Skip to content
Doorpaas  Chapter-15


غزل



مرے غم کی اُنھیں کس نے خبر کی
گئی کیوں گھر سے باہر بات گھر کی

گُھٹا جاتا ہے دَم، رخصت ہوا کون
یہ دنیا گَرد ہے کس کے سفر کی

یہ کیسا کھیل ہے اے چشمِ پُرفن
اُدھر کیوں ہو گئی دُنیا اِدھر کی

ہُنر سیکھا، زمانہ عیب کا تھا
خطا کی اور ہم نے جان کر کی

بہت رُسوا ہوئے بس اے دُعا بس
خوشامد اب نہیں ہوتی اثر کی

بہت کیوں ہو نہ رُسوائی ہماری
یہی تو ہے کمائی عمر بھر کی

ٹلی ناطقؔ مصیبت ، جان لے کر 
ہمیں رخصت کیا اور آپ سر کی

(ناطقؔ گلاؤٹھوی)


مشق


1. معنی یاد کیجیے:

    چشم : آنکھ
پُرفن      :  چالاکیوں سے بھری ہوئی      
رسوائی        : بدنامی
خطا : قصور
ہنر       :  صلاحیت      
عیب : بُرائی
گَرد : دھول
رخصت کرنا : جداکرنا، جانے کی اجازت دینا
سرکی : کھسک گئی، دور ہوگئی
ناطق : شاعر کا تخلص، مراد بولنے والا

2. سوچیے اور بتائیے:

    (i) غزل کے دوسرے شعر میں شاعر کیاکہنا چاہتاہے؟
(ii) غزل کے چوتھے شعر سے کیاسبق ملتاہے؟
(iii) پانچویں شعر میں کس کی خوشامد کی بات کہی گئی ہے؟
(iv) شاعر کے مطابق اُس کی عمر بھر کی کمائی کیاہے؟
(v) غزل میں لفظ’جان‘ دوشعروںمیں استعمال ہواہے۔ دونوں کے الگ الگ مطلب لکھیے۔

3. شعر مکمل کیجیے:

    (i) بہت رسوا ہوئے بس اے دعا بس___________
(ii) _____________  خطا کی اور ہم نے جان کر کی
(iii) مرے غم کی انھیں کس نے خبر کی____________

4. نیچے دیے ہوئے لفظوں کی جمع بنائیے:

(i) مصیبت      
(ii) رسوائی      
(iii) دعا          
(iv)   خطا    
(v) خبر 

5. عملی کام:

غزل کے اشعار کو اپنی کاپی میں لکھیے اور انھیں یاد کیجیے۔