بڑے لوگوں کی دلچسپ باتیں

دنیا کی حقیقت
گرونانک دیو نے ایک بار ایک دولت مند شخص کو ایک سوئی دی اور کہا: ’’اسے اپنے پاس امانت کے طور پرمحفوظ رکھو، میں تم سے دوسری دنیا میں لے لوں گا۔‘‘
’’گروجی! ‘‘اس شخص نے حیرت سے کہا ’’میں اسے دوسری دنیا میں کس طرح لے جاؤں گا۔ مرنے والا تو یہاں سے خالی ہاتھ ہی جاتا ہے۔‘‘
گرونانک دیو بولے’’جب تم اس دنیا سے ایک معمولی سوئی بھی نہیں لے جا سکتے تو پھر اس قدر دولت کس لیے جمع کر رکھی ہے۔‘‘

مکّھی کی ضرورت
ایک دن بغداد کے خلیفہ مامون رشید کی ناک پر ایک مکّھی آکر بیٹھ گئی۔ خلیفہ نے اُسے اڑا دیا۔مکّھی دوبارہ آ بیٹھی۔ خلیفہ نے اُسے پھراُڑا دیا۔ مکّھی پھر آکر بیٹھ گئی۔اب خلیفہ کو غصّہ آگیا ۔اس نے جّھلا کر کہا ’’آخر اللہ کومکّھی پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘
ایک بے باک مصاحب نے کہا ’’بادشا ہوں کا غرور تو ڑنے کے لیے! ‘‘

قحط کی وجہ
ونسٹن چرچل نے اپنے ایک دُبلے پتلے دوست کو دیکھ کر مذاق کیا ’’تمھیں دیکھ کر تو ایسا لگتا ہے جیسے برطانیہ میں قحط پڑ گیا ہو۔‘‘
دوست نے چرچل کے تنو مند جسم کو غور سے دیکھتے ہوئے جواب دیا ’’اور آپ کو دیکھ کر یقین ہو جاتا ہے کہ یہ قحط آپ ہی کی وجہ سے پڑا ہے۔‘‘

قدر دانی
ایک نواب جن کے پاس خطابوں کی بھرمار تھی۔ برطانوی سفارت خانہ میں گئے اور سکریٹری سے کہا ’’میں سفیر سے ملنا چاہتا ہوں۔‘‘
سکریٹری نے کہا’’آپ کرسی پر تشریف رکھیں اور چند لمحے انتظار فرمائیں۔‘‘
لیکن انتظار کی زحمت اٹھانا نواب صاحب کو گوارا نہ تھا۔ وہ غصّے میں آگئے اور اپنے خطابات کی لمبی فہرست سناتے ہوئے بولے’’کیا تمھیں اب بھی معلوم نہیں ہوا کہ میں کون ہوں؟‘‘
سکریٹری نے یہ سن کر جواب دیا ’’ایسی صورت میں جناب ِعالی دوکر سیوں پر تشریف رکھیں۔‘‘

اور آپ
امریکا کے صدر ابراہم لنکن نے بڑی سادہ طبیعت پائی تھی۔اپنی ضرورت کے چھوٹے چھوٹے کام وہ خودہی کرلیتے تھے۔ایک دن انھیں اپنے جوتے پر پالش کرتے دیکھ کر ان کے سکر یڑی نے بڑی حیرانی سے پوچھا ’’جنابِ صدر! کیا آپ اپنے جوتوں کوخو د چمکاتے ہیں؟‘‘
’’جی ہاں‘‘ لنکن نے کہا ’’اور آپ کس کے جوتوں کو چمکاتے ہیں!!‘‘
(مرتب : مشتاق اعظمی)
مشق
1. معنی یاد کیجیے:
خلیفہ : نائب، اسلامی حکومت کا سربراہ
غرور : گھمنڈ
قحط : کال، سوکھا
تنو مند : صحت مند، موٹاتازہ، تندرست
امانت : کسی کی حفاظت میں رکھی ہوئی چیز، سپرد کی ہوئی چیز
سفارت خانہ : سفیرکا دفتر، ایمبسی(Embassy)
سفیر : دوسرے ملک میں حکومت کی نمائندگی کرنے والا
2. سوچیے اور بتائیے:
(i) گرونانک جی نے سوئی دیتے ہوئے کیاکہاتھا؟
(ii) مامون رشید کون تھے اور کہاں کے ر ہنے والے تھے؟
(iii) چرچل نے اپنے دبلے پتلے دوست پر کیا طنزکیا؟
(iv) نواب صاحب کیوں ناراض ہوئے ؟
(v) ابراہم لنکن نے سکریٹری کو کیاجواب دیا؟
3. خالی جگہوں کو نیچے دیے گئے لفظوں سے بھریے:
طبیعت حیرت خطابوں غرور کرسی
(i) ایک نواب جن کے پاس _______کی بھرمار تھی۔
(ii) بادشاہوں کا _________ توڑنے کے لیے۔
(iii) گروجی! اس شخص نے _______ سے کہا۔
(iv) امریکی صدر ابراہم لنکن نے بڑی سادہ _________ پائی تھی۔
(v) آپ _______ پر تشریف رکھیں۔
4. مامون رشید کی ناک پر ایک مکھی آکر بیٹھ گئی۔ خلیفہ نے اُسے اڑادیا۔
اس جملے میں’’اُسے‘‘ مکّھی کے لیے استعمال کیاگیاہے۔ ایسا لفظ جو اسم کی جگہ استعمال ہو ضمیر کہلاتاہے۔سبق سے ایسے پانچ جملے تلاش کرکے لکھیے جن میں ضمیر کا استعمال کیاگیاہو۔
5. عملی کام:
بڑے لوگوں کے بارے میں کچھ اور دل چسپ باتیں معلوم کیجیے اور انھیں اپنی ڈائری میں لکھیے۔