شہد کی مکّھی

اِس پھول پہ بیٹھی کبھی اُس پھول پہ بیٹھی
بتلاؤ تو کیا ڈھونڈتی ہے شہد کی مکّھی
کیوں آتی ہے، کیا کام ہے گلزار میں اُس کا
یہ بات جو سمجھاؤتو سمجھیں تمھیں دانا
سبزے سے ہے کچھ کام کہ مطلب ہے صبا سے
یا پیار ہے گلشن کے پرندوں کی صدا سے
کیوں باغ میں آتی ہے یہ بتلاؤتو جانیں
کیا لینے کو آتی ہے ، یہ سمجھاؤ تو جانیں
کرتی نہیں کچھ کام اگر عقل تمھاری
ہم تم کو بتاتے ہیں سنو بات ہماری
کہتے ہیں جسے شہد، وہ اک طرح کا رس ہے
آوارہ اسی چیز کی خاطر یہ مگس ہے
رکھا ہے خدا نے اسے پھولوں میں چُھپا کر
مکّھی اسے لے جاتی ہے چھتے میں اُڑا کر
ہر پھول سے یہ چوستی پھرتی ہے اسی کو
یہ کام بڑا ہے اسے بے سود نہ جانو
مکّھی یہ نہیں ہے ، کوئی نعمت ہے خدا کی
ملتا نہ ہمیں شہد ، یہ مکّھی جو نہ ہوتی
اِس شہد کو پھولوں سے اُڑاتی ہے یہ مکّھی
خود کھاتی ہے اوروں کو کھلاتی ہے یہ مکّھی
انسان کی ، یہ چیز غذا بھی ہے دوا بھی
قوت ہے اگر اس میں، تو ہے اس میں شفا بھی
رکھتے ہو اگر ہوش تو اِس بات کو سمجھو
تم شہد کی مکّھی کی طرح علم کو ڈھونڈو
( اقبالؔ )

مشق
1. معنی یاد کیجیے:
گلزار : پھلواری،چمن
دانا : عقل مند، ہوشیار
صبا : صبح کی ٹھنڈی ہوا
گلشن : باغ
صدا : آواز
مَگَس : شہد کی مکّھی
بے سود : بے فائدہ، بے کار
نعمت : اچھی چیز
2. سوچیے اور بتائیے:
(i) شہد کی مکّھی باغ میں کیوں آتی ہے؟
(ii) شہد کی مکّھی شہد کس طرح بناتی ہے؟
(iii) شاعر نے شہد کی مکھی کوآوارہ کیوں کہاہے؟
(iv) شہد کی مکھی لوگوں کو کیا پیغام دیتی ہے؟
(v) آخری مصرعے میں شاعر نے کیاکہاہے؟
3. نیچے دیے ہوئے لفظوں کے مترادف لکھیے:
پھول گلزار مگس دانا صبا
4. نیچے دیے ہوئے مصرعوں کوپوار کیجیے:
(i) سبزے سے ہے کچھ کام کہ ________________
(ii) رکھا ہے خدا نے اُسے ___________________
(iii)کہتے ہیں جسے شہد، وہ ___________________
(iv)تم شہد کی مکھی کی طرح __________________
5.عملی کام:
اس نظم کو خوش خط لکھیے۔
