کیفی اعظمی
1917-2002
کیفی اعظمی کا پورا نام سید اطہ حسین رضوی تھا۔ وہ اعظم گڑھ کے ایک گاؤں مجواں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی اس کے بعد لکھنو کے مشہور ادارے سلطان المدارس میں داخل ہوئے۔ کیفی اعظمی کو شاعری کا شوق بچپن سے تھا۔ طالب علمی کے زمانے سے ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہو گئے۔
1943 میں ممبئی آگئے اور یہاں ایک رسالے ”قومی جنگ کی مجلس ادارت میں شامل ہو گئے۔ اس کے ساتھ ہی فلمی دنیا سے بھی ان کی وابستگی رہی اور کئی فلموں میں نغمے اور مکالمے لکھے۔
کیفی اعظمی کا شمار ممتاز ترقی پسند شاعروں میں ہوتا ہے۔ ان کی شاعری میں سماجی مسائل کی ترجمانی ملتی ہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں جھنکار (1945)، آخر شب (1947)، آوارہ سجدے (1973)، ابلیس کی مجلس شوری ( دوسرا اجلاس) (1977) اور سرمایہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے فلمی نغموں کا مجموعہ میری آواز سنو (1974) میں منظر عام پر آیا۔ ان کے شعری مجموعے ”آوارہ سجدے کے لیے انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
عورت
اٹھ مری جان! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
قلب ماحول میں لرزاں شریر جنگ ہیں آج
حوصلے وقت کے اور زیست کے یک رنگ ہیں آج
آبگینوں میں تپاں ولولہ سنگ ہیں آج
حسن اور عشق ہم آواز و ہم آہنگ ہیں آج
جس میں جلتا ہوں اسی آگ میں جلنا ہے تجھے
اٹھ مری جان! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
تیرے قدموں میں ہے فردوس تمدن کی بہار
تیری نظروں پہ ہے تہذیب و ترقی کا مدار
تیری آغوش ہے گہوارہ نفس و کردار
تابہ کے گرد ترے وہم و تعین کا حصار
کوند کر مجلس خلوت سے نکلنا ہے تجھے
اٹھ مری جان! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
گوشہ گوشہ میں سلگتی ہے چتا تیرے لیے
فرض کا بھیس بدلتی ہے قضا تیرے لیے
قہر ہے تیری ہر اک نرم ادا تیرے لیے
زہر ہی زہر ہے دنیا کی ہوا تیرے لیے
رت بدل ڈال اگر پھولنا پھلنا ہے تجھے
اٹھ مری جان! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
قدر اب تک تری تاریخ نے جانی ہی نہیں
تجھ میں شعلے بھی ہیں بس اشک فشانی ہی نہیں
تو حقیقت بھی ہے دل چسپ کہانی ہی نہیں
تیری ہستی بھی ہے اک چیز جوانی ہی نہیں
اپنی تاریخ کا عنوان بدلنا ہے تجھے
اٹھ مری جان! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
تو فلاطون و ارسطو ہے تو زہرا پرویں
تیرے قبضہ میں ہے گردوں تری ٹھوکر میں زمیں
ہاں اٹھا جلد اٹھا پائے مقدر سے جبیں
میں بھی رکنے کا نہیں وقت بھی رکنے کا نہیں
لڑکھڑائے گی کہاں تک کہ سنبھلنا ہے تجھے
اٹھ مری جان! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
لفظ و معنی
لرزاں : ڈر سے کانپنا
شرر : چنگاری
آبگینوں : آبگینہ کی جمع ، شیشہ، کانچ
تیاں : جلتا ہوا، گرم
ولوله : جوش، امنگ
تمدن : کلچر ، ثقافت
مدار : بنیاد، جس پر کسی بات یا چیز کا انحصار ہو
گہوارہ : پالنا، جھولا
تابہ کے : کب تک
حصار : چار دیواری ، گھیر
خلوت : تنہائی، در پرده
قضا : موت
اشک فشانی : آنسو بہانا
غور کیجیے
- اس نظم میں خواتین کو حسن و محبت کی علامت ہی نہیں بلکہ ان کی علمی و سماجی حیثیت کا اعتراف کرتے ہوئے اُنھیں عدم مساوات، ظلم، استحصال اور جبر کے خلاف احتجاج کرنے اور حق کی خاطر لڑنے کی ترغیب دی گئی ہے اور ہر قدم پر مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کو کہا گیا ہے۔
- آج خواتین ملک کی تعمیر اور زندگی کے ہر شعبے میں اعلیٰ کار کردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔
سوچیے اور بتائیے
- تیرے قدموں میں ہے فردوس تمدن کی بہار کس کے لیے اور کیوں کہا گیا ہے؟
- تیری نظروں پہ ہے تہذیب و ترقی کا مدار کا مفہوم کیا ہے؟
- اپنی تاریخ کا عنوان بدلنے سے کیا مراد ہے؟
- نظم کے آخری بند کا مفہوم اپنی زبان میں لکھیے۔
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
- آپ مختلف شعری صنعتوں کے بارے میں پڑھ چکے ہیں، نیچے دیے گئے نظم کے مصرعوں کو غور سے پڑھیے اور ان میں استعمال کی گئی صنعت کو لکھیے :
- تو فلاطون و ارسطو ہے تو زہرا پرویں
- گوشه گوشہ میں سلگتی ہے چتا تیرے لیے
- کوند کر مجلس خلوت سے نکلنا ہے تجھے
- تیرے قبضہ میں ہے گردوں تیری ٹھوکر میں زمیں
- درج ذیل شعر کو غور سے پڑھیے:
تیرے قدموں میں ہے فردوس تمدن کی بہار
تیری نظروں پہ ہے تہذیب و ترقی کا مدار
پہلے مصرع میں تمدن اور دوسرے مصرع میں تہذیب و ترقی الفاظ کا استعمال ہوا ہے۔ چوں کہ تمدن، تہذیب اور ترقی تینوں کا تعلق انسانی معاشرت کی فکری اور مادی بہتری سے ہے اور ان کا استعمال کم و بیش ایک ہی مفہوم کی ادائیگی کے لیے ہوتا ہے۔ کلام میں ایسے الفاظ لانا جن کے درمیان آپس میں ایک معنوی مناسبت یا ربط پایا جائے مراعاۃ النظیر “ کہلاتا ہے۔ نظم سے ان اشعار کو تلاش کر کے لکھیے جن میں صنعت مراعاۃ النظیر کا استعمال موجود ہو :
- کلام میں دو یا دو سے زیادہ ایسے الفاظ لائے جائیں جو تلفظ یا املا کے لحاظ سے ایک جیسے ہوں، مگر معنی کے لحاظ سے مختلف ہوں، اُسے 'صنعت تجنیس کہتے ہیں۔ اپنے استاد کی مد د سے ایسے تین اشعار تلاش کر کے اپنی کالی میں لکھیے، جن میں اس صنعت کا استعمال ہوا ہو :
گفتگو کیجیے
- تو فلاطون و ارسطو ہے تو زہرا پرویں تیرے قبضہ میں ہے گردوں تری ٹھوکر میں زمیں
اس شعر کے دوسرے مصرعے میں شاعر نے مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہوئے عورت کی عظمت اور اہمیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ یعنی عورت اتنی طاقت ور ہے کہ گردوں ( آسمان ) اس کے قابو میں ہے اور زمین اس کی ٹھوکر میں ہے۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ گفتگو کیجیے اور بتائیے کہ شاعر نے پوری نظم میں شاعرانہ خوبیوں کا اظہار کس طرح کیا ہے؟
- درج ذیل مرکب الفاظ کے معنی لکھیے اور جملوں میں استعمال کیجیے :
- قلب ماحول
- شهر جنگ
- مجلس خلوت
- فردوس تمدن
- گہوارہ نفس
- اشک فشانی