پریم چند کا اصلی نام دھنپت رائے تھا۔ وہ بنارس کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئے۔ان کے والد ڈاک خانے میں ملازم تھے۔ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہوئی۔اردو اور فارسی کی ابتدائی تعلیم کے بعد انٹرنس کا امتحان پا س کیا۔پرائمری اسکول میں ٹیچر ہوگئے۔تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور بی۔اے کی ڈگری حاصل کی۔
پریم چند کو طالب علمی کے زمانے سے ہی مضامین لکھنے کا شوق تھا۔’’اسرار معابد‘‘ کے نام سے ان کا پہلا ناول بنارس کے ایک رسالے میں شائع ہونا شروع ہوا۔بعد میں وہ رسالہ’’ زمانہ‘‘ کے لیے پابندی سے مضامین اور افسانے لکھنے لگے۔1908 میں ان کی کہانیوں کا پہلا مجموعہ ’’سوزِوطن‘‘ کے نام سے شائع ہوا جسے حکومت نے ضبط کرلیا۔ اب وہ پریم چند کے قلمی نام سے لکھنے لگے۔ملک میں آزادی کی تحریک پھیل رہی تھی۔پریم چند بھی گاندھی جی کی شخصیت سے متاثر ہوئے۔1921 میں سرکاری ملازمت سے استعفادے دیا۔ وہ قلم کے سپاہی بن گئے اوراپنی تحریروں کو آزادی اور قومی تعمیرکے مقاصد کے لیے وقف کردیا۔
پریم چند کے افسانے اور ناول اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں۔انھوں نے ادب کو مقامی زندگی خاص طورپردیہاتوں کے مسائل کاترجمان بنا دیا۔ پریم چند کی حقیقت نگاری زندگی کے تجربات ومشاہدات کا نتیجہ ہے۔اسی خصوصیت نے انھیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کردیا۔ان کے افسانے قومی، سیاسی اور سماجی رجحانات کے آئینہ دار ہیں۔
پریم چند نے ناول اور افسانوں کے علاوہ ڈرامے اور مضامین بھی لکھے۔ان کے افسانوں کے نمائندہ مجموعے ’’پریم پچیسی‘‘، ’’پریم چالیسا‘‘، ’’زادِ راہ‘‘، ’’آخری تحفہ‘‘ اور ’’واردات‘‘ ہیں۔ناولوں میں ’’بیوہ‘‘، ’’بازارِحسن‘‘، ’’گوشۂ عافیت‘‘، ’’میدانِ عمل‘‘، ’’چوگانِ ہستی‘‘ اور ’’گئودان‘‘ بہت مشہور ہیں۔

گلی ڈنڈا
ہمارے انگریزی خواں دوست چاہے مانیں یا نہ مانیں میں تو یہ ہی کہوں گا کہ گِلّی ڈنڈا سب کھیلوں کا راجا ہے۔ اب بھی جب کبھی لڑکوں کو گلی ڈنْڈا کھیلتے دیکھتا ہوں تو جی لوٹ پوٹ ہو جاتا ہے کہ ان کے ساتھ جاکر کھیلنے لگوں۔ نہ لان (میدان) کی ضرورت ہے نہ شنگارڈ، نٹ کی نہ بلے کی۔ مزے سے کسی درخت کی ایک شاخ کاٹ لی ، گلی بنائی اور دو آدمی بھی آ گئے تو کھیل شروع ہو گیا۔ ولایتی کھیلوں میں سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ ان کے سامان مہنگے ہوتے ہیں۔ جب تک کم از کم ایک روپیہ خرچ نہ کیجیے کھلاڑیوں میں شمار نہیں ہو سکتا۔ یہاں گلی ڈنڈا ہے کہ بغیر ہینگ پھٹکری کے لگے رنگ چوکھا دیتا ہے۔لیکن ہم انگریزی کھیلوں پر ایسے دیوانے ہو رہے ہیں کہ اپنی سب چیزوں سے ہمیں نفرت سی ہو گئی ہے۔ ہمارے اسکولوں میں ہر ایک لڑکے سے تین چار روپے سالانہ صرف کھیل کی فیس لی جاتی ہے۔ کسی کو یہ نہیں سوجھتا کہ ہندوستانی کھیل کھلائیں جو بغیر پیسے کوڑی کے کھیلا جاتا ہے۔ انگریزی کھیل ان کے لیے ہیں جن کے پاس روپیہ ہے۔ بے چارے غریب لڑکوں کے سر پر فضول خرچیاں کیوں منڈھتے ہو۔ ٹھیک ہے گِلّی سے آنکھ پھو‘ٹ جانے کا اندیشہ رہتا ہے تو کیا کِرکٹ سے سر پھٹ جانے کا، تِلّی پھٹ جانے کا، ٹانْگ ٹو‘ٹ جانے کا خدشہ نہیں رہتا۔ اگر ہمارے ماتھے پر گلّی لگ جانے کا داغ آج تک لگا ہوا ہے تو ہمارے کئی دوست ایسے بھی ہیں جو بلّے سے گھائل ہونے کا سرٹیفکیٹ بھی رکھتے ہیں۔ خیر یہ تو اپنی اپنی پسند ہے اور بچپن کی یادوں میں گِلّی ڈنڈا ہی سب سے شیریں یاد ہے۔ وہ علی الصباح گھر سے نکل جانا، وہ درختوں پر چڑھ کر ٹہنیاں کاٹنا اور گِلّی ڈنڈے بنانا، وہ جوش و خروش، وہ لگن، وہ کھِلاڑیوں کے جمگھٹے، وہ پدنا اور پدانا، وہ لڑائی جھگڑے، وہ بے تکلّف سادگی، جِس میں چھو‘ت چھات، غریب امیر کی کوئی تمیز نہ تھی۔جس میں امیرانہ چونچلوں اور غرور اور خود نمائی کی گنجائش نہ تھی، اُسی وقت بھولے گا جب گھر والے بِگڑ رہے ہیں۔ والد صاحب چوکے پر بیٹھے روٹیوں پر اپنا غُصّہ اُتار رہے ہیں۔ امّاں کی دوڑ صرف دروازے تک ہے لیکن اُن کے خیال میں میرا تاریک مستقبل ٹو‘ٹی ہوئی کشتی کی طرح ڈگمگا رہا ہے اور میں ہوں کہ پدانے میں مست ہوں۔ نہ نہانے کا خیال ہے نہ کھانے کا۔ گِلّی ہے تو ذرا سی مگر اس میں دُنیا بھر کی مِٹھاس اور عاشقوں کا لُطف بھرا ہوا ہے۔
میرے ہمجولیوں میں ایک لڑکا گیانام کا تھا۔ مُجھ سے دو تین سال بڑا ہوگا۔ دُبلا لمبا بندروں کی سی پھرتی، بندروں کی سی لمبی لمبی اُنگلیاں، بندروں کی جھپٹ۔ گِلّی کیسی ہی ہواس طرح جھپٹتا تھاجس طرح چھپکلی کیڑوں پر لپکتی ہے۔ معلوم نہیں اس کے ماں باپ کون تھے، کہاں رہتا تھا، کیا کھاتا تھا، پرتھا ہمارے گِلّی کلب کا چیمپین۔ جس کی طرف وہ آ جائے اس کی جیت یقینی تھی۔ ہم سب اسے دو‘ر سے آتا دیکھ کر اس کا استقبال کرتے تھے اور اُسے اپنا گوئیاں بنا لیتے تھے۔
ایک دِن میں اور گیا دونوں ہی کھیل رہے تھے۔ میں پد رہا تھا وہ پدا رہا تھا۔ لیکن عجیب بات ہے کہ پدانے میں ہم دن بھر مست رہ سکتے ہیں پدنا ایک منٹ بھی سہا نہیں جاتا۔ میں نے گلا چھڑانے کے لیے وہ سب چالیں چلیں جو ایسے موقعے پر خلافِ قانون ہوتے ہوئے بھی قابل معافی ہیں۔ لیکن گیا اپنا داؤں لیے بغیرپیچھانہ چھوڑتا تھا۔ میں گھر کی طرف بھاگا، منّت سماجت اور خوشامد کا کوئی اثر نہ ہوا۔ گیا نے مجھے دوڑ کر پکڑ لیا اور ڈنڈا تان کر بولا ’’میرا داؤں دے کر جاؤ۔ پدایا تو بڑا بہادر بن کر، پد نے کے وقت کیوں بھاگتے ہو۔‘‘
’’تم پھر پداؤ تو میں دن بھر پدتا رہوں گا؟‘‘
’’ہاں تمھیں دن بھر پدنا پڑے گا۔‘‘
’’کھانے جاؤں نہ پینے؟‘‘
’’ہاں میرا داؤں دیے بغیر کہیں نہیں جا سکتے۔‘‘
’’میں تُمھارا غلام ہوں؟‘‘
’’ہاں تُم میرے غلام ہو۔‘‘
’’میں گھر جاتا ہوں دیکھوں تُم میرا کیا کر لوگے۔‘‘
’’گھر جاؤگے کیسے، دل لگی ہے۔ داؤں دِیا ہے داؤں لیں گے۔‘‘
’’اچّھا کل میں نے تُمھیں امرود کھلایا تھا وہ رکھ دو۔‘‘
’’وہ تو پیٹ میں چلا گیا‘‘۔
’’نکالو پیٹ سے، تم نے کیوں کھایا میرا امرود؟‘‘
’’امرود تم نے دیا تھا میں نے کھایا میں تم سے مانگنے گیا تھا؟‘‘
’’جب تک میرا امرود نہ دوگے میں داؤں نہ دوںگا۔‘‘
میں سمجھتا تھا انصاف میری طرف ہے آخر میں نے کسی غرض کی وجہ سے ہی امرود کھِلایا ہوگا۔ کون کسی کے ساتھ بے غرضانہ سلوٗک کرتا ہے۔ بھیک تک تو غرض ہی کے لیے دیتے ہیں۔ جب گیا نے میرا امرود کھایا تو پھر اُسے مُجھ سے داؤں لینے کا کیا حق حاصِل ہے۔ رشوت دے کر تو لوگ خو‘ن چھپا جاتے ہیں۔ وہ میرا امرود یوں ہی ہضم کر جائے گا۔ امرود پیسے کے پانچ والے تھے جو گیا کے باپ کو بھی نصیب نہ ہوں گے۔ یہ سراسر بے انصافی تھی۔
گیانے مجھے اپنی طرف کھینچتے ہوئے کہا ’’میرا داؤں دے کر جاؤ ،میں امرود سمرود کچھ نہیں جانتا۔‘‘
مجھے اِنصاف کا زور تھا۔ ہاتھ چھراکر بھاگنا چاہتا تھا۔ وہ مجھے جانے نہ دیتا تھا۔ میں نے گالی دی۔
اس نے اس سے بھی سخت گالی دی اور گالی ہی نہیں ایک ڈنڈا بھی جما دیا۔ میں رونے لگا۔
گیا میرے اس ہتھیار کا مقابلہ نہ کر سکا۔ بھاگا، میں نے فوراً آنسو پونچھ ڈالے۔ ڈنڈے کی چوٹ بھول گیا اور ہنستا ہوا گھر پہنچا۔ میں تھانے دار کا لڑکا ایک لونڈے کے ہاتھوں پٹ گیا۔ مجھے اس وقت بھی بے عزّتی کا باعث معلوم ہوا لیکن گھر میں کسی سے شکایت نہ کی۔ انھیں دنوں والد صاحب کا وہاں سے تبادلہ ہو گیا۔ نئی دُنیا دیکھنے کی خوشی میں ایسا پھولا کہ اپنے ہمجولیوں سے جُدا ہونے کا بالکل افسوس نہ ہوا۔ والد صاحب افسوس کرتے تھے یہ بڑی آمدنی کی جگہ تھی۔ امّاں بھی افسوس کرتی تھیں۔ یہاں سب چیزیں سستی تھیں اور محلّے کی عورتوں سے لگاؤ سا ہو گیا تھا۔ لیکن میں مارے خوشی کے پھولا نہ سماتا تھا۔ لڑکوں سے شیخی بگھاررہا تھا۔ وہاں ایسے گھر تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔ وہاں کے انگریزی اسکولوں میں کوئی ماسٹر اگر لڑکوں کو پیٹے تو عمر قید ہو جائے۔ میرے دوستوں کی حیرت سے پھٹی آنکھیں اور متعجب چہرے صاف بتلا رہے تھے کہ میں ان کی نگاہوں میں کتنا اونچا اُٹھ گیا ہوں۔ بچوں میں جھوٹ کو سچ بنا لینے کی وہ طاقت ہوتی ہے ،جسے ہم، جو سچ کو جھوٹا بنا دیتے ہیں، نہیں سمجھ سکتے۔ دوست کہہ رہے تھے’’ تم خوش قسمت ہوبھائی۔ ہمیں تو اسی گاؤں میں جینا بھی ہے اور مرنا بھی ہے۔ ‘‘
بیس سال گُزر گئے ۔ میں نے انجینیری پاس کی ہے اور کسی ضلع کا دورہ کرتے ہوئے اِسی قصبے میں پہنچا او رڈاک بنگلے میں ٹھہرا۔ اس جگہ کو دیکھتے ہی بچپن کی اس قدر دل کش اور شیریں یاد تازہ ہو اُٹھی کہ میں نے چھڑی اُٹھائی اور قصبے کی سیر کو نکلا۔ آنکھیں کسی پیارے مسافر کی طرح بچپن کے ان مقامات کو دیکھنے کے لیے بے تاب تھیں جن کے ساتھ کتنی ہی یادگاریں وابستہ تھیں لیکن اس مانوٗس نام کے علاوہ وہاں کوئی شناسا نہیں مِلا۔ جہاں کھنڈر تھا، وہاں پکّے مکانات کھڑے تھے۔ جہاں برگد کا ایک پُرانا درخت تھا وہاں اب ایک خوبصورت باغیچہ تھا۔ اس جگہ کی کایا پلٹ ہو گئی تھی۔ اگر اس کے نام و نشان کا عِلم نہ ہوتا تو میں اسے پہچان بھی نہ سکتا تھا۔ وہ پُرانی یادگاریں باہیں پھیلاپھیلا کر اپنے پُرانے دوستوں کے گلے لپٹنے کے لیے بے قرار ہو رہی تھیں مگر وہ دُنیا بدل گئی تھی۔ جی چاہتا تھا کہ اس زمین سے لپٹ کر روؤں اور کہوں کہ تم مجھے بھوٗل گئیں لیکن میرے دل میں تمھاری یاد تازہ ہے۔
اچانک ایک کھُلی جگہ مَیں نے دو تین لڑکوں کو گِلّی ڈنڈا کھیلتے دیکھا۔ ایک لمحے کے لیے میں اپنے آپ کو بالکل بھول گیا کہ میں ایک او‘نچا افسر ہوں، صاحبی ٹھاٹھ ہیں، رُعب اور اختیار کے لِباس میں ہوں۔ جاکر ایک لڑکے سے پو‘چھا ’’کیوں بیٹے یہاں کوئی گیانام کا آدمی رہتاہے؟‘‘
ایک لڑکے نے گِلّی ڈنڈا سمیٹ کر سہمے ہوئے لہجے میں کہا’’ہاں ہے تو۔‘‘
لڑکا دوڑا ہوا گیا اور جلد ایک پانچ ہاتھ کے کالے دیو کو ساتھ لیے آتا ہوا دکھائی دیا۔ میں نے دور ہی سے پہچان لیا۔ اُس کی طرف لپکنا چاہتا ہی تھا کہ اس کے گلے سے لپٹ جاؤں مگر کُچھ سوچ کر رہ گیا۔
بولا ’’کہوکیامجھے پہچانتے ہو؟‘‘
گیا نے جُھک کر سلام کیا۔ ’’ہاں مالک، بھلا پہچانوں گا کیوں نہیں، آپ مزے میں رہے؟‘‘
’’بہت مزے میں تم اپنی کہو؟‘‘
’’ڈپٹی صاحب کا سائیِس ہوں۔‘‘
’’ماتا دین دُرگا دونوں ڈاکیے ہو گئے ہیں اور آپ؟‘‘
’’میں ضلع کا انجینیر ہوں۔‘‘
’’سرکار تو پہلے ہی بڑے جہہین (ذہین) تھے۔‘‘
’’اب بھی گِلّی ڈنڈا کھیلتے ہو؟‘‘
میں نے گیا کی طرف سوال کی آنکھوں سے دیکھا۔
’’گِلّی ڈنڈا کیا کھیلوںگا سرکار۔ اب تو پیٹ کے دھندے ہی سے چھٹّی نہیں ملتی۔‘‘
’’آؤ آج ہم تم کھیلیں۔ تم پدانا ہم پدیں گے، تُمھارا ایک داؤں ہمارے اوپر ہے وہ آج لے لو۔‘‘
گیا بڑی مشکل سے راضی ہُوا۔ وہ ٹھہراٹکے کا مزدور، میں ایک بڑا آفیسر۔ میرا اور اس کا کیا جوڑ ۔ بے چارہ جھینپ رہا تھا۔ لیکن مجھے بھی کچھ کم جھینپ نہ تھی۔ اس لیے نہیں کہ میں گیا کے ساتھ کھیلنے جا رہا تھا بلکہ لوگ اس کھیل کو عجو‘بہ سمجھ کر اس کا تماشا بنا لیں گے اور اچھی خاصی بھیڑ لگ جائے گی۔ اس بھیڑ میں وہ لُطف کہاں رہے گا لیکن کھیلے بغیر تو رہا نہیں جاتا تھا۔ آخر فیصلہ ہوا دونوں بستی سے دور تنہائی میں جاکر کھیلیں۔ وہاں کون دیکھنے والا بیٹھا ہوگا۔ مزے سے کھیلیں گے اور بچپن کی مٹھائی کو خوب مزے لے لے کر کھائیں گے۔میں گیا کو لے کر ڈاک بنگلے پر آیا اور موٹر میں بیٹھ کر دونوں میدان کی طرف چلے اور ساتھ ہی ایک کُلہاڑی لے لی۔
میں متانت کے ساتھ یہ سب کچھ کر رہا تھا مگر گیا ابھی تک مذاق سمجھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر خوشی اور ولولے کا کوئی نشان نہیں تھا۔ شاید ہم دونوں میں جو فرق ہو گیا تھا وہ اُسے سوچنے میں محو تھا۔ میں نے پوچھا ’’تمھیں بھی ہماری یاد آتی تھی، سچ کہنا؟‘‘
گیا جھینپتا ہوا بولا ’’میں آپ کو یاد کر کے کیا کرتا حضو‘ر! کس لایق ہوں۔ قسمت میں کچھ دن آپ کے ساتھ کھیلنا لکھا تھا نہیں تو میری کیا گنتی۔‘‘
’’وہ ڈنڈا جو تان کر جمایا تھا یاد ہے نا؟‘‘
گیا نے شرما تے ہوئے کہا ’’وہ لڑکپن تھا سرکار! اُس کی یاد نہ دلاؤ۔‘‘
واہ! وہ میرے اُن دنوں کی سب سے رسیلی یاد ہے۔ تُمھارے اُس ڈنڈے میں جو رس تھا وہ اب نہ عزّت اور بڑائی میں پاتا ہوں، نہ دولت میں ۔کچھ ایسی مٹھاس تھی اس میں کہ آج تک اس سے من میٹھا ہوتا رہتا ہے۔
اتنی دیر میں ہم بستی سے کوئی تین میل نکل آئے تھے۔ چاروں طرف سناٹا تھا۔ مغرب کی طرف کوسوں بھیم تال پھیلا ہوا تھا جہاں آکر ہم کسی وقت کنول کے پھو‘ل توڑنے جاتے تھے اور اُس کے جُھمکے بناکر کانوں میں ڈال لیتے تھے۔جو‘ن کی شام کیسر میں ڈوبی چلی آ رہی تھی، میں لپک کر درخت پر چڑھ گیا اور ایک شاخ کاٹ لایا۔ جھٹ پٹ گِلّی ڈنڈا بن گیا۔ کھیل شروع ہو گیا۔ میں نے راب میں گِلّی رکھ کر اُچھالی اور گِلّی گیا کے سامنے سے نکل گئی۔
اُس نے ہاتھ لپکایا۔ جیسے مچھلی پکڑ رہا ہو۔ گِلّی اُس کے پیچھے جاکر گری۔ یہ و ہی گیا تھا جس کے ہاتھوں میں گِلّی آپ ہی آپ آکر بیٹھ جاتی تھی۔ وہ داہنے بائیں ہو گِلّی اُس کی ہتھیلی میں پہنچتی تھی۔ جیسے گِلّیوں پر جادو کر کے اُس نے بس میں کر لیا ہو۔ نئی گِلّی، پُرانی گِلّی، چھوٹی گِلّی، بڑی گِلّی، نوک دار گِلّی۔ سب ہی اُس سے مل جاتی تھیں گویا اس کے ہاتھوں میں مقناطیسی طاقت تھی جو گِلّیوں کو کھینچ لیتی ہے ۔لیکن آج گِلّیوں کو اس سے وہ محبت نہیں رہی ۔ پھر تو میں نے اس کو پدانا شروع کیا۔ میں طرح طرح کے فریب کر رہا تھا۔ مشق کی کمی بے ایمانی سے پوری کر رہا تھا۔ داؤں پورا ہونے پر بھی ڈنڈا کھیلے جاتا تھا۔ حالانکہ قاعدے کے مطابق گیا کی باری آنی چاہیے تھی۔ گِلّی پر جب ہلکی چوٹ پڑتی اور وہ ذرا سی دور گر پڑتی تو لپک کر خود ہی اُٹھا لاتا اور دوبارہ ٹل لگاتا۔ گیا یہ ساری بے قاعدگیاں دیکھ رہا تھا اور کچھ نہ بولتا تھا۔ گویا اُسے تمام قاعدے قوانین بھول گئے ہوں۔ اُس کا نشانہ کتنا بے خطا تھا۔ گِلّی اس سے نکل کر ٹن سے ڈنڈے پر آکر لگتی تھی۔ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر اس کا کام تھا ڈنڈے سے ٹکرا جانا۔ لیکن آج وہ گِلّی ڈنڈے سے لگتی ہی نہیں ہے۔ کبھی داہنے جاتی ہے کبھی بائیں ، کبھی آگے کبھی پیچھے۔
آدھ گھنٹہ پدانے کے بعد گِلّی ایک بار ڈنڈے میں آ لگی ۔میں نے دھاندلی کی’’ گِلّی ڈنڈے کے بالکل پاس سے گئی ہے مگر لگی نہیں۔‘‘

گیانے کسی قسم کی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا۔’’ نہیں لگی ہوگی۔ ڈنڈے میں لگتی تو کیا میں بے ایمانی کرتا۔‘‘
نہیں بھیّا! بھلا تُم بے ایمانی کروگے؟
بچپن میں مجال تھی میں ایسا گھپلا کرکے جیتا بچتا۔ یہ ہی گیا میری گردن پر چڑھ بیٹھتا۔ لیکن آج میں اُسے کتنی آسانی سے دھوکا دیے چلا جاتا تھا۔ گدھا ہے ساری باتیں بھول گیا۔
اچانک گِلّی ڈنڈے میں لگی اور اتنے زور سے لگی جیسے بندوق چھوٹی ہو۔ اس ثبوت کے مقابل مجھے کسی طرح کا فریب چلنے کا حوصلہ اس وقت بھی نہ ہو سکا۔ لیکن کیوں نہ ایک بار سچ کو جھوٹ بنا نے کی کوشش کروں ،میرا حرج ہی کیا ہے۔ مان گیا تو واہ واہ، ورنہ دو چار ہاتھ تو پدنا ہی پڑے گا۔ اندھیرے کا بہانہ کر کے گلا چھرالوں گا پھر کون داؤں دینے آتا ہے۔ گیا نے فاتحانہ انداز سے کہا ’’لگ گئی، ٹن سے بولی۔‘‘
میں نے انجان بننے کی کوشش کرتے ہوئے کہا
’’تم نے لگتے دیکھا، میں نے تو نہیں دیکھا۔‘‘
’’ٹن سے بولی ہے سرکار‘‘۔
’’اور جو کسی اینٹ سے لگ گئی ہو۔‘‘
میرے منھ سے یہ فقرہ کیسے نکل گیا اس پر مجھے خود حیرت ہے۔ اس سچائی کو جھٹلا نا ویسا ہی تھا جیسے دن کو رات کہنا۔ ہم دونوں نے گِلّی کو ڈنڈے میں زور سے لگتے دیکھا لیکن گیا نے میرا کہنا مان لیا۔
’’ہاں سرکار کسی اینٹ پر لگی ہوگی ڈنڈے میں لگتی تو اتنی آواز نہ آتی۔‘‘
میں نے پھر پدانا شروع کیا۔ لیکن اس قدر صاف اور صریح دھوکا دینے کے بعد مجھے گیا کی سادگی پر رحم آنے لگا۔ اس لیے جب تیسری بار گِلّی ڈنڈے پر لگی تو میں نے بڑی فراخدلی کے ساتھ داؤں دینا طے کر لیا۔
گیا نے کہا ’’اب تو اندھیرا ہو گیا ہے بھیّا کل پر رکھو۔‘‘
میں نے سوچا کل بہت سا وقت ہوگا۔ یہ نہ جانے کتنی دیر پدائے اس لیے اس وقت معاملہ صاف کر لینا اچھّا ہوگا ۔’’نہیں نہیں بہت اجالا ہے، تم اپنا داؤں لے لو۔‘‘
’’گِلّی سوجھے گی نہیں‘‘۔
’’کچھ پرواہ نہیں۔‘‘
گیا نے پدانا شروع کیا۔ مگر اب بالکل مشق نہیں تھی۔ اس نے دوبارہ ٹل لگانے کا ارادہ کیا لیکن دونوں ہی بار وہ چوک گیا۔ ایک منٹ سے کم میں وہ اپنا داؤں پورا کرچکا تھا۔ بے چارہ گھنٹہ بھرپدا، لیکن ایک منٹ میں اپنا داؤ ں کھو بیٹھا۔میں نے اپنے دل کی وسعت کا ثبوت دیا ’’ایک داؤں اور لے لو، تم پہلے ہی ہاتھ میں ہار گئے۔‘‘
’’نہیں بھیّااب اندھیرا ہوگیا ہے۔‘‘
’’تمھاری مشق چھوٹ گئی کیا۔کبھی کھیلتے نہیں ہو؟‘‘
’’کھیلنے کا وقت ہی نہیں ملتا بھیا۔‘‘
ہم دونوں موٹر میں جا بیٹھے اور چراغ جلتے جلتے پڑاؤ پر جا پہنچے ۔گیا چلتے چلتے بولا۔’’کل یہاں گِلّی ڈنڈاہوگا۔سب ہی پُرانے کھلاڑی کھیلیں گے۔ تُم بھی آؤ گے جب تُمھیں فرصت ہو۔ سب ہی کھلاڑیوں کو بلالوں۔‘‘
میں نے شام کا وقت دیا اور دوسرے دن میچ دیکھنے کو گیا۔ کوئی دس آدمیوں کی منڈلی تھی۔ کئی میرے لڑکپن کے ساتھی نکلے مگر بیشتر نوجوان تھے جنھیں میں پہچان نہ سکا۔ کھیل شروع ہوا۔ میں موٹر پر بیٹھے بیٹھے تماشا دیکھنے لگا۔ آج گیا کا کھیل اور اُس کی کرامت دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ وہ ٹل لگاتا تو گِلّی آسمان سے باتیں کرتی۔ کل کی سی وہ جھجھک ،وہ ہچکچاہٹ ،وہ بے دلی آج نہ تھی۔ لڑکپن کی جو بات تھی آج اُس نے کمال کی عروج تک پہنچا دی تھی۔ کہیں کل اُس نے مجھے اس طرح پدایا ہوتا تو میں ضرور رونے لگتا۔ اس کے ڈنڈے کی چوٹ کھا کر گِلّی دو سو گز کی خبر لاتی تھی۔
پدنے والوں میں ایک نوجوان نے کچھ بد عُنوانی کی۔ اس کا دعویٰ تھا کہ میں نے گِلّی دبوچ لی ہے۔ گیا کا کہنا تھا کہ اُچھلی ہے۔ اس پر دونوں میں تال ٹھونکنے کی نوبت آئی۔ نوجوان دب گیا۔ گیا کا تمتمایا ہوا چہرہ دیکھ کر وہ ڈر گیا۔ میں کھیل میں نہ تھا مگر دوسروں کے اس کھیل میں مجھے وہ ہی لڑکپن کا لُطف آ رہا تھا جب ہم سب کچھ بھول کر کھیل میں مست ہو جاتے تھے۔ اب مجھے معلوم ہوا کہ گیا کل میرے ساتھ کھیلا نہیں بلکہ کھیلنے کا بہانہ کیا۔ اُس نے مجھے رحم کے قابل سمجھا۔ میں نے دھاندلی کی ،بے ایمانیاں کیں اُسے ذرا بھی غصّہ نہ آیا۔ اس لیے کہ وہ کھیل نہ رہا تھا مجھے کھلا رہا تھا۔ میر اجی دیکھ رہا تھا ۔ وہ پدا کر میرا کچومر نکالنا نہیں چاہتا تھا۔ اب میں افسر ہوں۔ یہ افسری میرے اور اس کے درمیان ایک دیوار بن گئی ہے۔ میں اب اُس کا لحاظ پا سکتا ہوں، ادب پا سکتا ہوں، لیکن اس کا ہمجولی نہیں بن سکتا۔ لڑکپن تھا تب میں اُس کا ساتھی تھا۔ ہم میں کوئی بھید نہ تھا۔ یہ عہدہ پاکر اب میں اس کے رحم کے قابل ہوں اور مجھے اب وہ اپنا جوڑ نہیں سمجھتا۔ وہ بڑا ہو گیا ہے، میں چھوٹا ہو گیا ہوں۔
(پریم چند)
سوالوں کے جواب لکھیے:
- مصنف نے گلی ڈنڈے کو کھیلوں کا راجہ کس بنیاد پر کہا ہے؟
- گیا کے داؤں سے بچنے کے لیے ضلع انجینیرنے کون کون سی چال چلی؟
- مصنف کو یہ احساس کیوں کر ہوا کہ گیا اس سے جان بوجھ کر ہار رہا تھا؟
- اگر آپ گیا کی جگہ ہوتے تو آپ کا رویہ کیسا ہوتا؟
