Skip to content

Screenshot 2026-05-11 161331 امیر مینائی
1828-1900

امیر مینائی کا اصل نام امیر احمد تھا۔ وہ لکھنو میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام کرم احمد مینائی تھا۔ حضرت مخدوم شاہ مینا کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور اسی سبب اپنے نام کے ساتھ مینائی لکھتے تھے۔ شروع میں اپنے بڑے بھائی حافظ عنایت حسین اور اپنے والد سے تعلیم پائی۔ شاعری کا شوق بچپن سے تھا۔ پندرہ سال کی عمر میں منشی مظفر علی اسیر کے شاگرد ہوئے جو اپنے زمانے کے مشہور شاعر اور ماہر عروض تھے۔ واجد علی شاہ کی معزولی کے بعد وہ نواب رام پور سے وابستہ ہوئے۔ کچھ عرصہ بعد حیدر آباد منتقل ہو گئے اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔ شاعری کے علاوہ امیر مینائی کو طب اور نجوم سے بھی دل چیپسی تھی۔ نور تجلی اور ابر کرم، ان کی نعتیہ مثنویاں ہیں۔ امیر اللغات بھی ان کا اہم کارنامہ ہے۔ امیر مینائی نے یوں تو تمام اصناف میں طبع آزمائی کی تاہم غزل ان کا خاص میدان ہے۔ ان کی شاعرانہ زندگی کا بیش تر حصہ لکھنو اور رام پور میں گزرا لیکن ان کی غزلوں پر ر غ دہلوی رنگ نمایاں ہے۔ مرآۃ الغیب اور صنم خانہ عشق، ان کے دیوان ہیں۔


Qr




غزل


تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر
سرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر


رنگ چاہے اگر اس باغ میں آزادی کا
نکہت گل کی طرح شوق سفر پیدا کر


کون سی جا ہے جہاں جلوہ معشوق نہیں
شوق دیدار اگر ہے تو نظر پیدا کر


میرے ہی دل پہ گرے کاش یہ بجلی بن کر
اے فلک آہ میں اتنا ہی اثر پیدا کر


اپنی گردش پہ بہت ہے تجھے اے چرخ ، گھمنڈ
جب میں جانوں کہ شب غم کی سحر پیدا کر


صدمے الفت کے اٹھانے ہیں الہی مشکل
دل اگر ایک دیا لاکھ جگر پیدا کر


عشق بازی کا اگر حوصلہ رکھتا ہے امیر
دل جو لوہے کا تو پتھر کا جگر پیدا کر


-امیر مینائی


لفظ و معنی

ہوس   :   لالچ، حرص

سرفروشی   :   جانثاری، جاں بازی

نکہت   :   خوشبو، مہک

جا   :   جگہ

جلوه   :   جھلک، نظاره

فلک   :   آسمان

چرخ   :   آسمان

سحر   :   صبح

الفت   :   محبت، چاہت

غور کیجیے

  • امیر مینائی کی اس غزل میں ہمت، حو صلے اور شجاعت کی ترغیب دی گئی ہے۔
  • دوسرے شعر میں شاعر نے باغ کہہ کر اپنے ملک ہندوستان کی طرف اشارہ کیا ہے۔ پانچویں شعر میں یہ کہا ہے کہ ہمار ا سیارہ زمین اپنے محور پر گردش میں ہے اور اسی کے نتیجے میں دن، رات اور ماہ و سال وجود میں آتے ہیں۔ شاعر آسمان کو مخاطب ہو کر کہہ رہا ہے کہ اگر ہمت ہے تو غم کی رات کو ختم کر کے دکھا۔ اس نوعیت کے اشعار شاعرانہ بلند پروازی سے تعبیر کیے جاتے ہیں۔

سوچیے اور بتائیے

  1. نکہت گل کی طرح شوق سفر پیدا کرنے کو کیوں کہا گیا ہے؟
  2. آہ میں بجلی کا اثر پیدا کرنے کے معنی کیا ہیں؟
  3. شب غم کی سحر پیدا کرنے سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
  4. لوہے کا دل اور پتھر کا جگر ، سے کیا مراد ہے ؟

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے

  • رنگ چاہے اگر اس باغ میں آزادی کا
  • نکہت گل کی طرح شوق سفر پیدا کر

اس شعر کے پہلے مصرع میں رنگ ، باغ اور دوسرے مصرع میں گل کا استعمال ہوا ہے جن میں باہمی مناسبت ہے۔ کلام میں پہلے ایسا لفظ یا الفاظ لانا جن کی مناسبت یا تعلق سے دوسرے الفاظ کسی ایک مصرع یا شعر میں جمع ہو جائیں تو اسے صنعت مراعاۃ النظیر کہتے ہیں۔ آپ اپنے ساتھیوں کی مدد سے ایسے دو اشعار تلاش کر کے لکھیے جن میں صنعت مراعاۃ النظیر کا استعمال ہو :

Screenshot 2026-05-11 171246
  • اپنی گردش پہ بہت ہے تجھے اے چرخ گھمنڈ
  • جب میں جانوں کہ شب غم کی سحر پیدا کر

دیے گئے شعر کے دوسرے مصرعے میں شب کے ساتھ سحر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ۔ دونوں الفاظ ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ کلام میں ایسے الفاظ لانا جو ایک دوسرے کی ضد ہوں اسے صنعت تضاد کہتے ہیں۔ اس کی ایک اور مثال دیکھیے :

نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے

جہاں ہے تیرے لیے، تو نہیں جہاں کے لیے

صنعت تضاد کے دو شعر تلاش کر کے لکھیے :

Screenshot 2026-05-12 093820

سبق میں جگر ، ، سر ، ، دل اور نظر الفاظ آئے ہیں۔ ان لفظوں سے متعلق اردو میں متعدد محاورے مستعمل ہیں۔ آپ ان الفاظ سے محاورے تلاش کر کے لکھیے اور جملوں میں استعمال کیجیے:

Screenshot 2026-05-12 093916
  • شعر میں سحر کا لفظ استعمال ہوا ہے سحر کے ایک معنی صبح کے وقت کے ہیں اور دوسرے معنی طلسم یا جادو کے ہیں۔ دیے گئے الفاظ کے الگ الگ معنی لکھیے :
Screenshot 2026-05-12 094055
  • غزل میں لفظ نظر “ کا استعمال ہوا ہے جس کے معنی نگاہ کے ہیں، اسی کا ہم آواز لفظ نذر ہے جس کے معنی پیش کرنے کے ہیں۔ نیچے دیے گئے الفاظ کے معنی لغت سے تلاش کیجیے اور جملوں میں استعمال کیجیے :
Screenshot 2026-05-12 094104
  • مرے ہی دل پہ گرے کاش یہ بجلی بن کر
  • اے فلک آہ میں اتنا ہی اثر پیدا کر
شعر کے دونوں مصرعوں میں حرف دہی کا استعمال ہوا ہے، اس سے مصرعوں میں لفظ 'مرے اور اثر پر زور دیا گیا ہے۔ وہ حروف جو جملے میں کسی پہلو پر زور یا تاکید کے لیے استعمال ہوں، انھیں حروف تخصیص کہتے ہیں۔ نیچے دیے گئے حروف تخصیص کو جملوں میں استعمال کیجیے:
  1. بھی _____________
  2. ہر _____________

لسانی سرگرمی

  • نکہت گل ، مرکب لفظ ہے۔ یہ مرکب لفظ دو الفاظ کے درمیان زیر کی اضافت استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا ہے۔ غزل سے ایسے ہی دیگر مرکب الفاظ تلاش کیجیے اور ان کے معنی واضحکرتے ہوئے جملوں میں استعمال کیجیے:
Screenshot 2026-05-12 094701
غزل سے ایسے مصرعے تلاش کر کے لکھیے جن میں درج ذیل الفاظ کے متضاد الفاظ لائے گئے ہوں:

خار، زمین خوشی آسان

Screenshot 2026-05-12 095204

گفتگو کیجیے

  • درج ذیل شعر کو پڑھیے:

تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر

سرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر

یہ غزل کا پہلا شعر ہے۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ غزل کے پہلے شعر کو کیا کہتے ہیں اور اس کی کیا خوبی ہے؟ اپنے ہم جماعت ساتھیوں کے ساتھ گفتگو کیجیے اور دوسری غزلوں کے پہلے شعر کو معلوم کر کے لکھیے۔

تلاش کیجیے

  • درج ذیل مفہوم والے اشعار تلاش کیجیے اور لکھیے :
    • جاں بازی اور قربانی کا جذبہ


    • پھول کی خوشبو


    • دن اور رات کا وجود میں آنا


    • خدا کی موجودگی


آپ کی رائے

  • غزل میں شوق سفر کے معنی مسلسل جدو جہد ہے۔ آپ اپنے تعلیمی سفر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔

پروجیکٹ

  • تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر
  • سرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر

درج بالا شعر میں خط کشیدہ الفاظ پر غور کیجیے۔ یہ الفاظ ایک جیسی آواز پر ختم ہوئے ہیں اور ان میں آخری حرف مشترک ہے۔ وہ الفاظ جو یکساں آواز حروف پر ختم ہوتے ہیں، انھیں قافیہ کہتے ہیں۔ اپنے ساتھیوں کی مدد سے غزل میں آئے قافیوں کی فہرست بنائیے۔

تخلیقی اظهار

  • سرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر
  • اس مصرع کی روشنی میں ہمت ، شجاعت اور بہادری کے موضوع پر ایک مضمون لکھیے۔

عملی کام

  • بیت بازی کے لیے ایک ڈائری بنائیے جس میں الف سے لے کر دی تک حروف لکھ لیجیے۔ ہر حرف کے لیے چار صفحے مخصوص کر لیجیے۔ زیادہ سے زیادہ اشعار تلاش کر کے اپنی ڈائری میں لکھیے، انھیں یاد کیجیے اور بیت بازی کے مقابلے میں حصہ لیجیے۔

اضافی مطالعہ

بیت بازی

بیت بازی ایک ادبی کھیل ہے جسے دو لوگ بھی کھیل سکتے ہیں اور دو سے زیادہ لوگوں کی ٹیم بھی ایک دوسرے کے مقابلے میں کھیل سکتی ہے۔ اس کھیل میں اشعار پڑھنے کا مقابلہ ہوتا ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلی ٹیم ایک شعر پڑھتی ہے جیسے :

اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا

لو ہو آتا ہے جب نہیں آتا

دوسری ٹیم کو پڑھے گئے شعر کے آخری حرف سے شروع ہونے والے لفظ سے شعر پڑھنا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر مذکورہ شعر کے آخر میں الف آیا ہے تو دوسری ٹیم الف سے شعر پڑھ سکتی ہے:

اپنی گردش پہ بہت ہے تجھے اے چرخ ، گھمنڈ

جب میں جانوں کہ شب غم کی سحر پیدا کر

اسی طرح یہ کھیل آگے بڑھتا ہے۔ اس کو کھیلنے کے لیے زیادہ سے زیادہ اشعار یاد کرنے کی ضرورت ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ شعر کو موزونیت کے ساتھ پڑھا جائے۔