Skip to content
Guljareurdu  Chapter-06


احمد ندیم قاسمی


c6.1

(2006 – 1916)

احمدندیم قاسمی ضلع شاہ پور (پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم آبائی گاؤں ہی میں ہوئی۔ 1935میں بی۔اے۔کی ڈگری حاصل کی اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں ملازمت کرتے رہے۔ 1942میں ’’تہذیبِ نسواں‘‘ اور ’’پھول‘‘ کے ایڈیٹر رہے۔ وہ ’’ادبِ لطیف‘‘ اور ’’نقوش‘‘ کے بھی مدیر رہے۔ انھوں نے ’’فنون‘‘ کے نام سے خود اپنا بھی ایک سہ ماہی جریدہ جاری کیا جس کے وہ آخر وقت تک مدیر رہے۔

احمد ندیم قاسمی ادب میں کئی حیثیتوں کے مالک تھے۔ وہ شاعر بھی تھے اور ایک معروف ادبی صحافی بھی ۔ ان کے نصف درجن کے قریب شعری مجموعے اور ایک درجن سے زیادہ افسانوں کے مجموعے شائع ہوئے۔ادبی مضامین اور اخباری کالم نویسی کا سلسلہ بھی برابر جاری رہا، انھوں نے سب سے زیادہ شہرت اپنے افسانوں کی وجہ سے پائی۔پنجاب کی دیہی زندگی اور عام انسانوں کے مسائل کی عکاسی کا وہ غیرمعمولی سلیقہ رکھتے تھے۔اسی لیے عام پڑھنے والوں میں ان کی کہانیاں بہت مقبول تھیں۔

احمد ندیم قاسمی کا تعلق ایک روایتی مذہبی خاندان سے تھا۔ترقی پسند تحریک سے بھی انھوں نے اپنی ترجیحات کے ساتھ رابطہ قائم رکھا۔ ان کے اس ذہنی رویہ کے اثرات ان کی تخلیقات میں صاف دکھائی دیتے ہیں۔

سُلطان

دادا کے بائیں پنجے میں سلطان کی کھوپڑی تھی اور دائیں میں لاٹھی جوپٹری کے پکّے فرش پر ٹھن ٹھن بجے جارہی تھی۔سلطان ذرا سا رُکا تو دادا جلدی سے بولنے لگا ’’ہے بابوجی۔ اندھے فقیر کو——‘‘

’’نہیں نہیں دادا‘‘ سلطان بولا ’’بابونہیں ہے۔مداری کا تماشا ہورہا ہے۔‘‘

’’تیرے مدارکی——‘‘ گالی کو مکمل کرنے سے پہلے ہی دادا پر کھانسی کا دورہ پڑا اور وہ سلطان کے سرپر رکھے ہوئے ہاتھ کو اپنے سینے پر رکھ کر کھانسی کے ایک لمبے چکر میں ڈوب گیا۔

جب تک داد ا کی سانس معمول پر آئی، سلطان مداری کی ٹوکری کے نیچے رکھے ہوئے چیتھڑوں کو سفید براق رنگ کے دوموٹے موٹے کبوتروں میں بدلتا دیکھ چکا تھا۔

دادا نے اپنا بایاں بازو ہوا میں پھیلاکر پوچھا ’’کہاں گیا تو؟‘‘

سلطان نے فوراً اپنا سردادا کے پنجے میں تھمادیا اور وہ پٹری پر چلنے لگے۔

ایک جگہ دادا کی لاٹھی بجلی کے کھمبے سے ٹکرائی تو کھمبا بج اُٹھا اور سلطان بولا ’’دادا!سنا؟ کھمبا کیسا بولا؟‘‘

’’ہاں‘‘ دادا رُک گیا اور کھمبے کو ایک بار بجانے کی کوشش کی مگرنشانہ چوک گیا۔ ’’کھمبے بولتے ہیں۔ لے ذرا سا بجالے۔‘‘

سلطان نے دادا کی لاٹھی کھمبے پر ماری اور دادا بولا ’’دیکھا؟ جب میں تمھاری طرح چھوٹا سا تھا تو دیر دیر تک کھمبوں پر کان رکھے کھڑا رہتا تھا۔ان دنوں کھمبوں میں میمیں انگریزی بولتی تھیں۔‘‘ پھر دادا نے میموں کی نقل کی۔ ’’یُوگڈ۔یُوبیڈ۔‘‘

’’میمیں بولتی تھیں کھمبوں میں؟‘‘سلطان حیران رہ گیا۔ ’’آج کل کون بولتا ہے دادا؟‘‘ پھر ایک دم سلطان کا لہجہ بدلا اور اس نے سرگوشی میں دادا سے کہا ’’دوبابو آرہے ہیں دادا۔‘‘

دادا جلدی جلدی بولنے لگا ’’بابوجی۔اندھے فقیرکو راہِ مولا ایک روٹی کے پیسے دیتے جاؤ۔اللہ تمھیں ترقیاں دے۔اللہ تمھیں بیٹے اور پوتے دے۔‘‘

ایک بابو قہقہ مارکر بولا ’’یہ بڈھا تو خاندانی منصوبہ بندی کے خلاف پروپیگنڈا کرتا پھرتا ہے۔‘‘ پھر دونوں زور زور سے ہنستے ہوئے گذرگئے ۔

’’چلے گئے!‘‘سلطان نے آہستہ سے کہا پھر ذراسارُک کر اس نے بابوؤں کو گالی دے دی۔

دادا نے اپنے پنجے کوسلطان کی کھوپڑی پر دبایا۔ ’’پھروہی بک بک۔ کل کیا کہا تھا میں نے ؟ کبھی کسی نے سُن لیا تو اِدھر کا منھ اُدھرلگادے گا۔‘‘

سلطان چپ چاپ دادا کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔کچھ دیر کے بعد بولا ’’میرے سرپرجہاں تمہارا انگوٹھا ہے نا دادا۔ وہاں ذرا سا کھجادو۔‘‘

دادا نے اپنا انگوٹھا سلطان کی کنپٹی پر زور سے رگڑا۔

’’ سلطان۔‘‘ خاصی دیر کے بعد دادا بولا۔ ’’کیا بات ہے آج تو تم کہیں رُکتے ہی نہیں،آج بابولوگ کہاں چلے گئے؟‘‘

’’مرگئے‘‘ سلطان نے جواب دیا۔پھر یکایک رُک گیا اور بولا ’’آج کون سا دن ہے دادا؟‘‘

’’میں کیا جانوں بیٹا۔‘‘ دادا بولا۔ ’’تم دِن یادرکھا کرو نا۔میرے لیے تو دن رات دونوں برابر ہیں۔‘‘ دادا نے ذراسا رُک کر سوچاپھربولا۔

’’پرسوں تم مجھے نیلا گنبدکی مسجدمیں لے گئے تھے نا؟ پرسوں جمعہ تھا۔ اس حساب سے تو آج اتوار ہے۔ بیڑا غرق ہو اس اتوار کا۔آج تو بابولوگ اپنے گھروں میں بیٹھے بیوی بچوں سے کھیل رہے ہوں گے۔‘‘

سلطان یوں دم بخود کھڑا رہ گیا جیسے کوئی زبردست حادثہ ہوگیا ہے۔ اچانک ٹن کی آواز آئی۔کسی راہ چلتے نے سلطان کے ہاتھ کے کٹورے میں ایک پیسہ ڈال دیا تھا۔

’’کچھ ملا؟ کیا ملا؟ ‘‘دادا نے پوچھا۔

’’ایک پیسہ ہے۔‘‘ سلطان بولا۔ ’’چھوٹے والا۔ نئے والا۔‘‘

دادا نے اپنا پنجہ سلطان کے سرپر گھمایا۔ ’’جاکوئی چیز لے کر کھالے۔ جا۔ میں یہیں کھڑا ہوں۔‘‘

’’ایک پیسے کا تو کوئی کچھ نہیں دیتا دادا‘‘ سلطان بولا۔ ’’دو تین ہوگئے۔ گنڈیری کھاؤں گا۔‘‘

دادا نے سلطان کے سرپر سے ہاتھ اٹھاکر جیب میں ڈالا۔ ’’لے یہ دو نئے پیسے کل کے بچے رکھے ہیں۔کوئی چیز کھالے۔ تونے صبح سے کچھ کھایا بھی نہیں۔بچوں کو تو بڑی بھوک لگتی ہے۔ جا۔‘‘

سلطان نے پیسے لے لیے تو دادا بولا۔ ’’جلدی سے آجا۔ اچھا میں یہیں کھڑا ہوں۔کہاں کھڑا ہوں میں؟‘‘

’’ذرا سا بائیں کوہوجا دادا ‘‘ سلطان نے دادا کا ہاتھ پکڑکر کہا۔ ’’کھمبے کے ساتھ لگ جا۔‘‘

دادا کھمبے سے لگ کرکھڑا ہوگیا۔وہ دیر تک یوںہی کھڑا رہا۔پھروہ کھمبے پر کان رکھ کر جیسے کچھ سننے لگا اور مسکرانے لگا۔ یکایک وہ چونک سا اٹھا اور سلطان کو پکارنے لگا۔ ’’سلطان۔ اے سلطان۔‘‘ پھر وہ اُسے گالیاں دینے لگا۔ ’’او سلطان! تو کہاں جاکر مرگیا؟‘‘ کوئی جواب نہ پاکر وہ اِدھر اُدھر گھوم کر بولا۔’’ اے بھئی، خدا کے بندہ! میرا چھوٹا سا پوتا ادھر کہیں سے پیسے دو پیسے کی کوئی چیز لینے گیا ہے۔سلطان نام ہے۔ کہیں تانگے موٹر کے نیچے تو نہیں آگیا بد نصیب کی اولاد۔‘‘ پھر وہ چلّادیا۔ ’’اوسلطان۔‘‘

’’آیا دادا۔ ‘‘ دور سے سلطان کی آواز آئی۔مگرزور سے چیخنے کی وجہ سے دادا کے کھانسی چھوٹ گئی۔

دادا کی سانس معمول پر آنے لگی تو اس نے پلٹ کر جیسے کھمبے سے پوچھا۔ ’’کہاں مرگیا تھا تو؟‘‘

سلطان نے دادا کا بایاں ہاتھ اٹھا کر اپنے سرپر رکھ لیا۔ ’’مداری تماشا دکھا رہا تھا۔پیٹ سے گولے نکال رہا تھا۔‘‘

دادانے اپنے پنجے کو سلطان کی کھوپڑی پریوں دبایا جیسے اسے اوپر اٹھالے گا۔ ’’چل گھرچل۔ وہاں میں تجھے مداری کا تماشا دکھاؤں۔ یہ نہیں سوچا کہ میں اندھا اپاہج یہاں رستے میں کھڑا ہوں۔‘‘

سلطان چُپ چاپ چلنے لگا۔ کچھ دیر بعد دادا نے نرمی سے پوچھا ’’کیا کھایا؟‘‘

’’گنڈیریاں‘‘ سلطان بولا۔

’’ ارے بدبخت گنڈیریاں تو پانی ہوتی ہیں۔‘‘ دادا پھر غصّے ہونے لگا۔ ’’چنے کھالیتا تو دوپہر تک کا سہارا تو ہوجاتا۔‘‘

سلطان چپ چاپ چلتا رہا۔

’’کٹورا ہاتھ میں لٹکاتو نہیں رکھا؟‘‘ دادا نے پوچھا۔

’’نہیں دادا‘‘ سلطان بولا۔

’’ہاں‘‘ دادا نے نرمی سے نصیحت کی۔ ’’اُٹھائے رکھا کرو۔لٹکا رہے تو لوگ سمجھتے ہیں یہ بھکاری نہیں ہیں۔سودا لینے چلے ہیں۔‘‘

سلطان چہکنے لگا۔ ’’ایک بار میں کٹورے میں تیل لینے جارہا تھا تو ایک بابونے اس میں دونّی ڈال دی تھی۔یاد ہے دادا؟‘‘

’’ہاں‘‘ دادا بولا۔ ’’پر ایسا کم ہوتا ہے ایسے بابوکم ہوتے ہیں۔‘‘

’’دادا‘‘ سلطان نے کہا۔ ’’انگوٹھے والی جگہ کو ایک بار پھر کھجادے۔‘‘

دادا نے سلطان کی کنپٹی پر انگوٹھا زور سے رگڑا اور بولا۔ ’’آج واپس جاکر میں زیبو بیٹی سے کہوں گا کہ میرے بچے کے سر سے جوئیں چُن لے۔

تم بھی اس کا کوئی کام کردینا۔بالٹی بھرلانا نل سے۔اچھا؟‘‘

گھرواپس آکر جب سلطان ، دادا کو کھٹولے کے پاس لاتا تو کہتا۔ ’’لے دادا بیٹھ جا۔‘‘ دادا لاٹھی کو کھٹولے کے پائے سے لگادیتا اور سلطان کے سرپر سے ہاتھ اٹھاکر کھٹولے پر بیٹھ جاتا۔سرپر سے دادا کا ہاتھ اُٹھتے ہی سلطان کو یوں محسوس ہوتا جیسے ایک دم وہ ہلکا پھلکا ہوگیا ہے اور اس کے پاؤں میں لوہے کے گولوں کی جگہ ربڑکے پہیے بندھ گئے ہیں۔ وہ چپکے سے چھپریا میں سے نکل آتا۔پھرخالہ زیبو کی آنکھ بچاکر بھاگ نکلتا اور بنگلوں سے گھرے ہوئے میدان میں پہنچ جاتا جہاں امیروں کے بچے کرکٹ کھیلتے تھے اورغریبوں کے بچے انھیں گینداٹھاکر دیتے تھے۔پھرجب وہ میدان خالی کردیتے تھے تو بیروں، خانساموں اور چپراسیوں کے بچّے بلّورکی گولیاں کھیلتے تھے۔ایک بار سلطان نے بھی اس کھیل میں شامل ہونے کی کوشش کی تھی۔چندروز تک کھیلا بھی تھا۔مگرپھرایک دن ایک لڑکے نے انکشاف کیا تھا کہ سلطان تو اندھے بھکاری کا بچہ ہے۔جب سے اسے کھیل میں شامل نہیں کیا جاتا تھا۔البتہ جب کوئی بچہ بلورکی گولی بہت دور پھینک بیٹھتا تو سلطان لپک کر یہ گولی اُٹھالاتا تھا اور مالک کے حوالے کرنے سے پہلے اسے چند باراُنگلیوں میں گھمالیتا تھا۔ایک بار دادا کے سامنے دیر تک زار زار روکر اس نے چند پیسے حاصل کر لیے تھے اور اُن سے بلورکی گولیاں خریدلایا تھا۔مگر جب میدان میں پہنچا اور بچوں نے اس کے ہاتھ میں گولیاں دیکھی تھیں، تو وہ یہ کہہ کر اس پر جھپٹ پڑے تھے کہ یہ تو ہماری گولیاں ہیں۔ وہ اس دن خوب پاؤں پٹخ پٹخ کر رویا تھا۔مگردوسرے دن پھرمیدان میں جانکلا تھا۔

ایک بار میدان میں آنے کے بعد اُسے واپس گھر جانے سے ڈرلگتا تھا کہ کہیں دادا پھرسے اس کے سرکو اپنے سوکھے ہاتھ میں جکڑکر اسے سڑک سڑک نہ لیے پھرے۔اسے معلوم تھا کہ صبح کو آنکھ کھلتے ہی اسے دادا کے ساتھ گدا کرنے کے لیے نکل جانا ہوگا۔ اس لیے کھٹولے سے اُٹھتے ہی اُسے ایسا لگتا جیسے اس نے پتھرکی ٹوپی پہن لی ہے۔دادا کے ہاتھ کی پانچوں انگلیاں درد کی پانچ لہریں بن کر اس کی کھوپڑی میں دوڑجاتیں اور جب دادا نماز پڑھنے اور دعا مانگنے کے بعد لاٹھی سنبھالتا اور سلطان کو پاس بلاکر اس کے سر پر ہاتھ رکھتا تو سلطان آدھا مرجاتا۔دادا کا یہ ہاتھ سوتے جاگتے میں اُسے بھوت کی طرح ڈراتا تھا۔یہ ہاتھ اسے گرفتار کرلیتا تھا۔اور وہ پٹری پر یوں چلتا تھا جیسے ملزم ہتھکڑیاں پہنے سپاہی کے ساتھ چلتے ہیں اور پھر قید خانے کے صدر دروازے کے جنگلے میں سے باہر سڑک پر لوگوں کو چلتا پھرتا ہنستا مسکراتا دیکھتے ہیں مگر بس دیکھتے رہ جاتے ہیں اور ان کی بصارت کے ساتھ سلاخیں صلیبوں کی طرح چمٹ جاتی ہیں۔

جب دادا کا ہاتھ اپنے سرپر رکھے وہ اس کے ساتھ ساتھ چلتا تھاتو کئی بار اس کا جی چاہا کہ گنڈیری والے کے خوانچے میں سے جوگنڈیری لڑھک کر گندی نالی کے کنارے جاکر رُک گئی تھی، وہ لپک کر کھالے۔بابو نے کیلا کھاکر جو چھلکا پھینکا ہے اُسے بڑھ کر اٹھالے اور ذرا سا چاٹ لے۔مگرجب بھی اس نے کسی بہانے دادا سے ذرا سارک جانے کو کہا تو دادا نے اپنی انگلیاں اس کے سرکی ہڈی میں گاڑدیں اور بولا ’’میں تجھے ٹہلانے نکلا ہوں کہ تو مجھے گدا کرانے نکلا ہے؟ ارے بدبخت! دن بھرمیں چار پانچ آنے کی بھیک نہ ملی تو زیبوبیٹی دو وقت کی روٹی ہمیں کیا اپنی گرہ سے کھلائے گی؟ اس کی یہی مہربانی کیا کم ہے کہ اس نے ہمارے سرچھپانے کو اپنی چھپریا دے رکھی ہے؟‘‘

کافی دنوں کی بات ہے دادا بنگلوں سے بھیک مانگنے کے بعد جب کوارٹروں کے پیچھے بیگو کو چوان کے گھروندے کے سامنے سے گذرا تو اس کی ماں زیبو لپک کر آئی اور بولی‘‘ ارے بابا۔ دعا کر۔ اللہ میرے بیٹے کی پسلی کا درد ٹھیک کردے۔میں تجھے پورا ایک روپیہ دوں گی۔‘‘

دادا نے وہیں کھڑے ہوکر دُعا مانگی تھی پھر چند روز کے بعد اس نے سلطان کو دوبارہ ان ہی بنگلوں کی طرف چلنے کو کہا۔ ابھی وہ بنگلوں تک نہیں پہنچے تھے کہ زیبو نے انھیں رستے ہی میں پکڑلیا۔دادا کو ایک روپیہ دیا اور بولی ’’مجھے بتاتو کہاں رہتا ہے بابا؟ میں جمعرات کی جمعرات تیری سلامی کو آیا کروں گی۔‘‘ پھر جب اُسے معلوم ہوا تھا کہ یہ دادا پوتا تو کسی دکان کے چھجے تلے پڑرہتے ہیں تو اس نے بیٹے سے کہہ کر چھپریا خالی کرادی تھی اور جب سے دونوں وہیں رہتے تھے۔ دن بھر کی بھیک اس کو لادیتے تھے اور وہ اسی حساب سے انھیں روٹی پکادیتی تھی۔ان دنوں دادا سے وہ اپنے بیٹے کے اولاد ہونے کی دعا کرارہی تھی۔

سلطان کو دادا کے علاوہ خالہ زیبو بھی اچھی نہیں لگتی تھی۔ وہ جب بھی دادا کو واپس چھپریا میں پہنچا کر نکلا تو زیبو سے چھپ کر نکلا۔ ورنہ وہ شورمچادیتی تھی کہ لو دیکھو۔اپنے بوڑھے اپاہج دادا کو اکیلا چھوڑکر کھیلنے چلا ہے۔

جس روز دادا دن ڈھلے ہی تھک کر واپس آجاتا اور سلطان کو کھسک جانے کا موقع نہ ملتا تو ذرا سا سستالینے کے بعد وہ پھر سے لاٹھی سنبھال کر کہتا ’’چل سلطان ۔چوک کا ایک اور چکر لگوادے۔آج کچھ زیادہ مل گیا تو کل تیری چھٹی‘‘۔ مگر یہ چھٹی کبھی نہیں ملتی تھی۔ اس لیے کہ کچھ زیادہ کبھی نہیں ملتا تھا۔

البتہ اب کچھ عرصے سے یوں ہونے لگا تھا کہ دادا کو آدھی رات کے بعد دمے کے دورے پڑتے اور وہ کھانس کھانس اور ہانپ ہانپ کر صبح تک ادھ موا ہوجاتا۔اس روز وہ گدا پر نہیں نکلتا تھا۔ مگر سلطان کو جب بھی چھٹی نہیں ملتی تھی۔وہ دن بھر بیٹھا دادا کے کندھے اور پسلیاں دباتا رہتا اور اس کے ہاتھ رکتے تو دادا کھانسی سے بھنچی ہوئی آواز میں پکارتا ’’کیوں سلطان کیا کررہا ہے؟ مرتو نہیں گیا؟‘‘

سلطان فوراً دادا کے کندھے پکڑ لیتا اور جی میں کہتا ’’اللہ کرے تو خود مرجائے دادا۔تو مرجائے تو اللہ قسم کیسے مزے آئیں۔اللہ کرے تو جلدی جلدی سے بس ابھی ابھی مرجائے اور میں بنگلے کی بی بی سے اس کے بچے کی ٹوپی کی بھیک مانگ کر اپنا سر ڈھانپ لوں۔‘‘

پھرایک روز دادا سچ مچ مرگیا۔ وہ ٹوٹتی رات سر کو گھٹنوں پر رکھے کھانستا اور ہانپتا رہا اور اس کی پسلیاں پھنکتی اور سمٹتی رہیں۔سلطان اس کے کندھے دباتارہااور اس کی ریڑھ کی ہڈی کے کناروں کو انگوٹھوں کی پوروں سے سہلاتا رہا۔پھر وہ سوگیا۔ اور جب صبح کو اس کی آنکھ کھلی تو روتی ہوئی خالہ زیبو نے اسے بتایا کہ ’’سلطان ۔تیرا دادا تو اللہ کو پیارا ہوگیا۔‘‘

ایکا ایکی سلطان کے اندر چار طرف پھلجھڑیاں سی چھوٹیں اور وہ بولا’’سچ؟‘‘ جیسے اسے یقین نہیں آرہا کہ دادا لوگ بھی مرسکتے ہیں۔پھربیگوکوچوان آس پاس کے لوگوں کو جمع کرلایا اور وہ دادا کو غسل دے کر دفنانے لے گئے۔

خالہ زیبو وقفے وقفے سے روتی رہی اور اس کی بہو نے بھی سلطان کو بڑے پیار سے دن بھر اپنے پاس بٹھائے رکھا۔ بیگو بھی قبرستان سے واپس آیا تو سلطان کے لیے گنڈیریاں لیتا آیا اور گنڈیریاں چوستے ہوئے سلطان نے سوچا۔ جب دادا مرجاتے ہیں تو کیسے مزے آتے ہیں۔

رات بھی خالہ زیبو نے اسے چھپریا میں نہ جانے دیا کہ بچہّ ہے، ڈرجائے گا۔صبح کو اس نے سلطان کو رات کی ایک چپاتی اور لسّی کا ایک پیالہ دیا۔خوب پیٹ بھرکر وہ اٹھا تو زیبونے پوچھا۔ ’’کہاں چلے بیٹا؟‘‘

سلطان کو یہ سوال بڑا عجیب سا لگا۔ہم کہیں بھی جائیں، تمھیں کیا۔ہمارا دادا تو مرگیا ہے۔

سلطان کو خاموش پاکر وہ بولی ’’نہیں بیٹا۔ کھیلتے ویلتے نہیں ہیں۔‘‘ پھر وہ اسے ہاتھ سے پکڑکر چھپریا میں لے آئی اور کٹورا اٹھا کر اس کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے بولی ’’آج کہیں سے آٹھ دس آنے کمالا۔۔۔۔ میں تجھے چاول کھلاؤں گی۔جابیٹا۔کسی آباد سڑک کا ایک پھیرا لگالے۔اللہ تیرا ساتھی ہو۔‘‘

سلطان نے ہاتھ میں کٹورا لے لیا مگر چھپریا سے باہر آتے ہی وہ رک گیا۔واپس چھپریا میں گھُسا جیسے کچھ بھول آیا ہے۔پھر وہ بلبلاکر رو دیا اور خالہ زیبو کے پھیلے ہوئے ہاتھوں سے کتراکر بھاگ نکلا۔

اس کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہورہا تھا جب اس نے سڑک پر ایک بابو کے سامنے کٹورا پھیلایا۔ ’’بابوجی اندھے فقیر کو راہِ مولا ایک روٹی۔‘‘ اس نے زار زار روتے ہوئے دادا کے الفاظ دہرا دیے۔

’’کیا تو اندھا ہے؟ ‘‘بابو نے سختی سے پوچھا۔

سلطان کو یکایک اپنی غلطی کا احساس ہوا اور گھبراکر اس نے نفی میں سرہلادیا۔پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ ’’جھوٹ بھی بکتا ہے اور روتا بھی ہے؟‘‘

بابونے ڈانٹا۔’’ نوکری کرے گا؟‘‘ اس نے پوچھا پھر سلطان کو مسلسل روتا پاکر جانے لگا۔

سلطان رُندھی ہوئی آواز میں بولا ’’ہے بابوجی۔ راہِ مولا پیسے دو پیسے دیتے جاؤ۔‘‘

بابو پلٹے بغیر آگے بڑھ گیا۔وہ کافی دور نکل گیا تھا جب روتا ہوا سلطان یکایک اس کی طرف دوڑنے لگا اور پکارنے لگا ’’بابوجی۔ ہے بابوجی۔‘‘

بابو رک گیا۔آس پاس سے گزرتے ہوئے لوگ بھی ٹھٹھک گئے۔ ’’نوکری کرے گا؟‘‘ بابونے پوچھا۔

’’بابوجی۔‘‘ ہانپتا ہوا سلطان بابوکے پاس رکا۔پھر اس کا نچلا ہونٹ ذرا سا لٹکا اور وہ بولا۔ ’’بابوجی– – دیکھیے– – میں نوکری نہیں مانگتا ۔ بھیک نہیں مانگتا۔‘‘ اس نے کٹورا زمین پر پٹخ دیا۔

’’ تو پھر مجھے کیوں پکارا؟‘‘ بابو نے جمع ہوتے ہوئے لوگوں پر ایک نظردوڑا کر ذرا تلخی سے پوچھا۔

ایک دم سلطان کی آنکھوں میں اکٹھے بہت سے آنسو آگئے۔ اس کے ہونٹ پھڑکنے لگے اور وہ بڑی مشکل سے بولا ’’بابوجی۔ خدا آپ کا بھلا کرے۔خدا آپ کو بہت بہت دے۔کیا آپ ذرا دور تک میرے سر پر ہاتھ رکھ کر چل سکیں گے؟‘‘

’’لو اور سنو۔‘‘ بابواحمقوں کی طرح ہجوم کو دیکھنے لگا۔

احمد ندیم قاسمی

سوالوں کے جواب لکھیے:


  1. سلطان کو زیبو خالہ کا باہر جانے پر ٹوکنا کیوں بُرا لگتا ہے؟
  2. سلطان کو دادا کا ہاتھ لوہے کی ٹوپی جیسا کیوں لگتا تھا اور بعد میں اس کے نہ ہونے پر اسے کیا محسوس ہوا؟
  3. سلطان نے بابوجی سے اپنے سر کے اوپر ہاتھ رکھ کر تھوڑی دور چلنے کی درخواست کیوں کی؟