Skip to content
Guljareurdu  Chapter-07


کلام حیدری


c7.1

(1994— 1930)

محمد کلام الحق حیدری ان کا پورا نام تھا۔کلام حیدری کی حیثیت سے مشہور ہوئے۔ان کی پیدائش مونگیر (بہار) میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم ایٹہ (اتر پردیش) میں حاصل کی۔ رین کالج، کلکتہ سے آئی۔ کام کا امتحان پاس کیا۔ رانچی کالج ،رانچی سے بی۔ اے اور پٹنہ یونیورسٹی سے ایم۔ اے( اردو) کی ڈگریاں حاصل کیں۔ پورنیہ ڈگری کالج میں ملازمت کی۔ انجمن ترقی اردو بہار کے جنرل سکریٹری اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے سر گرم رکن رہے۔ کلام حیدری نے ہفتہ وار ’مورچہ‘ اور ماہنامہ’ آہنگ‘ شہرگیا سے شائع کیا اور ان کی ادارت بھی کی۔

کلام حیدری کی کہانیوں کا پہلا مجموعہ ’بے نام گلیاں‘ کے عنوان سے 1955میں شائع ہوا۔ ان کے دوسرے افسانوی مجموعوں کے نام’ صفر‘، ’الف لام میم‘ اور ’گولڈن جبلی‘ ہیں۔ ’برملا‘ ان کے ادبی تبصروں کا مجموعہ ہے۔ ’ادب اور تصوف‘ اور ’تفہیمات‘ ان کی علمی کتابیں ہیں۔  

سخی

میں زکریا اسٹریٹ کے ایک گندے اور چھوٹے سے ہوٹل میں بیٹھا ہوں۔ سامنے سیاہ رنگ کے ٹیبل پر چھوٹی سی چائے کی پیالی رکھی ہے جس میں تلخ قسم کی چائے پر بالائی پڑی ہوئی ہے۔ میرے ٹیبل کے سامنے ایک لمبا سا ٹیبل ہے جس پر کئی دوسرے لوگ بیٹھے ہیں، ان میں سے ایک شخص کو میں پہچانتا ہوں۔ وہ جو شطرنجی ڈیزائن کی لنگی پہنے ہوا ہے اور جس کی گنجی بجائے بٹن کے فیتے سے بند ہونے والی ہے، میں اسے صرف اس وجہ سے پہچانتا ہوں کہ وہ مجھ سے مہینے میں ایک بار منی آرڈر لکھواتا ہے۔ کبھی پچاس، کبھی چالیس اور کبھی سو بھی۔

یہ کہاں رہتا ہے، میں نہیں جانتا۔ یہ کیا کرتا ہے، یہ بھی میں نہیں جانتا۔ یہ منی آرڈر کہاں بھجواتا ہے صرف یہ میں جانتا ہوں۔ بی بی سکینہ معرفت شرافت حسین، بیڑی دکان، پورنیہ۔

میں نے اب چائے کی پیالی اپنے ہونٹوں سے لگا لی ہے اور بالائی ہونٹوں سے الجھ رہی ہے۔ میں نے پھونک مار کر بالائی کو کچھ ہٹا دیا ہے ۔ اور تب پہلے گھونٹ کے ساتھ ایک میٹھی تلخ دھار حلق سے پیٹ میں اترتی ہوئی محسوس کر رہا ہوں۔میں نے پیالی واپس طشتری میں رکھ دی ہے۔

بی بی سکینہ کے بارے میں مجھے اتنا ضرور معلوم ہے کہ یہ اس شطرنجی ڈیزائن کی لنگی والے کی بیوی ہے اور یہ بھی جانتا ہوں کہ اس کا نام مولا ہے اور منی آرڈر لکھواتے وقت اپنا نام مولا بخش لکھواتا ہے۔ پہلے پہل جب میں نے اس سے منی آرڈر فارم پر لکھنے کے لیے اس کا پتہ پوچھا تو اس نے اپنا نام مولا بخش بتایا اورکہا، ’’معرفتی آپ اپنا ہی لکھ دیجیے۔‘‘

چنانچہ میری معرفت روپیہ بھیجنے والے کے پتے سے بھی مجھے ناواقف ہی رہنا پڑا۔

  میں نے چائے کی پیالی دوبارہ اٹھا لی ہے اور بالائی کو غور سے دیکھ رہا ہوں جو چائے پینے میں حارج ہوگی۔ میں ایک لمبا گھونٹ لیتا ہوں اور بالائی تھوڑی سی چائے سمیت میرے منھ میں چلی جاتی ہے اور میں منھ چلانے لگتا ہوں۔

بی بی سکینہ کا شوہر پست قد کا گٹھا ہوا، سیاہی مائل آدمی ہے، جس کے کان کی لو تھوڑی سی کٹی ہوئی ہے اور گالوں کی دونوں جانب کی ہڈیاں باہر نکلی ہوئی ہیں۔ چہرہ بڑا اور محنتی آدمی کا سا معلوم ہوتا ہے۔ سینہ چکلا اور گردن بھری بھری مگر اوسط درجے کی لمبی ہے ۔ آنکھوں میں چمک ہے مگر جیسے وہ دھندلاہٹوں میں ہو۔ داہنے ہاتھ کی شہادت والی انگلی کا ناخُن نکیلا اور لمبا ہے۔

میں نے پیالی پھر ہاتھ میں لے لی ہے۔ اور ہوٹل میں آنے والے دو افراد کو دیکھنے لگا ہوں جو دروازے کے پاس ہی رک گئے ہیں اور ہوٹل کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ایک کے سر پر ’دلی والوں‘ جیسی ٹوپی ہے جو بے مَیل ہے اور دوسرا ننگے سر ہے اور بال الجھے الجھے ہیں اور دونوں پھر اندر آ جاتے ہیں۔

میں نے چائے کا تیسرا اور آخری گھونٹ لے کر پیالی طشتری پر رکھ دی ہے اور اسے میز کے ایک طرف کھسکا دیا ہے۔

ہوٹل کا ریڈیو چیخ چیخ کر فلمی گانے سنا رہا ہے۔ اچانک وہ زور سے کھڑکھڑاتا ہے اور ہوٹل کا نوجوان مالک جو ٹھڈی(ٹھوڑی) ہاتھوں پر رکھے کسی اردو اخبار کو جانے کب سے پڑھ رہا تھا، چونک کر ریڈیو کا بٹن گھمانے لگتا ہے۔  

  میں ان دونوں کو دیکھ رہا ہوں جو ابھی ابھی اس ہوٹل میں داخل ہو کر بیٹھے ہیں۔ دلی والوں کی ٹوپی پہنے ہوئے شخص نے اپنے ساتھی سے کچھ مشورے کرنے کے بعد دو شیر مال اور دو سیخ کباب کا آرڈر دے دیا ہے۔ ہوٹل کا لڑکا   اس بڑے سے طاق نما سوراخ کے پاس کھڑا ہوا ہے جہاں سے ہوٹل کے باورچی خانے کا منظر دکھائی دیتا ہے۔

اور مولا بخش ایک کروٹ بیٹھے بیٹھے دوسرا پہلو بدل کر بیٹھ جاتا ہے اور باہر سے نظریں ہٹا کر وہ میری جانب دیکھنے لگتا ہے جیسے اسے میرے دیر تک بیٹھے رہنے پر تعجب ہو رہا ہو میں اس کی ٹٹولتی نگاہوں سے بچ کر پہلو بدلتا ہوں۔

اب میرے انتظار کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ جس اخبار کے ایڈیٹر نے مجھ سے یہاں ملاقات کرنے کا وعدہ کیا تھا اس کے آنے کی امید تقریباً ختم ہو چکی ہے، اور ساتھ ہی ساتھ امید کی جس کرن کے سہارے میں نے تین روپے ساڑھے چودہ آنے میں پچھلے چار دن گزارے تھے وہ کرن اس ہوٹل میں جیسے گم ہو گئی۔ اب تک وہ ایڈیٹر نہیں آیا۔ جس نے مجھے ترجمہ کا کام دینے کا وعدہ کیا تھااورمیں نے سوچا تھا کہ کام ٹھیک ہوتے ہی کچھ ایڈوانس مانگوں گا۔ جس سے زکر یا اسٹریٹ کے ایسے ہوٹلوں میں کم از کم چند دن کھپ سکوں۔

دلی والوں کی ٹوپی پہنے ہوئے شخص کے آگے ایک شیرمال رکھی ہوئی ہے، اوپر کا سرخی مائل حصہ بے حد اشتہا انگیز ہے اور کباب سے اٹھتا ہوا ہلکا ہلکا دھواں میں آسانی سے دیکھ سکتا ہوں۔  

وہ ایڈیٹر ابھی تک نہیں آیا ہے۔ اور میں سوچ رہا ہوں کہ مولا بخش کی بیوی سکینہ کیسی ہوگی؟ اس کے کوئی بچہ ہے کہ نہیں۔ اور اس وقت مجھے اچانک لگا کہ میں مولا بخش سے مخاطب ہو کر پوچھوں کہ اس کے کوئی بچہ ہے یا نہیں۔ میں نے اس سوال کو مہمل اور بے موقع خیال کرتے ہوئے اپنے ذہن سے نکال دیا ہے۔

اب وہ دلی والوں کی ٹوپی پہنے شخص اور اس کا ساتھی آدھی سے زائد شیرمال کھا چکے ہیں اور سیخ کباب سے اٹھتے ہوئے دھوئیں کو اب میں نہیں دیکھ سکتا۔ شاید اب دھواں اٹھ بھی نہیں رہا ہے۔

وہ ایڈیٹر اب نہیں آئے گا۔ میں نے چار دن یوں ہی بے کار گنوا دیے۔ ورنہ ان چار دنوں میں دوڑ دھوپ کی جا سکتی تھی۔ کوئی ٹیوشن ہی تلاش کی جا سکتی تھی۔ مگر چار روز تک اس اطمینان سے بیٹھے رہنے کے بعد ابھی اچانک اس متوقع کام سے مایوسی پر اب آگے چلنے کی جیسے صلاحیت ہی نہ رہی ہو۔

سکینہ کی عمر بیس سال سے زیادہ نہ ہوگی اور بچہ بھی کوئی نہ ہوگا۔ یہ شرافت حسین کون ہوگا؟ اور تب میں سوچتا ہوں کہ یہ شرافت حسین مولا بخش کا رشتہ دار ہوگا۔ یا پھر دوست ہو سکتا ہے ۔اور سکینہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب یہ کیا تک ہے کہ ایڈیٹر وعدہ کے خلاف اب تک نہیں آیا ہے اور مجھے سکینہ کی عمر کی پڑی ہے۔ شرافت حسین اور سکینہ کی رشتہ داری کی نوعیت کی فکر ہے۔ مولا بخش اور شرافت حسین کے تعلقات سے مجھے کیا تعلق ہے؟

اب وہ دونوں شیر مال کے بعد چائے بھی پی چکے ہیں اور کاؤنٹر پر ہوٹل کا نوجوان مالک ان سے پیسے لے رہا ہے۔

اب تین بج رہے ہیں، گیارہ بجے سے تین بجے تک انتظار کے بعد نڈھال سا ہو رہا ہوں۔

یہ مولا بخش ہر ماہ کی 13تاریخ کو منی آرڈر ضرور لکھواتا ہے۔ ایک دو روز آگے یا پیچھے، مگر پوری پابندی سے لکھواتا ہے۔

اور میں سوچ رہا ہوں، سکینہ ضرور خوبصورت ہوگی۔ اور یہ جو مولا بخش کی آنکھوں میں چمک ہے وہ اسی جوان محبت کی چمک ہے۔ اور جو یہ چمک کسی قدر دھندلاہٹوں میں ہے وہ فراق یار ہے۔

تین روپے ساڑھے چودہ آنے کے تقریباً جُدا ہو جانے کے بعد ایڈیٹر نہیں آیا، تو اب کیا ہوگا— سوچ رہا ہوں، یہ جو جیب میں اب فقط ساڑھے چھ آنے ہیں، اس میں سے چھ پیسے یعنی ڈیڑھ آنے بھی جدا ہونے والے ہیں۔

میں اس پیالی کو دیکھ رہا ہوں جسے میں کب کا خالی کر چکا ہوں مگر ہوٹل کے نوکر نے اسے ٹیبل سے نہیں اٹھایا ہے۔ یہی وہ پیالی ہے جو مجھے مزید ڈیڑھ آنے سے محروم کر دے گی اور میری جیب میں پانچ آنے رہ جائیں گے۔ اور کلکتہ شہر، اور یہ زکریااسٹریٹ، اور یہ دلکشا ہوٹل—

دل سے مانتا ہوگا مولا بخش سکینہ کو، جبھی تو— اور اب مولا بخش اپنی جگہ سے اُٹھ چکا ہے اور مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے وہ مجھ سے کچھ کہنا چاہتا ہے۔ اور اب وہ میرے قریب آ گیا ہے اور کہہ رہاہے ’’ہم کل آئیں گے جی—آپ رہیں گے نا؟‘‘ — میں اسے اثبات میں جواب دیتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ یہ کل منی آرڈر لکھائے گا اور کل صبح تک میری جیب میں پانچ آنے رہیں گے  یا۔۔۔۔۔

میں اس وقت اپنی کوٹھری کی ایک چوکی پر پڑا ہوں۔ میرے سرہانے دو آنے پیسے تکیہ سے دبے پڑے ہیں۔ اور میں رات دیر تک جاگنے سے گرانی محسوس کر رہا ہوں۔

اس کلینڈر کی جانب دیکھ رہا ہوں جو ہوا سے پھڑپھڑا رہا ہے جس میں ایک امریکن عورت جہاز کی سیڑھی پکڑے بڑے ہی قاتل انداز میں کھڑی ہے۔ امریکن کلینڈر۔۔۔۔۔۔۔۔ میں منہ ہاتھ دھو چکا ہوں، بھوک لگ رہی ہے۔ بڑی احتیاط سے میں تکیہ ہٹاتا ہوں اور دو آنے اُٹھا کر جیب میں رکھ لیتا ہوں۔

میں سوچ رہا ہوں، ٹیوشن کی تلاش میں نکلنا بہتر ہوگا۔کچھ سہارا ہو جائے۔ پھر اطمینان سے نوکری تلاش کروں گا۔ اور تب سوچتا ہوںکہ انگریزی کی جو ڈکشنری پڑی ہے اسے بیچ کر کچھ پیسے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اس خیال سے تقویت محسوس کرتا ہوں۔

اور میرے سامنے حسین، بیڑی دوکان، پورنیہ، مولا بخش ۔۔۔۔۔۔ ساٹھ روپے۔

اب میں منی آرڈر لکھ چکا ہوں اور مولا بخش کے ساتھ ہی ساتھ کوٹھری میں تالا بند کرکے سڑک پر آ گیا ہوں۔ اور مولا بخش مجھ سے کہہ رہا ہے کہ اسے آج مالک نے جلدی ہی بلایا ہے اس لیے وہ آج منی آرڈر نہیں بھیج سکے گا ۔اور میں کچھ سوچ کر اس سے کہہ رہا ہوں کہ مجھے فرصت ہے وہ کہے تو میں منی آرڈربھیج دوں۔

’’ آپ—؟‘‘ وہ ہچکچاتا ہے مگر میں اسے ہمت دلاتا ہوں کہ آخر وہ بھی آدمی ہے۔ ایک کام ہی اس کا کردوں گا تو کیا چھوٹا ہو جاؤں گا۔

مولا بخش جا چکا ہے اور میری جیب میں ساٹھ روپے ہیں، اور منی آرڈر فارم ہے۔ اور میں ٹیوشن کی تلاش میں جا رہا ہوں۔

ابھی شام ہو گئی ہے اور میں دل کُشا ہوٹل میں نہیں ہوں، میں پارک سرکس میں ایک اوسط درجے کے ہوٹل میں بیٹھا ہوں، میری میز پر ابھی ابھی بیرے نے ایک شیرمال، قورمہ اور سیخ کباب لاکر رکھا ہے اور میں بغور اس شیرمال کو دیکھ رہا ہوں جو بہت ملائم، بے حد لذیذ او ر خوبصورت نظرآ رہی ہے۔

میرے ذہن میں اس ایڈیٹر کا خیال نہیں ہے جس نے مجھے ترجمہ کا کام دینے کا وعدہ کیا تھا اور گیارہ بجے سے تین بجے تک اس کا انتظار کرنے کے بعد بھی وہ نہیں آیا، اور اس وقت زیادہ سے زیادہ سات بجے ہیں۔ اس ہوٹل میں رونق بڑھتی جا رہی ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ اس ہوٹل تک میرے قدم کیسے آئے؟ کوئی ٹیوشن نہیں ملی، نوکری نہیں ملی۔ اور دفعتاً مجھے سکینہ کا خیال آتا ہے جس کے پاس اسی پابندی سے منی آرڈر بھیجا گیا ہے مگر جو اس کو نہیں ملے گا۔ ساٹھ روپے میری جیب میں پڑے ہیں۔ اور منی آرڈر فارم میں نے کراؤن سنیما کے سامنے پڑے ہوئے پیٖک کے گملے میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے ڈال دیا ہے۔

میں شیر مال کھانے لگا اور مجھے خیال آیا ہے اگر میں مولا بخش سے بیس پچیس روپیے مانگ لیتا تو شاید وہ دے دیتا مگر مولا بخش کے سامنے دست ِ سوال بڑھانے کے خیال سے مجھے بڑی ذلت محسوس ہو رہی ہے ۔  

یہ کباب کتنا خوش ذائقہ ہے اور پیاز کے ان تراشوں کے ساتھ تو اس کا لطف ہی نرالا ہے ۔ میں ڈلہوزی اسکوائر کے ایک آفس سے نیچے اُتر رہا ہوں۔ پانچویں منزل سے اترتے اترتے پاؤں دکھنے لگے ہیں۔ اور ایسی کتنی ہی بلڈنگوں سے نامراد لوٹتے لوٹتے اب مجھے ایسا لگتا ہے جیسے نوکری نام کی کوئی چیز اس دنیا میں نہیں ہے۔

ٹرام کی گھنٹیا ں بج رہی ہیں۔میں فٹ پاتھ پر کھڑا اپنی تھکن کو دور کر رہا ہوں۔میری جیب میں بائیس روپیے کچھ آنے ہیں اور سکینہ کو منی آڈر ابھی تک نہیں ملا ہے۔ بائیس روپیے کتنی بڑی طاقت کا مظہر ہیں۔میں سوچتا ہوں ابھی کچھ روز اور بھی چکر کاٹ سکتا ہوں۔بائیس روپیے اب بھی میرے پاس ہیں۔

اب میں چلنے لگا ہوں اور رُخ کو لوٹولہ کی طرف کردیا ہے۔ چلتے چلتے اس بلڈنگ تک آگیا ہوں جو جاپانی بمباری کی زد میں  آئی تھی۔


c7.2


میں وہاں پر آگیا ہوں جہاں اردو رسالوں کی دوکان ہے اور میں اس سے آگے بڑھ گیا ہوں۔ سکینہ کا خیال مجھے اس کوٹھی کا خیال دلاتا ہے جو تھیٹر روڈ پر ہے اور جہاں مجھے ٹیوشن کے لیے آج شام کو بلایا گیا ہے۔ کیا پتہ آج ٹیوشن مل ہی جائے۔

یہ نا خدا مسجد ہے۔ وہی زکریا اسٹریٹ کے دروازے کے باہر ایک لاش اسٹریچر پر پڑی ہوئی ہے اور ایک نوجوان آواز لگا رہا ہے۔’’ایک غریب مر گیا ہے، کفن دفن کے لیے پیسے دے کر ثواب حاصل کیجیے۔‘‘

میں قریب جاتا ہوں۔ فیتے سے بند ہونے والی گنجی ایک کان کٹی ہوئی لَو۔

’’مولا بخش— ؟‘‘ میں ہلکے سے اس کا نام لیتا ہوں، سکینہ کے پاس منی آرڈر پہنچنے سے پہلے یہ خدا کے یہاں پہنچ گیا۔

میں اس آواز لگانے والے نوجوان سے پوچھتا ہوں، ’’یہ کیسے مرا؟‘‘   ’’ٹرک سے کچل کر۔‘‘ نیچے کے دھڑسے اس نے چادر ہٹا کر دکھایا۔مجھے چکر آنے لگا ہے۔یہ ناخدا مسجد ہے۔ مولا بخش ہے۔ جس کے کفن دفن کے لیے ایک آنے دو آنے راہ گیر چادر پر پھینکتے جارہے ہیں۔

میرا ہاتھ جیب میں جاتا ہے ۔ بائیس روپے کچھ آنے اس چادر پر پھینک کر جلدی جلدی جانے لگتا ہوں، وہ نوجوان مجھے غور سے دیکھتا ہے۔

میں مڑ کر دیکھتا ہوں۔ وہ نوجوان مجھے اب بھی غور سے دیکھ رہا ہے۔
کلام حیدری

سوالوں کے جواب لکھیے:


  1. افسانہ نگار ہوٹل میں کس کا منتظر تھا اور کیوں؟
  2. اس کہانی میں زندگی کی کون سی سچائی بیان کی گئی ہے؟
  3. مولا بخش کے کردار پر روشنی ڈالیے۔
  4. اس کہانی کا عنوا ن سخی کیوں رکھا گیا ہے؟

c7.3