شارک مچھلی

دنیا میں سب سے زیادہ جاندار مخلوقات سمندر میں پائی جاتی ہیں۔ ان میں سے ایک شارک مچھلی بھی ہے ۔ساٹھ فٹ لمبی شارک کے سامنے ہاتھی کی بھی کوئی حقیقت نہیں ۔شارک کی تقریباً تین سو قسمیں ہیں۔کچھ شارک مچھلیاں ساحل سے دوٗر کُھلے سمندروں میں رہنا پسند کرتی ہیں۔ کچھ ایسی بھی ہیں جو زیادہ وقت سمندر کی تہہ میں یا اس کے قریب گزارتی ہیں۔زیادہ تر شارک مچھلیاں کم گہرے سمندروں میں رہتی ہیں۔
دوسری مچھلیوں کی طرح شارک کے پنکھ نہیں ہوتے۔اس کا خطرناک ہتھیار اس کے دانت ہیں۔بعض شارک مچھلیوں کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا۔ اسی وجہ سے انھیں’بھو کے سمندری بھیڑیے‘ اور ’بحری شیر ‘بھی کہاجاتاہے۔ بڑی سفید شارک مچھلیاں ہر طرح کے جانور ہڑپ کر جاتی ہیں۔
ٹائیگر شارک بھی بڑی پیٹو مچھلی ہے۔ یہ سمندر کی عجیب و غریب مچھلی ہے جو ہر قسم کے جاندار مثلاًکچھوے، ڈالفن مچھلیاں، سمندری پرندے تک کھا جاتی ہے۔
شارک ایک کم عقل مچھلی ہے۔کبھی کبھی اُسے اپنی تکلیف کابھی احساس نہیں ہوتا ۔ایسی مثالیں موجود ہیں کہ شارک کا پیٹ چاک کر دیا گیااور وہ اپنے ہی اندرونی اعضا کھاتی چلی گئی۔ شارک کے کٹے ہوئے سر،لقمہ پھینکے جانے پر اسے پکڑنے کی کوشش کرتے رہے۔ نیلے رنگ کی شارک مچھلیوں کے جگر نکال لینے کے بعد جب انھیں پھر سے سمندر میں پھینکا گیا تووہ دوسری مچھلیوں کے پیچھے بھاگ نکلیں اور انھیں کھانے لگیں ۔

شارک میں سونگھنے کی قوت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ وہ پانی کی لہروں سے سمجھ جاتی ہیں کہ ان کے آس پاس کیا ہے۔ اگر کسی سمندر ی جانور کے جسم سے خون بہہ رہا ہو اور وہ صحیح ڈھنگ سے تیر نہ رہا ہو تو یقیناً شارک اس پر حملہ کر دے گی چاہے وہ وھیل جیسی بڑی مچھلی ہی کیوں نہ ہو۔ اسی طرح شارک زخمی انسانوں پر بھی حملہ کردیتی ہے۔
شارک سے محفوظ رہنے کے لیے کئی تدبیریں نکالی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک ہے شارک کو بھگانے والا کمپاؤنڈجس کی بو‘ اُسے بہت بُری لگتی ہے۔ آسٹر یلیا اور جنوبی افریقہ میں جہاں سمندر کے ساحل پر لوگ جا کر نہاتے ہیں وہاں سمندر میں لوہے کے جال لگا دیے گئے ہیں تا کہ شارک مچھلی انھیں پار کرکے اندر نہ گھسنے پائے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ شارک انسانی خوراک کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس میں حیاتین، پروٹین، تیل اور دیگر کارآمدچیزوں کی کوئی کمی نہیں ۔ پہلے زمانے میں شارک کا شکار محض تفریح کے طور پر کیا جاتا تھا۔آج کل اس مچھلی کا شکار بڑے منظّم طریقے سے کیا جاتا ہے اور دنیا بھر میں تقریباً چار لاکھ ٹن سے زیادہ شارک مچھلی ہر سال پکڑی جاتی ہے۔ ہندوستان میں تازہ ترین اندازے کے مطابق ہر سال ٨٥ ہزارٹن شارک مچھلی کا شکار کیا جاتا ہے۔ ہندوستان میں سمندرکے ساحل پر واقع صوبوں میں سے تمل ناڈو، گجرات اور مہاراشٹر ایسے صوبے ہیں جہاں سب سے زیادہ شارک مچھلی پکڑی جاتی ہے۔منگلور، سورتکل، کوپ اور گنگولی بھی ایسے مرکز ہیں جہاں شارک اچھی خاصی تعداد میں پکڑی جاتی ہیں۔
دنیا کے بہت سے ملکوں میں شارک کی بطورغذا بہت مانگ ہے۔ اس مچھلی کا ہر حصّہ استعمال میں آتا ہے۔ شارک کے چمڑے سے نہایت عمدہ قسم کے جوتے، ہینڈ بیگ، بٹوے، گھڑیوں کے فیتے اور پٹّیاں بنتی ہیں۔ ان کے علاوہ ریتی اور لکڑی کا پالش بھی تیار ہوتا ہے۔ اس کے دانت اور ریڑھ کی ہڈی کے حصّے آرائشی اشیا کے طور پر استعمال میں آتے ہیں۔ شارک کے جگر میں تیل بہت ہوتا ہے جو وٹامن- اے کا بڑا ذخیرہ ہے۔ (ماخوذ)
(جاوید اختر)
مشق
1 معنی یاد کیجیے:
خطرناک : ڈراونا
بحری : سمندری
چاک کرنا : کاٹنا
اعضا : عضو کی جمع،جسم کے حصّے
بو‘ : مہک
حیاتین : وٹامن
منظّم : انتظام کے ساتھ، مرتّب، منصوبہ بند
اشیا : چیزیں، شے کی جمع
آرائشی : سجاوٹ کے لیے، سجاوٹ والا
ذخیرہ : جمع کیا ہوا،ڈھیر
2 سوچیے اور بتائیے:
(i) شارک مچھلی کی کتنی قسمیں ہوتی ہیں؟
(ii) شارک کو بحری شیر کے علاوہ اور کیاکہا جاتاہے؟
(iii) ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ شارک کو تکلیف کا احساس نہیں ہوتا۔
(iv) ہندوستان کے کن صوبوں میں شارک مچھلیاں پائی جاتی ہیں؟
(v) شارک کے چمڑے سے کون کون سی چیزیں بنائی جاتی ہیں؟
3 نیچے دیے ہوئے الفاظ کی جمع لکھیے:
(i) قسم …………
(ii) حالت …………
(ii) شے …………
(iv) ملک …………
(v) تدبیر …………
4 لکھیے کہ نیچے دیے ہوئے لفظ مذکر ہیں یا مؤنث؟
(i) کچھوا …………
(ii) ہاتھی …………
(iii) شیر …………
(iv) مچھلی …………
(v) ہڈی …………
(vi) لکڑی …………
5 عملی کام:
شارک مچھلی کی سونگھنے کی حِس بہت زیادہ ہوتی ہے۔ سونگھنے کی حِس اُن پانچ حِسوں میں سے ایک ہے جو اللہ نے ہر جاندار کو دی ہیں۔ آپ باقی چارحِسوں کے نام معلوم کیجیے۔