Skip to content
Guljareurdu  Chapter-03


علی عباس حسینی

c3.1

(1969 – 1897)


علی عباس حسینی اتر پردیش کے ضلع غازی پور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم پٹنہ میں ہوئی۔ الہ آباد سے بی۔اے۔ اور لکھنؤ سے ایم۔ اے۔ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ایل۔ٹی کی سندحاصل کرنے کے بعد ایک سرکاری اسکول میں اردو فارسی کے استاد مقرر ہوئے۔

علی عباس حسینی نے شروع میں پریم چند سے متاثر ہوکر افسانے لکھے۔ ایسے افسانوں میں گاؤں کے معصوم اور سادہ لوح افراد کی خوب صورت عکاسی ملتی ہے۔ بعد میں ان کے افسانوں میں ایسے کردار نظر آتے ہیں جو نفسیاتی پیچیدگیوں کا شکار ہیں۔ علی عباس حسینی کو انسانی نفسیات پر عبور حاصل ہے۔ وہ کردار کی ذہنی تہوں کو آہستہ آہستہ کھولتے ہیں جس سے اس کی مکمل شخصیت سامنے آ جاتی ہے۔ ان کے افسانوں میں واقعات کی طوالت تو ہے مگر پلاٹ میں جھول پیدا نہیں ہوتا۔علی عباس حسینی کے افسانوں کی بڑی خوبی اُن کی زبان ہے۔ وہ عربی فارسی کے الفاظ سے حتی الامکان گریز کرتے ہیں۔

’’آئی۔ سی۔ ایس‘‘، ’’باسی پھول‘‘، ’’میلہ گھومنی‘‘، ’’کچھ ہنسی نہیں ہے‘‘ ان کے افسانوں کے مجموعے ہیں۔ ’’اردو ناول کی تاریخ اور تنقید ‘‘ ان کی تنقیدی کتاب ہے۔

آئی۔سی۔ایس

وحید کا آئی۔ سی۔ایس میں جانا بالکل داتا کی دین تھی۔ ایک غریب دیہاتی زمیندار کا لڑکا جو گیارہ بارہ برس کے سن تک ایک چھوٹے مختصر اورتنگ کچّے مکان میں پلا ہو، جو گاؤں کے لڑکوں کے ساتھ گلی ڈنڈا، کبڈی، گیڑی اور آنکھ مچولی کھیلنے میں لگا رہا ہو، جس نے لڑکوں کے ساتھ ہر بڑے سے بڑے درخت پر چڑھ جانے اور چھپ بیٹھنے میں مہارت حاصل کی ہو۔ جس نے سات برس کی عمر سے گائیں بھینسیں خود دوہی ہوں اور ان کاگوبر اپنے ہاتھ سے اٹھایا ہو۔ اور جس کے سب سے بڑے دوست چھوٹی اُمّت کے لوگ رہے ہوں۔ وہ آج آئی۔سی۔ایس پاس ہو اورہیٹ کوٹ پہنے صاحب بنا،’ ول ٹم کیا مانگٹا اور ہم نہیں جانٹا‘ بولنے کا فخر حاصل کر لے۔ واقعی بخشش الٰہی تھی یا حضرت موسیٰ کے لیے سنا تھا۔ وحید کے معاملے میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔

ہم نے مانا کہ بارہ برس کے سن سے اس کندۂ ناتراش کو ایک دوٗر کے عزیز نے رحم کھا کر اپنے پاس رکھا، خراد پر چڑھایااور آدمی بنایا۔ مگر یہ سب رحمت باری اور فضل الٰہی تھا۔ اس نے اگر ان عزیز کے دل میں اولاد کی خواہش کے ساتھ ساتھ ان کی گود بھی اولاد سے بھری ہوتی تو پھر کیا ہوتا۔ اگر وحید کی فطرت میں اثر قبول کرنے کا مادہ نہ ہوتا، اچھے خاصے جانور سے بھلا مانس انسان بننے کی صلاحیت و دیعت نہ کی ہوتی تو وہ کاہے کو اسکول یا کالج ہی سے اپنے کپڑوں، اپنے فیشن، اپنی تہذیب، اپنے سلیقے اور اپنی ذہانت کے لیے مشہور ہوتا۔ پودے ایک زمین سے نکال کر دوسری زمین میں لگا دینے سے اپنی نوعیت اور جنس نہیں بدل دیتے، نیم آم نہیں بن جاتی، نہ گیندا گلاب ہو جاتا ہے۔

مگر یہاں وحید کے معاملے میں تو محمد پورکیاچھو‘ٹا اور الہ آباد کیا ملا کہ ایسا معلوم ہوا کہ شخصیت ہی دوسری ہو گئی، جون بدل گئی، جس طرح اس نے محمد پو رکے پھٹے پرانے کپڑے اُتارے اور الہ آباد کے نئے چمکتے بھڑکتے پہن لیے، اسی طرح اس کی وہ بارہ برس تک کی طبیعت، ضد، جھلاہٹ، شرارت، بھداپن، ہٹیلاپن، اکھڑپن، گنوارپن، بدتہذیبی، بد اخلاقی، کج روی، یا وہ گوئی، دریدہ ذہنی، بے ہودہ گوئی، کم عقلی، بد اطواری، دیر فہمی، بدشوقی اور موقع ناشناسی سب محمد پوری کپڑوں کے ساتھ اتر گئی اور اس کی جگہ الہ آبادی کپڑوں کے پہنتے ہی متانت، سنجیدگی، خودداری، وقار، زودفہمی، سگھڑاپا، جامہ زیبی، خوش مزاجی، معاملہ فہمی، سخن سنجی آگئی۔ ہمارا یہ اِدّعا نہیں کہ یہ فرق فوراً پیدا ہو گیا تھا یا واقعی ایک جگہ سے چھوٹتے، ایک گھر سے نکلتے اور دوسرے گھر میں داخل ہوتے ہی پیدا ہو گیا تھا۔ نہیں، اس تبدیلی میں سال دو سال لگے تھے۔ مگر پھر بھی یہ ایسا سریع اور عظیم انقلاب تھا جسے کایا پلٹ ہو جانا کہتے ہیں۔

بہر نوع، مالک کی دین کہیے یا وحید کی فطری صلاحیت و قابلیت، ہوا ایسا ہی کہ وحید جس دن سے اسکول میں داخل ہوا اور جس دن تک وہ تعلیم پاتا رہا ہمیشہ اپنے درجے میں اوّل آیا۔ یہاں تک کہ ایم۔ اے پاس کرنے کے بعد آئی۔سی۔ایس بھی ایسے اچھے نمبروں سے پاس ہوا کہ نہ سعی و سفارش کی ضرورت ہوئی او رنہ خاندانی حقوق و خدمات گنانے پڑے۔ اور دو برس انگلستان میں مزید تعلیم و تجربہ حاصل کرنے کے لیے بھیج دیا گیا۔ وہاں کے قیام کے دوران میں ریاست مہیدر پور کے ایک رکن خاص، صاحب زادہ شہاب الدین خاں سے ملاقات و راہ و رسم پیدا ہوئی اور اسی سلسلے میں ان کی صاحب زادی جہاں آرا بیگم سے بھی جو اس سال آکسفورڈ یونیورسٹی سے بی۔اے میں نمایاں حیثیت سے کامیاب ہوئی تھیں روز روز ملنے جلنے نے کشش پیدا کی۔ صاحب زادہ کی اجازت اور جہاں آرا بیگم کی پسندیدگی سے اس نے وہیں بیاہ رچایا اور نئی دلہن ساتھ لے کر ہندوستان پلٹا۔ چونکہ دل میں یہ دھڑکا لگا ہوا تھا کہ کہیں افلاس اور دیہاتیت کا پول نہ کھل جائے۔ اس لیے ہندوستان میں پہنچنے اور دہلی حضور وائسرائے کے صدر دفتر میں تعیناتی کا درمیانی زمانہ ریاست مہیدرپور میں سسرال ہی میں بسر کیا اور گھر لکھ بھیجا ’’کہ میں فی الحال مکان نہیں آ سکتا لیکن برابر والد کے لیے خرچ بھیجتا رہوں گا۔ کسی کو میرے پاس آنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

بوڑھا باپ دل مسوس کر، بوڑھی ماں رودھو کر اور بھائی خفا ہو کر خاموش رہے۔ وہ جانتے تھے کہ ان کا گھر اس قابل نہیں کہ کوئی آئی۔ سی۔ ایس آکر قیام کرے، وہ اسے خوب سمجھتے تھے کہ ان کا جھونپڑا کسی بیگم بہو کو اتارنے کے لائق نہیں۔ انھوں نے ٹھنڈی سانسیں بھریں آسمان کو دیکھا اور چھاتی پر سل رکھ لی۔

غرض بیگم نے نہ اپنی سسرال دیکھی اور نہ ساس سُسر، جیٹھ، دیوروں سے ملنے کی نوبت آئی کہ وحید دہلی میں لاٹ صاحب کے دفتر میں کام کرنے لگا۔ وہاں کے مشاغل بڑے بڑے آدمیوں سے ملنا جلنا، راجگان، مہاراج اور والیان ملک کی پارٹیاں، ایٹ ہوم، ڈنر، سنیما، تھیٹر، کھیل تماشے، غرض دل چسپیوں میں نہ کسی کی کمی تھی اور نہ ان کی وجہ سے اتنی فرصت کہ نئے رشتہ داروں اور عزیزوں کی ذرا فکر کی جائے۔ مگر بیگم کے لیے یہ دلچسپیاں ہو سکتیں تھیں وحید کی ماں کے لیے نہیں۔ اس نے تو وحید کو جنا تھا، اس کی مامتا کو بھلا کیسے چین پڑتا۔ وہ بیٹے کو لکھتی رہی بس ایک نظر دکھا جانے کی خواہش تھی، بہو کے دیکھنے کی بھی بڑی تمنائیں تھیں۔ بیٹے کی شادی کے بارے میں بڑھیا نے نہ جانے کیا کیا سوچ رکھا تھا، اپنوں پرایوں میں بہت سی لڑکیاں دیکھ رکھی تھیں۔ مگر وہاں صاحب زادے   خود ہی بیگم بیاہ لائے۔ شادی ایسے چپ چپاتے کر لی کہ کسی کوکانوں کان خبر نہ ہوئی اور موقع بھی ہوتا تو پہنچتی کیسے۔ کالے کوسوں دور سمندر پار، انگلستان میں، پھر سسرال اپنے میل کی نہ جوڑ کی۔ وہاں روپیوں کی، عزت کی، شان و شوکت کی افراط تھی، یہاں افلاس و تنگ دستی، نکبت کی بہتات۔ بہو پڑھی لکھی آکسفورڈ کی تعلیم یافتہ، لاٹ صاحب، ہاتھ ملانے والی۔ ساس جاہل، دیہاتن اور پردہ میں بیٹھنے والی۔ اس سے ساس کی طرح پیش آنا، بہو بنا کر ملنا، ہاتھی سے گنّا کھانا تھا۔ مور کی طرح ناچنے کو جی تو ضرور چاہا تھا لیکن پاؤں کو دیکھ کر لاج بھی آتی تھی۔ صبر کی سل چھاتی پر رکھی۔ مگر یہ بوجھ اتنا بھاری تھا کہ پہلو میں درد ہونے لگا۔ اس بے چینی نے خط لکھنے پر مجبور کیا۔ پہلے تو لڑکے ہی کو لکھتی رہی۔ جب اُدھر سے برابر ٹالنے ہی والا جواب ملاتو پھر ایک دن حمیدہ نے چھوٹے لڑکے کو پاس بلایا اور دل کی ساری کہانی بیگم بہو کو لکھوا دی۔  

بات چونکہ دل سے نکلی تھی اس لیے دل میں گھر کر گئی۔بیگم بہو کو لفظ لفظ میں خلوص، سادگی اور سچائی کی عطر آ گیں بوئے خوش آئی۔ وہ ہاتھ میں خط لیے بے ساختہ آئی۔ سی۔ ایس وحید کے دفتر میں گھس آئیں اور اس کے سامنے سے فائلیں کھینچ کر بولیں۔  

’’کیوں صاحب یہ آخر آج تک آپ نے مجھے میری سسرال کے لوگوں سے کیوں نہ ملایا‘‘مسڑوحید آئی۔سی۔ایس، بیگم کے اس طرح چیں بہ جبیں آنے سے یوں ہی گھبرائے تھے، اس غیر متوقع سوال نے انھیں کچھ ڈرا سادیا ۔وہ ذرا اٹک اٹک کے بولے۔

جب سے ہندوستان پلٹ کے آیا۔ تمھارے میکے گیا پھر وہاں سے ملازمت پر چلا آنا پڑا۔یہاں کے کاموں میں کچھ اس طرح پھنس گیا کہ ۔۔۔۔‘‘

وہ بات کاٹ کر بولیں کہ ’’ماں باپ اور بھائیوں سے بھی نہ مل سکے اور نہ بیوی کو ملا سکے‘‘۔ وحید کی ذہانت کام آئی، اس نے ذرا مسکرا کر کہا، ’’یہ آج دفعتاً آپ کو سسرال کیوں یاد آگئی، کیا کسی نے خط لکھا ہے؟‘‘

بیگم بولیں ’’جی ہاں میں تو انسان ہوں ہی نہیں کہ مجھے کوئی فکر ہوتی۔ بار ہا آپ سے پوچھاآپ نے کہا کسی دن اطمینان سے باتیں ہوں گی تو بتائوں گا۔ شاید آپ مجھے انسان نہیں سمجھتے یا اپنے گھر والوں کو جانور سمجھتے ہیں‘‘۔

وحید نے ذرا متانت سے کہا ’’بھئی ہے تو یونہی کہ تم ان لوگوں سے مل کر کچھ خوش نہ ہوگی۔ نہ وہ کچھ باتیں کرنا جانیں نہ آداب و تہذیب سے واقف نہ ان کے رہنے سہنے کا طریقہ ہم لوگوں کا سا‘‘۔

بیگم نے تلخ مسکراہٹ سے کہا، ’’اب آپ زیادہ ان کی تعریفیں بیان فرمانے کی زحمت نہ کیجیے۔ آج آپ کی والدہ کا خط آیا ہے۔ میں خود چل رہی ہوں۔ اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں گی۔‘‘

وحید گھبرا گیا وہ جلدی سے بولا ’’ارے تم وہاں چلوگی محمد پور‘‘۔

اس نے کہا کہ ’’ہاں ہاں کیا کوئی وہاں کٹکھنا کتّا چھوٹا ہوا ہے کہ جاتے ہی مجھے کاٹ کھائے گا‘‘۔ اور یہ کہتی وہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔

وحید دیر تک سناٹے میں رہا۔ جانتا تھا کہ گھر میں رہنے کی جگہ مشکل سے نکل سکے گی۔ بیگم مصر تھیں کہ میں ضرور جاؤں گی، کہاں قیام ہوگا، کیا انتظام، پھر جتنی ادھر تعلیم و شائستگی، تہذیب ومدنیت تھی اتنی ہی اُدھر جہالت، غیر شائستگی اور دیہاتیت۔ خداجانے بڑی بی نے کیا لکھوا دیا ہے کہ بیگم پر اس قدر اثر ہوا۔ آج تو پوری تریاہٹ کا مزہ آ گیا۔ اس نے جلدی سے خطوں کا کاغذ کھینچا باپ کو خط لکھا۔اسی وقت بینک گھر گیا وہاں سے تین سو روپیوں کے نوٹ لیے ڈاک خانے سے رجسٹری لفافہ منگا کر بیمہ کر دیا۔ خط میں لکھا’’فوراً خانہ باغ کے احاطے میں گموس کے کھمبے جڑوا کے ان پر بنگلہ نما پھوس کا چھپر ڈلوا دیجیے اور معمولی ٹٹروں کی دیواریں کھینچ کر اس کے اندرونی حصّے میں کئی کمرے بنوا دیجیے۔ بیگم آپ لوگوں سے ملنے آ رہی ہیں۔ بس کوئی پندرہ دن میں ہم لوگ پہنچ جائیں گے۔ صحیح تاریخ سے بعد میں اطلاع دوں گا۔‘‘

جب بیمہ لگا چکا تو وحید نے اطمینان کی سانس لی۔ اب بہت کچھ ذمے داری اس کے سر سے ہٹ چکی تھی۔ اب بس اتنی سی بات رہ گئی تھی کہ بیگم کو چھٹی نہ ملنے کا بہانہ کرکے پندرہ دن اور روکنا تھا۔ اس امر میں زیادہ دقت بھی نہ ہوئی اس لیے کہ بیگم نے سسرال چلنے کا قطعی فیصلہ سناتے ہی وہاں جانے کی تیاریاں شروع کر دی تھیں۔ متواتر کئی راتوں اور کئی دن وحید کو اپنے بڑے بھائیوں اور ان کی بیویوں کے نام اور حلیے اُن کے بچوں کی تعداد، بہنوں اور ان کے شوہروں کے نام، ان کی صورت شکل، بن بیا ہے بھائی کی عمر، لیاقت، مزاج ، طبیعت، قد و قامت بڑے میاں اور بڑی بی کی پسند کی چیزیں سب بتانا پڑیں۔ بیگم بات اور بات کی جڑ سب کچھ کھود کھود کر پوچھتی تھیں۔ بعض وقت ان کے سوالات کا جواب دیتے دیتے عاجز آ جاتے تھے۔ لیکن اسی کے ساتھ بیگم کی اس غیر معمولی دل چسپی لینے کا نفسیاتی اثر ان پر بھی شروع ہوا۔ سفید رنگ کا خون بدلنے لگا۔ فطرت میں جو اپنوں سے اپنے ماں، باپ، بھائی بہن سے ہمدردی و محبت تھی اور جو آئی۔ سی۔ ایس کے مخملی پردوں سے ڈھک گئی تھی جس پر انگلستان اور ہندوستانی سکریٹریٹ کے ماحول نے ایک نیا ملمع چڑھا دیا تھا۔ بیگم کی کرید نے اس ملمع کو گھس ڈالا۔ بار بار کے سوال و جواب سے ملمع اتر گیا۔ خلوص و یگانگت جگہ جگہ سے جھلکنے لگی۔

خدا خدا کر کے وہ دن بھی آ گیا جس کا بیگم کو بے چینی سے انتظارتھا یعنی وحید کی پندرہ دن کی چھٹی منظور ہو گئی اور سفر کے لیے اسباب بندھنے لگا۔ بیگم نے جانے کیا سمجھا تھا کہ دس بارہ ٹرنک اور سوٹ کیس کپڑوں سے بھر لیے تھے۔ وحید نے چلنے سے کچھ گھنٹے قبل اتفاق سے یہ سامان دیکھ لیا تھا۔ بڑی ردّو کد کی، مگر بکسوں میں کمی نہ ہوئی اور سب کے سب موٹر کے علاوہ کرائے کی لاری پر لاد کر اسٹیشن پہنچائے گئے۔

گاڑی چلی تو وحید کا پس و پیش پھر بڑھا۔ سوچ رہا تھا کہ خدا جانے گھر پر والدین نے بیگم کے لائق کوئی جگہ حسب ہدایت بنوائی بھی یا نہیں۔ بیگم کو ان دیہاتیوں کی باتیں پسند آئیں یا نہ آئیں۔ یا خود ان لوگوں کو بیگم کی بے پردگی بھائے یا نہ۔ وہ سب کے سب پرانے خیال کے، دقیانوسی مراسم کے پابند، رئیسوں، امیروں کا طور طریقہ، انگلستان و یورپ کی تعلیم و تربیت، دیکھیے جو ڑ کیسے بیٹھتا ہے اور آپس میں کیسے نبھتی ہے۔ آگ اور برف کا تال میل بیٹھے نہ بیٹھے۔ یہ جدھر بھی نظر کرتا، جس پہلو پر غور کرتا دشواریاں ہی دشواریاں دکھائی دیتیں۔ جی چاہتا بیگم کو سمجھائیں۔ ان کو اس سفر کے نشیب و فراز سمجھائیں۔

مگر بیگم کی یہ حالت تھی کہ انھوں نے ابتدائے سفر سے ایک ناول شروع کیا تو راستے بھر اسی کو پڑھتی رہیں۔ سفر طویل تھا۔ ایک دن اور ایک رات گاڑی پر دونوں رہے مگر سوائے کھانا کھانے کے اوقات کے کسی وقت باتیں کرنے کا موقع نہ ملا۔ ایک تو فرسٹ کلاس میں ہونے کی وجہ سے دونوں کے برتھ کافی فاصلے پر تھے، دوسرے ان کے برتھ کے اوپر والے حصّے پر ایک انگریز دراز تھا۔ ایسی حالت میں نجی اور خانگی گفتگو ناممکن ہی نہیں بلکہ محال تھی۔ کھانے کی میز پر رسٹور ان کار میں اس کا موقع نہ تھا۔ پاس ہی پاس مختلف میزوں پر دوسرے لوگ بھی بیٹھے تھے، کس طرح یہ مسئلہ چھیڑ سکتا تھا؟ غرض محمد پور کا اسٹیشن آ گیا اور یہ بیگم صاحبہ سے کچھ کہہ نہ سکے۔

وہاں اسٹیشن پر جو گاڑی رُکی تو چھوٹا بھائی مع پینس اور آٹھ کہاروں کے دکھائی دیا۔ وحید نے بیگم سے جلدی سے کہا ’’یہاں شاید تمھیں پردہ کرنا پڑے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ میں پہلے ہی سے اس کے لیے تیار ہوں اور یہ کہتے ہی بکس کھول کر برقعہ نکال کر پہن لیا۔ وحید کو اس کی خبر بھی نہ تھی کہ وہ اتنا انتظام کیے بیٹھی ہیں اس لیے اسے بہت ہی تعجب ہوا، مگر چھوٹے بھائی کی گھبرائی ہوئی صورت اور اسٹیشن پر گاڑی زیادہ نہ رُکنے کے خیال نے گفتگو کا موقع نہ دیا۔ ڈبے کے سامنے پینس لگتے ہی بیگم اس میں جلدی سے سوار کروائی گئیں اور یہ مع اپنے بھائی کے بیل گاڑی پر اسباب لدوانے کے احکام صادر کرکے گھر کے تانگے پر بیٹھ کر روانہ ہوا۔

حمید اس کا بھائی اس سے پانچ برس چھوٹا تھا۔ اس نے قصبے کے ورناکیولر اسکول سے اردو مڈل پاس کر کے تعلیم چھوڑ دی تھی اور کاشت کاری میں باپ کا ہاتھ بٹانے لگا تھا۔ اس لیے اس میں نہ تو وہ کلچر تھا جو ایک تعلیم یافتہ شخص میں پایا جاتا ہے اور نہ اس میں وہ تہذیب و شائستگی تھی جو شہروں میں رہنے اور اچھی سوسائٹی میں ملنے جلنے سے پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ ایک ناتراشیدہ اور ناصاف کردہ ہیرا تھا۔ اس پر اب تک میل چڑھا ہوا تھا۔ مگر اس دیہاتیت اور بھدّے پن میں خلوص کی آب و تاب ماند نہ ہوئی تھی۔ وہ تانگا خود ہی ہنکاتا جاتا تھا اور بھائی سے بہت ہی بے تکلفی سے باتیں کرتا جاتا تھا۔ اور موقع موقع سے بھائی کے آئی۔سی۔ایس شہری اور رئیس ہونے پر طعن بھی کرتا جاتا تھا۔ غرض اس کی باتوں نے، بچپن کے مانوس مناظر نے، وطن کے سرسبز درختوں نے اور قصبے کے ہرے بھرے کھیتوں نے وحید پر آہستہ آہستہ اثر کرنا شروع کیا۔ وہ سب سے پہلے تو یہ بھولا کہ وہ آئی۔ سی۔ایس ہے۔ پھر یہ بھولا کہ وہ بیگم سی تعلیم یافتہ رئیسہ کا شوہر ہے۔ پھر یہ بھولا کہ اس کی ہندوستان کے بڑے بڑے راجگان، مہاراجگان سے ملاقات ہے۔ پھر یہ بھولا کہ وہ ایک تعلیم یافتہ مہذب انسان ہے۔ وہ کیا کرتا۔ جن حصّوں سے وہ گزر رہا تھا ان کا ایک ایک ذرّہ، ایک ایک چپّہ، ایک ایک بوٹا اسے اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔ وہی زمین جس پر وہ کبھی ننگے پاؤں دوڑا تھا، وہی کھیت جن میں اس نے اپنے ہاتھ سے مٹر اور چنا بویا تھا، وہی درخت جن کی شاخوں پر جلد سے جلد چڑھ جانے کے مقابلے میں وہ جیتا تھا، وہی چڑیاں جن کے بچّے پکڑ لانے کے لیے وہ قصبے بھر میں مشہور تھا۔ یہ ساری چیزیں اس کا خیر مقدم کر رہی تھیں اور اپنے اپنے طور پر دل کی گہرائیوں میں اپنے اپنے گرے پڑے گھروں کو کرید کرید کر اپنے بیٹھنے کی جگہیں بنا رہی تھیں۔

ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں۔ سر سبز درخت لہلہا رہے تھے۔ ہرے کھیت آنکھوں کو تراوٹ پہنچا رہے تھے اور سوندھی سوندھی مٹی کی بومشامِ جاں کو معطر کیے دیتی تھی کہ اتنے میں مکان کی کچی دیوار دکھائی دی۔ معلوم ہوا جیسے روح کی گردن میں پھندا ڈال کر کسی نے کھینچنا شروع کیا۔ چھوٹے بھائی نے بھی گھوڑے کو چابک رسید کی۔ وہ پہلے ہی گھر دیکھتے ہی ہنہناکے قدم بڑھا چکا تھا۔ ہوا سے باتیں کرنے لگا۔ وحید کا دم اس طرح پھول رہا تھا جیسے گھوڑے کی جگہ وہ خود اس دوڑ میں شریک ہو۔ عجب نہیں کہ اس کی نظر کے تار پر اس کی روح دوڑ رہی ہو۔

بارے گھر آیا۔سامنے بڑے میاں دکھائی دیے۔ گھر پر سوائے کرتے پائجامے سلیپرکے کچھ نہ پہنتے تھے مگر آج خلاف معمول شیروانی بھی پہنے تھے اور بوٹ بھی۔ غالباً آئی۔ سی۔ایس اور تعلیم یافتہ بیگم بہو کی خاطر یہ زحمت انگیزکی تھی۔ وحید نے تانگے سے اُتر کر تسلیم کی۔انھوں نے آب دیدہ ہوکر گلے سے لگا لیا۔ باہری مکان میں قصبے کے اور بھی عمائد موجود تھے۔ ایسے بھی تھے جنھوں نے بچپن میں اس کی گوشمالی کی تھی اور ایسے بھی جو اس کے ساتھ بہت سی شرارتوں میں شریک رہتے تھے۔ سب بڑی محبت سے ملے۔ بڑے میاں نے کہا ’’گھر میں اس وقت جانے کا موقع نہیں ہے۔ وہاں دلہن اتارنے کے لیے ساری برادری کی عورتیں جمع ہیں۔ آؤ تمھیں نئے مکان میں پہنچا دیں۔ اسے دیکھ لو اور نہا دھو کرکپڑے بدل ڈالو پھر باتیں ہوں‘‘ یہ کہہ کر خانہ باغ میں لے گئے۔ وہاں وحید کے حسب خواہش پختہ کھمبوں پر ایک بنگلہ نما چھپّر ڈال دیا گیا تھا۔ بیچ میں سبز کپڑے تان تان کے مختلف دیواریں بنا دی گئی تھیں۔ یعنی اچھا خاصا صاحب کے ڈرائنگ روم، ڈریسنگ روم، سلیپنگ روم، ڈائننگ روم اور کچھ مخصوص کمرے بیگم صاحبہ کے لیے تیار تھے۔ پلنگ، کرسیاں، فرش سب چیزیں سلیقے سے لگی تھیں۔


c3.2


وحید حیرت سے اپنے والد کا منھ دیکھ کر بولا’’یہ سب سامان کس نے اتنے سلیقے سے لگا ڈالا؟‘‘انھوں نے حمید کی طرف اشارہ کرکے کہا’’جس دن سے تمھارا خط آیا ہے، بس یہ انھیں کاموں میں لگا رہا۔ پھرگاؤں بھر کے تمام جوان ساتھ تھے۔ ان ہی سبھوں نے مل کر یہ سب درست کیا ہے۔ نہ دن کو دن سمجھا ہے نہ رات کو رات۔‘‘

وحید نے بھائی کی طرف مسکرا کر دیکھا۔ وہ بولا ’’ہم دیہاتیوں کے ہاں صاحب مع میم صاحبہ کے تشریف لا رہے تھے۔ پھر ہم اتنا بھی نہ کرتے۔ آئی۔سی۔ایس جو لوگ ہوتے ہیں، ان کے ہاتھ پاؤں نازک، ان کے دل و دماغ نازک ہوتے ہیں۔ اب اگر آپ ہمارے موٹے بھدّے اور بدشکل پلنگ استعمال کرتے تو آپ کو تکلیف نہ ہوتی؟‘‘

وحید نے مسکرا کر کہا ’’ہوں، تو تم سمجھتے ہو، ہم لوگ بالکل نازک ہوتے ہیں، کیوں؟‘‘

وہ بولا ’’اور کیا؟کیا آپ میرے ساتھ کھیت گوڑ سکتے ہیں، ہل چلا سکتے ہیں؟ پانچ منٹ میں بھاگ نکلیے گا؟‘‘

وحید نے کہا ’’اچھا ذرا میں نہا لوں تو تم کو بتاتا ہوں۔‘‘

اس نے کہا ’’بہت اچھا آج ہی شام کو بھابی کے سامنے!‘‘

بیگم کا اندر کیا رِسپشن ہوا۔ کس کس طرح کی رسمیں کی گئیں۔بیبیوں نے کیا کیا فقرے کسے، کس کو پسند آئیں، خود ان پر کیا گزری اور ان کے ساتھ ماما دائیوں نے کیا رائے قائم کی۔ یہ سب تمام باتیں بیان کرنا اس مختصرافسانے میں ممکن نہیں۔ اس کے لیے ایک پورے ناول کی ضرورت ہے۔ ہاں اتنا ظاہربیں آنکھیں بھی دیکھ سکتی تھیں کہ تمام وہ احکام جو ساس نے نافذ کیے وہ خوشی خوشی بجا لائیں۔ یہاں تک کہ بڑی بی نے اپنے دیہاتی لب و لہجہ میں خود کہا کہ ’’اللہ تمھیں مانگ کوکھ سے ٹھنڈا رکھے تم نے میرا دل خوش کر دیا۔ مجھے بڑے بڑے وسواس تھے مگر مجھے ایسا جان پڑتا ہے کہ میں دن میں چراغ لے کر ڈھونڈتی تو ایسی بہو نہ مل سکتی تھی۔‘‘ نندوں نے اس پر خوب خوب فقرے کسے۔ مگر بڑی نندوں نے چھوٹیوں کو ڈانٹا، اور انھیں اپنے ساتھ اٹھا کر خانہ باغ والے مکان میں پہنچا آئیں۔ شام کو جب اعزا اور برادری کے لوگ جا چکے تو سارا گھر نئی بہو کے پاس سمٹ کر آ گیا۔ بڑے میاں رونمائی کے لیے بلائے گئے اور بیوی کو ایک بھدیسل سونے کا زیور دے کر بہو کے پاس کرسی پر بیٹھ گئے۔ بڑی بی نے کہا ’’وحید کو بھی بلا لو، اب سب رسمیں ہو گئیں۔ اب خواہ مخواہ کی شرم بے کار ہے۔‘‘ وحید و حمید بھی آئے۔ بیگم نے اپنی ایک بوڑھی ماما کی طرف دیکھا۔ اس نے خوان پر خوان لگانا شروع کیے۔ کسی میں بڑی بھاوج کے لیے جوڑا نکلا تو کسی میں نندوں کے لیے۔ تہذیب یہ کہ جس کا جوڑا ہوتا اس کے سامنے خوان لے کر خود بیگم جاتیں اور خوان رکھ کر اس طرح مؤدب کھڑی رہتیں جیسے معلوم ہوتا کوئی پجارن کسی دیوی کے سامنے بھینٹ چڑھا رہی ہے۔

میاں حمید پہلو بدل رہے تھے کہ عورتوں کو سب کچھ ملا مگر مجھ غریب کو کچھ بھی نہیں کہ اتنے میں ایک اور خوان آیا، بیگم وہ لے کر اس کی طرف بڑھیں۔ اس نے جلدی سے بڑھ کر خوان سنبھال کر رکھا۔ خود خوان پوش ہٹا کر دیکھا، خوان میں شیروانیوں اور قمیصوں کے کپڑے اور کئی پائجامے سلے ہوئے رکھے تھے۔ ان کے ساتھ مختلف قسم کے رومال، موزے، عطر، سینٹ،کنگھا، تیل اور ایک آئینہ اور کچھ روپے بھی رکھے تھے۔ حمید شرما گیا۔ بیگم نے آہستہ سے کہا ’’بھیّا پاؤں اور سر کی ناپ نہ معلوم تھی اس لیے ٹوپی اور جوتا نہ خرید سکی۔ آپ اپنی پسند کا خرید لیجیے۔‘‘

وہ ان چیزوں کو لیتے ہوئے جھجکا تو بڑے میاں نے کہا ’’اخاہ! آج آپ بھی شرما رہے ہیں۔ ارے بے وقوف تو تو چھوٹا ہے۔ بندگی کر اور سب جلدی سے سمیٹ!‘‘

اس نے جلدی سے بیگم کو تسلیم کی، روپیہ اٹھانا چاہا، ماں نے کہا ’’اور بھائی کو تسلیم نہیں!‘‘

وحید نے کہا، ’’جی روپیے تو بیگم نے دیے ہیں اور کپڑے بھی انھیں نے۔ میرا خدا شاہد ہے کہ میں یہ بھی نہیں جانتا کہ انھوں نے یہ سب سامان کب اور کیوں کر درست کیا۔‘‘

سب نے بیگم کو بڑی محبت سے دیکھا۔ انھوں نے مسکرا کر سر جھکایا۔ سب سے آخر میں دو بڑے بڑے خوان آئے۔ بیگم نے ایک ساس کے سامنے رکھا ایک سسرے کے، دونوں طرح طرح کے کپڑوں اور چیزوں سے پُر تھے اور پھر لطف یہ کہ تمام چیزیں وہی جو ان کی خاص پسند کی تھیں۔  

وحید متعجب ہو کر بول اٹھا ’’بھئی کمال کیا، یہ تمام سامان کر ڈالا اور میرے فرشتوں کو بھی خبر نہیں۔‘‘

حمید نے کہا ’’جی بھلا صاحب کو ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے کیا مطلب؟‘‘

وحید اس پر جھپٹ پڑا۔ ’’تو آج صبح سے بہت تیزیاں کر رہا ہے۔ سمجھ لیا کہ میں آئی۔ سی۔ ایس کیا ہوں کہ بالکل موم کا بن گیا ہوں کھڑا تو رہ!‘‘

وہ ہنستا ہوا یہ کہہ کر بھاگا، ’’اچھا مجھے پکڑ ہی لیجیے تو میں جانوں!‘‘

دونوں بھائیوں میں دوڑ ہونے لگی۔ وہ بار بار جھکائیاں دے کر نکل جاتا مگر وحید برابر پیچھا کرتا رہا۔ یہاں تک کہ حمید یہ سمجھ کر کہ اب گرفتار ہو جاؤں گا ایک املی کے درخت پر چڑھنے لگا۔ جب وحید اس کے نیچے آکر رک گیا تو وہ بولا ’’آئی۔ سی۔ایس صاحب! یہاں تشریف لائیے۔‘‘ وحید نے بھی جوتے کے فیتے کھول ڈالے، اور ننگے پاؤٔں ہو کر درخت پر چڑھنا شروع کیا۔ املی کا درخت بہت بڑا تھا۔ حمید تو پہلے سب سے اونچی شاخ پر چڑھ گیا۔ جب اس نے دیکھا کہ وحید اسی پر چلا آ رہا ہے تو جلدی سے وہ اس سے اُچک کر دوسری پر ہو رہا۔ مگر تابہ کے؟ وحید کی کم سنی کی مہارت کام آئی۔ اس نے بالآخر حمید کو پکڑ ہی لیا اور وہیں سے کان پکڑے نیچے اُتار لایا۔ حمید کے کھسیانے ہونے پر سارا گھر ہنستا رہا۔ مگر بیگم خاموش بیٹھی رہیں۔ وحید نے ان کی خاموشی سے ذرا سا اثر لیا۔ اپنے کپڑوں کی طرف دیکھا تو ریشمی قمیص کئی جگہ سے پھٹ چکی تھی اور پتلون کی ساری کریز خاک میں مل گئی تھی۔ مگر اس وقت اس پر فضا اور ماحول کا پورا اثر ہو چکا تھا، اس نے کچھ زیادہ پروا نہ کی۔ سامنے بہت سے بانس کٹے ہوئے پڑے تھے۔ بھائی سے بولا ’’یہ یہاں اچھے نہیں معلوم ہوتے چلو دوسرے حصّے میں پھینک آئیں۔ دیکھیں تو کتنی محنت کر سکتے ہو!‘‘

بڑے میاں نے کہا ’’نہیں بیٹا تم رہنے دو کل مزدور بلا کر ہٹا دیا جائے گا۔‘‘

اس نے مسکرا کر کہا ’’نہیں ابّا جان، یہ اپنے کو بڑا قوی سمجھنے لگا ہے آپ کے سامنے ہی آج فیصلہ ہو جائے گا۔‘‘

یہ کہہ کر حمید کے ساتھ بانسوں کے اٹھانے پر پِل پڑا۔

چشم زدن میں تقریباً سو بے چھلے بانس دونوں بھائیوں نے اُٹھا کر دوسرے حصّے میں منتقل کر دیے۔ دونوں پسینے میں شرابور مٹی سے اَٹے ہوئے کرسیوں کے پاس آکر تھک کر بیٹھ گئے۔  

بڑی بی نے پوچھا ’’حمید اب آئی۔سی۔ایس کے متعلق کیا رائے ہے؟‘‘

اس نے اپنے میلے ہاتھ سے پیشانی کا پسینہ پوچھتے ہوئے کہا ’’میری دانست میں ان سے بجائے حکومت کرنے کے مزدوروں کا کام لینا چاہیے، یہ بڑے مضبوط ہوتے ہیں۔‘‘

سب لوگ ہنس ہی رہے تھے کہ بیگم ساس سسر کو سلام کر کے اپنے کمرے میں چلی گئیں۔

وحید کو بیگم کے جاتے ہی خیال آیا کہ اس نے اپنی دیہاتیت اور بربریت کا جس طرح مظاہرہ کیا ہے اس کے بعد اس کی کوئی وقعت بیگم کی نظروں میں باقی نہیں رہ سکتی۔ اسے حد درجہ خجالت اور شرمندگی محسوس ہونے لگی اور باپ کے یہ کہنے پر کہ ’’جاؤ میاں وحید نہا کر کپڑے بدل ڈالو، اب یہ تو بالکل درختوں اور بانسوں کی نذر ہو چکے۔‘‘ اس کی کیفیت میں اور اضافہ ہو گیا۔  

وہ گردن جھکائے اس حصّے میں گیا جو حمام کرنے کے لیے مخصوص کر لیا گیا تھا اور اس نے نہا دھو کر جلدی جلدی کپڑے بدل ڈالے، پھر وہ شرمندہ اور منفعل اس کمرے میں گیا جو بیگم کے لیے مخصوص تھا۔ دیکھا تو وہ اپنے کمرے میں اس کی خاص پسند کی ساڑی پہنے کھڑکی کے سامنے ہیں۔ وحید کو ان کے انداز سے محسوس ہوا کہ بیگم اس کے افعال سے بے حد رنجیدہ ہیں۔ اس نے ڈرتے ڈرتے کہا، ’’بیگم‘‘ انھوں نے اس کی طرف پلٹ کر دیکھا وہ رک رک کر بولا، ’’بیگم میں تم سے بہت شرمندہ ہوں مگر ۔۔۔۔۔۔۔ مگر میں کیا کروں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس ماحول اور اس فضا نے۔۔۔۔۔۔۔ مجھے انسانیت کا جامہ اُتارنے پر مجبور کیا۔‘‘

انھوں نے کہا، ’’انسانیت نہ کہیے آئی۔ سی۔ ایس کا جامہ کہیے۔‘‘

علی عباس حسینی


سوالوں کے جواب لکھیے:


  1. آئی۔سی۔ایس بننے کے بعد وحید میں کیا تبدیلی آئی؟
  2. گاؤں پہنچنے سے پہلے وحید کی کیا کیفیت تھی؟
  3. ’’پودے ایک زمین سے نکال کر دوسری زمین میں لگا دینے سے اپنی نوعیت اور جنس نہیں بدل دیتے۔‘‘   اس فقرے کی وضاحت کیجیے۔
  4. بہو بیگم کے کردار کی خوبیاں بیان کیجیے۔