Skip to content
Doorpaas  Chapter-16


جھوٹ کی پول 



یاسر ایک ذہین لڑکا تھا،وہ شریر بھی بہت تھا ۔ اس کے ذہن میں ہمیشہ نئے نئے سوال آتے رہتے تھے۔ چڑیا ں کیسے اُڑتی ہیں ؟ انسان کیوں نہیں اُڑسکتا ؟ ککر(Cooker) میں سیٹی کیوں بجتی ہے ؟ ہاتھی کی ناک اتنی لمبی کس لیے ہوتی ہے ؟ وہ اپنی ماں سے ہر وقت اس طرح کے سوال پوچھتا رہتا تھا ۔اسی طرح اسکول میں بھی وہ اپنی ٹیچر کو چین سے نہیں بیٹھنے دیتا تھا ۔ 

c16.1

ایک اتوار کو وہ صبح سو کر اُٹھا ۔ تھوڑی دیر اِدھر اُدھر کمرے میں ٹہلتا رہا ۔ ہوم ورک کی کاپیاں اُلٹ پلٹ کر دیکھیں اور ماں کو ڈھونڈھتا ہوا باورچی خانے جا پہنچا ۔ ماں دیکھتے ہی بولیں، ’’ یاسر بیٹے ! جلدی سے برش کرلو ، منھ ہاتھ دھو کر تیار ہو جاؤ ۔ میں دلیا پکا رہی ہوں ۔ ناشتے کے بعدہوم ورک کرلینا۔‘‘ یاسر بے صبری سے بولا، ’’ امّاں، پہلے میری بات سنیے ۔ مجھے بتا ئیے! جھوٹ کی پول کسے کہتے ہیں؟‘‘ ماں نے گردن گُھماکر پیار سے یاسر کی طرف دیکھا اور کہا ،’’تم نے یہ محاورہ کہاں سنا ؟ خیر ، اچھی طرح سمجھ لو ۔ جو لوگ جھوٹ بولتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا جھوٹ کبھی پکڑا نہیں جائے گا ۔ لیکن ایسا ہوتا نہیں ۔ کبھی نہ کبھی سچائی سامنے آکر ہی رہتی ہے۔ سچائی ظاہر ہونے کو ہی جھوٹ کی پول کُھلناکہتے ہیں ۔ آگئی بات سمجھ میں ؟ جاؤ اب اچھے بچوں کی طرح برش کرلو ۔‘‘ یہ کہہ کر ماں پھر سے اپنے کام میں لگ گئیں ۔
 یاسر واپس آیا ، برش کیا اور کمرے میں جاکر پھر سے کتابیں الٹنے پلٹنے لگا ۔ اتنی دیر میں ماں دلیے کا پیالہ لیے ہوئے کمرے میں داخل ہوئیں، یاسر کو کتابوں میں محو دیکھ کر پیار سے بولیں، ’’ آؤ ، پہلے ناشتہ کرلو ، پھر ہوم ورک کرنا ۔ تب تک میں کچھ اور کام کرلوں ۔‘‘ وہ میز پر پیالہ رکھ کر چلی گئیں ۔ یاسر کو دلیا بالکل پسند نہیں تھا ۔ اس کا موڈ خراب ہوگیا۔ لیکن اس نے ماں سے کچھ نہیں کہا۔اچانک اسے ایک خیال آیا ۔ وہ اُٹھا اور دلیے کا پیالہ اٹھاکر کھڑکی سے باہر پلٹ دیا ۔ خالی پیالہ میز پر رکھ دیا اور ماں کو آواز دی کہ میں نے ناشتہ کرلیا ہے اور اب میں ہوم ورک کررہا ہوں۔ 

c16.2

تھوڑی دیر بھی نہ گزری تھی کہ کسی نے دروازے کی گھنٹی بجائی ۔ ماں نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک اجنبی کھڑا تھا ۔ وہ قیمتی سوٹ پہنے ہوئے تھا ۔ کوٹ ، پینٹ ، ٹائی اور چمکتے ہوئے کالے جوتے، لیکن اوپر سے نیچے تک اس کے کپڑے دلیے میں سَنے ہوئے تھے ۔ وہ بہت غصے میں تھا۔ ماں کو دیکھتے ہی بولا، ’’یہ دلیا آپ کی کھڑکی سے پھینکاگیاہے ! ‘‘ ماں فوراً ہی سارا ماجرا سمجھ گئیں۔انھوں نے اجنبی سے معافی مانگی ، اُسے اندر بلا یا اور اس کے کپڑے صاف کرنے میں مدد کی۔ بیچ بیچ میں وہ اجنبی سے مسلسل معافی مانگتی رہیں ۔ یاسر دروازے میں مجرم کی طرح کھڑا تھا ۔ ماں نے اس کی طرف ایک بار بھی نہیں دیکھا ۔ جب اجنبی چلا گیا تو ماں نے یاسر کو گھور کر دیکھا ۔ ان کی آنکھوں میں دُکھ تھا اور شکایت بھی ۔ یاسر کا دل بھر آیا ۔ ماں کے قریب جاکر بولا ’’ مجھے معاف کردیجیے امّاں! آپ ٹھیک کہتی تھیں کہ جھوٹ کی پول کھل کر ہی رہتی ہے ۔ میں سمجھ گیا ، خوب سمجھ گیا ۔ ‘‘ 
ماں مسکرادیں اور بولیں، ’’ آئندہ خیال رکھنا ۔‘‘


مشق


1. معنی یاد کیجیے:

    ذہین : ہوشیار
شریر : نٹ کھٹ ،شرارت کرنے والا
محو : کسی کام میں کھویاہوا، مصروف
ماجرا : قصہ، معاملہ
اجنبی : انجان آدمی
  مسلسل       : لگاتار
مجرم : جرم کرنے والا

2. سوچیے اور بتائیے:

    (i) یاسر نے ماں سے کیاپوچھا؟   
(ii)  یاسر نے دلیے کا کیاکیا؟      
(iii) اجنبی کو کس بات پر غصہ تھا؟
(iv) اجنبی نے کیسے کپڑے پہن رکھے تھے؟
(v) یاسر نے ماں سے معافی کیوں مانگی؟   

3. نیچے دیے ہوئے لفظوں سے خالی جگہوں کو بھریے:

   باورچی خانے ہوم ورک دروازے   پیالہ ماجرا دلیے
(i) کسی نے _______کی گھنٹی بجائی۔
(ii) وہ میزپر _______ رکھ کر چلی گئیں۔
(iii) ماں کو ڈھونڈتاہوا _______ جا پہنچا۔
(iv) اس کے کپڑے _______ میں سنے ہوئے تھے۔
(v) ماں فوراًہی سارا_______ سمجھ گئیں۔

4. نیچے دیے ہوئے لفظوں کے مذکر/مؤنث لکھیے:

     (i) چڑیا ...... 
(ii) ہاتھی ...... 
(iii) پیالہ ...... 
(iv) بیٹا ......
(v) گھنٹی ......

5. عملی کام:

اس کہانی کو اپنے لفظوں میں لکھیے۔