کلہاڑی کی کھچڑی

ایک سپاہی چُھٹّی پر جارہا تھا ۔راستے میں رات ہو گئی ۔ اس کا گاؤ ں بہت دور تھا ۔ سردی زوروں پر تھی ۔ مارے بھوک اور تھکن کے سپاہی کا بُرا حال تھا ۔ اُس نے سوچا، کیوں نہ کسی جگہ دو گھڑی رُک کر دم لے لوںاور کچھ کھا پی لوں ۔ راستے میں اُسے ایک جھونپڑی نظر آئی جس میں ایک بُڑھیا رہتی تھی ۔
سپاہی نے جھونپڑی کا دروازہ کھٹکھٹایا ۔ بڑھیا نے دروازہ کھولا تو سپاہی بولا ’’ا مّاں! اگر آپ کو تکلیف نہ ہو تو میں رات بھر آپ کے ہاں ٹھہر جاؤ ں ۔ باہر بہت سردی ہے ۔ میں دوٗر سے آرہاہو ں اور مجھے بہت دور جانا ہے ۔ ‘‘
’’ آجابیٹے، آجا ۔ ‘‘ بڑھیا نرمی سے بولی ۔ یہ سُن کر سپاہی اندر آگیا اور ایک طرف بیٹھ کر آگ تاپنے لگا ۔ جب سردی کا احساس کچھ کم ہوا تو اس نے بڑھیا سے کہا ۔
’’ امّاں! کھانے کو کچھ ہوگا ؟‘‘
یوں تو بڑھیا کے پاس بہت کچھ تھا مگر وہ تھی بہت کنجوس بلکہ مکّھی چوس۔ منہ بنا کر کہنے لگی ’’ اے بیٹے، میرے پاس کھانے کو کہاں… میں تو خود کل سے بھوکی ہوں ۔‘‘
’’ اچھاامّاں کوئی بات نہیں ۔ میں کچھ دیر آرام ہی کرلوں گا ۔ ‘‘ سپاہی نے جواب دیا ۔ کہنے کواس نے ’ کوئی بات نہیں ‘ کہہ دیا تھا مگر وہ تاڑ چکا تھا کہ بڑھیا کے پاس کھانے کو بہت کچھ ہے ۔ وہ سوچنے لگا کہ اس کنجوس بڑھیا سے کھانا کیسے حاصل کیا جا ئے۔ مارے بھوک کے اس کے پیٹ میں چوہے دوڑرہے تھے ۔ آخر اس کی سمجھ میں ایک ترکیب آئی ۔ اسے کونے میں ایک بے دستے کی کلہاڑی دکھائی دی ۔ چالاک سپاہی بڑھیا سے کہنے لگا ’’آپ نے کبھی کھائی ہے کلہاڑی کی کھچڑی ؟ ‘ ‘
بڑھیا اسے گھور کر دیکھنے لگی ۔ پھر حیرت سے بولی ’’ کلہاڑ ی کی کھچڑی ؟‘‘
’’ ہاں ہاں کلہاڑی کی کھچڑی !‘‘ سپاہی بولا ’’ آپ نے کبھی نہیں کھائی ؟ بہت مزیدار ہوتی ہے ۔ لائیے ذرا پتیلی لے آئیے ۔ ابھی پکاتے ہیں ۔‘ ‘
بڑھیا جھٹ سے اُٹھی اور اس نے سپاہی کو ایک بڑی سی پتیلی لا کر د ی ۔ سپاہی نے کلہاڑی کو خوب دھو دھا کر پتیلی میں رکھا اور اُسے آگ پر چڑھا دیا جو بڑھیا نے سردی سے بچنے کے لیے جلارکھی تھی ۔ پھر اس میں کچھ پانی ڈالا۔ بڑھیا مارے حیرت کے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر یہ سب دیکھ رہی تھی ۔ اب سپاہی نے پتیلی میں چمچہ چلانا شروع کیا۔ کچھ دیر بعد اس نے پانی کو چکھ کر دیکھا اور بولا، ’’ تھوڑی دیر میں تیار ہوجائے گی ۔بس نمک کی کمی رہ گئی ۔ ‘‘
بڑھیا فوراً اٹھی اور اس نے سپاہی کو نمک لاکر دیا جو اس نے پانی میں ڈال دیا اور دوبارہ چمچہ چلانے لگا ۔ کچھ دیربعد اس نے پھر پانی کو چکھا اور بولا ، ’’ بس بس تیار ہونے والی ہے مگر دو مٹھی چاول ہوتے تو اورمزا آجاتا ۔‘‘
بڑھیا مارے شوق کے پٹارے میں سے چاول کی تھیلی نکال لائی اور بولی ’’ یہ لو چاول۔ ذرا جلدی سے پکاؤ ۔‘‘
’’ ہاں ہاں کیوں نہیں ‘‘ سپاہی نے جواب دیا اور دوبارہ چمچہ چلانے لگا ۔

وہ پکاتا رہا ۔ بار بار چمچہ ہلاتا اور چکھتا جاتا ۔ بڑھیا اسے برابر نگاہ جمائے دیکھ رہی تھی ۔ تھوڑی دیر بعد اُس نے پھر چکھا اور بولا’’ ایک مٹھی مونگ کی دال ہوتی تو کام بن جاتا ۔‘‘
بڑھیا مونگ کی دال بھی لے آئی ۔ سپاہی نے مونگ کی دال اس میں ملائی اور چمچہ چلانے لگا ۔ کچھ دیر بعد وہ چکھ کر بولا ’’ واہ اماں ! ایک چمچہ لے لیجیے اور ذرا چکھیے کلہاڑی کی کھچڑی ۔ بنی تو خوب ہے بس تولہ بھر گھی کی کسر ہے۔‘‘
بڑھیا گھی بھی لے آئی ۔ وہ کھچڑی میں پڑگیا ۔
اب دونوں کھچڑی کھانے لگے ۔ ’’ واہ وا! بہت خوب ، جتنی بھی تعریف کرو کم ہے ۔ ‘‘ سپاہی نے کہا ۔
’’ آہاہا ہا ‘‘ بڑھیا تعجب سے بولی،’’ مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ کلہاڑی سے اتنے مزے کی کھچڑی بھی پک سکتی ہے ۔‘‘
چالاک سپاہی کھچڑی کھارہا تھا اور چپکے چپکے ہنستا بھی جارہا تھا ۔ (ماخوذ)
مشق
.1 معنی یاد کیجیے:
دوگھڑی : دوپل، تھوڑی دیر میں
دم لینا : آرام کرنا، سُستانا
پیٹ میں چوہے دوڑنا : بہت بھوک لگنا
دستہ : ہتّھا، ہینڈل
حیرت : تعجب
کَسَر : کمی
.2 سوچیے اور بتائیے:
(i) سپاہی بڑھیا کی جھونپڑی میں کیوں ٹھہرا؟
(ii) سپاہی نے کھانا حاصل کرنے کی کیا ترکیب نکالی؟
(iii) سپاہی نے کھچڑی میں کون کون سی چیزیں ڈالیں؟
(iv) کھچڑی کھاتے ہوئے سپاہی چپکے چپکے کیوں ہنس رہاتھا؟
.3 نیچے دیے ہوئے جملوں کوواقعات کی ترتیب سے لکھیے:
(i) مارے بھوک کے اس کے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے۔
(ii) بڑھیانے سپاہی کو نمک لاکردیا جو اُس نے پانی میں ڈال دیا۔
(iii) راستے میں اُسے ایک جھونپڑی نظر آئی، جس میں ایک بڑھیارہتی تھی۔
(iv) بڑھیامارے شوق کے پٹارے میں سے چاول کی تھیلی نکال لائی۔
(v) ایک سپاہی چھٹی پر جارہا تھا۔
(vi) ایک مٹھی مونگ کی دال ہوتی تو کام بن جاتا۔
.4 نیچے دیے ہوئے الفاظ کے متضاد لکھیے:
سردی نرمی اندر مزیدار
.5 نیچے دیے ہوئے محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے:
منھ بنانا آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنا پیٹ میں چوہے دوڑنا
کام بن جانا
6 عملی کام:
نیچے دیے ہوئے لفظوں کو خوش خط لکھیے:
پتیلی چھٹی شوق تعجب تعریف حیرت