رباعیات
1

ہندو سے لڑیں نہ گَبْرسے بَیر کریں
شر سے بچیں اور شر کے عوض خیر کریں
جو کہتے ہیں یہ کہ ہے جہنّم دنیا
وہ آئیں اور اس بہشت کی سیر کریں
(خواجہ الطاف حسین حالیؔ)
2

فطرت کی دی ہوئی مسرت کھو کر
اوروں کو نہ کر ملول، غمگیں ہوکر
یہ عمر بہرحال گزر جائے گی
ہنس ہنس کر اسے گزار یا رو رو کر
(تلوک چند محروم ؔ)
3

چارہ نہیں کوئی جلتے رہنے کے سوا
سانچے میں فنا کے ڈھلتے رہنے کے سوا
اے شمع ! تری حیات فانی کیا ہے
جھونکا کھانے، سنبھلتے رہنے کے سوا
(مرزا یاس یگانہؔ چنگیزی )
مشق
1. معنی یاد کیجیے:
گبر : غیر مسلم، آتش پرست
بیر : دشمنی
شر : برائی
عوض : بدلے میں
بہشت : جنت
چارہ : علاج
فنا : موت، خاتمہ
حیات : زندگی
فانی : ختم ہونے والا
مسرت : خوشی
ملول : اُداس
2. سوچیے اور بتائیے:
(i) ’’وہ آئیں اور اِس بہشت کی سیر کریں‘‘ سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
(ii)دوسری رباعی میں شاعر نے کیا پیغام دیا ہے؟
(iii) تیسری رباعی میں ’’حیات فانی‘‘ کا رشتہ کس چیز سے قائم کیا گیا ہے؟
3. مصرعوں کو مکمل کیجیے:
(i) شر سے بچیں اور شر کے …… خیر کریں۔
(ii) یہ عمر بہر حال ……جائے گی۔
(iii) جھونکا کھانے …… رہنے کے سوا۔
4. عملی کام
ان رباعیوں کو خوش خط لکھیے۔