Skip to content

Screenshot 2026-05-11 144909 میر تقی میر
1722-1810

میر تقی میر کا نام محمد تقی تھا۔ وہ اکبر آباد (آگرہ) میں پیدا ہوئے۔ نو عمری میں والد کے انتقال کے بعد میر دتی آگئے۔ ان کی زندگی کا بیشتر وقت دلّی میں ہی گزرا۔ یہاں انھیں امرا اور رؤسا کی سر پرستی حاصل رہی۔ جب دتی میں سیاسی و سماجی انتشار بڑھا تو میں کھو چلے گئے اور باقی زندگی وہیں گزاری۔ وہیں ان کا انتقال ہوا۔

میر کلاسیکی اردو غزل کے ممتاز شاعر ہیں۔ سادہ عام فہم الفاظ میں سوز و گداز ، رنج وغم کی کیفیات پیدا کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ میر کی شاعری فکر ، اسلوب اور فن کی گہری اور بامعنی آمیزش سے عبارت ہے۔ میر نے اپنی غزلوں میں آپ بیتی کو جگ بیتی بنایا ہے۔ زبان کی سادگی ، جذبات کی شدت اور احساسات کی تصویر کشی ان کی غزلوں کی اہم خصوصیات ہیں۔ میر کو خدائے سخن کہا جاتا ہے۔ میر کے فارسی میں ایک اور اردو میں چھے دیوان شائع ہوئے ہیں۔ غزلوں کے علاوہ شاعری کی دوسری اصناف میں بھی میر نے خوب جو ہر دکھائے ہیں۔ ان کی مثنویوں میں بہار عشق ، شعلہ عشق اور دریائے عشق کو بہت شہرت ملی۔ انھوں نے اردو شعرا کا تذکرہ نکات الشعراء اور اپنی سوانح حیات ذکر میر “ کے عنوان سے لکھی ہیں۔


Qr




غزل


اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا
لو ہو آتا ہے جب نہیں آتا


ہوش جاتا نہیں رہا لیکن
جب وہ آتا ہے تب نہیں آتا


صبر تھا ایک مونس ہجراں
سو وہ مدت سے اب نہیں آتا


دل سے رخصت ہوئی کوئی خواہش
گریہ کچھ بے سبب نہیں آتا


عشق کو حوصلہ ہے شرط ارنہ
بات کا کسو ڈھب نہیں آتا


جی میں کیا کیا ہے اپنے اے ہمدم
پر سخن تا به لب نہیں آتا


دور بیٹھا غبار میں اس سے
عشق بن یہ ادب نہیں آتا


-میر تقی میر


لفظ و معنی

لو ہو   :   (لہو) خون

مونس   :   دوست، انس رکھنے والا

ہجراں   :   جدائی

ارنه   :   ورنہ

ڈھب   :   طریقہ ، ڈھنگ

ہمدم   :   ساتھی

سخن   :   بات، گفتگو، شعر

تا به لب   :   ہونٹوں تک

غبار   :   خاک مٹی

غور کیجیے

  • میر کی یہ غزل سہل ممتنع کی مثال ہے۔ سہل ممتنع ایسے خیال، بیان یا کلام کو کہتے ہیں جو بہ ظاہر آسان ہو لیکن دراصل آسان نہ ہو۔
  • پہلے شعر کے پہلے مصرعے میں لفظ ” کب استعمال ہوا ہے، اسی کی صوتی مناسبت سے دوسرے مصرعے میں لفظ جب ہے۔ کب اور جب قافیے کے الفاظ ہیں۔ بقیہ اشعار کے دوسرے مصرعوں میں بھی قافیے کی پابندی کی گئی ہے۔ تب ، اب، سبب، ڈھب ، لب اور ادب کی حیثیت قافیوں کی ہے۔
  • قافیے کے فوراً بعد ہر شعر میں نہیں آتا الفاظ آئے ہیں۔ یہ غزل کی ردیف ہے۔
  • غزل کے پہلے شعر میں لفظ لو ہو اور چوتھے شعر میں لفظ ” کسو ، استعمال ہوا ہے، اب یہ الفاظ مستعمل نہیں ہیں اور ان کی جگہ لہو اور کس کو یا کسی الفاظ مروج ہیں۔ ایسے الفاظ جواب مستعمل نہیں ہیں متروک الفاظ کہلاتے ہیں۔
  • غزل میں مونس ہجراں ، تابہ لب اور غبار میر ، تراکیب کا استعمال کیا گیا ہے۔

سوچیے اور بتائیے

  1. ہجر کے ایام میں کس کو مونس قرار دیا گیا ہے؟
  2. غم والم کی شدت کو کن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے؟
  3. غبار میر کا دور بیٹھنا کس جذبے کو ظاہر کرتا ہے؟
  4. اس شعر میں کسی جذبے کی تجسیم کاری کی گئی ہے؟

صبر تھا ایک مونس ہجراں

سودہ مدت سے اب نہیں آتا

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے

  • غزل میں لفظ تابہ لب آیا ہے جس کے معنی ہیں ہونٹوں تک یہاں 'تا سے مراد تک ہے۔ نیچے دیے گئے الفاظ کے معنی معلوم کر کے لکھیے اور انھیں جملوں میں استعمال کیجیے:
  1. تاحیات ______
  2. تا حال ________
  3. تا قیامت _________
  4. تاحد نظر ______
  5. تا عمر _______
  • درج ذیل جملوں کو غور سے پڑھیے ان میں کہی گئی بات جن اشعار میں پیش کی گئی ہے، اسے تلاش کر کے لکھیے:
  1. ہوش کی موجودگی اور غیر موجودگی کی بات کہی گئی ہے۔


  2. دل کی بات زبان تک نہ آنے کا ذکر ہے۔


  3. رونے کا سبب بیان کیا گیا ہے۔


  4. عشق کے سلیقے کی بات کی گئی ہے۔


  5. جب دل میں جذبات کی یلغار ہو تب اظہار کے لیے الفاظ زبان تک نہیں آپاتے


  • دیے گئے مصرعے کو غور سے پڑھیے:

بات کا کسو ڈھب نہیں آتا

مصرعے میں لفظ کسو ( کس کو ) پر غور کیجیے۔ عام طور پر یہ لفظ سوالیہ جملے میں ہوتا ہے، مگر یہاں سوال کے طور پر نہیں بلکہ تعریف یا فخر کے لہجے میں کہا گیا ہے۔ ایسے جملے غیر استفہامیہ جملے ہوتے ہیں یعنی

بہ ظاہر تو سوال لگتے ہیں لیکن حقیقت میں سوال نہیں ہوتے ہیں تحریر میں اس کا بیان علامت فجائیہ اور رسوالیہ سے ہوتا ہے جب کہ گفتگو میں اس کا پتہ لہجے سے چلتا ہے۔ نیچے دیے گئے جملوں کو پڑھیے اور بتائیے کہ کون سا جملہ سوالیہ ہے اور کس جملے میں سوال نہیں بلکہ محض اظہار ہے :

  1. کیا بات ہے
  2. کون نہیں جانتا
  3. آپ کی کتاب کہاں ہے
  4. کہاں تک بتاؤں
  5. کس نے تمھارا گانا نہیں سنا
  6. تم نے یہ خط کس کو لکھا ہے
  7. اُس کا نام کیا ہے

لسانی سرگرمی

  • دیے گئے متروک الفاظ کے مروجہ الفاظ معلوم کر کے لکھیے:
  1. تلک
  2. آوے
  3. کا ہے
  4. یاں
  5. کا ہے
  • غزل کو دوبارہ پڑھیے اور درج ذیل الفاظ کے مترادفات تلاش کر کے لکھیے :
    • آنسو
    • تمنا
    • دوست
    • گرد
    • بات
    • سلیقه

گفتگو کیجیے

  • اپنے ہم جماعت ساتھیوں سے گفتگو کیجیے اور یہ معلوم کیجیے کہ میر تقی میر کی غزل میں کون کون سی خوبیاں ملتی ہیں؟
  • نیچے دیے گئے الفاظ سے کسی جذبے یا کیفیت کا اظہار ہوتا ہے؟ اپنے دوستوں کے ساتھ گفتگو کیجیے اور ایسے اشعار تلاش کر کے لکھیے جن سے اس جذبے یا کیفیت کو ظاہر کیا گیا ہے :

درد



ہجر :



بے بسی:



تخلیقی اظہار

  • جی میں کیا کیا ہے اپنے اے ہمدم
  • پرسخن تا به لب نہیں آتا

اس شعر میں شاعر کا کہنا ہے کہ اس کے دل میں بہت سی باتیں ہیں جو اس کی زبان پر نہیں آرہی ہیں کیسی وقت پر آپ کے دل میں بھی کچھ باتیں ضرور رہی ہوں گی، جن کا اظہار زبان سے نہ کر پائے ہوں، انھیں ایک پیراگراف میں تحریر کیجیے۔

  • اپنے پسندیدہ شاعر کے کلام سے پانچ اشعار کا انتخاب کیجیے اور بتائیے کہ ان اشعار کی کن خصوصیات سے آپ متاثر ہوئے اور کیوں؟

عملی کام

  • میر کے کلام کو پڑھیے اور اپنے پسندیدہ اشعار سے ایک البم تیار کیجیے۔
  • لائبریری سے کسی دوسرے شاعر کی چھوٹی بحر کی غزلیں تلاش کر کے پڑھیے اور کمرۂ جماعت میں سنائیے۔

اضافی مطالعہ

مطلع ثانی اور غزل کا پہلا شعر مطلع کہلاتا ہے۔ مطلع کے بعد اگر دوسرا مطلع بھی کہا جائے تو اسے ثالث مطلع ثانی کہیں گے اور اگر اس کے بعد بھی ایک اور مطلع کہا جائے تو وہ مطلع مطلع ثالث کہلائے گا۔ بہت سے شعرا نے ایسی غزلیں کہی ہیں، جن میں مطلع ثانی اور مطلع ثالث بھی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر داغ کی غزل کے یہ اشعار :
تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں
تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں
ہماری طرف اب وہ کم دیکھتے ہیں
وہ نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں
زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں
ہمیں جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں
  • شعری صنعت

شعری صنعت (Poetic device) سے مراد شاعری میں استعمال ہونے والے وہ فنی اور تکنیکی طریقے، الفاظ اور ترکیبیں ہیں جو کلام کو خوب صورتی، اثر انگیزی اور معنویت عطا کرتی ہیں، جیسے صنعت تضاد ، صنعت ایہام وغیرہ۔

  • غزل مسلسل

عام طور پر غزل کے ہر شعر میں الگ الگ مضامین بیان کیے جاتے ہیں۔ لیکن غزل میں مربوط خیال پیش کرنے کی بھی گنجائش ہے۔ یعنی اگر شاعر چاہے تو پوری غزل میں ایک ہی بات کو پھیلا کر کہے۔ ایسی غزل کو ”غزل مسلسل کہتے ہیں۔

  • حسن تعلیل

کلام میں کسی چیز یا کام کی کوئی ایسی وجہ بتانا جو دراصل اس کی اصل وجہ نہ ہو، حسن تعلیل کہلاتا ہے۔ خواجہ حیدر علی آتش کے درج ذیل شعر پر غور کیجیے۔ چاند اور سورج نظام قدرت کے تحت چلتے رہتے ہیں لیکن شاعر نے ان کے مسلسل سفر کی وجہ محبوب کی تلاش بتائی ہے :

مری طرح سے مہ و مہر بھی ہیں آوارہ

کسی حبیب کی ہیں یہ بھی جستجو کرتے

آتش