مثنوی میں موضوع کی کوئی قید نہیں ہے۔ اس میں محبت کی کہانیاں، جنگ اور مہم جوئی کے واقعات، داستان، کسی معاشرے کے احوال اور ناصحانہ مضامین بھی بیان ہوئے ہیں۔ اردو کی قدیم مثنویوں میں زیادہ تر عشقیہ قصے اور مذہبی و اخلاقی مضامین نظم کیے گئے ہیں۔ جن میں نثری خصوصیات موجود ہیں۔ یعنی قصے کے اندر ایک اور قصہ، مثالی کردار اور فوق الفطری عناصر وغیرہ۔
اردو کی قدیم مثنویاں دکن میں لکھی گئیں جن میں داستانیں نظم کی گئی ہیں۔ ان میں قطب بیشتری، پھول بن اور علی نامہ قابل ذکر ہیں۔ میر تقی میر نے کئی مثنویاں لکھیں۔ اردو کی مشہور مثنویوں میں میرحسن کی سحر البیان ، دیا شنکر نسیم کی گلزار نسیم اور مرزا شوق کی مثنوی زہر عشق خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ پیشنویاں آج بھی مقبول ہیں اور اردو میں کلاسیکیت کا درجہ رکھتی ہیں۔
میرحسن
1740-1786
میر غلام حسن کا تعلق دہلی کے ایک ایسے علمی اور ادبی خاندان سے تھا جہاں شاعری خصوصاً مرثیہ نگاری کی روایت بہت قدیم تھی۔ میر حسن کے والد میر غلام حسین ضاحک اردو کے مشہور مرثیہ گو شاعر تھے۔ دہلی کے سیاسی حالات جب خراب ہوئے تو میر حسن اپنے والد میر ضاحک کے ساتھ فیض آباد آگئے۔ جب نواب آصف الدولہ نے لکھنو آباد کیا تو میر حسن بھی لکھنو آگئے۔ میر حسن کے بیٹے میر خلیق اور ان کے پوتے میر انیس نے اردو شاعری میں مرثیہ گوئی کی نئی راہیں نکالیں۔
میرحسن نے شاعری کی ابتدا غزل سے کی۔ خاندانی روایت کی پیروی کرتے ہوئے کئی مرثیے بھی لکھے لیکن اصل شہرت انھیں مثنوی سحر البیان سے حاصل ہوئی۔ اس مثنوی میں شہزادہ بے نظیر اور شہزادی بدر منیر کی داستان منظوم کی گئی ہے۔
منظر نگاری، واقعہ نگاری اور کردار نگاری کو دل چسپ اور متحرک شکل میں پیش کرنے اور کہانی کو مربوط طریقے سے بیان کرنے میں میر حسن کو خاص مہارت حاصل تھی۔ ان کی مثنوی سحر البیان ، مختلف اشیا اور مظاہر کے ذکر سے پر ہے۔ یہی سبب ہے کہ اس مثنوی کی کہانی اگر چہ بالکل خیالی ہے تاہم اس کے واقعات اور کردار جیتے جاگتے اور ہماری دنیا سے ماخوذ معلوم ہوتے ہیں۔
آغاز داستان
کسی شہر میں تھا کوئی بادشاہ
کہ تھا وہ شہنشاہ گیتی پناہ
بہت حشمت و جاه و مال و منال
بہت فوج سے اپنی فرخندہ حال
کئی بادشاہ اس کو دیتے تھے باج
خطا اور خُتن سے وہ لیتا خراج
کوئی دیکھتا آکے جب اس کی فوج
تو کہتا کہ ہے بحر بستی کی موج
رعیت تھی آسودہ و بے خطر
نه غم مفلسی سی کا، نہ چوری کا ڈر
عجب شہر تھا اس کا مینو سواد
کہ قدرت خدائی کی آتی تھی یاد
کہوں قلعے کی اس کے کیا میں شکوہ
گئے دب، بلندی کو دیکھ اس کی، گوہ
وہ دولت سرا خانه نور تھا
سدا عیش و عشرت سے معمور تھا
ہمیشہ خوشی، رات دن سیر باغ
نہ دیکھا کسی دل پہ، نجز لالہ داغ
سدا عیش و عشرت، سدا راگ و رنگ
نہ تھا زیست سے کوئی اپنی بہ تنگ
غنی وھاں ہوا ، جو کہ آیا تباہ
عجب شہر تھا وہ عجب بادشاہ
نہ دیکھا کسی نے کوئی وھاں فقیر
ہوئے اس کی دولت سے گھر گھر امیر
ہزاروں پری پیکر اس کے غلام
کمر بستہ خدمت میں حاضر مدام
کسی طرف سے وہ نہ رکھتا تھا غم
مگر ایک اولاد کا تھا الم
اسی بات کا اس کے تھا دل پر داغ
نہ رکھتا تھا وہ اپنے گھر کا چراغ
وزیروں کو اک روز اس نے بلا
جو کچھ دل کا احوال تھا، سو کہا
کہ میں کیا کروں گا یہ مال و منال
فقیری کا ہے میرے دل کو خیال
فقیر اب نہ ہوں، تو کروں کیا علاج
نہ پیدا ہوا وارث تخت و تاج
جوانی مری ہو گئی سب بسر
نمودار پیری ہوئی سر بسر
بہت ملک پر جان کھویا کیا
بہت فکر دنیا میں رویا کیا
وزیروں نے کی عرض کہ اے آفتاب !
نہ ہو تجھ کو ذرہ کبھی اضطراب
عجب کیا کہ ہووے تمھارے خلف
کرو تم نہ اوقات اپنی تلف
نہ لاؤ کبھی پاس کی گفتگو
که قرآن میں آیا ہے: لا تَقْنَطُو
بلاتے ہیں ہم اہل تنجیم کو
نصیبوں کو اپنے ذرا دیکھ لو
تسلی تو دی شاہ کو اس نمط
وئے اہل تنجیم کو بھیجے خط
نجومی و رتال اور برہمن
غرض یاد تھا جن کو اس ڈھب کا فن
بلا کر انھیں شہ کئے لے گئے
جوں ہی رو بہ روشہ کے سب دے گئے
کیا قاعدے سے نہڑ کر سلام
کہا شہ نے: میں تم سے رکھتا ہوں کام
نکالو ذرا اپنی اپنی کتاب
مرا ہے سوال، اُس کا لکھو جواب
نصیبوں میں دیکھو تو میرے کہیں
کسی سے بھی اولاد ہے یا نہیں
یہ سن کر، وے رتال طالع شناس
لگے کھینچنے زائچے بے قیاس
جماعت نے ریال کی عرض کی
کہ ہے گھر میں امید کے کچھ خوشی
ہے اس بات پر اجتماع تمام
کہ طالع میں فرزند ہے تیرے نام
نجومی بھی کہنے لگے در جواب
کہ ہم نے بھی دیکھی ہے اپنی کتاب
نحوست کے دن سب گئے ہیں نکل
عمل اپنا سب کرچکا ہے زُحل
کیا پنڈتوں نے جو اپنا بچار
تو کچھ انگلیوں پر کیا پھر شمار
جنم تیرا شاہ کا دیکھ کر
تلا اور پر چھک پر کر کر نظر
کہا: رام جی کی ہے تم پر دیا
چند رما سا بالک ترے ہووے گا
و لیکن مقدر ہے کچھ اور بھی
کہ ہیں اس بھلے میں، برے طور بھی
یہ لڑکا تو ہو گا، ولے کیا کہیں
خطر ہے اسے بارھویں برس میں
نہ آوے یہ خورشید بالائے بام
بلندی سے خطرہ ہے اس کو تمام
نہ نکلے یہ بارہ برس رشک مه
رہے برج میں یہ مہ چاردہ
کہا شہ نے یہ سن کے، ان کے تئیں
کہو، جی کا خطرہ تو اس کو نہیں؟
کہا: جان کی سب طرح خیر ہے
مگر دشت غربت کی کچھ سیر ہے
اسی سال میں یہ تماشا سنو
رہا حمل اک زوجہ شاہ کو
گئے نو مہینے جب اس پر گزر
ہوا گھر میں شہ کے تولد پسر
عجب صاحب حسن پیدا ہوا
جسے مہرومہ دیکھ شیدا ہوا
نظر کو نہ ہو حسن پر اس کے تاب
اُسے دیکھ بے تاب ہو آفتاب
ہوا وہ جو اُس شکل دل پذیر
رکھا نام اس کا شہ بے نظیر
-میر حسن
لفظ و معنی
گیتی پناه : بادشاہ، زمین کو پناہ دینے والا
حشمت و جاه : شان و شوکت
مال و منال : مال و اسباب
باج : محصول، ٹیکس
خطاوختن : ملکوں کے نام
خراج : مال گزاری، زمین کا ٹیکس
رعیت : رعایا، عوام
مینوسواد : خوب صورت جنت
معمور : لبریز، آباد
مدام : ہمیشہ
زحل : ایک سیارہ کا نام جسے انگریزی میں Saturn کہتے ہیں۔
خلف : جانشین، بیٹا
تلف : بر باد، ضائع
لا تقنطو : مایوس نہ ہونا ( عربی فقرہ اردو میں مستعمل)
تنجیم : علم نجوم سے متعلق
نمط : طور ، ڈھنگ
رتال : علم رمل کا ماہر
نہر : جھکنا
طالع شناس : نجومی، قسمت کا حال بتانے والا
زائچے : جنم کنڈلی، وہ نقشہ جو نجومی لوگ بچے کی پیدائش کے وقت بناتے ہیں۔
طالع : قسمت
تولد : پیدائش
مه چارده : چودھویں کا چاند
تلا : یہ ایک راشی ( برج ) ہے، جو علم نجوم سے وابستہ ہے۔
غور کیجیے
- میر حسن کی پیشنوی سحر البیان ، تقریب ڈھائی سو سال پرانی ہے۔ سادگی اور جادو بیانی اس مثنوی کی خوبی ہے مثنوی کے اس حصے میں ایسے بادشاہ کا ذکر کیا گیا ہے جس کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ مایوسی اور نا امیدی کی حالت میں وہ ترک دنیا کا ارادہ کر لیتا ہے۔ تبھی وزیروں کے کہنے پر وہ نجومیوں اور رتالوں کو دربار میں بلا کر ان سے مشورہ کرتا ہے۔ وہ بادشاہ کے یہاں اولاد ہونے کی پیشن گوئی کرتے ہیں۔ کچھ عرصے کے بعد بادشاہ کے یہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جو بہت ہی خوب صورت تھا۔ اس کا نام بے نظیر رکھا گیا۔ نجومیوں کے کہنے کے مطابق شہزادے کے لیے بارھواں سال خطر ناک تھا اس لیے اسے کھلے آسمان کے نیچے جانے سے منع فرمایا جاتا ہے۔ لیکن بارہ برس پورے ہونے سے چند گھڑیاں پہلے شہزادہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ چھت پر جاکر سو گیا۔ ایک پری اس کی خوب صورتی کی وجہ سے اس پر فریفتہ ہو گئی اور اسے اڑا لے گئی۔
- مثنوی ایک خاص دور کے ہندوستان کی تہذیبی زندگی کو جاننے کا اہم وسیلہ ہے۔ بعض روایتی قصے اور فرضی کہانیاں نہیں ہیں بلکہ اپنے عہد کی فکری، تہذیبی اور ادبی جہتوں کے پیمانے ہیں۔ مثنوی سحر البیان میں بھی ہندوستانی ثقافت کی عکاسی، رہن سہن، کھان پان، رسم و رواج، شادی اور لباس وغیرہ کا ذکر ملتا ہے۔
- آسمان پرستاروں اور سیاروں کی حرکات مستقبل کا حال بتانے کو علم نجوم کہتے ہیں۔ اس علم کو جاننے والا نجومی اور جیوتشی کہلاتا ہے۔ اسی طرح علم رمل میں ہندسوں اور خطوط کے ذریعے پیشن گوئی کی جاتی ہے۔ اس علم کے جاننے والے کو درتال" کہتے ہیں۔
سوچیے اور بتائیے
- بادشاہ کس بات سے بہت فکر مند رہتا تھا؟
- نجومیوں اور رتالوں نے اپنے علم سے بادشاہ کو کون سی باتیں بتائیں؟
- بادشاہ کے دور میں رعایا کی معاشی و سماجی صورت حال بیان کیجیے۔
- محل کی بلندی کو شاعر نے کسی چیز پر فوقیت دی ہے؟
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
- سدا عیش و عشرت ، سدا راگ و رنگ نہ تھا زیست سے کوئی اپنی بہ تنگ
اس شعر میں عیش و عشرت اور راگ و رنگ استعمال ہوئے ہیں۔ عیش و عشرت اور راگ و رنگ الگ الفاظ ہیں لیکن پڑھتے وقت انھیں عیش و عشرت اور راگورنگ پڑھتے ہیں، یعنی دونوں میں دو کے ذریعے جوڑ کر ترکیب بنائی گئی ہے، اس دو کو حرف عطف کہتے ہیں سبق میں شامل مثنوی سے پانچ تراکیب تلاش کر کے لکھے جن میں واؤ عطف کا استعمال ہوا ہے :
- یہ سن کر، وے رتال طالع شناس لگے کھینچنے زائچے بے قیاس
اس شعر میں رتال ، طالع شناس اور زائچے ایسے الفاظ ہیں جو علم نجوم اور علم رمل سے مناسبت رکھتے ہیں، جن کے معنی علم رمل کا ماہر ، قسمت کا حال بتانے والا اور جنم کنڈلی ہے۔ شعر کے پہلے مصرعے میں رمال اور طالع شناس الفاظ آئے ہیں اور دوسرے مصرعے میں اس کی وضاحت کے لیے لفظ زائچے استعمال کیا گیا ہے۔ شعری اصطلاح میں اس ترتیب کو لف و نشر کہتے ہیں ۔ شعر میں پہلے چند چیزوں کو ایک ترتیب سے بیان کرنا پھر اُن کی مناسبت سے وضاحت کرنا لف و نشر “ کہلاتا ہے۔ مثنوی کو دوبارہ پڑھیے اور اسی طرح کی دو مثالیں تلاش کر کے لکھیے :
- درج ذیل الفاظ کو سبق میں تلاش کیجیے اور ان کے آگے ہم قافیہ الفاظ لکھیے:
- منال __________
- خراج __________
- داغ ___________
- خیال __________
- بر ___________
- فن ___________
- تمام ___________
- جواب __________
- کہیں __________
- شمار ___________
- لغت کی مدد سے ذیل میں دیے گئے الفاظ کے تین تین مترادفات لکھیے :
- مال
- انصاف
- جاستین
- مہر
- زیست
گفتگو کیجیے
- نیچے دیے گئے اشعار کو غور سے پڑھیے :
کہوں قلعے کی اس کے کیا میں شکوہ
گئے دب، بلندی کو دیکھ اس کی، کوہ
وہ دولت سرا خانه نور تھا
سدا عیش و عشرت سے معمور تھا
ہمیشہ خوشی، رات دن سیر باغ
نہ دیکھا کسی دل پہ، جزلالہ داغ
نہ دیکھا کسی نے کوئی واں فقیر
ہوئے اس کی دولت سے گھر گھر امیر
غنی وھاں ہوا جو کہ آیا تباہ
عجب شہر تھا وہ عجب بادشاہ
- آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ان امور پر گفتگو کیجیے:
- بادشاہ کے محل کے کن حصوں کی تعریف بیان کی گئی ہے؟
- شہر کن وجوہات کی بنا پر عجیب ہے؟
- کسی دل پر جز لالہ داغ کیوں نہ تھا؟
- لالہ کے دل پر داغ سے کیا مراد ہے؟
تخلیقی اظہار
- مثنوی میں ہندوستانی تہذیب کے جن عناصر کا ذکر کیا گیا ہے، ان کی روشنی میں ایک پیراگراف لکھیے۔
عملی کام
- لائبریری سے مثنوی سحر البیان حاصل کیجیے اور اس کا مطالعہ کیجیے۔
اضافی مطالعہ
تاریخ گوئی میں کسی واقعے کے سالِ وقوع کو حروف ابجد کے حساب سے نظم کیا جاتا ہے۔ یعنی کوئی لفظ یا عبارت ایسی بنانا جس کے حرفوں کی گنتیاں جوڑی جائیں تو تاریخ نکل آئے۔ حرفوں کی گنتیاں مقرر ہیں جو حسب ذیل ہیں:
حروف کی اس ترتیب کو ابجد ، ہوز ، خطی، کلمن، سعفص، قرشت ، تحد ، ضظغ کے ذریعے ظاہر کیا جاتا ہے اور گنتی کے اس طریقے کو قاعدہ ابجد یا طریقہ حمل ، کہتے ہیں۔پ، ٹ، چ، ڈ، ز، ژ، گ عربی میں نہیں ہوتے۔ اس لیے ان کی گنتیاں ان کے قریب ترین عربی حروف کے اعتبار سے حسب ذیل مقرر کر دی گئی ہیں:
| پ | ٹ | چ | ڈ | ز | ژ | گ |
|---|---|---|---|---|---|---|
| 2 | 400 | 3 | 4 | 200 | 7 | 20 |
چوں کہ اس پوری نظم یا شعر کو بھی تاریخ کہتے ہیں جس میں تاریخ والا فقرہ یا لفظ نظم کیا جاتا ہے۔ اس لیے خاص تاریخ کی گنتی رکھنے والے لفظ یا فقرے کو مادہ یا مادہ تاریخ کہتے ہیں۔
- ان ہندسوں کی مدد سے بہت سے کھیل بھی کھیلے جاسکتے ہیں جیسے جماعت میں آپ اپنے یا اپنے دوست کا نام معلوم کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ کا نام اسد ہے تو اس کے نام کے نمبر معلوم کرنے کے لیے الف کا 1 س کا 60 اور د کے 4 نمبروں کو جمع کر کے 1 + 60 + 4 = 65 آئے گا۔ اسی طرحاپنے دوستوں کے ناموں کے نمبر معلوم کیجیے۔