Skip to content

Screenshot 2026-05-12 101301 جگر مراد آبادی
1890-1960

جگر مراد آبادی کا نام علی سکندر اور جگر تخلص تھا۔ وہ مراد آباد میں پیدا ہوئے لیکن عمر کا زیادہ تر حصہ شہر گونڈہ میں گزرا، انتقال بھی وہیں ہوا۔ جگر نے تعلیم و تربیت گھر پر ہی حاصل کی۔ اپنی محنت اور ذہانت کی وجہ سے بہت کم وقت میں زبان و بیان پر عبور حاصل کر لیا۔ شاعری جگر کو وراثت میں ملی تھی۔ ان کے والد مولوی نظر علی صاحب دیوان شاعر تھے۔ جگر نے ابتدائی دور میں اپنے والد سے کلام پر اصلاح لی۔ان کے بعد داغ دہلوی اور ان کے شاگرد تسلیم دہلوی کی شاگردی اختیار کی۔ جگر کی شاعری پر داغ کی زبان کے اثرات نمایاں ہیں۔ جگر کی شاعری میں کیفیت اور بے خودی کی لہر ہر جگہ نظر آتی ہے۔ ان کی شاعری کی نمایاں خصوصیت سادگی اور روانی ہے۔ انداز دل کش اور دل نشین ہے۔ محاورات اور روزمرہ کا استعمال بھی خوب صورتی کے ساتھ کیا گیا ہے۔ داغ جگر ، آتشِ گل ، شعلہ طور اُن کے شعری مجموعے ہیں۔ جگر کا مکمل کلام ” کلیات جگر کے نام سے شائع ہوا۔


Qr




غزل


اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں
فیضان محبت عام سہی عرفان محبت عام نہیں

یہ تو نے کہا کیا اے ناداں فیاضی قدرت عام نہیں
تو فکر و نظر تو پیدا کر کیا چیز ہے جو انعام نہیں

یارب یہ مقام عشق ہے کیا گو دیدہ و دل ناکام نہیں
تسکین ہے اور تسکین نہیں آرام ہے اور آرام نہیں

آنا ہے جو بزمِ جاناں میں پندارِ خودی کو توڑ کے آ
اے ہوش و خرد کے دیوانے یاں ہوش وخرد کا کام نہیں

عشق اور گوارا خود کر لے بے شرط شکست فاش اپنی
دل کی بھی کچھ ان کے سازش ہے تنہا یہ نظر کا کام نہیں

سب جس کو اسیری کہتے ہیں وہ تو ہے اسیری ہی لیکن
وہ کون سی آزادی ہے یہاں جو آپ خود اپنا دام نہیں


-جگر مراد آبادی

لفظ و معنی

توفیق   :   طاقت، حوصله

فیضان   :   فیض، کرم

عرفان   :   آگہی، شعور

فیاضی   :   سخاوت، بخشش

گو   :   اگر چه ، حالاں کہ

پندار   :   فخر ، غرور

خودی   :   انا، خودداری

خرد   :   عقل، دانش

شکست فاش   :   مکمل بار، نا کامی

اسیری   :   قيد

دام   :   پھندا، جال

غور کیجیے

  • جگر کی اس غزل میں صوفیانہ اور فلسفیانہ مضامین بیان کیے گئے ہیں۔ یہ غزل بندگی، عاجزی اور مالک حقیقی کی رضا پر بھروسہ کرنے کا پیغام دیتی ہے۔
  • اگر انسان فکر و نظر پیدا کر لے تو کوئی ایسا کام نہیں جو وہ کر نہ سکے۔ اسے ہمیشہ شعور اور آگہی سے کام لینا چاہیے۔
  • جگر نے اپنے کلام میں فارسی تراکیب کے ساتھ اردو کے سہل اور شیریں الفاظ کا کثرت سے استعمال کیا ہے۔
  • غزل میں فکر و نظر ، ہوش و خرد اور دیدہ و دل میں حرف عطف دو کا استعمال ہوا ہے۔ یہ حرف و صرف عربی فارسی الفاظ کے درمیان استعمال کیا جاتا ہے۔ اردو میں عام طور پر دو کے بجائے اور کا استعمال کیا جاتا ہے۔

سوچیے اور بتائیے

  1. فکر و نظر سے کیا مراد ہے؟
  2. قدرت کی ہر چیز انعام کیسے ہے؟
  3. شاعر نے بزمِ جاناں میں شامل ہونے کا کیا طریقہ بتایا ہے؟
  4. شاعر نے کیوں کہا کہ تسکین اور آرام ہے بھی اور نہیں بھی؟

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے

  • اس غزل میں فکر و نظر اور ہوش و خرد ایسے مرکب الفاظ ہیں جن کے درمیان واو عطف کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ دونوں الفاظ مترادف ہیں اسی طرح متضاد الفاظ کے استعمال سے مرکب لفظ بنایا جاتا ہے۔ آپ و او عطف کا استعمال کرتے ہوئے پانچ الفاظ لکھیے جو ایک دوسرے کی ضد ہوں، جیسے صبح و شام
Screenshot 2026-05-12 104326
  • نیچے دیے گئے الفاظ کے مترادف اور متضاد معلوم کر کے لکھیے:
الفاظ مترادف متضاد
فيضان ________ ________
تسکین ________ ________
پندار ________ ________
اسیری ________ ________
ناداں ________ ________
  • دیے گئے مصرعے کو غور سے پڑھیے:

اے ہوش و خرد کے دیوانے یاں ہوش و خرد کا کام نہیں

مصرعے میں ہوش و خرد مرکب لفظ ہے۔ دونوں الفاظ ایک دوسرے سے معنوی مناسبت رکھتے ہیں جیسے ہوش کے معنی عقل، سمجھ اور دانائی کے ہیں۔ خرد کے معنی بھی سمجھ ، دانش، دانائی وغیرہ کے ہیں۔ کلام میں زور پیدا کرنے کے لیے اسی طرح کے مرکب الفاظ لائے جاتے ہیں۔ نیچے دیے گئے الفاظ کو پڑھیے اور مفہوم کی وضاحت کیجیے:

  1. عقل و فهم


  2. شعور و بصیرت


  3. عبادت و ریاضت


  4. تاب و تواں


  5. غور و فکر


  6. رحم و کرم


  7. عدل و انصاف


  8. جنگ و جدال


  9. جاری و ساری


  10. قدر و قیمت


  • غزل میں لفظ مقام عشق آیا ہے، جس کے معنی عشق کی جگہ ہے۔ نیچے دیے گئے مقام سے بنے مرکب الفاظ کے معنی لکھیے اور انھیں جملوں میں استعمال کیجیے:

الفاظ معنی جملے
i. مقام شوق ________ ________
ii. مقام حیرت ________ ________
iii. مقام بندگی ________ ________
iv. مقام فکر ________ ________
v. مقام عبرت ________ ________

گفتگو کیجیے

سب جس کو اسیری کہتے ہیں وہ تو ہے اسیری ہی لیکن

وہ کون سی آزادی ہے یہاں جو آپ خود اپنا دام نہیں

اس شعر میں کس طرح کی آزادی کی بات کہی گئی ہے؟ اپنے ساتھیوں سے گفتگو کیجیے۔

لسانی سرگرمی

  • غزل میں ایک لفظ "آرام ہے، جس کے مترادفات قرار، اطمینان، چین، شفا، راحت وغیرہ ہیں۔ درج ذیل الفاظ کے تین تین مترادفات معلوم کر کے لکھیے :

فکر ________  _______

مقام ________  _______

تسکین ________  _______

بزم ________  _______

شکست ________  _______

  • اس غزل میں کام، عام، انعام، آرام اور دام قافیہ استعمال ہوئے ہیں۔ اپنے ہم جماعت طلباو طالبات کے ساتھ بات چیت کیجیے اور نیچے دیے گئے ہر لفظ کے پانچ پانچ قافیے لکھیے:

یہاں ___________________

نہیں ___________________

قدرت ___________________

تسکین ___________________

فیضان ___________________

  • غزل کے تیسرے شعر کے اس مصرعے پر غور کیجیے :

تسکین ہے اور تسکین نہیں آرام ہے اور آرام نہیں

اس مصرعے میں تسکین اور آرام دونوں الفاظ کی تکرار سے صوتی حسن اور آہنگ پیدا کیا گیا ہے۔ غزل کے پہلے، چوتھے اور چھٹے شعر سے وہ الفاظ تلاش کر کے لکھیے جن کی تکرار سے صوتی آہنگ پیدا ہو :

پہلا شعر :



چوتھا شعر :



چھٹا شعر :



تلاش کیجیے

  • فیضانِ محبت عام سہی عرفانِ محبت عام نہیں

اس مصرع میں فیضانِ محبت اور عرفانِ محبت استعمال ہوا ہے جس کا مطلب محبت کا فیض اور محبت کا عرفان ہے، اس کو اضافت زیر کی ترکیب کہا جاتا ہے۔ غزل میں اسی طرح کے مزید تراکیب استعمال ہوئی ہیں۔ درج ذیل تراکیب کے آگے اُن کے مفہوم لکھیے:

  1. فياضي قدرت
  2. مقام عشق
  3. پندار خودی
  4. بزمِ جاناں
  5. شکست فاش

  • ایک شعر میں اسیری اور آزادی الفاظ استعمال ہوئے ہیں، یہ دونوں الفاظ ایک دوسرے کی ضد ہیں جنھیں متضاد الفاظ کہا جاتا ہے۔ آپ اپنے ساتھیوں کی مدد سے درج ذیل الفاظ کے متضاد لکھیے :

انعام


فیاضی


خرد


محبت


  • کلام میں جب دو یا دو سے زیادہ الفاظ ایک دوسرے کی نسبت سے استعمال کیے جائیں تو اسے
  • رعایت لفظی کہتے ہیں۔ مثال : اسیری - دام

اپنی درسی کتاب سے ر سے رعایت لفظی کے پانچ اشعار تلاش کیجیے اور لکھیے۔

سبق سے آگے

  • سب جس کو اسیری کہتے ہیں وہ تو ہے اسیری ہی لیکن
  • وہ کون سی آزادی ہے یہاں جو آپ خود اپنا دام نہیں

اس شعر میں اسیری کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں قید ہونا، اسی شعر میں لفظ دام بھی ہے جس کے ایک معنی ہیں قیمت اور دوسرے کے معنی قید کرنے کے لیے جال کے ہیں۔ اس اعتبار سے شاعر نے دام لفظ کئی معنوں میں استعمال کیا ہے۔ شاعر کہتا ہے ہر آزادی کسی نہ کسی طرح کی پابندیاں بھی

عائد کرتی ہے۔ ایسی پانچ باتیں لکھیے جہاں پابندی کا خیال رکھنا ضروری ہے، جیسے سڑک پر گاڑی چلانے کی آزادی ہے لیکن پابندیوں کے ساتھ۔“





تخلیقی اظہار

  • اپنے دوست کے نام خط میں کسی مشاعرے کی روداد تحریر کیجیے۔

عملی کام

  • انٹرنیٹ کی مدد سے آپ اپنے پسندیدہ شاعر کی ویڈیو تلاش کیجیے اور اس شاعر کی وضع قطع، چال ڈھال، شعر پڑھنے کے انداز وغیرہ کا بغور معائنہ کیجیے۔ بار بار اس کی مشق کیجیے تا کہ نقل کو اصل بنا کر پیش کر سکیں کسی ایک غزل کی ادائیگی شاعر کے انداز میں پیش کرنے کی مشق کیجیے۔
  • تمثیلی مشاعرہ میں اصل کو نقل بنا کر اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ اس پر اصل کا گمان ہوتا ہے۔ اس میں پرانے شعرا کا کلام پڑھنے کی اداکاری کی جاتی ہے۔ جماعت میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک تمثیلی مشاعرہ کا انعقاد کیجیے۔