اختر الایمان
1915-1996
اختر الایمان نجیب آباد، ضلع بجنور میں پیدا ہوئے۔ ان کی ابتدائی تعلیم مختلف گاؤں اور قصبوں کے مدرسوں اور اسکولوں میں ہوئی۔ انھوں نے میٹرک فتح پوری اسکول دہلی سے پاس کیا۔ میٹرک کے بعد اینگلو عربک کالج (موجودہ ذاکر حسین، دلی کالج سے بی اے کی تعلیم حاصل کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایم اے اردو میں داخلہ لیا مگر اسے مکمل نہ کر سکے، میرٹھ چلے گئے۔ کچھ دنوں تک قیام کے بعد دہلی آگئے اور کچھ عرصہ محکمہ سپلائی میں کام کیا۔ کچھ وقت بعد ان کا آل انڈیاریڈیو میں تقرر ہو گیا لیکن جلد ہی پونے چلے گئے۔ وہاں سے ممبئی آگئے، یہاں انھوں نے فلموں کے منظر نامے اور مکالمے لکھے۔ ان کی لکھی ہوئی بعض فلمیں بہت مقبول ہوئیں۔
اختر الایمان کا شمار اردو کے بڑے اہم اور ممتاز نظم گو شعرا میں ہوتا ہے۔ وہ ایک انفرادی لب و لہجے اور زبان کے مخصوص آہنگ کی وجہ سے اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں۔ ان کا ایک خاص وصف ڈرامائی پہلو ہے۔ گرداب، تاریک سیارہ ، آب جو ' ، 'یادیں'، 'بنت لمحات اور دنیا آہنگ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ سر و ساماں کے نام سے ان کی کلیات 1984 میں منظر عام پر آئی۔ اس آباد خرابے میں ان کی خود نوشت سوانح ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے چند ادبی مضامین بھی لکھے ہیں۔ اختر الایمان کو ان کے شعری مجموعے یادیں کے لیے 1962 میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ انھیں اقبال سمتان اور دوسرے مختلف انعامات و اعزازات سے بھی سرفراز کیا گیا ہے۔
اعتماد
بولی خود سر ہوا ایک ذرہ ہے تو
یوں اُڑا دوں گی میں، موج دریا بڑھی
بولی میرے لیے ایک تنکا ہے تو
یوں بہا دوں گی میں، آتش تند کی
اک لپٹ نے کہا میں جلا ڈالوں گی
اور زمیں نے کہا میں نگل جاؤں گی
میں نے چہرے سے اپنے اُلٹ دی نقاب
اور ہنس کر کہا، میں سلیمان ہوں
ابن آدم ہوں میں، یعنی انسان ہوں
-اختر الایمان
لفظ و معنی
خودسر : ضدی، مغرور
موج دریا : دریا کی موج
آتش تند : تیز آگ
کیٹ : شعله
سلیمان : ایک پیغمبر کا نام
ابن آدم : آدم کا بیٹا
غور کیجیے
- نظم میں جس خیال کو پیش کیا گیا ہے اس کی بنیاد اعتماد پر ہے۔ یہ اعتماد فطرت کے ان تمام عناصر میں بھی ہے جو قوی ہیں۔ انسان جب جوابا اپنی طاقت کار از کھولتا ہے تو کہتا ہے میں انسان ہوں اور اسی حضرت سلیمان کا وارث ہوں، جن کے قبضے میں تمام چرند و پرند تھے اور ان چاروں عناصر یعنی پانی، ہوا، آگ اور زمین پر بھی ان کی حکومت تھی۔
- نظم میں دو چیزیں اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ ایک ڈرامائیت اور دوسرے غیر مر کی چیزیں جیسے ہوا، موج دریا، آتش تند اور زمین ( مراد مٹی ) ان کی تجسیم کاری کا عمل۔ انسانی وجود کو بھی ان ہی چاروں عناصر کی ترتیب یا مرکب کا نام دیا گیا ہے۔
- شاعر نے نظم کو خود کلامی اور مکالمے کی صورت میں پیش کیا ہے اور انسان کے حو صلے اور طاقت کو ہر شئے سے برتر دکھایا ہے۔
- اس نظم میں وزن اور بحر کی پابندی تو کی گئی ہے ، مگر ردیف اور قافیہ کی پابندی نہیں ہے۔ ایسی نظم کو معر ا نظم کہتے ہیں۔
- ہوا، پانی، آگ اور مٹی کو عناصر اربعہ بھی کہتے ہیں۔ نظم میں ان ہی تمام عناصر پر انسان کی عظمت، فضیلت اور برتری کا اظہار کیا گیا ہے۔ انسان کو خالق کائنات نے اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ دنیا کی تمام مخلوق اور اجزا پر اس کو فوقیت عطا کی ہے۔
سوچیے اور بتائیے
- خود سر ہوا کس طرح اپنی برتری ظاہر کر رہی ہے؟
- دریا کے سامنے تنکے کی کم مائیگی کیسی ہے؟
- میں سلیمان ہوں، کہہ کر انسان کی کون سی صفات کی جانب اشارہ کیا گیا ہے؟
- نظم کے آخری مصرعے سے کیا تاثر قائم ہوتا ہے ؟ اگر یہ مصرع نہ ہو تو نظم کے تاثر پر کیا اثر پڑے گا؟
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
- نظم کے دوسرے شعر میں موج دریا کی ترکیب استعمال کی گئی ہے۔ یہ ترکیب گرچہ نئی نہیں ہے لیکن اسے جس سلیقے سے برتا گیا ہے اس سے منی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس ترکیب میں حرف کے بجائے اضافت زیر کا استعمال ہوا ہے۔ ایسے پانچ الفاظ معلوم کر کے لکھیے جن میں اضافت زیر کا استعمال ہوا ہو :
- درج ذیل شعر پر غور کیجیے:
اور ہنس کر کہا میں سلیمان ہوں
ابن آدم ہوں میں یعنی انسان ہوں
اس شعر میں حضرت سلیمان اور حضرت آدم کا ذکر آیا ہے۔ حضرت سلیمان ایک پیغمبر تھے، جن کی ہوا، پانی، آگ اور زمین پر حکومت تھی اور تمام چرند و پرند بھی ان کے ماتحت تھے شعر میں کسی تاریخی واقعے، مشہور شخصیت یا شے کا ذکر کیا جائے تو اسے صنعت تلمیح کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ تلمیح میں کسی مشہور تاریخی یا مذہبی واقعہ یا روایت کی طرف بھی اشارہ شامل ہوتا ہے۔
آپ ایسے تین اشعار تلاش کر کے لکھیے جن میں صنعت تاریخ کا استعمال موجود ہو :
- نظم کے پہلے دو مصرعوں کو غور سے پڑھیے:
بولی خود سر ہوا ایک ذرہ ہے تو
یوں اڑا دوں گی میں، موج دریا بڑھی
ان مصرعوں میں ہوا، پانی کو شاعر نے مادی شکل میں ڈھال کر انسان سے مقابلہ کرتے ہوئے ظاہر کیا ہے۔ جب شعر میں کسی بے جان شئے، انسانی جذبات یا تصور کو انسانی خصوصیات میں ڈھال کر پیش کیا جاتا ہے تو یہ صنعت تجسیم کی کی مثال ہوتی ہے۔ نظم سے اسی طرح کی دو مثالیں تلاش کر کے لکھیے:
i.
ii.
- آپ نے اب تک جو نظمیں اور غزلیں پڑھی ہیں ان پر غور کیجیے۔ ان میں قافیہ کی پابندی تھی۔ قافیہ کے ساتھ ردیف کا بھی اہتمام کیا گیا تھا لیکن نظم اعتماد میں قافیہ اور ردیف کی پابندی نہیں کی گئی ہے۔ جن نظموں میں قافیے کی پابندی کی جاتی ہے انھیں پابند نظم کہا جاتا ہے، تاہم جن میں قافیہ کی پابندی نہیں کی جاتی ہے ان کو نظم معرا“ کہا جاتا ہے۔ اپنے دوستوں کے ساتھ گفتگو کیجیے اور پانچ معر ا نظموں کے بارے میں معلوم کر کے لکھیے۔
لسانی سرگرمی
- نیچے دیے گئے مرکب الفاظ کے معنی لکھیے اور انھیں جملوں میں استعمال کیجیے:
- موج دریا
- موج تلاطم
- موج ساحل
- موج نسیم
- موج تبسم
- لغت کی مدد سے لفظ اعتماد کے کم از کم پانچ مترادفات تلاش کر کے لکھیے۔
آپ کی رائے
ہوا، پانی، آگ، مٹی اور انسان کے درمیان مکالموں میں اعتماد کیوں تھا اور انھیں اپنی کن طاقتوں پر بھروسہ تھا؟ کمرہ جماعت میں اپنے ساتھیوں سے تبادلہ خیال کیجیے۔
تلاش کیجیے
- اعتماد ایک مکالماتی نظم ہے، اس میں پانی، ہوا، آگ اور زمین انسان کے درمیان گفتگو ہو رہی ہے۔ لائبریری سے ایسی نظمیں حاصل کر کے پڑھیے جن میں کسی چیز کو کردار بناکر گفتگو کی گئی ہو۔
تخلیقی اظہار
- اس نظم کا خلاصہ اپنی زبان میں لکھیے۔
- آپ کو اپنی خود اعتمادی پر کس قدر یقین ہے۔ اس موضوع پر اپنے خیالات کا تحریری اظہار کیجیے۔
عملی کام
- عزم و حوصلے کو بلند کرنے والی کچھ نظمیں تلاش کر کے لکھیے اور کمرۂ جماعت میں اپنے دوستوں کو سنائیے۔
اضافی مطالعہ
- قدرت نے انسان کو پانچ ایسی قوتیں ( حسیں ) عطا کی ہیں جن پر ہماری زندگی کا انحصار ہے، انھیں حواس خمسہ کہتے ہیں۔ جب یہ پانچوں حسیں اپنا کام کرنا بند کر دیتی ہیں تو انسان بے جان ہو جاتا ہے۔ ان پانچوں حسوں میں سے کسی ایک جس کے نہ ہونے سے بھی انسان کے کام کرنے کی صلاحیت میں فرق پڑ جاتا ہے۔ مثال کے طور پر قوت باصرہ نہ ہونے پر انسان بینائی سے محروم ہو جاتا ہے، اسی طرح قوت سامعہ نہ ہونے کے باعث انسان سننے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔