روٹیاں

کپڑے کسی کے لال ہیں ، روٹی کے واسطے
لمبے کسی کے بال ہیں ، روٹی کے واسطے
باندھے کوئی رومال ہیں ، روٹی کے واسطے
سب کَشْف اور کمال ہیں ، روٹی کے واسطے
جتنے ہیں ، روپ سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاں
جس جا پہ ہانڈی ، چولھا ، توا اور تنور ہے
خالق کی قدرتوں کا اُسی جا ظہور ہے
چولھے کے آگے آنچ جو جلتی ، حضور ہے
جتنے ہیں نو‘ر ، سب میں یہی خاص نو‘ر ہے
اِس نور کے سبب ، نظر آتی ہیں روٹیاں

پوچھا کسی نے یہ کسی کامل فقیر سے
یہ مہر و ماہ حق نے بنائے ہیں کاہے کے
وہ سن کے بولا، بابا ! خدا تجھ کوخیر دے
ہم تو نہ چاند سمجھیں ، نہ سورج ہیں جانتے
بابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاں
روٹی نہ پیٹ میں ہو، تو پھر کچھ جتن نہ ہو
میلے کی سیر، خواہشِ باغ و چمن نہ ہو
بھوکے غریٖب دل کی، خُدا سے لگن نہ ہو
سچ ہے کہا کسی نے کہ بھوکے بھجن نہ ہو
اللہ کی بھی یاد دِلاتی ہیں روٹیاں
( نظیرؔ اکبرآبادی )
مشق
1. معنی یاد کیجیے:
کَشْف : کرامت
کامل : مکمل، پورا
مہر : سورج
ماہ : چاند
ہانڈی : مٹی کی دیگچی
تنور : ایک قسم کاچولھا
خالق : پیداکرنے والا
قدرت : طاقت
ظہور : جلوہ، اظہار
نو‘ر : روشنی
خیر : نیکی،اچھائی
جتن : کوشش
2. سوچیے اور بتائیے:
(i) روٹیاں انسان کو کون کون سے روپ دکھاتی ہیں؟
(ii) شاعر کے مطابق خالق کی قدرتوں کا ظہور کہاں ہوتاہے؟
(iii) کامل فقیر سے کیاپوچھاگیا؟
(iv) جب پیٹ میں روٹی نہ ہو تو آدمی کا کیاحال ہوتاہے؟
3. نیچے دیے بند کے مصرعوں کو ترتیب وار لکھیے:
بابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاں
یہ مہر و ماہ حق نے بنائے ہیں کاہے کے
وہ سن کے بولا، بابا ! خدا تجھ کوخیر دے
پوچھا کسی نے یہ کسی کامل فقیر سے
ہم تونہ چاند سمجھیں، نہ سورج ہیں جانتے
4. عملی کام:
نظم میں کھانا پکانے سے متعلق جن چیزوں کا ذکر کیاگیاہے ان کی فہرست بنائیے۔