Skip to content
Doorpaas  Chapter-8



گُلبدن بیگم


ہندوستان کی تہذیب کو ترقی دینے میں مغل شہزادیوں اور بیگمات کا بھی بڑا حصّہ ہے ۔ ا ن میں بابر کی بیٹی گلبدن بیگم کا نام نمایاں ہے ۔ گلبدن کی ماں کا نام ماہم تھا جو گلبدن کو بہت چاہتی تھیں اور اس کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دیتی تھیں ۔ 

گلبدن بیگم بہت خوبصورت ، خوش مزاج ، محبت کرنے والی ، ذہین اور پڑھنے لکھنے کی شوقین تھیں ۔گلبدن بیگم اپنے سب بھائی بہنوں کی گَرویٖدہ تھیں مگر ہمایوں کو وہ خاص طور سے بہت چاہتی تھیں۔

جب وہ بڑی ہوئیں تو اُن کی شادی مغل خاندان کے ایک شخص خواجہ خضر سے ہوئی۔ خواجہ خضر نے گلبدن کی بہت قدر کی اور گلبدن بیگم نے بھی اپنی شادی شدہ زندگی کی سب ذمہ داریوں کو بڑی خوبی سے نبھایا ۔ 

گلبدن بیگم نے تین مغل بادشاہوں یعنی بابر ، ہمایوں اور اکبر کا زمانہ دیکھا ۔ بابر اور ہمایوں تو گلبدن کو چاہتے ہی تھے ان کے بعد اکبر نے بھی اپنی پھوپھی کا بہت خیال رکھا ۔ جب اکبر اپنے بیٹے سلیم سے ناراض ہو جاتا تو گلبدن بیگم دربار میں جاکر اس کی

c8.1

 سفارش کرتیں ۔ اکبر اُسے فوراً مان لیتا اور سلیم کو معاف کردیتا تھا ۔

آخری عمر میں گلبدن بیگم نے اکبر سے کہا کہ وہ مکّہ معظمہ جانا چاہتی ہیں ۔ اکبر کو یہ فکر ہوئی کہ اس عمر میں وہ اتنے دور دراز کا سفر کیسے کریں گی ۔ مگر ان کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے اس نے ایسا بندوبست کیا کہ انھیں راستے میں زیادہ تکلیف نہ ہو ۔

گلبدن بیگم حج کو گئیں اور وہاں سے تین ساڑھے تین سال بعد واپس لوٹیں۔ اکبر نے ان سے فرمائش کی کہ وہ ہمایوں کے زمانے کے حالات لکھیں۔ اس طرح انھوں نے ایک کتاب ’’ ہمایوں نامہ ‘‘ لکھی ۔ یہ کتاب فارسی زبان میں ہے ۔ اس میں ترکی زبان کے الفاظ بھی ہیں ۔ اس کتاب کا قلمی نسخہ لندن کے میوزیم میں محفوظ ہے جس پر شاہجہاں کے دستخط بھی ہیں ۔ یہ مغلیہ خاندان اور خاص طور سے ہمایوں کے زمانے کے حالات پر ایک اہم کتاب ہے ۔ اس میں گلبدن بیگم نے بابر کی ’ تزک بابری‘  سے بھی مدد لی ہے ۔ انھوں نے اس کتاب میں اس زمانے کے سیاسی ، سماجی اوراپنے خاندانی حالات بہت سادہ اور دل نشیں انداز میں بیان کیے ہیں ۔ 

ایک انگریز خاتون این۔ ایس ۔ بیورج نے ’’ ہمایوں نامہ ‘‘کا ترجمہ انگریزی میں کیا ہے ۔ وہ اس کے بارے میں لکھتی ہیں، ’’ ہمایوں نامہ میں جو واقعات لکھے گئے ہیں ان کی صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ گلبدن بیگم نے مغل بادشاہوں کے خاندانی حالات ، ان کے رہن سہن کو جتنی دلچسپی سے لکھا ہے وہ کسی مؤرخ کے بس کا کام نہیں تھا ۔ ‘‘ گلبدن بیگم نے طویل عمر پائی ۔ اسی ّسال کی عمر میں آگرہ میں ان کا انتقال ہو ا ۔



مشق


1. معنی یاد کیجیے:

  گرویدہ : چاہنےوالا،عاشق

قلمی نسخہ    : ہاتھ کی لکھی ہوئی کتاب

مؤرخ :       تاریخ داں، تاریخ لکھنے والا

بندوبست : انتظام

تربیت دینا : سکھانا

طویل : لمبی

صداقت : سچائی


2. سوچیے اور بتائیے:


(i) گلبدن بیگم کس کی بیٹی تھیں؟

(ii) گلبدن بیگم کس کی بیوی تھیں؟

(iii) گلبدن بیگم کی کتاب کا نام کیاہے؟

(iv) گلبدن بیگم نے کن کن بادشاہوں کا زمانہ دیکھا تھا؟

(v) ’ہمایوں نامہ‘ میں کس زمانے کا ذکر کیاگیاہے؟

3. نیچے دیے ہوئے لفظوں کے تلفظ کی مشق کیجیے:

قَلمی        تہذیب        گرویٖدہ       مُغل  خو‘ش مِزاج            

خواجہ خضر مؤرخ مکّہ معظمہ خاندان


4. واحد سے جمع اور جمع سے واحد بنائیے:


تعلیم      خواہش      تکلیف      الفاظ واقعات

مؤ رخ     خاتون       حالات


5. خالی جگہوں کو بھریے:


فارسی تزک بابری ہمایوں نامہ مکّہ معظمہ گلبدن

(i) گلبدن بیگم نے اکبر سے کہاکہ وہ _______ جاناچاہتی ہیں۔

(ii) خواجہ خضر نے _______ کی بہت قدر کی۔

(iii) ہمایوں نامہ _______ زبان میں ہے۔

(iv) گلبدن بیگم نے بابر کی _______ سے بھی مدد لی ہے۔

(v) این- ایس- بیورج نے_______ کا ترجمہ انگریزی زبان میں کیاہے۔


6. عملی کام:


اپنے استاد سے ’ ہمایوں نامہ‘ کے متعلق معلومات حاصل کیجیے اور ان پر اپنی ڈائری میں پانچ جملے لکھیے۔