Skip to content
نظم

نظم کے معنی انتظام، ترتیب یا آرائش کے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے ایک معنی لڑی میں موتی پرونا بھی ہیں۔ نظم شاعری کی ایک ایسی صنف ہے جس میں کسی خاص موضوع پر تسلسل کے ساتھ اظہار خیال ہوتا ہے۔
مرکزی خیال کے گرد پوری نظم کا تانا بانا بنا جاتا ہے۔ خیال کا تدریجی ارتقا نظم کی ایک اہم خصوصیت ہے جس کی جھلک طویل نظموں میں واضح طور پر دیکھنے کو ملتی ہے۔ عام طور پر ہر نظم کا ہر نظم کا کوئی عنوان ہوتا ہے۔ نظم کے لیے نہ ہیئت کی کوئی قید ہے اور نہ ہی موضوع کی۔ اردو میں رائج تمام ہئیتوں میں نظمیں لکھی جاتی رہی ہیں۔ البتہ ہیئت کے اعتبار سے نظم کی چار قسمیں ہیں: پابند نظم، نظم معر ، آزاد نظم اور نثری نظم ۔
وہ نظم جس میں بحر کے استعمال اور قافیوں کی ترتیب میں مقررہ اصولوں کی پابندی کی گئی ہو پابند نظم ، کہلاتی ہے۔ ابتدائی دور کی بیشتر نظمیں اسی ہیئت میں لکھی گئی ہیں مثلاً آدمی نامہ ، نئی تہذیب ، مناجات بیوہ ، ماں کا خواب ، رامائن کا ایک سین اور بدلی کا چاند وغیرہ نظم معرا میں تمام مصرعے ایک ہی بحر میں اور برابر ہوتے ہیں، لیکن اس میں ردیف اور قافیے کی پابندی نہیں ہوتی ۔ن . م . راشد کی نظم زاد سفر ، فیض احمد فیض کی تنہائی اور اختر الایمان کی اعتماد و غیر نظم معرا کی مثالیں ہیں۔
آزاد نظم عام طور پر کسی مخصوص بحر میں ہوتی ہے لیکن اس کے مصرعے چھوٹے بڑے ہوتے ہیں۔ آزاد نظم میں ردیف اور قافیہ کی پابندی نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر مخدوم کی نظم 'چاند تاروں کا بن اور ن . م . راشد کی زندگی سے ڈرتے ہو وغیرہ۔
نثری نظم چھوٹی بڑی سطروں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس میں نہ تو ردیف اور قافیہ کی پابندی ہوتی ہے اور نہ ہی بحر اور وزن کی لیکن شاعرانہ حسن اور موسیقیت ضرور ہوتی ہے۔ جیسے سجاد ظہیر کی نظم پگھلا نیلم اور افضال احمد کی چھینی ہوئی تاریخ وغیرہ۔

Screenshot 2026-05-12 115029 پنڈت برج نرائن چکبست
1882-1926

پنڈت برج نرائن چکبست لکھنوی کشمیری پنڈت خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے اجداد کشمیر سے فیض آباد آ کر بس گئے تھے۔ چکبست کی پیدائش فیض آباد میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی۔ بعد ازاں والدین کے ساتھ لکھنو آگئے اور ساری عمر یہیں رہے۔ لکھنو میں ہی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ چکبست پیشے سے وکیل تھے۔ بچپن سے ہی شعر و شاعری سے دل چسپی تھی۔ لکھنو کے ماحول کے اثر سے جلد ہی یہ دل چیپسی شوق میں بدل گئی۔

چکبست نے روایتی انداز سے شاعری شروع کی اور غزلیں بھی کہیں۔ جلد ہی وہ نظم نگاری کی طرف مائل ہو گئے۔ انھوں نے حب الوطنی اور قومی بیداری کو اپنی نظموں کا موضوع بنایا۔ ان کی نظموں میں قدرتی مناظر کی عکاسی، بیداری وطن کے جذبات، آزادی کی تڑپ اور دردمندی کے پہلو نمایاں ہیں۔ ان کے کلام میں سلاست اور روانی پائی جاتی ہے۔ انھوں نے اپنے احباب، بزرگوں اور قومی رہنماؤں پر مرثیے لکھ کر ان کی سیرت کی عمدہ عکاسی کی ہے۔ ان کی نظموں کا مجموعہ صبح وطن اور مضامین کا مجموعہ مضامین چکبست کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ چکبست مشتر کہ تہذیب کے علم بردار تھے۔ آصف الدولہ کا امام باڑہ ، پھول مالا اور رامائن کا ایک سین ان کی بہترین نظمیں ہیں۔


Qr




رامائن کا ایک سین


رخصت ہوا وہ باپ سے، لے کر خدا کا نام
منظور تھا جو ماں کی زیارت کا انتظام

راہ وفا کی منزل اول ہوئی تمام
دامن سے اشک پوچھ کر ، دل سے کیا کلام

اظہار بے کسی سے ستم ہوگا اور بھی
دیکھا ہمیں اداس تو غم ہوگا اور بھی

دل کو سنبھالتا ہوا آخر وہ نونہال
دیکھا تو ایک در میں ہے بیٹھی وہ خستہ حال

خاموش ماں کے پاس گیا صورت خیال
سکتہ سا ہو گیا ہے، یہ ہے شدت ملال

Screenshot 2026-05-12 115916

تن میں لہو کا نام نہیں، زرد رنگ ہے
گویا بشر نہیں کوئی تصویر سنگ ہے

کیا جانے کسی خیال میں گم تھی وہ بے گناہ
جنبش ہوئی لبوں کو بھری ایک سرد آہ

نور نظر پہ دیدہ حسرت سے کی نگاہ
لی گوشہ ہائے چشم سے اشکوں نے رخ کی راہ

چہرے کا رنگ حالت دل کھولنے لگا
ہر موئے تن، زباں کی طرح بولنے لگا

روکر کہا خموش کھڑے کیوں ہو میری جاں
سب کی خوشی یہی ہے تو صحرا کو ہو رواں

میں جانتی ہوں جس لیے آئے ہو تم یہاں
لیکن میں اپنے منہ سے نہ ہرگز کہوں گی ہاں

کسی طرح بن میں آنکھوں کے تارے کو بھیج دوں
جوگی بنا کے راج دلارے کو بھیج دوں

لیتی کسی فقیر کے گھر میں اگر جنم
ڈستا نہ سانپ بن کے مجھے شوکت و خشم

ہوتے نہ میری جان کو سامان یہ بہم
تم میرے لال تھے مجھے کس سلطنت سے کم

میں خوش ہوں پھونک دے کوئی اس تخت و تاج کو
تم ہی نہیں تو آگ لگاؤں گی راج کو

سرزد ہوئے تھے مجھ سے خدا جانے کیا گناہ
آتی نظر نہیں کوئی امن و اماں کی راہ

منجدھار میں جو یوں مری کشتی ہوئی تباہ
اب یاں سے کوچ ہو تو عدم میں ملے پناہ

تقصیر میری خالق عالم بحل کرے
آسان مجھ غریب کی مشکل اجل کرے

سن کر زباں سے ماں کی یہ فریاد درد خیز
عالم یہ تھا قریب کہ آنکھیں ہوں اشک ریز

اس خستہ جاں کے دل پہ چلی غم کی تیغ تیز
لیکن ہزار ضبط سے رونے سے کی گریز


سوچا یہی کہ جان سے بے کس گزر نہ جائے
ناشاد ہم کو دیکھ کے ماں اور مر نہ جائے

پھر عرض کی یہ مادر ناشاد کے حضور
صدمہ یہ شاق عالم پیری میں ہے ضرور

مایوس کیوں ہیں آپ الم کا ہے یہ وفور
لیکن نہ دل سے کیجیے صبر و قرار دور

شاید خزاں سے شکل عیاں ہو بہار کی
کچھ مصلحت اسی میں ہو پروردگار کی

Screenshot 2026-05-12 122459

پڑتا ہے جس غریب پر رنج و محن کا بار
مایوس ہوکے ہوتے ہیں انساں گناہ گار

کرتا ہے اُس کو صبر عطا آپ کردگار
یہ جانتے نہیں، ہے وہ دانائے روزگار

انسان اس کی راہ میں ثابت قدم رہے
گردن وہی ہے امر رضا میں جو خم رہے

اکثر ریاض کرتے ہیں پھولوں پہ باغباں
لیکن جو رنگ باغ بدلتا ہے ناگہاں

ہے دن کی دھوپ رات کی شبنم انھیں گراں
وہ گل ہزار پردوں میں جاتے ہیں رائیگاں

رکھتے ہیں جو عزیز انھیں اپنی جاں کی طرح
حملتے ہیں دست پاس وہ برگ خزاں کی طرح

لیکن جو پھول کھلتے ہیں صحرا میں بے شمار
دیکھو یہ قدرت چمن آرائے روزگار

موقوف کچھ ریاض پر ان کی نہیں بہار
وه ابروباد و برف میں رہتے ہیں برقرار

ہوتا ہے ان پر فضل جو رب کریم کا
موج سموم بنتی ہے جھونکا نسیم کا

اپنی نگاہ ہے کرم کارساز پر
جنگل ہو یا پہاڑ سفر ہو کہ ہو حضر

صحرا چمن بنے گا وہ ہے مہرباں اگر
رہتا نہیں وہ حال سے بندے کے بے خبر

اس کا کرم شریک اگر ہے تو غم نہیں
دامان دشت، دامن مادر سے کم نہیں

پنڈت برج نرائن چکبست

لفظ و معنی

نو نہال : بچه، نو خیز

ملال : رنج ، غم

جنبش : حرکت، ہلنا

موئے تن : جسم کا بال ، رونگٹا

بہم : ساتھ ، باہم کا مخفف، ملا ہوا

حشم : شان ، ٹھاٹ باٹ

منجدھار : دریا کے بیچ کی دھارا

تقصير : قصور، خطا، کوتاہی

بحل : بحال، معاف کرنا

درد خیز : درد بڑھانے والا، تکلیف دہ

اشک ریز : آنسو بہانے والا

گریز : بچنا، پر ہیز کرنا

وفور : زیادتی، بہتات

رنج و محسن : غم اور تکلیف

کردگار : کام بنانے والا، اللہ تعالی، خالق

ریاض : مشق

موقوف : ملتوی کرنا، کسی پر منحصر کرنا

سموم : لو، گرم ہوا

غور کیجیے

  • نظم رامائن کا ایک سین، پنڈت برج نرائن چکبست کے شعری مجموعے صبح وطن میں شامل ہے۔ نظم میں ماں اور بیٹے کے جذبات کی عکاسی کی گئی ہے۔ نظم کے اس سین میں رام چندر جی کا اپنی ماں کو شلیا سے رخصت ہونا پر درد انداز میں پیش کیا ہے۔
  • ایک سے زیادہ اشعار کے مجموعے کو بند کہتے ہیں جو ایک ساتھ مل کر ایک خیال یا موضوع کو پیش کرتے ہیں۔

سوچیے اور بتائیے

  1. کی گوشہ ہائے چشم سے اشکوں نے رخ کی راہ میں کس کیفیت کا اظہار کیا گیا ہے؟
  2. دوستانہ سانپ بن کے مجھے شوکت و خشم ، مصرع کا مفہوم کیا ہے ؟
  3. موج سموم بنتی ہے جھو نکا نیم کا مصرعے میں موج سموم کسے کہا گیا ہے؟
  4. آپ کو نظم کا کون سابند زیادہ جذباتی لگا اور کیوں؟
  5. ملتے ہیں دست یاس وہ برگ خزاں کی طرح کا مفہوم اپنی زبان میں لکھیے۔

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے

  • نظم کے ایک بند میں پھول ، باغباں باغ اور شبنم الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ کلام میں ایسے الفاظ لانا جن میں آپس میں کوئی تعلق یا نسبت پائی جائے اور جس کے ذریعے کلام کے معنوی یا ظاہری حسن میں اضافہ ہو، اسے مراعاۃ النظیر کہتے ہیں۔ اپنے دوستوں کے ساتھ گفتگو کیجیے اور پانچ اشعار تلاش کر کے اپنی کاپی میں لکھیے جو صنعت مراعاۃ النظیر کی مثال ہوں۔
Screenshot 2026-05-12 140643
  • شاید خزاں سے شکل عیاں ہو بہار کی
  • ہے دن کی دھوپ رات کی شبنم انھیں گراں

ان مصرعوں میں خزاں اور بہار، دن اور رات کا استعمال ہوا ہے۔ یہ الفاظ ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ کلام میں جب ایسے الفاظ استعمال کیے جائیں جو ایک دوسرے کی ضد ہوں، اسے صنعت تضاد کہتے ہیں۔ ایسے دو اشعار تلاش کر کے لکھے جن میں صنعت تضاد موجود ہو :

Screenshot 2026-05-12 140803
  • تن میں لہو کا نام نہیں، زرد رنگ ہے

اس مصرعے میں شاعر نے غم کی شدت کو بہت بڑھا کر پیش کیا ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ جسم سے خون کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا ہے لیکن شدت غم کو ظاہر کرنے کے لیے شاعر نے مبالغہ سے کام لیا ہے۔ کلام میں کسی حالت، بات یا کیفیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا مبالغہ “ کہلاتا ہے۔ آپ ان اشعار کو تلاش کر کے لکھیے جن میں صنعت مبالغہ کا استعمال ہوا ہو :

i



ii



ملتے ہیں دست یاس وہ برگ خزاں کی طرح

  • اس مصرع میں مایوسی کے ہاتھ کو خزاں کے سوکھے پتوں سے تشبیہ دی ہے۔ دونوں میں کمزوری، بے بسی کا احساس موجود ہوتا ہے۔ شاعر نے مایوسی کی کیفیت کو دست یاس ملنے سے ظاہر کیا ہے اور اسے برگ خزاں سے تشبیہ دی ہے۔ تشبیہ کے استعمال سے بات زیادہ واضح اور اثر انگیز ہو جاتی ہے۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ کلام میں کسی ایک چیز کو کسی دوسری چیز کے مانند بتانا تشبیہ “ کہلاتا ہے۔ آپ ان اشعار کو تلاش کر کے نیچے لکھیے جن میں تشبیہ کا استعمال ہوا ہو :




  • نظم رامائن کا ایک سین ، مسدس کی ہیئت میں ہے، یعنی ہر بند میں چھ چھ مصرعے ہیں۔ ہر بند کے ابتدائی چار مصرعے ہم قافیہ اور ہم ردیف ہیں جب کہ آخری دو مصرعوں کا قافیہ اور ردیف الگ ہے۔ نظم کو دوبارہ پڑھیے اور ہر بند کے قافیے اور ردیف تلاش کر کے اپنی کاپی میں لکھیے۔

لسانی سرگرمی

  • درج ذیل مصرعے کو غور سے پڑھیے:

لی گوشہ ہائے چشم سے اشکوں نے رخ کی راہ

راہ لینا محاورہ ہے ۔ شاعر نے اسے مصرعے میں اس طرح استعمال کیا ہے کہ لینا سے لفظ 'لی بناکر مصرعے کی ابتدا میں اور راہ کو مصرعے کے آخر میں استعمال کیا ہے۔ راہ لینا کے معنی ہیں

راستے پر چلنا دونوں آنکھوں کے کونوں سے آنسو نکل کر چہرے کی طرف روانہ ہو گئے ہیں۔ درج ذیل محاوروں کے معنی معلوم کیجیے اور انھیں جملوں میں استعمال کیجیے :

i. آنکھ بھر آنا


ii. آنکھیں بچھانا


iii.آنکھیں پھیر لینا


iv. آنکھ کھلنا


v. آنکھ کا تارا ہونا


گفتگو کیجیے

  • نظم کے درج ذیل بند میں نصیحت کی گئی ہے۔ اُسے اپنے لفظوں میں بیان کیجیے:

پڑتا ہے جس غریب پہ رنج و محن کا بار
مایوس ہوکے ہوتے ہیں انساں گناہ گار

کرتا ہے اس کو صبر عطا آپ کردگار
یہ جانتے نہیں، ہے وہ دانائے روزگار

انسان اس کی راہ میں ثابت قدم رہے
گردن وہی ہے امر رضا میں جو خم رہے

  • دیے گئے اشعار کے بند کو پڑھیے اور سوالوں کے جواب دیجیے :

دل کو سنبھالتا ہوا آخر وہ نونہال
دیکھا تو ایک در میں ہے بیٹھی وہ خستہ حال

خاموش ماں کے پاس گیا صورت خیال
سکتہ سا ہو گیا ہے، یہ ہے شدت ملال

تن میں لہو کا نام نہیں، زرد رنگ ہے
گویا بشر نہیں کوئی تصویر سنگ ہے

  1. نو نہال کا کیا مفہوم ہے اور اس سے کس شخصیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے؟
  2. ماں کی حالت بیان کرنے کے لیے کن الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے؟
  3. خستہ حال ، جس ماں کو کہا گیا ہے وہ رانی تھی۔ پھر اس کے لیے یہ اصطلاح کیوں استعمال کی گئی ہے؟
  4. تصویر سنگ سے کیا مراد ہے؟
  5. بند میں سکتہ “ کا لفظ کیوں استعمال کیا گیا ہے؟

تلاش کیجیے

قدیم قصے کہانیوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ دیو مالائی کہانیاں اور اساطیری کہانیاں۔ دیو مالائی کہانیاں مذہبی ہوتی ہیں جن میں دیوی دیوتاؤں کے قصے بیان کیے جاتے ہیں۔ اساطیری کہانیوں میں روایتی قصے، داستانیں، غیر حقیقی عناصر سے متعلق کہانیاں ہوتی ہیں جیسے داستانِ امیر حمزہ۔ لائبریری سے دیو مالائی اور اساطیری کہانیاں تلاش کیجیے اور انھیں پڑھیے۔ ان کہانیوں اور ان کے مصنفین کے نام بھی اپنی کاپی میں لکھیے۔

تخلیقی اظہار

  • رام نومی ، دسہرہ اور دیوالی ہمارے ملک کے مشہور تہوار ہیں۔ اپنے ہم جماعت ساتھیوں سے گفتگو کیجیے اور کسی ایک تہوار کی تفصیل اپنی زبان میں لکھیے۔

عملی کام

  • اردو کی چند عمدہ نظموں کا انتخاب کر کے ایک پورٹ فولیو تیار کیجیے۔ یہ بھی لکھیے کہ آپ نے ان نظموں کا انتخاب کیوں کیا اور انھیں پڑھتے ہوئے کیا محسوس کیا؟