غزل

دلِ ناداں ! تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار
یا الہٰی یہ ماجرا کیا ہے
میں بھی مُنھ میں زبان رکھتا ہوں
کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے
ہم کو اُن سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
ہاں بھلا کر ترا بھلا ہوگا
اور درویش کی صدا کیا ہے
ہم نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔ
مفت ہاتھ آئے تو بُرا کیا ہے
(مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ)
مشق
1 معنی یاد کیجیے:
دلِ ناداں : ناسمجھ دل
مشتاق : شوق رکھنے والا
مدعا : خواہش، مقصد
بیزار : اُکتایاہوا
ماجرا : معاملہ، قصہ
درویش : فقیر، قلندر
2 غور کیجیے:
غزل اردو شاعری کی سب سے زیادہ مقبول صنف ہے۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ اس کے ہر شعر میں دو مصرعوں کی مدد سے ایک مکمل مضمون اداکیاجاتاہے۔ غالبؔ اردو کے سب سے مشہور شاعروں میں ہیں ۔ان کے بارے میں عام طور پر یہ کہاجاتاہے کہ وہ بہت مشکل پسند شاعر تھے۔ لیکن آپ نے ابھی جو غزل پڑھی اس کی زبان بہت آسان ہے اور غالبؔ نے ہر بات بہت سادگی کے ساتھ کہی ہے۔
3 سوچیے اور بتائیے:
(i) ’ہاں بھلا کر تر ابھلا ہوگا‘ اس مصرعے میں شاعر کیاکہناچاہتا ہے؟
(ii) شاعر کو وفا کی امید کس سے ہے؟
(iii) ’مفت ہاتھ آئے توبُراکیاہے‘ اس مصرعے سے شاعر کی کیامرادہے؟
4 نیچے دیے ہوئے لفظوں سے مصرعے مکمل کیجیے:
وفا زبان مدعا مشتاق ماجرا
(i)میں بھی منھ میں ________ رکھتا ہوں
(ii)یا الٰہی یہ _____________ کیا ہے
(iii)ہم ہیں____________ اور وہ بیزار
(iv)کاش پوچھو کہ __________ کیا ہے
(v)جو نہیں جانتے __________ کیا ہے
5 عملی کام:
اس غزل کے شعروں کو اپنی کاپی میں خوش خط لکھیے۔