عقل مند مچھیرا

کردار : بادشاہ سلامت،وزیرِاعظم،داروغہ،مچھیرا،دربان،سپاہی اورجلاّد
(پردہ اٹھتا ہے)
بادشاہ سلامت : وزیرِاعظم ! دعوت کا سارا اِنتظام ٹھیک ہے نا؟
وزیراعظم : عالم پناہ!سب ٹھیک ہے۔ بس دعوت کے لیے مچھلی نہیں مل سکی۔دو دن سے سمندر میں سخت طوفان آیا ہوا ہے۔ایک بھی مچھلی نہیں پکڑی جا سکی۔
بادشاہ سلامت : (افسوس کے لہجے میں) شاہی دعوت اور بغیر مچھلی کے!لوگ کیا کہیں گے؟ذرا سوچیے تو، جس دعوت میں مچھلی نہ ہو وہ بھی کوئی دعوت ہے۔وزیراعظم !کچھ کیجیے، مچھلی ضرور ہونی چاہیے۔
وزیرِاعظم : عالم پناہ!میں نے چاروں طرف سپاہیوں کو بھیجا ہے اور اعلان بھی کر دیا گیاہے کہجو بھی شاہی دعوت کے لیے عمدہ اور تازہ مچھلی لائے گا، منھ مانگا اِنعام پائے گا،مگر اب تک کوئی نہیں آیا۔
(داروغہ داخل ہوتا ہے۔کورنش بجالاتاہے)
داروغہ : عالم پناہ! ابھی ابھی ایک مچھیرا تازہ اور سنہری مچھلی لے کر آیا ہے۔حکم ہو تو اُسے خدمت میں حاضر کیا جائے۔
بادشاہ سلامت : (خوش ہوکر) ضرو‘ر ضرو‘ر۔ فوراً حاضِر کرو۔ اگر یہ مچھیرے نہ ہوتے تو بادشاہوں کے دسترخوان تک مچھلیاں کیسے پہنچ پاتیں؟
وزیرِاعظم : عالم پناہ درست فرماتے ہیں۔مچھیرے بہت محنتی ہوتے ہیں۔سمندر سے مچھلیاں پکڑ کر لاتے ہیں۔
(ایک مچھیرا سر پر ٹوکری رکھے داروغہ کے ساتھ داخل ہوتا ہے۔ مچھیرا ٹوکری اُتارکر بادشاہ کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ زمین چو‘ متا ہے اور پھر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو جاتا ہے)
بادشاہ سلامت : (سنہری مچھلی دیکھ کر بہت خوش ہوتا ہے )واہ میاں مچھیرے !کیا تازہ اور عمدہ مچھلی لائے ہو۔ ہم بہت خوش ہوئے ۔ بولو کیا مانگتے ہو؟
مچھیرا : اَن داتا! جان کی اَمان پاؤں توکچھ کہو‘ں۔
بادشاہ سلامت : تم ذرا بھی نہ گھبرائو......... جو بھی مانگو گے ملے گا........ بادشاہ جو کہتے ہیں،اس کو ضرور پورا کرتے ہیں۔
مچھیرا : ان داتا.........اس مچھلی کا انعام ہے سو کوڑے!
(بادشاہ،وزیر اور داروغہ حیرت سے ایک دوسرے کامنھ تکنے لگتے ہیں)
بادشاہ سلامت : مچھیرے !تمھارا دماغ تو ٹھیک ہے؟
وزیرِاعظم : عالم پناہ! معلوم ہوتا ہے آپ کے رُعب اور خوف کے مارے بے چارے کی عقل ماری گئی ہے۔
مچھیرا : خطا معاف۔میں بالکل ٹھیک ہوں۔ میں سو کوڑے سے ایک بھی کم نہ کرو‘ں گا۔ ابھی ابھی آپ نے فرمایا تھا کہ بادشاہ جو کچھ کہتے ہیں وہ پو‘را کرتے ہیں۔بس حضورمیری پیٹھ پر سو کوڑے لگانے کا حکم دیں۔
بادشاہ سلامت : (وزیرِاعظم کے کان میں کہتے ہیں) عجیب آدمی ہے۔ بہرحال ہم کو اپنا وعدہ پورا کرنا ہے۔

جلاّد کو حاضر کیا جائے .........مگر کوڑے دھیرے دھیرے لگائے جائیں تاکہ مچھیرے کو چوٹ نہ لگے۔
وزیرِاعظم : (داروغہ سے) جلاّد کو حاضر کیا جائے۔
(داروغہ چلا جاتا ہے اور جلد ہی جلاّد کے ساتھ واپس آتا ہے۔جلاّد کے ہاتھ میں چمڑے کا کوڑا ہے۔)
بادشاہ سلامت : اِس مچھیرے کی پیٹھ پر سو کوڑے لگائے جائیں۔
(جلاّد دھیرے دھیرے مچھیرے کی پیٹھ پر کوڑے مارتا ہے اور گنتا جاتا ہے:ایک ، دو...... دس......... بیس........... تیس...... چالیس.........پچاس)
مچھیرا : بھائی جلاّد! ذرا ٹھہرو۔میرا ایک ساتھی اور ہے،باقی کے کوڑے اس کے حصّے کے ہیں۔
بادشاہ سلامت : (مُسکراتے ہوئے) اچّھا !کیا اس دنیا میں تم جیسا کوئی دوسرا بے وقوف بھی ہے ؟
کون ہے وہ؟ کہاں ہے؟حاضر کرو تا کہ اس کا حصّہ بھی دے دیا جائے۔
مچھیرا : حضور!وہ کوئی دوسرا نہیں آپ کے محل کا دربان ہے۔
بادشاہ سلامت : (حیرت سے) ہمارے محل کا دربان! ہائیں......یہ کیسے؟
مچھیرا : سرکار! بات یہ تھی کہ دربان مجھ کو اندر آنے ہی نہیں دیتا تھا جب تک کہ اس نے وعدہ نہ لے لیا کہ اس مچھلی کاجو بھی انعام مجھے ملے گا اس میں سے آدھا اُس کا ہوگا۔
بادشاہ سلامت : دربان کو فوراً حاضر کیا جائے۔
(دوسپاہی دربان کو پکڑ لاتے ہیں۔ دربان خوف کے مارے تھر تھر کانپ رہا ہے۔)
بادشاہ سلامت : اس بے ایمان اور رشوت خور دربان کی پیٹھ پر پچاس کوڑے زورزورسے لگائے جائیں اور اِس کو نوکری سے نکال دیا جائے۔

(مچھیرے سے مخاطب ہوکر)مابدولت تمھاری عقل مندی سے خوش ہوئے۔ وزیرِاعظم ! مچھیرے کو اشرفیوں کی تھیلی انعام میں دی جائے۔
(مچھیراآداب بجالاتا ہے)
(پردہ گرتا ہے) (ماخوذ)
مشق
1. معنی یاد کیجیے:
عالم پناہ : ملک جس کی حفاظت میں ہو، بادشاہ
رعب : دبدبہ
رشوت خور : رشوت کھانے والا، جو رشوت لیتاہو
خطا : قصور، غلطی
عقل ماری جانا : بے وقوفی کا کام کرنا، ناسمجھی کی باتیں کرنا
جان کی امان پانا : جان بخشنے کی درخواست کرنا
2. سوچیے اور بتائیے:
(i) بادشاہ کو مچھلی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
(ii) مچھیرے نے مچھلی کا انعام کیا مانگا؟
(iii) ’عالم پناہ‘کس کے لیے کہا گیاہے؟
(iv) مچھیرے کے انعام میں کون برابر کا شریک تھا؟
(v) بادشاہ نے آخر میں مچھیرے کو کیا انعام دیا؟
3. ’ٹوکری ‘کی جمع ہے ’ٹوکریاں‘۔ اسی طرح نیچے دیے ہوئے الفاظ میں’اں‘ لگا کر جمع بنائیے:
(i) اشرفی …………
(ii)نوکری …………
(iii) مچھلی …………
(iv) خوشی …………
(v) تھیلی ………..
4. نیچے دیے ہوئے محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے:
عقل ماری جانا منھ مانگا انعام پانا جان کی امان پانا
5. ’تازہ مچھلی‘ میں لفظ ’تازہ‘ صفت ہے۔ آپ اس سبق سے مچھلی کی کچھ اور صفتیں تلاش کیجیے۔
6. عملی کام:
(i) اس ڈرامے کے سبھی کرداروں کے نام لکھیے۔
(ii) اس ڈرامے کو اسٹیج کیجیے۔