نام ہے جیسے احسان اور فرقان برابر وزن کے ہیں۔
.آهنگ
آهنگ (Rhythm) شاعری کی وہ موسیقی یا لے جو الفاظ کے انتخاب وزن اور معنی کے حسن ترتیب سے پیدا ہوتی ہے۔
.زمین
شعری اصطلاح میں زمین شعر کی بحر اور قافیے سے مل کر بنتی ہے۔ مثال کے طور پر میر کی اس غزل کی زمین میں جو اشعار کہے جائیں گے اس کی بحر اور قافیے وہی ہوں گے جو میر کی اس غزل کے ہیں۔