بابا فرید گنج شکرؒ

ہمارے ملک میں بہت سے صوفی اور سنت گزرے ہیں۔ انھوں نے لوگوں کے دل اپنی انسان دوستی کے بل پر جیتے۔ بابا فرید گنج شکر بھی ایسے ہی ایک صوفی تھے۔ بابا فریدؒ کے دادا قاضی شعیب کابل سے ہندوستان آئے تھے۔ وہ خدا رسیدہ انسان تھے۔ اُن کے علم کی شہرت سن کر اُس وقت کے بادشاہ نے ان کو پنجاب کے ضلع ملتان میں کھوٹووال کا قاضی مقرر کر دیا۔ اُن کی پوری زندگی وہیں گزری۔
بابا فریدؒ کے والد کا نام جمال الدین تھا۔ ان کی والدہ قرسم بی بی تھیں۔ بابا فریدؒ کے والد بھی پڑھے لکھے اور سچے مسلمان تھے۔ ابتدائی تعلیم انھوں نے اپنے والدین سے حاصل کی۔ ان کی والدہ ایک صوفی خاتون تھیں۔ انھوں نے بچپن سے ہی ننھے فرید کو خدا پرست لوگوں اور اولیاء اﷲ کے بارے میں بتایا۔ اس لیے لڑکپن سے آپ صوفیوں سے متاثر ہونے لگے۔
نوجوانی میں آپ کی ملاقات حضرت قطب الدین بختیار کاکیؒ سے ہوئی۔ آپ کے دل میں ان کے ُمرید ہونے کی شدید خواہش پیدا ہوئی۔ اسی لیے آپ دہلی آکر اُن کے ساتھ رہنے لگے۔ حضرت قطب الدین بختیار کاکیؒ نے آپ کومریدکر لیا اورمزید علم حاصل کرنے کی ہدایت کی ۔چنانچہ آپ نے ملتان کے مدرسے میں تعلیم حاصل کی ۔ پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے قندھار چلے گئے۔واپس آکر اپنے پیر حضرت قطب الدین بختیار کاکیؒ سے روحانی تربیت حاصل کی۔ یہ تربیت اتنی سخت تھی کہ اگر آپ کوعبادت اور ریاضت کا شوق بچپن ہی سے نہ ہوتا تو اس میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتے تھے۔ ان سب منزلوں سے گزرنے کے بعدآپ اُس مقام پر پہنچ گئے جہاں انسان کا دِماغ منور ہو جاتا ہے اور اس کو دلی سکون نصیب ہوتا ہے۔ اسی دوران حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒدہلی آئے۔ آپ نے بابا فریدؒ کو اپنی دعائوں سے نوازا۔خواجہ صاحبؒ کا قول ہے کہ خدا اپنے اُس بندے کو سب سے زیادہ چاہتا ہے جو دریا کی طرح فیّاض ہو، جس میں سورج جیسی رحم دلی ہو اور جو زمین کی طرح مہمان نواز ہو۔
بابا فریدؒ میں یہ تینوں خوبیاں تھیں۔آپ کے نام کے ساتھ گنج شکر شامل ہونے کی مختلف وجہیں بیان کی جاتی ہیں۔ زیادہ تر لوگ کہتے ہیں کہ آپ کی باتوں میں شکر جیسی مٹھاس ہوتی تھی۔ لوگوں کو سن کر بہت مزہ آتا تھا۔تمام صوفیوں کی طرح حضرت بابافریدؒ کا بھی یہ وصف تھا کہ وہ ہر مذہب کا یکساں احترام کرتے تھے۔غریب ،امیر، عورت، مرد کوئی بھی ہو ، ان کے گھر اور دل کے دروازے سب کے لیے کھلے تھے۔ بابا فریدؒ اس بات کی سختی سے تاکید کرتے تھے کہ اپنے مذہب کی بڑائی اور دوسرے مذہب کی بُرائی کرنا سب سے بُری بات ہے۔اس سے میل ومحبت کے بجائے نفرت پیدا ہوتی ہے۔
سلطان بلبن نے آپ کو کچھ نقد رقم اور چار گاؤں نذرانے کے طور پر پیش کیے۔ آپ نے ساری رقم ضرورت مندوں میں بانٹ دی اور گاؤں یہ کہہ کر واپس کردیے کہ اگر میں انھیں قبول کر لوں گا تو جاگیردار بن جاؤں گا، صوفی نہ رہوں گا ۔
دہلی میں عقیدت مندوں کی کثرت اور اس وقت کے سیاسی حالات کی وجہ سے آپ ہانسی چلے گئے۔ وہاں بھی سکون نہ ملا تواجودھن آگئے جو بعد میں پاک پٹن کے نام سے مشہور ہوا ۔ آج یہ پاکستان کے ضلع منٹگمری میں واقع ہے ۔ 12 اکتوبر1266 میں آپ کا انتقال ہوا۔
آپ کی شخصیت کی تین نمایاں خصوصیات تھیں۔ خدا سے محبت کرنا ، پاکیزہ خیالات رکھنا، دولت اور آرام سے دور رہنا۔ آپ کہا کرتے تھے کہ انسان کی زندگی بہت مختصر ہے اور اس کو بہت کام کرنے ہیں۔ اس لیے وقت کی پابندی بہت ضروری ہے۔ وقت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ان کی خانقاہ میں وقت کی پابندی کا خیال رکھا جاتا تھا۔
بابا فریدؒ شاعر بھی تھے ۔ انھوں نے فارسی میں بھی شاعری کی اور پنجابی میں بھی۔ بابا فرید ؒ کا شمار پنجابی زبان کے او ّلین شاعروں میں کیا جاتا ہے۔ آپ کے بہت سے اشعار سکھوں کی مقدس کتاب’’ گرو گرنتھ صاحب ‘‘ میں شامل ہیں۔
آپ کہا کرتے تھے کہ اپنے باطن کو اپنے ظاہر سے بہتررکھو۔ ہر وقت کوئی اچھا کام کرنے کی کوشش کرو۔ اس طرح لڑائی جھگڑا نہ کرو کہ صلح کی گنجائش ہی نہ رہے۔
ـکسی نے سوال کیا ’’دنیا میں امیر کون ہے؟ــ‘‘ آپ نے جواب دیا، ’’جس میں قَناعَت ہو۔ ‘‘ آپ کاقول ہے’’ انسان کو ایک درخت کی طرح ہونا چاہیے کہ لوگ اُس کا پھل کھاتے ہیں، اُس کو پتھر مارتے ہیں، اُس کی ٹہنیاں کاٹ کر لے جاتے ہیں پھر بھی وہ سب کو پھل دیتا رہتا ہے۔ ‘‘
مشق
1۔ معنی یاد کیجیے:
صوفی : سنت
قاضی : منصف، ایک عہدے کا نام
مقرر : تعینات
خاتون : عورت
متاثر : اثر قبول کرنے والا
مُرید : عقیدت مند، چیلا
رہنمائی : راستہ دکھانا
عبادت : پرستش، بندگی
ریاضت : عبادت میں مصروف رہنا
قول : کہی ہوئی بات
نوازنا : دینا، عطا کرنا، بخشنا
فیاض : سخی
نذرانہ : تحفہ
خانقاہ : صوفیوں کے رہنے کی جگہ
باطن : اندرون (اندر کا )
صلح : سمجھوتا
قناعت : جو مل جائے اس پر راضی
.2 غور کیجیے:
سبق میں بابافرید گنج شکرؒ، خواجہ بختیار کاکیؒ اور خواجہ معین الدین چشتی ؒ جیسے بزرگانِ دین کے ناموں کے ساتھ ( ؒ) کی چھوٹی سی علامت کا استعمال کیاگیاہے جو رحمۃ اللہ علیہ کا مخفف ہے۔ اس کے معنی ہیں’’ اُن پر اللہ کی رحمت۔‘‘
.3 سوچیے اور بتائیے:
(i) بابا فرید ؒکے دادا ہندوستان کہاں سے آئے تھے؟
(ii) بابا فریدؒ کی والدہ میں کیا خوبیاں تھیں؟
(iii) بابا فریدؒ نے کہاں کہاں تعلیم حاصل کی؟
(iv) عبادت اور ریاضت کے کیا فائدے ہیں؟
(v) بابا فریدؒ کے پیرومرشد کون تھے؟
.4 نیچے دیے ہوئے الفاظ سے جملے بنائیے:
عبادت شہرت ہدایت قناعت تربیت
.5 اس سبق میں ایک جگہ’ ضرورت مند‘کالفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اس مثال کی روشنی میں آپ بھی ’مند‘ لگاکر پانچ مرکب الفاظ بنائیے۔
صحت عقل دانش فائدہ ہوش
.6 عملی کام
بابا فریدؒ کی پانچ تعلیمات بیان کیجیے۔