دیوندر ستیارتھی پنجاب کے ضلع سنگرور میں پیدا ہوئے۔ 1925میں میٹرک کا امتحان پاس کیا اور ڈی اے وی کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ 1927میں تعلیم ادھوری چھوڑ دی اورہندوستان کے مختلف علاقوں میں جگہ جگہ گھوم کر انھوں نے ہزاروں لوک گیت جمع کیے۔ کچھ عرصے تک دہلی میں انڈین فارمنگ کی ادارت کی۔ 1948سے 1956تک آج کل (ہندی) کے مدیر رہے۔ 1976میں انھیں پدم شری کے اعزاز سے نوازا گیا۔ ان کا انتقال دہلی میں ہوا۔
دیوندر ستیارتھی کی پہلی اردو کہانی ’اور بانسری بجتی رہی‘ لاہور کے مشہور رسالے ’ادب لطیف‘ میں شائع ہوئی۔ ’نئے دیوتا‘، ’اور بانسری بجتی رہی‘ اور ’چائے کا رنگ‘ ان کے اردو افسانوں کے مجموعے ہیں۔ ان کے علاوہ ’دھرتی گاتی ہے‘، ’میں ہوں خانہ بدوش‘ اور ’گائے جا ہندوستان‘ لوک گیتوں کے مجموعے ہیں۔ دیوندر ستیارتھی نے اردو کے علاوہ ہندی اور پنجابی میں بھی علمی اور ادبی سرمایہ چھوڑا ہے۔ ان کے افسانوں کی بنیاد دیو مالاؤں اور لوک گیتوں پر ہے۔
اَنّ دیوتا
’’تب اَنّ دیو، برہما کے پاس رہتا تھا۔ ایک دن برہما نے کہا’’ او بھلے دیوتا! دھرتی پر کیوں نہیں چلا جاتا؟‘‘ ان الفاظ کے ساتھ چنتو نے اپنی دل پسند کہانی شروع کی۔ گونڈوں کو ایسی بیسیوں کہانیاں یاد ہیں۔ وہ جنگل کے آدمی ہیں اور ٹھیک جنگل کے درختوں کی طرح اُن کی جڑیں دھرتی میں گہری چلی گئی ہیں۔ مگر وہ غریب ہیں، بھوک کے پیدائشی عادی۔ چنتو کو دیکھ کر مجھے یہ گمان ہوا کہ وہ بھی ایک دیوتا ہے جو دھرتی کے باسیوں کو اَنّ دیو کی کہانی سُنانے کے لیے آ نکلا ہے۔ گہری تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ الاؤ کی روشنی میں بغل کی پگڈنڈی کسی جوان کی مانگ معلوم ہوتی تھی۔ گھوم پھر کر میری نگاہ چنتو کے جُھریوں والے چہرے پر جم جاتی۔
کہانی جاری رہی … دیوتا دھرتی پر کھڑا تھا، پر وہ بہت اونچا تھا۔ بارہ آدمی ایک دوسرے کے کندھوں پر کھڑے ہوتے، تب جاکر وہ اُس کے سر کو چھو سکتے۔
ایک دن برہما نے سندیس بھیجا۔ یہ تو بہت کٹھن ہے، بھلے دیوتا! تجھے چھوٹا ہونا ہوگا۔ آدمی کا آرام تو دیکھنا ہوگا۔ دیوتا آدھا رہ گیا۔ برہما کی تسلّی نہ ہوئی۔ آدمی کی مشکل اب بھی پوری طرح حل نہ ہوئی تھی۔ اُس نے پھر سندیس بھیجا اور دیوتا ایک چوتھائی رہ گیا۔ اب صرف تین آدمی ایک دوسرے کے کندھوں پر کھڑے ہوکر اس کے سر کو چھو سکتے تھے۔
پھر آدمی خود بولا ’’تم اب بھی اونچے ہو، میرے دیوتا!‘‘… ان دیو اور بھی چھوٹا ہوگیا۔ اب وہ آدمی کے سینے تک آنے لگا۔ پھر جب وہ کمر تک رہ گیا تو آدمی بہت خوش ہوا۔
اُس کے جسم سے بالیں پھوٹ رہی تھیں۔ معلوم ہوتا تھا کہ سونے کا پیڑ کھڑا ہے ۔ آدمی نے اُسے جھنجھوڑا اور بالیں دھرتی پر آگریں۔
میں نے سوچا، اور سب دیوتاؤں کے مندر ہیں۔ مگر اَنّ دیو، وہ کھیتوں کا قدیمی سرپرست کُھلے کھیتوں میں رہتا ہے، جہاں ہر سال دھان اگتا ہے۔ نئے دانوں میں دودھ پیدا ہوتا ہے۔
ہلدی بولی ’’اب تو دیوتا دھرتی کے بیچوں بیچ کہیں پاتال کی طرف چلا گیا ہے۔‘‘
چنتو نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنی بیوی کی طرف دیکھا۔ ایسا بھیانک کال اس نے اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھا تھا۔ دھرتی بنجر ہوگئی تھی۔
سال کے سال ہلدی اَنّ دیو کی منّت مانتی تھی۔ ایک ہلدی پر ہی بس نہیں، ہر ایک گونڈ عورت یہ منّت ماننا ضروری سمجھتی ہے۔ مگر اس سال دیوتا نے ایک نہ سُنی۔ کس بات نے دیوتا کو ناراض کردیا؟ غصّہ تو اور دیوتاؤں کو بھی آتا ہے مگر اَنّ دیو کو تو غصہ نہ کرنا چاہیے۔
ہلدی کی گود میں تین ماہ کا بچہ تھا، مَیں نے اُسے اپنی گود میں لے لیا۔ اس کا رنگ اپنے باپ سے کم سانولا تھا۔ اُسے دیکھ کر مجھے تازہ پہاڑی شہد کا رنگ یاد آرہا تھا۔
ہلدی بولی ’’ہائے اَنّ دیو نے میری کوکھ ہری کی اور وہ بھی بھوک میں اور لاچاری میں۔‘‘
بچّہ مسکراتا تو ہلدی کو یہ خیال آتا کہ دیوتا اُس کی آنکھوں میں اپنی مسکراہٹ ڈال رہا ہے۔ پر اس کا مطلب؟ دیوتا مذاق تو نہیں کرتا؟ پھر اُس کے دل میں غصّہ بھڑک اٹھتا۔ دیوتا آدمی کو بھوکوں بھی مارتا ہے اور مذاق اڑا کر اس کا دل بھی جلاتا ہے۔
چنتو بولا ’’اس کی کہانی جو مَیں آج کی طرح سَو سَو بار سنا چکا ہوں، اب مجھے نِری گپ معلوم ہوتی ہے۔‘‘
ہلدی یہ نہ جانتی تھی کہ چنتو کا طنز بہت حد تک سطحی ہے۔ یہ وہ بھی سمجھنے لگی تھی کہ دیوتا روز روز کے پاپ ناٹک سے ناراض ہوگیا ہے۔
’’اَنّ دیو کو نہیں مانتے پر بھگوان کو تو مانو گے۔‘‘
’’میرا دل تو تیرے بھگوان کو بھی نہ مانے۔ کہاں ہیں اس کے میگھ راج؟ اور کہاں سورہا ہے وہ خود؟ ایک بُوند بھی تو نہیں برستی!‘‘
’’دیوتا سے ڈرنا چاہیے اور بھگوان سے بھی۔‘‘
چنتو نے سنبھل کر جواب دیا ’’ضرور ڈرنا چاہیے… اور اب تک ہم ڈرتے ہی رہے ہیں!‘‘
’’اب آئے ناسیدھے رستے پر۔ جب میں چھوٹی تھی ماں نے کہا تھا، دیوتا کے غصّے سے سدا بچیو!‘‘
’’اری کہا تو میری ماں نے بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ پر کب تلک لگا رہے گا یہ ڈر، ہلدی؟‘‘
دیوتا پھر خوش ہوگا اور پھر لہرائے گا وہی پیارا پیارا دھان؟
کال میں پیدا ہوئے بچّے کی طرف دیکھتے ہوئے میں سوچنے لگا ’’اتنا بڑا پاپ کیا ہوگا کہ اتنا بڑا دیوتا بھی آدمی کو چھما(معاف ) نہیں کر سکتا!‘‘
کال نے ہلدی کی ساری سندرتا چھین لی تھی۔ چنتو بھی اب اپنی بہار کو بُھول رہا تھا … درخت اب بھی کھڑا تھا مگر ٹہنیاں پرانی ہوگئی تھیں اور نئی کونپلیں نظر نہیں آتی تھیں۔
ہلدی کا بچّہ میری گود میں رونے لگا۔ اُسے لیتے ہوئے اُس نے سہمی ہوئی نگاہ سے اپنے خاوند کی طرف دیکھا۔ بولی ’’یہ کال کب جائے گا؟‘‘
’’جب ہم مر جائیں گے اور نہ جانے یہ تب بھی نہ جائے۔‘‘
’’یہ کنکی اور کودوں دھان کی طرح پانی نہیں مانگتے۔ یہ بھی نہ اُگے ہوتے تو ہم کبھی کے بھوک سے مرگئے ہوتے … انھوں نے ہماری لاج رکھ لی … ہماری بھی، ہمارے دیوتا کی بھی۔‘‘
’’دیوتا کا بس چلتا تو انھیں بھی اُگنے سے روک دیتا … ‘‘
’’ایسا بول نہ بولو۔ پاپ ہوگا۔‘‘
’’میں کب کہتا ہوں پاپ نہ ہو۔ ہو، سو بار ہو۔‘‘
’’نہ نہ، پاپ سے ڈرو۔ اور دیوتا کے غصہ سے بھی۔‘‘
میں نے بیچ بچاؤ کرتے ہوئے کہا ’’دوس تو سب آدمی کا ہے۔ دیوتا تو سدا نِردوس ہوتا ہے۔‘‘
رات غم زدہ عورت کی طرح پڑی تھی۔ دُور سے کسی خونی درندے کی دھاڑ گونجی۔ چنتو بولا ’’ان بھوکے شیروں اور ریچھوں کو اَنّ دیو مِل جائے تو وہ اسے کچّا ہی کھا جائیں۔‘‘
بیساکھو کے گھر روپے آئے تو ہلدی اسے بدھائی دینے آئی ’’بپتا میں پچیس بھی پانچ سَو ہیں، رامو سدا سکھی رہے۔‘‘
’’اَنّ دیو سے تو رامو ہی اچھا نکلا۔‘‘ بیساکھونے فرمائشی قہقہہ لگا کر کہا۔
چنتو بولا۔ ’’ارے یار چھوڑ اس اَنّ دیو کی بات … ‘‘
ہلدی نے اپنے خاوند کو سر سے پاؤں تک دیکھا۔ اس طنز سے اُسے چڑ تھی۔ ’’دیوتا کتنا بھی بُرا کیوں نہ ہو جائے۔ آدمی کو تو اپنا دل ٹھیک رکھنا چاہیے، اپنا بول سنبھالنا چاہیے۔‘‘
غصے میں جلی بھنی ہلدی اپنی جھونپڑی کی طرف چل دی۔ بیساکھو نے پھر قہقہہ لگایا۔ ’’واہ بھئی واہ۔ اب بھی اَنّ دیو کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔‘‘
چنتو بولا ’’جپنے دو اُسے اَنّ دیو کی مالا۔ ‘‘
رامو بمبئی میں تھا۔ چنتو سوچنے لگا، کاش اس کا بھی بھائی وہاں ہوتا اور پچیس روپیے نہیں تو پانچ ہی بھیج دیتا۔
بیساکھو نے پوسٹ مَین کو ایک دونّی دے دی تھی۔ مگر اُسے اس بات کا افسوس ہی رہا۔ باربار وہ اپنی نقدی گنتا اور ہر بار دیکھتا کہ اُس کے پاس چوبیس روپیے چودہ آنے ہیں، پچیس روپیے نہیں۔
جھونپڑی میں واپس آیا تو چنتو نے ہلدی کو بے ہوش پایا۔ اُس نے اُسے جھنجھوڑا۔ ’’رسوئی کی بھی فکر ہے۔ اب سو نہیں، ہلدی۔ دوپہر تو ڈھل گئی…‘‘
اُس وقت اگر خود اَنّ دیو بھی اُسے جھنجھوڑتا تو ہوش میں آنے کے لیے اُسے کچھ دیر ضرور لگتی۔
تھوڑی دیر بعد ہلدی نے اپنے سرہانے بیٹھے خاوند کی طرف گھور کر دیکھا۔ چنتو بولا ’’آگ جلاؤ، ہلدی! … دیکھتی نہیں ہو’’ بھوک سے جان نکلی جارہی ہے۔‘‘
’’پکاؤں اپنا سر؟‘‘
چنتو نے ڈرتے ڈرتے سات آنے ہلدی کی ہتھیلی پر رکھ دیے اور اس کے چہرے کی طرف دیکھ کر بولا ’’یہ بیساکھو نے دیے ہیں ہلدی، اور میں سچ کہتا ہوں میں نے اُس سے مانگے نہ تھے۔‘‘
ہلدی شک بھری نگاہوں سے چنتو کی طرف دیکھنے لگی۔ کیا آدمی غریبی میں اتنا گر جاتا ہے؟ مگر چنتو کے چہرے سے صاف پتہ چلتا تھا کہ اُس نے مانگنے کی ذلیل حرکت نہیں کی تھی اور پھر جب ایک ایک کرکے سب کے سب پیسے گنے تو اس کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں … چار روز دال بھات کا خرچ اور چل جائے گا۔
’’شکر ہے۔ اَنّ دیو کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔‘‘
’’اَنّ دیو کا یا بیساکھو کا؟‘‘
’’اَنّ دیو کا، جس نے بیساکھو بھائی کے دل میں یہ پریم بھاؤ پیدا کیا۔‘‘
چنتو کا چہرہ دیکھ کر ہلدی کو سوکھے پتے کا دھیان آیا جو ٹہنی سے لگا رہنا چاہتا ہو۔ دور ایک بدلی کی طرف دیکھتی ہوئی بولی ’’کاش! بوندا باندی ہی ہوجائے۔‘‘ مگر تیز ہوا بدلی کو اڑا لے گئی اور دھرتی بارش کے لیے برابر ترستی رہی۔
کال نے زندگی کا سب لطف برباد کردیا تھا۔ معلوم ہوتا تھا دھرتی رودے گی۔ مگر آنسوؤں سے تو سوکھے دھانوں کو پانی نہیں ملتا۔ اَنّ دیو کو یہ شرارت کیسے سُوجھی؟ مان لیا کہ وہ خود کسی وجہ سے کسانوں پر ناراض ہوگیا ہے مگر بادلوں کا تو کسانوں نے کچھ نہیں بگاڑا تھا۔ وہ کیوں نہیں گھِر آتے؟ کیوں نہیں برستے؟ کاش وہ دیوتا کی طرف داری کرنے سے انکار کردیں۔
چار ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔
اُس روز یہاں دو تین سو گونڈ جمع ہوئے۔ پھڈکے صاحب اور منشی جی دھان بانٹ رہے تھے۔ اپنے حصّے کا دھان پاکر ہر کوئی دیوتا کی جے مناتا — اَنّ دیو کی جے ہو۔
چنتو گاؤں کی پنچایت کا دایاں بازو تھا۔ دھان بانٹنے میں وہ مدد دے رہا تھا۔ لوگ اس کی طرف احسان مندانہ نگاہوں سے دیکھتے اور وہ محسوس کرتا کہ وہ بھی ایک ضروری آدمی ہے۔مگر لوگ دیوتا کی جے جے کار کیوں مناتے ہیں؟ کہاں ہے ؟ … وہ خود بھی شاید دیوتا ہے … اور شاید اَنّ دیو سے کہیں …‘‘
ہلدی نے سوچا کہ یہ دھان شاید اَنّ دیو نے بھیجا ہے۔ اُسے دُکھیارے گونڈوں کا خیال تو ضرور ہے۔ مگر جب اُس نے پھڈ کے صاحب اور منشی جی کو حلوا اڑاتے دیکھا تو وہ کسی گہری سوچ میں ڈوب گئی۔ پہلے تو اُس کے جی میں آئی کہ حلوے کا خیال اب آگے نہ بڑھے۔ پر یہ خیال بادل کی طرح اس کے ذہن پر پھیلتا چلا گیا۔
قحط سبھا سے ملا ہوا دھان کتنے دن چلتا؟
چنتو کے چہرے پر موت کی دُھندلی پرچھائیاں نظر آتی تھیں، مگر وہ دیوتا سے نہ ڈرتا تھا۔کبھی کبھی گھٹنوں کے بل بیٹھا گھنٹوں غیر شعوری طور پر گالیاں دیا کرتا۔ میں نے سمجھا کہ وہ پاگل ہو چلا ہے۔ دو چار بار میں نے اُسے روکا بھی۔ مگر یہ میرے بس کی بات نہ تھی۔ وہ دیوتا کو اپنے دل سے نکال دینا چاہتا تھا۔ مگر دیوتا کی جڑیں اس کے جذبوںمیں گہری چلی گئی تھیں۔
ایک دن چنتو بہت سویرے اٹھ بیٹھا اور بولا ’’دیوتا اب دھنوانوں کا ہوگیاہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاپی دیوتا! اری میں تو نہ مانوں ایسے دیوتا کو۔‘‘
’’پر نہیں، میرا دیوتا تو سب کا ہے۔‘‘
’’سب کا ہے۔ اری پگلی، یہ سب گیان جھوٹا ہے۔‘‘
’’پر دیوتا تو جھوٹا نہیں۔‘‘
’’توکیا وہ بہت سچا ہے؟ سچا ہے تو برکھا کیوں نہیں ہوتی؟‘‘
’’دیوتاکو بُرا کہنے سے دوس ہوتا ہے۔‘‘
’’ہزار بار ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اب ہمارے کھیتوں میں کیوں آئے گا؟ وہ دھنوانوں کی ھوری کچوری کھانے لگا ہے۔نردھن گونڈوں کی اب اُسے کیا پرواہے؟‘‘
چنتو کی نکتہ چینی ہلدی کے من میں غم گھول رہی تھی۔اُس نے جھونپڑی کی دیوار سے ٹیک لگالی اور دھیرے دھیرے اچھے وقتوں کو یاد کرنے لگی، جب بھوک کا بھیانک منہ کبھی اتنا نہ کھُلا تھا۔وہ خوشی پھر لَوٹے گی، دیوتا پھر کھیتوں میں آئے گا۔اس کی مسکراہٹ پھر نئے دانوں میں دودھ بھردے گی۔اس کے من میں عجب کشمکش جاری تھی۔دیوتا !۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاپی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ نہیں تو وہ باہر چلا گیا تو کیا ہوا۔کبھی تو اُسے دیا آئے گی ہی۔
ہلدی سنبھل کر بولی ’’سچ مانو، میرے پتی، دیوتا پھر آئے گا یہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
چنتو کا بول اور بھی تیکھا ہوگیا۔ ’’اری اب بس بھی کر۔ تیرا دیوتا کوئی سانپ تھوڑی ہے جو تیری بین سُن کر بھاگا چلا آئے گا؟‘‘
اُس دن راموبمبئی سے لوٹ آیا۔اسے دیکھ کر ہلدی کی آنکھوں کو ایک نئی زبان مِل گئی۔بولی ’’سناؤ، رامو بھائی بمبئی میں دیوتا کو تو تم نے دیکھا ہوگا۔‘‘
رامو خاموش رہا۔
میراخیال تھا کہ رامو نے بمبئی میں مزدورسبھا کی تقریریں سن رکھی ہوں گی اور وہ صاف صاف کہہ دے گا کہ اَنّ آدمی آپ اُپجاتا ہے اپنے لہوسے، اپنے پسینے سے۔اگرآدمی، آدمی کا لہوچوسنا چھوڑدے تو آج ہی سنسار کی کایا پلٹ جائے۔کال تو پہلے سے پڑتے آئے ہیں۔بڑے بڑے بھیانک کال۔مگراب سرمایہ دار روز روز کسانوں اور مزدوروں کا لہو چوستے ہیں اور غریبوں کے لیے اب سدا ہی کال پڑا رہتا ہے۔اور یہ کال چھومنترسے نہیں جانے کا۔اس کے لیے تو سارے سماج کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے۔
ہلدی پھربولی ’’رامو بھائی! چپ کیوں سادھ لی تم نے؟۔۔۔۔۔۔ہمیں کچھ بتادوگے تو تمہاری وِدّیا تو نہ گھٹ جائے گی۔بمبئی میں تو بہت برکھا ہوتی ہوگی۔پانی سے بھری کالی اُودی بدلیاں گھِرآتی ہوں گی۔۔۔۔۔۔۔۔اور بجلی چمکتی ہوگی ان بدلیوں میں رامو!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور وہاں بمبئی میں دیوتا کورتی بھرکشٹ نہ ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
راموکے چہرے پر مسکراہٹ پیدا ہونے کے فوراً بعد کسی قدر سنجیدگی میں بدل گئی۔وہ بولا ’’ہاں ہلدی! اَنّ دیو اب بمبئی کے محلوں میں رہتا ہے۔۔۔۔۔۔روپوں میں کھیلتا ہے۔۔۔۔۔۔بمبئی میں۔‘‘ ہلدی کچھ نہ بولی۔شاید وہ اُن کے متعلق سوچنے لگی جب ریل ادھر آنکلی تھی اور اَنّ دیو پہلی گاڑی سے بمبئی چلا گیا تھا۔
آنسو کی ایک بوند جو ہلدی کی آنکھ میں اٹکی ہوئی تھی، اس کے گال پر ٹپک پڑی۔بڑے آسمان پر بادل جمع ہورہے تھے۔میں نے کہا ’’آج ضروردھرتی پر پانی برسے گا۔‘‘
ہلدی خاموشی سے اپنے بچّے کو تھپکنے لگی۔شاید وہ سوچ رہی تھی کہ کیا ہوا اگر دیوتا کو وہاں سُندریاں مِل جاتیں ہیں۔کبھی تو اُسے گھر کی یاد ستائے گی ہی اور پھر وہ آپ ہی آپ اِدھر چلا آئے گا۔
دیوندرستیارتھی
سوالوں کے جواب لکھیے:
- برہما نے اَنّ دیوتا کو کیا سندیس (پیغام) بھیجا؟
- چنتو اَن دیوتا سے ناراض کیوں رہتا تھا؟
- مصنف نے کہانی کے آخری حصّے میں کال کا ذمہ دار کسے ٹھہرایا ہے اور کیوں؟