دادا صاحب پھالکے

دادا صاحب پھالکے ،ناسک(مہاراشٹر) کے ایک پروہت خاندان میں 1870میں پیدا ہوئے۔سنسکرت ادب سے دلچسپی انھیں ورثے میں ملی تھی۔ انھیں مصوری، اداکاری اور جادوگری کا بھی بہت شوق تھا۔ان کے والدکو بمبئی کے ایک کالج میں ملازمت ملی تو ان کا خاندان بھی وہیں بس گیا۔
یہاں دادا صاحب پھالکے کو جے۔ جے۔ اسکول آف آرٹس میں داخلہ مل گیا۔انھوں نے دوسرے فنون کے ساتھ فوٹوگرافی کی بھی تربیت حاصل کی۔ انھوں نے ایک پریس بھی قائم کیا۔
1910کی بات ہے، کرسمس کے موقعے پر وہ فلم ’لائف آف کرائسٹ ‘دیکھنے گئے۔ سنیما ہال سے گھر لوٹتے ہوئے انھوں نے اپنی آئندہ زندگی کا منصوبہ بنا لیا۔ گھر پہنچ کر دادا صاحب نے اپنی بیوی سے اس فلم کے دوسرے شو میں ساتھ چلنے کے لیے کہا۔ جب وہ حضرت عیسیٰ ؑکی زندگی پر بنی یہ فلم دیکھ رہے تھے تو سری کرشن کے بارے میں فلم بنانے کاخاکہ اپنی بیوی کو سمجھاتے جارہے تھے۔ فلم ختم ہوتے ہوتے بیوی ان سے پوری طرح متفق ہو گئیں اور آگے چل کر فلمی زندگی میں ان کی سب سے بڑی مددگار ثابت ہوئیں۔
فلم بنانے میں سب سے پہلا مرحلہ سرمائے کا تھا۔ دادا صاحب نے کچھ لوگوں سے مدد لی اور اپنی بیمہ پالیسی رہن رکھ دی۔ آلات خریدنے اور معلومات حاصل کرنے کے لیے انھوں نے لندن کا سفر کیا۔ وہاں انھوں نے کئی بڑے فلم سازوں سے ملاقاتیں کیں۔ پھر کیمرے اور دوسرے ساز و سامان کے ساتھ واپس آئے۔مگر ان کے پاس اب اتنا سرمایہ نہیں تھا کہ اپنے ارادے کو پوراکر سکیں۔ انھوں نے چند چھوٹی چھوٹی فلمیں بناکر اپنے دوست ناڈکرنی کو دکھائیں جو فوٹوگرافی کے سامان کا بڑا تاجر تھا۔ناڈکرنی سرمایہ لگانے کے لیے تیار ہو گیا ۔لیکن سری کرشن کی زندگی پر فلم بنانے کے بجائے ایک دوسرے موضوع راجا ہریش چندر کا انتخاب کیا۔ اب دادا صاحب کوایک نئی دشواری پیش آئی۔ اُس زمانے میں عورتیں اسٹیج پر کام نہیں کرتی تھیں۔ دادا صاحب نے ایک روز ہوٹل میں ایک خوبصورت نوجوان باورچی کو دیکھا۔ انھوں نے پوچھا کہ اُسے کتنی تنخواہ ملتی ہے ۔نوجوان نے بتایا کہ دس روپیہ مہینہ۔ دادا صاحب نے اسے پندرہ روپیے ماہوار پر اپنی فلم میں کام کرنے کے لیے راضی کرلیا ۔ اُس نوجوان کا نام سولنکی تھا۔اس نے فلم میں تارامتی کا رول اداکیا۔ دادا صاحب کی ایک اور فلم ’لنکا دہن‘ میں بھی سولنکی نے ہیرو اور ہیروئن دونوں کا کردار ادا کیا۔ دادا صاحب کواس کی وجہ سے فلم سازی میں بڑی کامیابی ملی اور وہ نوجوان بھی اپنے زمانے کا ایک مشہور اداکار اور اداکارہ بن گیا۔
دادا صاحب پھالکے کی پہلی فلم ’راجا ہریش چندر تارا متی ‘ہے جو 1913میں مکمل ہوئی۔ آنے والی دو دہائیوں میں انھوں نے مختصراور پوری لمبائی کی کئی فیچر فلمیں بنائیں۔ ابتدا میں لوگوں نے اِن کی طرف توجہ نہیں کی لیکن جب ’ساوتری‘،’لنکا دہن‘ ،’کرشن جنم‘ اور دوسری فلمیں سامنے آئیں تو اس میدان میں ایک انقلاب آ گیا ۔
ہندوستان سے باہربرما، ملایا، سنگاپور اور مشرقی افریقہ میں بھی دادا صاحب پھالکے کی ان فلموں کے کامیاب شو ہوئے۔ یہ خاموش فلموں کا دور تھا اور زبان کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔
دادا صاحب مختلف شہروں اور دیہاتوں میں گھوم گھوم کر اپنی فلموں کی نمائش کرتے تھے۔ ساز و سامان بیل گاڑیوں پر لاد کر لے جاتے تھے۔اس زمانے میں چار آنے، دوآنے یہاں تک کہ ایک آنے والے ناظرین بھی ہوتے تھے۔ ٹکٹ کا زیادہ تر پیسہ سکّوں میں آتا تھا۔واپسی کے وقت یہ سکّے بیل گاڑیوںپر لاد کر لائے جاتے تھے۔
داداصاحب پھالکے چھوٹے قد کے پھرتیلے آدمی تھے۔ ان میں دیر تک کام کرتے رہنے کی سکت تھی۔ وہ بے پناہ صلاحیتوں کے مالک تھے۔وہ بیک وقت فلم ساز، ہدایت کار، کیمرہ مین، سین آرٹسٹ،میک اپ مین، ایڈیٹر، جادوگر اور اداکار سبھی کچھ تھے۔
پہلی فلم ’راجا ہریش چندر تارامتی‘ بنانے کے بعدان کی کمپنی ناسک منتقل ہو گئی۔ بعد کی تمام فلمیں وہیں بنائی گئیں۔ان کی بیوی بھی ان تمام کاموں میں قدم بہ قدم ان کے ساتھ رہیں۔
دادا صاحب پھالکے یوں تو1944 تک زندہ رہے لیکن 1920 کے بعد عوام کا مذاق بدل جانے کی وجہ سے ان کی فلموںکوپہلی جیسی مقبولیت حاصل نہ ہوپاتی تھی۔ انھوں نے صرف ایک بولتی فلم’ گنگا اوترن‘ 1931 میں بنائی۔یہ فلم زیادہ مقبولیت حاصل نہ کرسکی ۔ اب سماجی ،تاریخی اور نیم تاریخی فلمیں زیادہ پسند کی جانے لگی تھیں۔ فلمی دنیا کا مشہور’داداصاحب پھالکے ایوارڈ‘ انہی کے نام پر دیا جاتا ہے۔
مشق
1. معنی یاد کیجیے:
پروہت : پجاری، پوجا پاٹ کرنے والا
ورثہ : خاندانی دولت میں حصہ،تَر کہ
رہن : گروی
مصوری : تصویر بنانے کا فن
ملازمت : نوکری
تعاون : مدد
مرحلہ : پڑاؤ، منزل
سرمایہ : پونجی، دولت
موضوع : جس کے بارے میں کچھ کہایا لکھا جائے
دَہائی : دس برس کی مدت
فلم ساز : فلم بنانے والا
ناظرین : دیکھنے والے، تماشائی، ناظر کی جمع
صلاحیت : قابلیت
متکلم فلم : بولتی فلم
اہلیت : قابلیت
نیم : نصف، آدھی
نیم تاریخی : جو پوری طرح تاریخی نہ ہو
2. سوچیے اور بتائیے:
(i) دادا صاحب کو اپنی بیمہ پالیسی کیوں رہن رکھنی پڑی؟
(ii) دادا صاحب کی پہلی فلم میں عورت کا کردار کس نے ادا کیا؟
(iii) دادا صاحب کی فلموں کی مقبولیت بعد میں کیوں کم ہوگئی؟
(iv) ناڈکرنی کون تھے اور انھوں نے دادا صاحب کی کس طرح مدد کی؟
4. نیچے دیے ہوئے لفظوں سے خالی جگہوں کو بھریے:
شو پروہت منتقل آدمی عورتیں
(i) داداصاحب پھالکے ناسک کے ایک ______خاندان میں پیدا ہوئے۔
(ii) اپنی بیوی کو اسی فلم کے دوسرے ______ میں ساتھ چلنے کے لیے کہا۔
(iii) اس زمانے میں ______ اسٹیج پر کام نہیں کرتی تھیں۔
(iv) دادا صاحب پھالکے چھوٹے قد کے پھرتیلے ______ تھے۔
(v) پہلی فلم راجا ہریش چندر تارا متی بنانے کے بعد ان کی کمپنی ناسک ______ ہوگئی۔
3. نیچے دیے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے:
نیم تاریخی ایجاد زندگی شہرت ابتدا
.5 عملی کام:
ان جملوں کو خوش خط لکھیے:
(i) دادا صاحب پھالکے کو جے جے اسکول آف آرٹس میں داخلہ مل گیا۔
(ii) وہ بیک وقت فلم ساز، ہدایت کار، کیمرہ مین، سین آرٹسٹ، میک اپ مین، ایڈیٹر، جادوگر اور اداکار،سبھی کچھ تھے۔
(iii) فلم بنانے میں سب سے پہلا مرحلہ سرمائے کا تھا۔