Skip to content
قطعه

قطعہ کے لغوی معنی کسی چیز کے حصے یا ٹکڑے کے ہیں۔ شعری اصطلاح میں قطعہ ایسی نظم کو کہتے ہیں جس میں کسی مضمون کا سلسل بیان ہو۔ اس کے لیے کوئی بحر مخصوص نہیں ہے۔ اس میں کسی خیال یا تجربے کو پوری شدت اور وحدت تاثر کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔ قطعہ عام طور پر چار مصرعوں کی نظم ہوتی ہے۔ اس میں دو سے زیادہ اشعار بھی ہو سکتے ہیں ۔ ضروری نہیں کہ اس کے پہلے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں۔
کلاسیکی شاعروں کے یہاں قطعہ عموماً غزل کے اشعار میں ملتا ہے۔ غزل کے ایسے دو یا دو سے زیادہ اشعار جن میں کوئی مضمون یا خیال تسلسل کے ساتھ پیش کیا جائے، انھیں قطعہ بند اشعار کہتے ہیں۔ قطعہ بند اشعار کی اس روایت کو بعد کے شعرا نے مزید وسعت دی اور اسے ایک علاحدہ صنف کا مقام عطا کیا۔
غزل کے اشعار کے درمیان قطعہ گوئی کی روایت قدیم زمانے سے چلی آتی ہے۔ البتہ ایک علاحدہ صنف کے طور پر اسے استحکام عطا کرنے والوں میں وحید الدین سلیم اور اختر انصاری کے نام نمایاں ہیں۔ بعد میں احمد ندیم قاسمی اور نریش کمار شاد نے قطعہ گوئی کے فن کو فروغ دیا۔ قطعے میں عام طور پر چار مصرعے ہوتے ہیں اور رباعی بھی چار مصرعوں کی ایک نظم ہوتی ہے۔ لیکن دونوں میں فرق یہ ہے کہ رباعی کے لیے بحر ہزج کے کچھ خاص اوزان مخصوص ہیں جب کہ قطعہ غزل کی طرح ہر بحر میں کہا جاسکتا ہے۔

Screenshot 2026-05-13 162349نریش کمار شاد
1927-1969

نریش کمار شاد کی پیدائش ہوشیار پور میں ہوئی۔ شاعری کے لیے انھوں نے شاد تخلص اختیار کیا۔ ان کے والد شاعر اور صحافی تھے۔ گھر کا ماحول علمی و ادبی تھا۔ کم عمری میں ہی شعر کہنا شروع کر دیا۔ والد کی اصلاح اور حوصلہ افزائی نے ان کی اسی طبیعت کو جلا بخشی۔ شاد نے ہوشیار پور سے ابتدائی اور ثانوی تعلیم حاصل کی۔ کچھ عرصے ملازت کے سلسلے میں راولپنڈی اور جالندھر میں رہے۔ بعد میں ملازمت ترک کر کے لاہور چلے گئے اور ماہنامہ شالیمار کے مدیر بن گئے۔ تقسیم ملک کے بعد وہ کانپور آگئے۔ کانپور سے شائع ہونے والے چندن اور بعد میں دہلی سے شائع ہونے والے رسالے 'راہی کی ادارت کے فرائض بھی انجام دیے۔
شاد شاعری میں جوش ملسیانی کے شاگرد تھے جو خود داغ دہلوی کے شاگر د تھے۔ یہی وجہ ہے کہ شاد کی زبان میں دہلوی رنگ نمایاں ہے۔ شاد نے غزل ، قطعات اور رباعیات لکھی ہیں لیکن بنیادی طور پر ان کی شہرت قطعہ اور رباعی کی وجہ سے ہے۔ انھوں نے اپنے قطعات میں عموماً پند ونصح اور اخلاقیات کے مضامین بیان کیے ہیں۔ شاد کے شعری مجموعوں میں دستک، قاشیں، فریاد، آیات جنوں ، سنگم، شاد نامہ وغیرہ شامل ہیں۔ اُن کا ایک اور وقیع کارنامہ حافظ شیرازی کے فارسی کلام کا اردو ترجمہ ہے جو دو آتشہ کے نام سے شائع ہوا۔


Qr




قطعات


(1)
ذہن کا کوئی نور پاش خیال
جب تک اعمال میں نہیں ڈھلتا
زندگی کے بجھے ہوئے دل میں
آگہی کا دیا نہیں جلتا

(2)
ایک شاعر کی آنکھ جب چاہے
حسن فطرت کو تول سکتی ہے
دیکھ سکتی ہے نکہت گل کو
چاند تاروں سے بول سکتی ہے


(3)
کھیل بن جائے خود وجود ترا
یوں نہ اپنے غم و نشاط سے کھیل
زندگی کانچ کا کھلونا ہے
کھیلنا ہے تو احتیاط سے کھیل

(4)
شیمی پیرہن میں یوں ترا رہ رہ کر
یوں ترا روپ مسکراتا ہے
جیسے جمنا کی نرم لہروں میں
چاند کا عکس جھلملاتا ہے

-نریش کمار شاد

لفظ و معنی

نور پاش   :   نور برسانے والا، روشنی بکھیرنے والا

آگہی   :   بصیرت، واقفیت، علم

نکہت گل   :   پھول کی خوشبو

نشاط   :   خوشی

شبنمی پیرہن : شبنم کے رنگ کالباس، سفید چمک دار لباس

غور کیجیے

  • پہلے قطعے میں یہ کہا گیا ہے کہ ذہن میں آنے والا کتناہی عمدہ خیال کیوں نہ ہو جب تک اس پر عمل نہ کیا جائے تب تک انسان کو بصیرت یعنی زندگی کی صحیح تفہیم حاصل نہیں ہوتی۔
  • دوسرے قطعے میں یہ خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ عام انسانوں کو پھول کی خوشبو کا احساس ہوتا ہے، خوشبو نظر نہیں آتی لیکن شاعر کی آنکھ میں وہ بصیرت ہوتی ہے جو پھول کی خوشبو کو بھی دیکھ لیتی ہے۔ انسانوں میں تجربات اور مشاہدات کے لیے احساسات ہوتے ہیں، جنھیں حواس خمسہ کہتے ہیں۔ یہ حواس ہیں سامعہ یعنی سننا، باصرہ یعنی دیکھنا، شامہ یعنی سونگھنا، ذائقہ یعنی ذائقہ محسوس کرنا اور لامسہ یعنی چھونا۔
  • شبنمی پیر ہن انسان کا استعارہ ہے۔ جس طرح شبنم کا وجود عارضی ہے، اسی طرح انسان کا وجود بھی عارضی ہے۔ اس وجود میں خالقِ کائنات کا روپ اس طرح نظر آتا ہے جیسے جمنا کی نرم لہروں میں چاند کا عکس جھلملاتا ہے۔

سوچیے اور بتائیے

  1. آگہی کا چراغ کس طرح روشن ہوتا ہے ؟
  2. شاعر کی آنکھ کا چاند تاروں سے بات کرنے سے کیا مراد ہے؟
  3. زندگی کو کانچ کا کھلونا کیوں کہا گیا ہے؟
  4. چاند کا عکس جھلملانا سے کیا مفہوم واضح ہوتا ہے؟
  5. جمنا کی لہروں کو نرم کیوں کہا گیا ہے؟

پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے

  • درج ذیل شعر کو پڑھیے :

کھیل بن جائے خود وجود ترا
یوں نہ اپنے غم و نشاط سے کھ سے کھیل

پہلے مصرعے میں کھیل ، اسم ہے جس کا مطلب تماشا ہے جب کہ دوسرے مصرعے میں کھیل فعل کے طور پر استعمال ہوا ہے، جس سے مراد کھیلنا ہے۔ کھیل ایک ہی لفظ ہے لیکن اس کا مفہوم دونوں جگہ الگ الگ ہے۔ نیچے دیے گئے لفظوں کا استعمال اپنے جملوں میں اس طرح کیجیے کہ ایک مرتبہ یہ لفظ اسم کے طور پر آئے اور دوسری بار فعل کے طور پر آئے۔

Screenshot 2026-05-14 095448Screenshot 2026-05-14 095458

گفتگو کیجیے

  • درج ذیل قطعہ کو پڑھیے:

ایک شاعر کی آنکھ جب چاہے
حسن فطرت کو تول سکتی ہے
دیکھ سکتی ہے نکہت گل کو
چاند تاروں سے بول سکتی ہے

اس قطعہ میں آنکھ کا حسن فطرت کو تولنے، نکہت گل کو دیکھنے اور چاند تاروں سے بولنے کی بات کہی گئی ہے۔

اپنے ساتھیوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیجیے اور معلوم کیجیے کہ آنکھ سے اور کیا کیا کام لینا ممکن ہے؟

تخلیقی اظہار

اس سبق کے ایک قطعہ میں کھیل کھیلنا، کھلونا الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ ان الفاظ کا مصد رکھیل ہے۔ کھیل سے اور بھی الفاظ بنتے ہیں۔ مثال کے طور پر کھیلنا، کھیل، کھلاڑی، کھلنڈر، کھلونا، کھلواڑ کا استعمال کرتے ہوئے ایک پیراگراف لکھیے۔

عملی کام

  • اردو کے مشہور قطعہ گو شعرا کے چند قطعات تلاش کیجیے۔ انھیں ایک رنگین چارٹ پر خوش خط لکھیے ساتھ ہی ان کا مرکزی خیال بھی لکھیے اور کلاس روم کی دیوار پر آویزاں کیجیے۔