Skip to content
Doorpaas  Chapter-10



کنواں بیچاہے کنویں کا پانی نہیں



ایک شخص بہت چالاک اور ہوشیار تھا۔اپنی عقل کا وہ ہمیشہ غلط استعمال کرتا تھا۔وہ انتہائی کنجوس اور خود غرض قسم کا انسان بھی تھا۔لوگوں کو پریشان کرنے میں اس کو بہت مزہ آتا تھا۔کسی شخص کے کام آنا اس کی فطرت کے خلاف تھا۔ اس کے پاس ایک کنواں تھا مگر وہ کسی راہ گیر کو پانی دینا تو دو‘ر کی بات اُسے کنویں کے پاس پھٹکنے بھی نہیں دیتا تھا۔

آس پاس کے لوگ اسے سمجھا تے کہ دیکھو یہ کنواں تم اپنے ساتھ نہیں لے جاؤگے۔اگر اس سے کسی کوفائدہ پہنچتا ہے تو پہنچنے دو۔اللہ تمھیں اس کا اجر دے گا۔ اس لیے کنویں سے لوگوں کو پانی پینے دو۔ لیکن اس خود غرض انسان پر کسی بات کا کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔


c10.1


آخر کار ایک خداترس آدمی نے اس سے وہ کنواں خرید کر اللہ کی مخلوق کے لیے وقف کر دیا۔اس مکار آدمی نے اس کے نیک مقصد کو بھانپ کر کنویں کی زیادہ سے زیادہ قیمت وصول کر لی۔دوسرے دن لوگ کیا دیکھتے ہیں کہ حسب معمول وہ شخص کنویں کو گھیرے بیٹھا ہے اور کسی کو بھی پانی نہیں لینے دے رہا ہے۔ لوگوں نے یہ خبر اس سخی تک پہنچائی۔ اُس نے آکر پوچھا’’اب تمھارا یہاں کیا کام؟تم لوگوں کو پانی بھرنے سے کیوں روک رہے ہو؟ کنواں میں خرید چکا ہوں اور تمھیں اس کی پوری قیمت بھی ادا کی جا چکی ہے۔ براہ کرم یہاں سے چلے جاؤ۔ میں نے یہ کنواں اللہ کی مخلوق ہی کے لیے خریدا ہے۔ لوگوں کو پانی لینے سے روکنے کا اب تمھیں کوئی حق نہیں ۔‘‘


c10.2

وہ بدخصلت آدمی جرح کرنے لگا’’جناب! میں نے کنواں آپ کے ہاتھ ضرور بیچا ہے لیکن اس کا پانی نہیں بیچا۔ معاہدے میں پانی بیچنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔کنویں کا پانی میرا ہے، اس لیے جس کو چاہوں پانی لینے سے روکوں۔اس معاملے میں آپ کو اختیار نہیں ہے۔ کنواں بے شک آپ کا ہے۔‘‘

سخی آدمی نے کہا ’’بے شک پانی تمھارا ہے اور کنواں میرا ہے۔ اپنا پانی میرے کنویں میں سے لے جاؤ، ورنہ تمھارا پانی اپنے کنویں میں رکھنے کے لیے میں کرایہ لوں گا۔‘‘

اب تو وہ مکار بہت گھبرایا کہ یہ کس مصیبت میں پھنس رہا ہوں۔’’بھائی ٹھیک کہتے ہو۔ جاتا ہوں اور پانی تو خدا کا ہے۔ مجھ سے غلطی ہوئی ، معاف کر دو۔‘‘ یہ کہہ کر وہاں سے فوراً چل دیا۔

(عادل اسیر دہلوی)


مشق


1. معنی یاد کیجیے:                

          فطرت :    مزاج، عادت      
اجر   :  انعام، بدل
     خدا ترس            :     رحم دل، خدا سے ڈرنے والا                               
 مخلوق    :    جاندار، اللہ کا پیداکیاہوا        
وقف :   خدا کے نام پر دیا ہوا
  حسبِ معمول        :  عام طریقے کے مطابق، مروّجہ طریقے کے مطابق             
بدخصلت           :  بری عادت والا     
جرح :   بحث
   معاہدہ :   اقرار
منحصرہونا : دارومدار ہونا

2.     سوچیے اور بتائیے:                  

     (i) کنویں کا مالک کیسا آدمی تھا؟
(ii) آس پاس کے لوگ کنویں کے مالک کو کیا سمجھا تے تھے؟
(iii) خداترس آدمی نے کنواں کیوں خریدا؟
(iv) کنویں کے مالک نے لوگوں کو پانی پینے سے کیوں روک دیا؟
(v) کنویں کے پانی کے بارے میں کنجوس نے سخی سے کیا جرح کی؟

3.  نیچے دیے ہوئے جملوں کو واقعات کی ترتیب سے لکھیے:

(i) ایک خداترس آدمی نے کنواں خرید کر اللہ کی مخلوق کے لیے وقف کر دیا۔
(ii) ایک شخص بہت چالاک اور ہوشیار تھا۔
(iii) بھائی ٹھیک کہتے ہو پانی تو خدا کا ہے۔مجھ سے غلطی ہوئی معاف کر دو۔
(iv) اپنی عقل کا وہ ہمیشہ غلط استعمال کرتا تھا۔
(v) کنواں میں خرید چکا ہوں اور تمھیں اس کی پوری قیمت بھی ادا کی جا چکی ہے۔

4.  نیچے دیے ہوئے لفظوں میں مذکراور مؤنث پہچانیے:              

کنواں            پانی           شخص           قیمت          فطرت           مقصد                  مصیبت           بھائی        


5. نیچے دیے ہوئے لفظوں کے متضاد لکھیے:      

   کنجوس             غلط                خرید                  نیک                 فائدہ         

6.   عملی کام:

     نیچے دیے ہوئے لفظوں کو خوش خط لکھیے:                     

      معمول            انتہائی      صحیح               مخلوق          خصلت