کاٹھ کے بونے
پرانے زمانے کی بات ہے۔ کسی گاں میں ایک بڑھئی رہتا تھا۔ وہ بہت نیک اور محنتی تھا۔ روز جنگل جاکر لکڑیاں لاتا۔ اُن سے گھروں میں کام آنے والی مختلف چیزیں بناتا۔ اُنھیں ہاٹ بازار میں بیچ کر اپنے گھر کا خرچ پورا کرتا۔وہ کبھی کسی ہرے بھرے پیڑ کو نہیں کاٹتا تھا۔جو سوکھے، ٹوٹے یا آندھی میں گرے پڑے پیڑ ملتے، بس اُن ہی سے اپنا کام چلاتا ۔
بڑھئی کو اسی طرح کام کرتے ہوئے کئی برس گزر گئے۔ آس پاس کے جنگلوں کے سارے سوکھے ٹوٹے پیڑ رفتہ رفتہ ختم ہوتے گئے۔ ایک دن ایسا بھی آیا جب اُسے جنگل میں ایک بھی سوکھا یا ٹوٹا ہوا پیڑ نہ ملا۔ مجبور ہو کر اُس نے ایک ہرا بھرا درخت کاٹنے کے لیے کلہاڑی اُٹھائی لیکن اُس کا دل نہ مانا۔ اُس نے کلہاڑی زمین پر رکھ دی اور سوچنے لگا کہ کیا کرے۔ لکڑیاں نہیں ملیں گی تو کام کیسے چلے گا، فاقوں کی نوبت آجائے گی۔
اُس نے پھر کلہاڑی اُٹھائی۔ یکایک اسے خیال آیا کہ پورب کی طرف پھیلے ہوئے گھنے جنگل میں بہت سی لکڑیاں مل سکتی ہیں۔مشکل یہ تھی کہ اُس جنگل میں خطرناک جنگلی جانور تھے۔اِس خوف سے لوگ اُدھر نہیں جاتے تھے۔
بڑھئی نے اپنے دل میں ٹھان لی کہ وہ ہرے بھرے درخت نہ کاٹے گا، چاہے اُسے سوکھی لکڑیاں حاصل کرنے کے لیے خطرناک جنگل میں ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ یہ سوچ کر وہ پورب کی سمت چل پڑا۔ بہت دور جانے کے بعد اُسے شیشم کا ایک درخت نظر آیا جو آندھی سے اکھڑ کر گرگیا تھا۔
بڑھئی نے اسی میں سے اپنے کام کی لکڑیاں کاٹ لیں اور انھیں لاد کر گھر لے آیا۔ گھر آکر اس نے لکڑی سے ایک خوبصورت پلنگ بنانا شروع کیا۔ پلنگ کے پائے بناتے وقت نہ جانے اس کے دل میں کیا آئی کہ اس نے چاروں پایوں کو بونوں کی شکل میں تراش دیا۔

جب پلنگ بن کر تیار ہوا تولوگ اسے دیکھ کرعَش عَش کرنے لگے۔ پلنگ بہت خوبصورت تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے چار بونے اسے اپنے سروں پر اٹھائے کھڑے ہیں۔پلنگ کی شہرت سن کر راجا نے اسے خرید لیا اور راج محل میں لے آیا۔
راجا جب رات کو اس پلنگ پر سویا تو اسے خوب مزے کی نیند آئی۔ جب آدھی رات گزری تو یکایک اس کی آنکھ کھل گئی۔اس نے دیکھا پلنگ کا ایک پایہ دوسرے پائے سے کچھ کہہ رہا ہے۔
’’دوستو! راجا تو آرام سے سو رہا ہے، کیوں نہ ہم لوگ اتنی دیر میں راج محل کی سیر کر آئیں۔‘‘ دوسرے پائے نے کہا، ’’اگر ہم یہاں سے نکل کر سیر کو جائیں گے تو پلنگ زمین پر گر جائے گا اور راجا کی نیندٹوٹ جائے گی۔‘‘
تیسرے پائے نے کہا،’’توپھر ہم ایسا کریں کہ ایک ایک کر کے سیر کو جائیں۔ باقی تین پلنگ کو اٹھائے رکھیں۔‘‘
یہ تجویز سبھی کو پسند آئی۔ پہلا پایہ راج محل کی سیر کرنے کے لیے وہاں سے باہر چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد جب وہ واپس آیا تو سب نے کہا، ’’ہمیں بھی تو کچھ بتا ؤکہ تم نے کیا دیکھا۔‘‘

پہلا پایہ بولا–’’میں یہاں سے نکل کر سب کی نظروں سے چُھپتا ہوا محل کے باورچی خانے میں جا پہنچا۔ وہاں کیا دیکھا کہ راجا کاباورچی ایک تھیلے میں دال ،چاول اور گھی وغیرہ چُرا کرلے جا رہا ہے۔ اس کی یہ حرکت مجھے بہت بُری لگی اور میں واپس چلا آیا۔ ‘‘
اس کے بعد دوسرا پایہ سیر کو گیا۔ وہ جب واپس آیا تو سب نے پوچھا، ’’بتاؤ تم نے کیا دیکھا؟‘‘ وہ بولا – ’’میں نے دیکھا کہ راجا کا خزانچی اشرفیوں کے توڑے چُھپا کر لے جا رہا ہے۔لگتا ہے راج محل میں لوٹ مچی ہوئی ہے۔ ہر آدمی راجاکی غفلت کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔‘‘
اس کے بعد تیسرا پایہ باہر گیالیکن بہت جلد لوٹ آیا۔اس کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار دیکھ کر سب نے پوچھا ،’’ بتاؤ تم نے کیا دیکھا۔‘‘
