Skip to content
Guljareurdu  Chapter-04


کرشن چندر


c4.1

(1977 – 1914)

کرشن چندر وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ (پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ ان کی ابتدائی تعلیم پونچھ (جموں وکشمیر) میں ہوئی۔ 1930 کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور آگئے۔ فورمین کرسچین کالج میں داخلہ لے لیا۔ 1934میں پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی میں ایم۔اے کیا۔ اسی زمانے میں کرشن چندر کو آل انڈیا ریڈیو، لاہور میں ملازمت مل گئی۔ اس سلسلے میں انھوں نے کچھ وقت دہلی اور لکھنؤ میں بھی گزارا۔ اس کے بعد ان کا تعلق فلمی دنیا سے ہوگیا اور وہ اپنے آخری وقت تک ممبئی میں رہے۔ ممبئی ہی میں ان کا انتقال ہوا۔ پریم چند کے بعد جن افسانہ نگاروں نے اُردو افسانے کو نئی بلندیوں تک پہنچایا، ان میں بیدی، منٹو، عصمت چغتائی اور کرشن چندرکے نام ممتاز ہیں۔ ترقی پسند تحریک سے ان کا گہرا تعلق تھا۔ اس تعلق کا اثر ان کی کہانیوں اور ناولوں میں بہت نمایاں ہے۔

کرشن چندر نے ناول، افسانے، ڈرامے، رپورتاژ اور مضامین لکھے ہیں لیکن ان کی بنیادی حیثیت افسانہ نگار کی ہے۔ ان کے افسانوی مجموعوں میں کشمیر کی کہانیاں، طلسم خیال، زندگی کے موڑ پر، ان داتا، مہا لکشمی کا پل، پشاور ایکسپریس اور ناولوں میں ’’شکست‘‘، ’’جب کھیت جاگے‘‘،’’باون پتّے‘‘ اور ’’آسمان روشن ہے‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔ ان کی تحریروں کی مقبولیت کا اہم سبب ان کی رومانیت اور ان کا خوب صورت اندازِ بیان ہے۔ کرشن چندر نے بچوں کے لیے ’’چڑیوں کی الف لیلہ‘‘ اور ’’الٹا درخت‘‘ لکھا ہے۔ ان کی طنزیہ تحریر وں میں ’’ایک گدھے کی سرگزشت‘‘کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔  

دو فرلانگ لمبی سڑک


کچہریوں سے لے کر کالج تک بس یہی کوئی دو فرلانگ لمبی سڑک ہوگی، ہر روز مجھے اسی سڑک پر سے گزرنا ہوتا ہے، کبھی پیدل، کبھی سائیکل پر۔ سڑک کے دو رویہ شیشم کے سوکھے سوکھے اُداس سے درخت کھڑے ہیں۔ ان میں نہ حُسن ہے نہ چھاؤں، سخت کھردرے تنے اور ٹہنیوں پر گِدھوں کے جھنڈ، سڑک صاف سیدھی اور سخت ہے۔ متواتر نوسال سے میں اس پر چل رہا ہوں، نہ اس میں کبھی کوئی گڑھا دیکھا ہے، نہ شگاف، سخت پتھروں کو کوٹ کوٹ کر یہ سڑک تیار کی گئی ہے۔ اور اب اس پر کول تار بھی بچھی ہے، جس کی عجیب سی بوٗ گرمیوں میں طبیعت کو پریشان کردیتی ہے۔

c4.2

سڑکیں تو میں نے بہت دیکھی بھالی ہیں، لمبی لمبی، چوڑی چوڑی سڑکیں، بُرادے سے ڈھنپی ہوئی سڑکیں، سڑکیں جن پر سرخ بجری بچھی ہوئی تھی، سڑکیں جن کے گرد سرو و شمشاد کے درخت کھڑے تھے، سڑکیں — مگر نام گنانے سے کیا فائدہ اس طرح تو اَن گنت سڑکیں دیکھی ہوں گی۔ لیکن جتنی اچھی طرح میں اس سڑک کو جانتا ہوں کسی اپنے گہرے دوست کو بھی اتنی اچھی طرح نہیں جانتا۔ متواتر نو سال سے اسے جانتا ہوں اور ہر صبح اپنے گھر سے جو کچہریوں سے قریب ہی ہے، اُٹھ کر دفتر جاتا ہوں جو لاکالج کے پاس واقع ہے۔ بس یہی دو فرلانگ کی سڑک، ہر صبح اورہر شام، کچہریوں سے لے کر لاکالج کے آخری دروازے تک، کبھی سائیکل پر کبھی پیدل۔
اس کا رنگ کبھی نہیں بدلتا، اس کی ہیئت میں تبدیلی نہیں آتی۔ اس کی صورت میں روکھا پن بدستور موجود ہے۔ جیسے کہہ رہی ہو، مجھے کسی کی کیا پروا۔ اور یہ ہے بھی سچ۔ اسے کسی کی پروا کیوں ہو؟ سینکڑوں ہزاروں انسان، گھوڑے گاڑیاں، موٹریں اس پر سے ہر روز گزرجاتی ہیں اور پیچھے کوئی نشان باقی نہیں رہتا۔ اس کی ہلکی نیلی اور سانولی سطح اسی طرح سخت اور سنگلاخ ہے جیسے پہلے روز تھی، جب ایک یوریشین ٹھیکیدار نے اسے بنایا تھا۔  
یہ کیا سوچتی ہے؟ یا شاید یہ سوچتی ہی نہیں، میرے سامنے ہی ان نو سالوں میں اس نے کیا واقعات، حادثے دیکھے۔ ہر روز ہر لمحہ کیا نئے تماشے نہیں دیکھتی، لیکن کسی نے اسے مسکراتے نہیں دیکھا، نہ روتے ہی۔ اس کی پتھریلی چھاتی میں کبھی ایک درز بھی پیدا نہیں ہوئی۔
’’ہائے بابو، اندھے محتاج، غریب فقیر پر ترس کھاؤ۔ ارے بابا، اے بابو، خدا کے لیے ایک پیسہ دیتے جاؤ۔ ارے بابا، ارے کوئی بھگوان کا پیارا نہیں، صاحب جی میرے ننھے ننھے بچّے بِلک رہے ہیں، ارے کوئی تو ترس کھاؤ ان یتیموں پر۔‘‘
بیسیوں گدا گر اسی سڑک کے کنارے بیٹھے رہتے ہیں۔ کوئی اندھا ہے، تو کوئی لُنجا، کسی کی ٹانگ پر ایک خطرناک زخم ہے تو کوئی غریب عورت دو تین چھوٹے چھوٹے بچّے گود میں لیے حسرت بھری نگاہوں سے راہ گیروں کی طرف دیکھتی جاتی ہے۔ کوئی پیسہ دے دیتا ہے ،کوئی تیوری چڑھائے گزر جاتا ہے۔ کوئی گالیاں دے رہا ہے، حرام زادے مُشٹنڈے، کام نہیں کرتے۔ بھیک مانگتے ہیں۔
کام، بے کاری، بھیک۔
دولڑکے سائیکل پر سوار ہنستے ہوئے جارہے ہیں، ایک بوڑھا امیر آدمی اپنی شاندار فِٹن میں بیٹھا سڑک پر بیٹھی ہوئی بھکارن کی طرف دیکھ رہا ہے، اور اپنی انگلیوں سے مونچھوں کو تاؤ دے رہا ہے۔ ایک سست مضمحل کتّا فٹن کے پہیوں تلے آگیا ہے۔ اس کی پسلی کی ہڈیاں ٹوٹ گئی ہیں۔ لہو بہہ رہا ہے۔ اس کی آنکھوں کی افسردگی، بے چارگی، اس کی ہلکی ہلکی دردناک ٹیاؤں ٹیاؤں کسی کو اپنی طرف متوجہ نہیں کرسکتی۔ بوڑھا آدمی اب گدیلوں پر جھکا ہوا اس عورت کی طرف دیکھ رہا ہے جو ایک خوش نما سیاہ رنگ کی ساڑی زیب تن کیے اپنے نوکر کے ساتھ مسکراتی ہوئی باتیں کرتی جارہی ہے۔ اس کی سیاہ ساڑی کا نُقرئی حاشیہ بوڑھے کی حریص آنکھوں میں چاند کی کرن کی طرح چمک رہا ہے۔
پھر کبھی سڑک سُنسان ہوتی ہے۔ صرف ایک جگہ شیشم کے درخت کی چھدری چھاؤں میں ایک ٹانگے والا گھوڑے کو سُستا رہا ہے۔ گِدھ دھوپ میں ٹہنیوں پر بیٹھے اونگھ رہے ہیں، پولیس کا سپاہی آتا ہے۔ ایک زور کی سیٹی۔ او تانگے والے! یہاں کھڑا کیا کر رہا ہے؟ کیا نام ہے تیرا، کردوں چالان؟ ہجور۔ ہجور کا بچّہ! چل تھانے۔ ہجور؟ یہ تھوڑا ہے، اچھا جا تجھے معاف کیا۔
تانگے والا تانگے کو سرپٹ دوڑائے جارہا ہے۔ راستے میں ایک ’’گورا‘‘ آرہا ہے۔ سر پر ٹیڑھی ٹوپی ہاتھ میں بید کی چھڑی، رخساروں پر پسینہ، لبوں پر کسی ڈانس کا سُر۔
’’کھڑا کردو، کنٹونمنٹ‘‘
’’آٹھ آنے صاحب‘‘
’’ول، چھ آنے‘‘
’’نہیں صاحب‘‘
’’کیا بکٹا ہے، ٹم …‘‘
تانگے والے کو مارتے مارتے بید کی چھڑی ٹوٹ جاتی ہے، پھر تانگے والے کا چمڑے کا ہنٹر کام آتا ہے۔ لوگ اکٹھے ہو رہے ہیں، پولیس کا سپاہی بھی پہنچ گیا ہے۔ حرام زادے، صاحب بہادر سے معافی مانگو، تانگے والا اپنی میلی پگڑی کے گوشے سے آنسو پونچھ رہا ہے۔ لوگ منتشر ہوجاتے ہیں۔
اب سڑک پھر سُنسان ہے۔
شام کے دُھند لکے میں بجلی کے قمقمے روشن ہوگئے۔ میں نے دیکھا کہ کچہریوں کے قریب چند مزدور بال بکھرے، میلے لباس پہنے باتیں کررہے ہیں۔
’’بھیّا بھرتی ہوگیا‘‘
’’ہاں‘‘
’’تنخوا ہ تو اچھی ملتی ہوگی‘‘
’’ہاں‘‘
’’بُڑھؤ کے لیے کمالائے گا۔ پہلی بیوی تو ایک ہی پھٹی ساڑی میں رہتی تھی۔‘‘
’’سنا ہے، جنگ سُروع (شروع) ہونے والی ہے‘‘
’’کب سُروع ہوگی؟‘‘
’’کب؟ اس کا پتہ نہیں، مگر ہم گریب (غریب) ہی تو مارے جائیں گے‘‘
’’کون جانے گریب مارے جائیں گے کہ امیر‘‘
’’ننھا کیسا ہے؟‘‘
’’بخار نہیں ٹلتا، کیا کریں، اِدھر جیب میں پیسے نہیں ہیں اُدھر حکیم سے دوا ۔۔۔۔‘‘
’’بھرتی ہوجاؤ‘‘
’’سوچ رہے ہیں‘‘
’’رام رام‘‘
’’رام رام‘‘
پھٹی ہوئی دھوتیاں، ننگے پاؤں، تھکے ہوئے قدم، یہ کیسے لوگ ہیں۔ یہ نہ تو آزادی چاہتے ہیں نہ حُریّت۔ یہ کیسی عجیب باتیں ہیں، پیٹ، بھوک، بیماری، پیسے قمقموں کی زرد زرد روشنی سڑک پر پڑ رہی ہے۔
دو عورتیں، ایک بوڑھی ایک جوان، اُپلوں کے ٹوکرے اٹھائے خچروں کی طرح ہانپتی ہوئی گزر رہی ہیں۔ جوان عورت کی چال تیز ہے۔
’’بیٹی ذرا ٹھہر تو۔‘‘ بوڑھی عورت کے چہرے پر بے شمار جُھرّیاں ہیں۔ اس کی چال مدھم ہے۔ اس کے لہجے میں بے کسی ہے۔
’’بیٹی، ذرا ٹھہر، میں تھک گئی … میرے اللہ!‘‘
’’اماں، ابھی گھر جاکر روٹی پکانی ہے، تُو تو باولی ہوئی ہے۔‘‘
’’اچھا بیٹی، اچھا بیٹی‘‘
بوڑھی عورت جوان عورت کے پیچھے بھاگتی ہوئی جارہی ہے۔ بوجھ کے مارے اس کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں۔ اس کے پاؤں ڈگمگا رہے ہیں۔
وہ صدیوں سے اسی سڑک پر چل رہی ہے، اُپلوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے۔ کوئی اس کا بوجھ ہلکا نہیں کرتا، کوئی اسے ایک لمحہ سُستانے نہیں دیتا، وہ بھاگی ہوئی جارہی ہے، اس کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں۔ اس کے پاؤں ڈگمگا رہے ہیں۔ اس کی جُھریوں میں غم ہے…اور بھوک…اور فکر…اور   غلامی…اور   صدیوں کی غلامی۔
تین چار نو خیز لڑکیاں، بھڑکیلی ساڑیاں پہنے، باہوں میں باہیں ڈالے ہوئے جا رہی ہیں۔
’’بہن، آج شملہ پہاڑی کی سیر کریں‘‘
’’بہن، آج لارنس گارڈن چلیں‘‘
’’بہن، آج انار کلی‘‘
’’ریگل؟‘‘
’’شٹ اَپ، یو فُول‘‘
آج سڑک پر سُرخ حلوان بچھا ہے، آر پار جھنڈیاں لگی ہوئی ہیں، جا بجا پولیس کے سپاہی کھڑے ہیں۔ کسی بڑے آدمی کی آمد ہے۔ جبھی تو اسکولوں کے چھوٹے چھوٹے لڑکے نیلی پگڑیاں باندھے سڑک پر دو رویہ قطاروں میں کھڑے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں چھوٹی چھوٹی جھنڈیاں ہیں۔ ان کے لبوں پر پپڑیاں جم گئی ہیں۔ ان کے چہرے دھوپ کی شدت سے تمتما اٹھے ہیں۔ اسی طرح کھڑے کھڑے وہ ڈیڑھ گھنٹے سے بڑے آدمی کا انتظار کر رہے ہیں۔ جب وہ پہلے پہل یہاں سڑک پر کھڑے ہوئے تھے تو ہنس ہنس کر باتیں کررہے تھے۔ اب سب چُپ ہیں۔ چند لڑکے ایک درخت کی چھاؤں میں بیٹھ گئے تھے۔ اب استاد انھیں کان پکڑ کر اٹھا رہے ہیں۔ شفیع کی پگڑی کھل گئی تھی، استاد اسے گھور کر کہہ رہا ہے’’ او شفی! پگڑی ٹھیک کر۔‘‘ پیارے لال کی شلوار اس کے پاؤں میں اٹک گئی ہے اور ازار بند جوتیوں تک لٹک رہا ہے۔ ’’تمھیں کتنی بار سمجھا یا ہے پیارے لال!‘‘
’’ماسٹر جی، پانی‘‘
’’پانی کہاں سے لاؤں، یہ بھی تم نے اپنا گھر سمجھ رکھا ہے۔ دو تین منٹ اور انتظار کرو، بس ابھی چُھٹّی ہُوا چاہتی ہے۔‘‘
دو منٹ، تین منٹ، آدھ گھنٹہ۔
’’ماسٹر جی، پانی‘‘
’’ماسٹر جی، پانی‘‘
’’ماسٹر جی بڑی پیاس لگی ہے۔‘‘
لیکن اُستاد اب اس طرف متوجہ ہی نہیں ہوتے، وہ اِدھر اُدھر دوڑتے پھر رہے ہیں۔ ’’لڑکو ہوشیار ہوجاؤ۔ دیکھو جھنڈیاں اس طرح ہلانا، ابے تیری جھنڈی کہاں ہے؟ قطار سے باہر ہو جا، بد معاش کہیں کا … سواری آرہی ہے۔‘‘
موٹر سائیکلوں کی پھٹ پھٹ، بینڈ کا شور، پتلی اور چھوٹی جھنڈیاں بے دلی سے ہلتی ہوئیں۔ سوکھے ہوئے گلوں سے پژ مردہ نعرے۔
بڑا آدمی سڑک سے گزر گیا، لڑکوں کی جان میں جان آگئی ہے۔ اب وہ اُچھل اُچھل کر جھنڈیاں توڑ رہے ہیں، شور مچا رہے ہیں۔
خوانچے والوں کی صدائیں، ریوڑیاں، گرم گرم چنے، حلوہ پوری، نان، کباب۔
ایک خوانچے والا ایک طرّے والے بابو سے جھگڑ رہا ہے۔ مگر آپ نے میرا خوانچہ اُلٹ دیا۔ میں آپ کو نہیں جانے دوںگا۔ میرا تین روپے کا نقصان ہوگیا۔ میں غریب آدمی ہوں، میرا نقصان پورا کردیجیے تو میں جانے دوں گا۔
میونسپلٹی کا پانی والا چھکڑا آہستہ آہستہ سڑک پر چھڑکاؤ کررہا ہے۔ چھکڑے کے آگے جُتے ہوئے دو بیلوں کی گردنوں پر زخم پیدا ہوگئے ہیں۔ چھکڑے والا سردی میں ٹھٹھرتا ہوا کوئی گیت گانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بیلوں کی آنکھیں دیکھ رہی ہیں کہ ابھی سڑک کا کتنا حصّہ باقی ہے۔
سڑک کے کنارے ایک بوڑھا گدا گر مرا پڑا ہے۔ اس کے میلے دانت ہونٹوں کے اندر دھنس گئے ہیں۔ اس کی کھلی ہوئی بے نور آنکھیں آسمان کی طرف تک رہی ہیں۔
’’خدا کے لیے مجھ غریب پر ترس کر جاؤ رے بابا۔‘‘
کوئی کسی پر ترس نہیں کرتا۔ سڑک خاموش اور سنسان ہے۔ یہ سب کچھ دیکھتی ہے، سنتی ہے، مگر ٹس سے مس نہیں ہوتی۔ انسان کے دل کی طرح بے رحم، بے حِس اور وحشی ہے۔
انتہائی غیظ و غضب کی حالت میں اکثر میں سوچتا ہوں کہ اگر اسے ڈائنامیٹ لگا کر اُڑادیا جائے تو پھر کیا ہو۔ ایک بلند دھماکے کے ساتھ اس کے ٹکڑے فضا میں پرواز کرتے نظر آئیں گے۔ اس وقت مجھے کتنی مسرّت حاصل ہوگی، اس کا کوئی اندازہ نہیں کرسکتا۔ کبھی کبھی اس کی سطح پر چلتے چلتے میں پاگل سا ہو جاتا ہوں۔ چاہتا ہوں کہ اسی دم کپڑے پھاڑ کر ننگا سڑک پر ناچنے لگوں اور چِلّا چِلّا کر کہوں’’ میں انسان نہیں ہوں، میں پاگل ہوں، مجھے انسانوں سے نفرت ہے۔ مجھے پاگل خانے کی غلامی بخش دو۔ میں ان سڑکوں کی آزادی نہیں چاہتا۔‘‘
سڑک خاموش ہے اور سنسان۔ بلند ٹہنیوں پر گدھ بیٹھے اونگھ رہے ہیں۔ یہ دو فرلانگ لمبی سڑک۔
کرشن چندر

سوالوں کے جواب لکھیے:


  1. تانگے والے کو گورے نے کیوں مارا؟
  2. بڑے آدمی کے استقبال کی افسانہ نگار نے کیا جھلک دکھائی ہے؟
  3. کہانی کے اس منظر کا بیان کیجیے جس نے آپ کو سب سے زیادہ متاثر کیا ؟
  4. سڑک کے کسی ایسے منظر کا بیان کیجیے جو عام طور پر سڑکوں پر دیکھنے کو ملتا ہے لیکن اس کہانی میں اس کا ذکر نہیں ہے۔
c4.3