Skip to content
Doorpaas  Chapter-12


قرۃ العین حیدر



c12.1



قرۃ العین حیدر اردو کی اہم فکشن نگار ہیں۔ اُن کانام اردو کے بڑے لکھنے والوں میں شامل ہے۔ وہ کہانی کہنے کا فن جانتی ہیں۔ وہ بہت آسان ، خوبصورت اور رواں دواں زبان استعمال کرتی ہیں۔ انھوں نے زیادہ تر شمالی ہندوستان کے تعلیم یافتہ متوسّط طبقے اور ہماری مشترکہ تہذیب کی کہانیاں لکھی ہیں ۔

قرۃ العین حیدر20  جنوری 1927 کو علی گڑھ میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد سید سجاد حیدر ّیلدرم اور والدہ نذر سجاد حیدر دونوں ہی اردو کے ادیب تھے ۔ والد کہانیاں لکھتے تھے اور ترجمے کرتے تھے ۔ ان کا خاندان بہت بڑا تھا اور اس میں پڑھنے لکھنے کی پرانی روایت تھی ۔ قرۃالعین اپنے بھائی سے کوئی دس سال چھوٹی تھیں اور سب کی لاڈلی تھیں ۔ قرۃ العین کا مطلب ہی ہے ’ آنکھوں کی ٹھنڈک‘۔ پڑھنے لکھنے کا شوق انھیں بچپن ہی سے تھا ۔ انھوں نے اپنی پہلی کہانی ’ ’ بی چوہیا ‘‘ گیارہ برس کی عمر میں لکھی ۔ 

قرۃالعین نے اسکولی تعلیم دہرہ دون میں اور اعلیٰ تعلیم لکھنؤ میں حاصل کی ۔ تاریخ ان کا پسندیدہ موضوع تھا۔ تقسیمِ ملک کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان چلی گئیں۔وہاں انھوں نے اپنا مشہور ناول’ آگ کا دریا‘ لکھا۔یہ ناول ہماری ڈھائی ہزار برس کی تاریخ پر پھیلاہواہے۔ اس ناول کے بعض کردار مختلف زمانوں میں الگ الگ ناموں کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں اور کہانی کو آگے بڑھاتے ہیں۔ قرۃالعین حیدر کو مصوری کابھی شوق تھا۔انھوں نے کئی دستاویزی فلمیں بھی بنائیں۔کچھ دنوں تک وہ بی بی سی لندن سے وابستہ رہیں۔ 

لندن سے وہ ہندوستان آ گئیں ۔ پہلے بمبئی میں پھر دہلی اور نوئیڈا میں رہیں ۔ وہ ایک اچھی صحافی بھی تھیں اور انگریزی کے اخبا ر ’ السٹریٹڈ ویکلی‘ اور ’امپرنٹ ‘ سے متعلق رہیں ،  لیکن ان کی بنیادی دلچسپی کہانیاں اور ناول لکھنے میں تھی ۔ ان کا پہلا ناول ’’ میرے بھی صنم خانے ‘‘ 1949 میں شائع ہوا تھا ۔ بقیہ پانچ ناول ’سفینۂ غم دل‘، ’آگ کا دریا‘ ، ’آخر شب کے ہم سفر‘، ’گردش رنگِ چمن‘ اور’چاندنی بیگم‘ ہیں ۔انھوں نے اپنا اور اپنے بزرگوں کا حال ناول کی صورت میں لکھا۔ اس ناول کی پہلی دو جلدیں ’ کارِجہاں دراز ہے ‘ اور تیسری جلد ’شاہراہِ حریر ‘ کے نام سے شائع ہوئی ۔ قرۃالعین حیدر کے افسانوں کے چار مجموعے ہیں–’ستاروں سے آگے‘، ’شیشے کے گھر‘، ’پت جھڑ کی آواز‘ اور   ’روشنی کی رفتار‘۔ ان کے کچھ ناولٹ بھی بہت مشہور ہوئے جن کے نام ہیں–’چائے کے باغ‘،’ دلربا‘، ’سیتا ہرن‘، ’اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجو ‘۔
قرۃ العین حیدر جامعہ ملیہ اسلامیہ ،دہلی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں وزیٹنگ پروفیسر رہیں ۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ، ساہتیہ اکادمی انعام، گیان پیٹھ،پدم شری اور پدم بھوشن کے اعزاز  پیش کیے گئے۔
 قرۃالعین حیدر صرف کتابوں کی دنیا ہی میں نہیں جیتی تھیں بلکہ زندگی کے معاملات میں بھی بھرپور دل چسپی لیتی تھیں ۔وہ فینسی ڈریس شو اور بیت بازی کی محفلیں منعقد کراتیں ، دوستوں کو پارٹیاں دیتیں اور جلسوں میں شریک ہوتی تھیں ۔ان کے دوست اور ادبی حلقے کے لوگ انھیں محبت سے’ عینی آپا‘ کہتے تھے۔
قرۃالعین حیدرنے بیماری کی حالت میں بھی کام کرنا نہیں چھوڑا ۔ بہت سی کتابیں علالت کے دوران ہی لکھیں اور مرتب کیں ۔ اردو کی یہ عظیم فن کار 21 اگست 2007 کو دنیا سے رخصت ہو گئیں ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قبرستان ان کی آخری آرام گاہ ہے ۔


مشق

1. معنی یاد کیجیے:

فکشن : ا  فسانہ اور ناول      
 عظیم     :    بہت بڑا                                    
متوسّط : درمیانی             
مشترکہ : ملی جلی    
ادیب : ادب کی تخلیق کرنے والا، ادب لکھنے والا   
متعلق : وابستہ،جڑاہوا، منسلک  
اعتراف کرنا   : تسلیم کرنا، ماننا      
 اعزاز :     انعام                                     
شریک : شامل    
رخصت ہونا   : الگ ہونا، جداہونا

2.   سوچیے اور بتائیے:                          

           (i) قرۃالعین حیدر کون تھیں اور وہ کہاں پیدا ہوئیں؟
(ii) قرۃ العین حیدر کے والد کا نام کیاتھا؟
(iii) قرۃ العین حیدر کے سب سے مشہور ناول کا نام لکھیے۔
(iv) قرۃ العین حیدرنے ناول کے علاوہ اور کیاکیا لکھا؟
(v) قرۃ العین حیدر کو کون کون سے اعزاز ملے؟

3.  نیچے دیے ہوئے واحد لفظوں کی جمع لکھیے:   

    کہانی     موضوع دستاویز ترجمہ  روایت    

4.  نیچے دیے ہوئے لفظوں سے خالی جگہیں بھریے:   

تاریخ عینی آپا فکشن نگار پاکستان
(i) قرۃ العین حیدر اردو کی اہم ________ہیں۔
(ii) تقسیمِ ملک کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ ________ چلی گئیں۔
(iii) ان کے دوست اور ادبی حلقے کے لوگ انھیں محبت سے ________ کہتے تھے۔
(iv) ________ ان کا پسندیدہ موضوع تھا۔

 5. جوڑ ملائیے:                            

(الف)قرۃ العین حیدر اپنے بھائی سے کوئی دس سال         شوق تھا۔   
(ب)قرۃ العین حیدر کو مصوری کابھی بھی تھیں۔
(ج)وہ کہانی کہنے کا فن          چھوٹی تھیں۔       
(د)وہ ایک اچھی صحافی         جانتی ہیں۔        

6.    عملی کام:  

اس سبق میں سے پانچ شہروں کے نام تلاش کرکے لکھیے۔