Skip to content
Guljareurdu  Chapter-02


عظیم بیگ چغتائی

(1941 – 1895)

عظیم بیگ چغتائی جودھ پور (راجستھان)میں پیدا ہوئے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی۔ اے اور ایل۔ ایل۔بی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ جج کے عہدے پر فائز ہوئے۔

عظیم بیگ چغتائی واقعات کا بیان ہلکے پھلکے اور مزاحیہ انداز میں کرتے ہیں۔ ان کے مضامین ہوں، افسانے یا ناول ہوں، یہ خصوصیت ہر جگہ برقرار رہتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی شوخ مزاج شخص اپنی اور اپنے ساتھیوں کی شرارتیں بیان کر رہا ہے۔ عظیم بیگ چغتائی کے کردار ہمیشہ ایسی حرکتیں کرتے نظر آتے ہیں جن پر بے ساختہ ہنسی آجاتی ہے۔ ان کی بعض تحریروں میں طنز بھی ہے لیکن تیکھا پن نہیں۔ عظیم بیگ چغتائی کی تصانیف میں ’’کولتار‘‘، ’’خانم‘‘، ’’شریر بیوی‘‘، ’’جنت کا بھوت‘‘، ’’مرزا جنگی‘‘ اور ’’روحِ ظرافت‘‘ کو بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔ مزاح نگار کے علاوہ ’’قرآن اور پردہ‘‘، ’’حدیث اور پردہ‘‘ جیسی مذہبی اور سنجیدہ کتابیں بھی ان کی یاد گار ہیں۔

فقیر

ایک روز کا ذکر ہے کہ میں غسل خانے سے نہاکر برآمدہ میں جو نکلا تو کسی فقیر نے سڑک پر سے کھڑکی کی چلمن میں شاید پرچھائیں یا جنبش دیکھ کر صدا دی، ’’مائی تیرے بیٹا ہوئے۔‘‘ در حال یہ کہ نہ تو یہاں کوئی مائی تھی اور نہ کسی کو یہ گھبراہٹ تھی کہ ایک عدد لڑکا خواہ مخواہ تولدہوتا پھرے۔ در اصل یہ فقیر ان میں سے تھا جو مانگنا بھی نہیں جانتے۔ ذرا اِس احمق سے کوئی یہ پوچھتا کہ بے وقوف، یہ کون سی عقل مندی ہے کہ کسی سوراخ میں سے کوئی بھی ہلتی چیز دیکھ پائی اور بیٹا بیٹی تقسیم کرنا شروع کردیے۔ پھر مجھے فقیروں سے ویسے بھی بُغض ہے۔ کیوں کہ جب کبھی مجھے کوئی فقیر ملتا ہے اور میں اسے دیکھتا ہوں تو ایسا پاتا ہوں کہ مجھ سے دو کو کافی ہو۔ چنانچہ میں نے کھڑکی کی سلاخوں میں سے چِق اُٹھا کر اِس نیت سے دیکھا کہ اس سے یہ کیوں نہ پوچھ لیا جائے کہ نوکری کرے گا؟
لیکن جب میں نے دیکھا تو ایک قابلِ رحم ہستی کو پایا۔ ایک فاقہ زدہ، ضعیف العمر، چیتھڑے لگائے، بے کسی اور بے بسی کی زندہ تصویر تھا۔ سچ ہے ان لوگوں کو مانگنا بھی نہیں آتا۔ نہ تو یہ کوئی عمدہ گیت جانتے ہیں، نہ کوئی لَے جانتے ہیں، نہ صدا جانتے ہیں۔ بس لیے اور دانت نکال دیے۔ یہ دکھانے کو کہ دیکھو ہم بھی اس دنیا میں رہتے ہیں اور یوں رہتے ہیں۔ مجھے اس کی حالتِ زار دیکھ کر بڑا رحم آیا اور میں نے اس سے کہا کہ گھوم کر صدر دروازے پر آجائیے۔
صبح کا وقت تھا، میں تو چائے پینے لگا، اور گھر والی سے کہا کہ ایک انتہا سے زیادہ قابلِ رحم فقیر آیا ہے، اُسے دو چار پیسے دے دو، اور صبح کا وقت ہے، دو توس اور ایک پیالی چائے دے دو۔
جتنی مشٹنڈے فقیروں سے مجھے نفرت ہے، اس سے دوگنی نفرت میری بیوی کو ہے۔ اور اسی مناسبت سے اُن فقیروں یعنی محتاجوں سے اُلفت ہے جو واقعی رحم و کرم کے مستحق ہیں۔
خانم نے فقیر کا نام سن کر جلدی جلدی دو گرما گرم توس کو انگیٹھی پر سینک کر خوب مکھن لگا یا، اور ایک پیالی میں خوب بہت سا دودھ ڈال کر چائے بنادی۔ اور مزید برآں کچھ مٹھائی بھی رکھ دی۔ اور سینی میں چار پیسے رکھ دیے۔ اور لڑکے سے کہا فقیر کو صدر دروازہ سے اندر یعنی برآمدہ میں بٹھا کر کھلادے۔
اب قسمت تو ہماری ملاحظہ ہو کہ وہ غریب محتاج جسے میں نے بُلا یا، صدر دروازہ کی پشت پر تھا، گھوم کر آجانا اُس کے لیے مشکل ہوا یا آتے میں کسی دوسرے سے مانگنے لگا ہوگا یا پھر اپنی راہ کھوٹی نہ کرنا چاہتا ہوگا۔ قصّہ مختصر، وہ تو آیا نہیں اور اُس کے بدلے پھاٹک میں ایک اور فقیر صاحب داخل ہوئے اور اپنی صدا لگانے بھی نہ پائے تھے کہ کتے نے اُن کا استقبال کیا۔ اُن کے پاس ایک موٹا ڈنڈا تھا، اُس کے دو چار ہاتھ نہ گھمائے تھے کہ لڑکا ناشتہ لے کر پہنچا۔ کیا دیکھتا ہے کہ ایک فقیر صاحب گلے میں مالا ڈالے، موٹا سا فقیرانہ ڈنڈا اور فقیرانہ لباس، گلے میں جھولی، ہاتھ میں چمل، تہمد باندھے موجود ہیں۔ اُس نے کتّےکو ڈانٹا، اور کہا ’’سائیں جی برآمدہ میں آجاؤ۔‘‘ سائیں جی نے غنیمت سمجھا اور ناشتہ شروع کیا، اور اُدھر میں نے خانم سے کہا کہ پُرانا سوئیٹر اور ایک قمیص فقیر کو اور بھیج دو، سردی کا وقت ہے اور غریب مررہا ہوگا جاڑے میں۔ خانم نے جلدی سے اک قمیص اور سوئیٹر پُرانا لیا اور لڑکے کو دیا۔ میں نے لڑکے سے پوچھا کہ فقیر کیا کہتا ہے؟‘‘لڑکے نے کہا ’’ خوٗب دُعائیں دے رہا ہے اور کھا رہا ہے۔‘‘ لڑکا قمیص اور سوئیٹر لے کر پہنچا اور وہ بھی فقیر صاحب کی نذر کیا۔ اتنے میں میں چائے پی کر باہر نکلا تاکہ فقیر کو گرم کپڑے پہنے ہوئے دیکھنے سے جو خوشی حاصل ہوسکتی ہے، اُس سے لُطف اُٹھاؤں۔
میں باہر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک ہٹّاکٹّا، انتہا سے زیادہ مضبوط فقیر ڈکاریں لے رہا ہے اور سوئیٹر اور قمیص ہزاروں دُعاؤں کے ساتھ لپیٹ کر جھولی میں رکھ رہا ہے۔ در اصل یہ مشٹنڈا صرف ایک سینہ کُھلی فقیروں والی کفنی پہنے تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ صبح کی سرد ہوا سے لُطف اُٹھا رہا ہے۔ سینہ بالشت بھر اُونچا، داڑھی منڈی ہوئی، بلےچڑھے ہوئے۔ مجھے دیکھتے ہی حضرت لگے  مجھے دعائیں دینے۔

c.21

اب میں آپ سے کیا عرض کروں، سارا کھایا پیاخون ہوگیا، جان سُلگ کررہ گئی۔ جی میں تو یہی آیا کہ اِس کم بخت کا منہ نوچ لوں، ڈنڈا اور چمل اُٹھا کر لگے حضرت دُعائیں دے رخصت ہونے۔ دعاؤں میں مبالغہ اور غلو سے میری اور بھی جان جلی۔ اتنے میں خانم نے بھی جھانک کر دیکھا، وہاں بھی یہی حال ہُوا۔ اب بتائیے کیا کیا جاسکتا تھا؟ یہ ناممکن تھا کہ میں اِن حضرت کو اس طرح ستم توڑ کر چلا جانے دوں۔ میں اسی شش وپنج میں تھا کہ میرے ایک دوست بھی آگئے۔ میں نے دو لفظوں میں فقیر کی ستم آرائی بیان کی اور پھر فقیر سے کہا:
’’تمھیں شرم نہیں آتی …؟‘‘
سادہ لوحی تو دیکھیے کہ یہ حضرت اِس ریمارک کو سُن کر اپنے تہمد کی طرف متوجہ ہوکر محض میری جان حزیں پر کرم گُستری کے خیال سے ذرا نیچے کر لیتے ہیں۔ ’’کم بخت!‘‘ میں نے اور بھی جل کر کہا ، ’’اتنے موٹے تگڑے ہو کر بھیک مانگتے ہو، بڑے شرم کی بات ہے۔‘‘
اس کے جواب میں فقیر صاحب نے اپنے پیدائشی حقوق کا اعادہ کرتے ہوئے اُن سے دست برداری سے معذوری ظاہر کی، اور اب میں یہ سوچنے لگا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ اِس بدتمیز سے کم از کم سوئیٹر اور قمیص ہی چھین لی جائے۔ میرے دوست نے کہا ’’یہ مُناسب نہیں ہے ،مگر حضرت وہ کسی نے کہا ہے   ع
درد اُس سے پوچھیے، جس کے جگر میں ٹیس ہو
میں نے کہا خواہ اِدھر کی دُنیا اُدھر ہوجائے میں اس موذی کو یہ چیزیں ہرگز ہرگز ہضم نہ کرنے دوں گا۔ میں نے اب اُس محتاج کی تلاش کرائی، مُلازم اسے تلاش کرنے گیا، میں نے ادھر فقیر صاحب کو لیا آڑے ہاتھوں۔ میں نے کہا:
’’تم نوکری کیوں نہیں کرتے؟‘‘
وہ کچھ جل کر بولا، ’’آپ ہی رکھ لیجیے۔‘‘
میں نے فوراً رضامندی ظاہر کی اور دس روپیہ ماہوار اور کھانا تجویز کیا۔ فقیر صاحب اِس کے جواب میں بولے:
’’اور گھر والوں کو زہر دے دوں؟‘‘
میں نے کہا ’’کیوں؟‘‘
وہ بولا: ’’آپ دس روپیہ دیتے ہیں، ڈھائی آنہ روز کا تو گائے رزقہ کھاتی ہے، اور ایک بیوی تین بچّے، پانچ روپیہ میں گزر کیسے ہو؟‘‘
’’گائے بھی ہے تمھارے پاس؟‘‘ میں نے متعجب ہوکر کہا۔
وہ بولا: ’’صاحب آپ بڑے آدمی ہیں، ہم بھلا کہاں سے پیسہ لائیں جو روز تین سیر دودھ خریدیں؟‘‘
’’تین سیر؟‘‘ میں نے متعجّب ہوکر کہا۔ ’’تین سیر! بھئی تین سیر کا خرچ کیسا؟‘‘ معلوم ہُوا، خیر سے خود حضرت دو سیر دودھ یومیہ نوش کرتے ہیں۔ مَیں پھر تنخواہ کے سوال پر آیا تو عسرت کی شکایت کرتے ہوئے تیس روپیہ ماہوار کا خرچ گھر کا بتایا۔ اور قائل ہوکر کہا کہ اگر کم وبیش کسی روز گار میں اتنی کمائی ہوجائے کہ تنگی تُرشی سے بھی گھر کا خرچ چل جائے تو فقیری چھوڑنے کو ابھی تیار ہیں۔
اب میں اپنے دوست کی طرف دیکھتا ہوں اور وہ میری طرف۔ پھر معلوم ہوا کہ حضرت دوپہر کے قیلولہ کے سخت عادی ہیں، اور کسی صورت میں بھی دوپہر میں تو کام کر ہی نہیں سکتے۔ ویسے ہر طرح کوئی پیشہ، دھندا، نوکری، غرض جو بھی بتاؤ اس کے لیے حاضِر ہیں۔ اب آپ ہی بتائیے میں اس کو کیا جواب دیتا۔ میرا وہ حال کہ مرے پر سَو دُرّے۔ اِتنے میں ملازم آیا۔ باوجود سخت تلاش کے وہ محتاج نہ مِلا۔ اگر میرے دوست نہ ہوتے تو غالباً میں اِس موذی سے ضرور کپڑے چھین لیتا۔ مگر میں نے اور ترکیب سوچی۔
میں نے قطعی طور پر فقیر صاحب سے کہا کہ ’’میں تمھیں اِس حرام خوری کی سزا دیے بغیر ہر گز نہ جانے دوں گا۔ پچاس دفعہ کان پکڑ کر اُٹھو بیٹھو، اور خبردار جو پھر کبھی اِس طرف کا رُخ کیا۔‘‘
فقیر نے غصّے کے شعلے میری آنکھوں میں دیکھے۔ ممکن ہے کہ یہی سوچا ہو کہ سوئیٹر اور قمیص دونوں بالکل ثابت ہیں، سودا پھر بھی بُرا نہیں، نہایت ہی خاموشی اور سادگی سے آپ نے ڈنڈا اور پیالہ اپنا ایک طرف رکھا، جھولی اور مالا اُتار کر رکھا اور تہمد اونچی کرکے کسنے لگا کہ میں نے ڈانٹا ’’بدتمیز!‘‘ اِس کے جواب میں وہ مجھے نہایت ہی مطمئن کرکے فرماتے ہیں، ’’نیچے جانگیا پہنے ہوں‘‘ اور عذر کیا کہ اُٹھنے بیٹھنے میں تہمد مخل ہوگی۔
لیکن میں چوں کہ سزا دینا چاہتا تھا، لہٰذا میں نے اِس کی بھی اِجازت دے دی ۔اب یہ حضرت ایک ہُنکار کے ساتھ بڑے زور سے ہوٗنہہ کرکے بغیر کان پکڑے ہوئے پہلوانوں کی طرح ایک سپاٹے کے ساتھ پاؤں سر کاکر بیٹھک لگا گئے۔
’’بدتمیز، بے ہودہ‘‘ میں نے جل کر کہا ’’یاد رکھو، تمھیں پولیس کو دے دوں گا۔کان پکڑ کر سیدھی طرح اُٹھو بیٹھو۔‘‘ دو دفعہ ان کو میں نے کان پکڑوا کر اُٹھنا بیٹھنا بتایا۔ اور یہ حضرت سزا بھگتنے میں مشغول ہوگئے۔ یہ حضرت میری پُشت کی طرف تھے اور ہم دونوں دوست فقیروں کو بُرا بھلاکہنے میں مشغول ہوئے۔
ایک دم سے مجھے خیال آیاکہ ’’کان پکڑی‘‘ غالباً پچاس دفعہ ہوچکی ہے۔ مڑکر میں نے دیکھا، تو سُرعت کے ساتھ جاری تھی۔ میں نے پُوچھا تو وہ بولا کہ ایک سو دس دفعہ کی۔ میں نے کہا ’’بس، بس اب جاؤ! میں نے تو پچاس دفعہ کو کہا تھا، زیادہ   کیوں کی؟‘‘
وہ بولا ’’صاحب! پانچ سو بیٹھکیں روز لگاتا ہوں، میں نے سوچا کہ اب باربار کون کرتا پِھرے۔ لاؤ یہیں پوری کرلوں۔‘‘
’’ارے!‘‘ میں نے اِس کم بخت کو اوپر سے نیچے تک غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’کیا توٗ پہلوانی کرتا ہے؟‘‘ واللہ میں نے گویا اب اِس کو غور سے دیکھا، کان ٹوٹے ہوئے، سینہ اور شانہ اور پٹیں! خوٗب کسرتی بدن۔
جواب دیتے ہیں، ’’ویسے نہیں کہتا، شہر کے جِس پٹّھے سے جی چاہے لڑا لیجیے۔‘‘
میں نے کہا ’’کم بخت، جی میں تو یہی آتا ہے کہ تیرا اور اپنا سَر مِلا کر لڑالوں۔‘‘
’’نکل یہاں سے ابھی۔ ابھی نکل — نکالو اِسے۔‘‘
جلدی جلدی اُس نے اپنی جھولی وغیرہ اُٹھائی اور سیکڑوں دعائیں دیتا ہُوا چلا گیا اور کم بخت مجھے انتہا سے زیادہ پست اور شکست خوردہ حالت میں چھوڑ گیا۔
اِس موٗذی کا بخار میں نے اور فقیروں پر نکالا، کسی کو نہ دیا۔ ڈانٹ کر بھگا دیا کہ ایک عرصہ بعد کیا دیکھتا ہوں کہ کھڑے مُلازمہ سے بحث فرما رہے ہیں۔ وہ کہتی ہے کہ جاؤ آگے بڑھو، اور آپ فرماتے ہیں کہ ہمیں اِس گھر سے ہمیشہ مِلتا ہے۔ (لفظ ہمیشہ پر زور)اِدھر میں جو آیا تو فوراً مجھے اِس امر کی شہادت میں پیش کرتے ہیں اور ٹیپ کا بند ’’اللہ بھلا کرے، کچھ سائیں کو بھی۔‘‘
میں نے اُسے پکڑلیا کہ آج تُجھے نہ چھوڑوں گا۔ صحیح عرض کرتا ہوں کہ اِس موذی سے کوئی مَن بھر لکڑیاں پھڑوائیں، چشم زدن میں پھاڑ پھاڑ کر برابر کیں اور میری کُرسی کے پاس آکر میرے پیر دابنا شروع کردیے اور’’ اللہ بھلا کرے‘‘۔
’’ارے کم بخت چھوڑ!‘‘ میں نے بے تاب ہو کر کہا، کیوں کہ مجھے ایسا معلوم ہوا کہ میری پنڈلیاں کوئی لوہے کے شکنجے میں دھر کے داب رہا ہے۔
لکڑیوں کی پھڑوائی شاید دو آنے دیے۔ قمیص اور مانگنے لگا۔ وہ نہ دی تو بدمعاش کہتا ہے ’’بھوکا ہوں۔‘‘

عظیم بیگ چغتائی

سوالوں کے جواب لکھیے:


  1. مصنّف کو فقیروں سے کیوں بغض تھا؟
  2. مصنف کو پہلے فقیر پر کیوں رحم آیا؟ پہلے فقیر کا حلیہ کیسا تھا؟
  3. ہٹّے کٹّے فقیر کو دیکھ کر مصنّف کی کیا حالت ہوئی؟
  4. مصنّف نے جب فقیرکو نوکری کی پیش کش کی تو اس نے کیا تنخواہ مانگی اور کیوں؟

c2.2