رتن سنگھ

(پیدائش : 1927)
من کا طوطا
’’یہ کیا بھائی؟ باہر کیوں آگئے؟‘‘ میں نے حیران ہوکر پوچھا۔
’’جسم کے اندر پڑا پڑا میں بڑی گھٹن محسوس کررہا تھا، اِس لیے سوچا کہ ذرا باہر کی ہَوا کھائی جائے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ تپائی سے اُڑا اور بڑی میز پر جا کر کتابوں کے اوپر بیٹھ گیا اور ایک کتاب کو چونچ مار کر اُس نے کھول دیا۔
’’ارے ارے کیا کرتے ہو؟ کتاب ہے پھٹ جائے گی۔‘‘
’’پھٹ جائے تو اچھا ہے، انھیں پڑھ پڑھ کر ہی تو تم مجھے اپنی مرضی نہیں کرنے دیتے۔اچھا ہے، یہ بُرا ہے، یہ ٹھیک ہے، یہ ٹھیک نہیں ہے …‘‘
’’ٹھیک ہی کہتا ہوں۔‘‘میں نے کہا۔

طوطے نے میری بات اَن سُنی کرتے ہوئے اُڑان بھری اور ایک پہاڑ کی تصویر کے چوکھٹے پر جاکر بیٹھ گیا۔ اُس میں ایک پہاڑی ندی پتھروں کے بیچ بہتی ہوئی بہت بھلی لگ رہی تھی۔ کچھ دیر وہ ندی کی طرف دیکھتا رہا اور پھر بولا ’’جس طرح یہ ندی کا پانی پہاڑوں کے گھیرے میں بند ہوکر نہیں رہ سکتااسی طرح مجھ سے بھی اب تمھارے اندر نہیں رہا جاتا۔‘‘
’’لیکن کیوں؟‘‘
’’اس لیے کہ میں نے ایک زندگی تمھارے ساتھ گزار کر دیکھ لی، تمھارے ساتھ رہ کر میری تو ایک بھی خواہش پوری نہیں ہوئی۔‘‘
’’لیکن بھائی میں وہی تو کرتا ہوں جو میں اپنی عقل کے مطابق ٹھیک سمجھتا ہوں؟‘‘
’’تمھاری عقل کی دنیا اتنی چھوٹی ہے کہ میرا اس میں دم گُھٹنے لگا ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے من کا طوطا تصویر سے اُڑا اور باہر کی طرف کُھلنے والی کھڑکی پر آکر بیٹھ گیا۔
کھلی ہوئی کھڑکی کی روشنی میں مَیں نے اپنے من کے طوطے کی طرف غور سے دیکھا مجھے بڑا ہی خوب صورت لگا۔ گلے میں گہری نیلے رنگ کی گانی، سرخ چونچ، ہرے ہرے پنکھ جیسے …
’’کیا دیکھ رہے ہو؟‘‘ من کے طوطے نے پوچھا۔
’’یہی کہ تم بہت خوب صورت ہو۔‘‘
’’اور آج میرا من دنیا کی خوب صورتی دیکھنے کے لیے مچل رہا ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اُس نے اُڑنے کے لیے پنکھ تولے۔
’’ارے ارے کہاں جاتے ہو؟‘‘
’’میں شام تک لوٹ آؤں گا‘‘ یہ کہتے ہوئے میرے من کے طوطے نے اُڑان بھری اور آنکھ جھپکتے میں آسمان کی کُھلی فضاؤں میں پہنچ گیا۔
یوں تو من کا طوطا کبھی بھی میرے قابو میں نہیں رہا۔ تصوّر ہی تصوّر میں یہ اَن دیکھی، اَن جانی وادیوں میں بھٹکتا رہتا تھا۔ کبھی گھنے جنگلوں کے سائے میں بھٹکتا پھرتا تو کبھی سائیبیریا کے برفیلے علاقے میں پہنچ جاتا، کبھی تپتے ہوئے ریگستان میں سے گزر کر اسی نخلستان کے ٹھنڈے میٹھے سائے میں جاکر لیٹا رہتا، تو کبھی کسی پہاڑی ندی کے کنارے بیٹھ کر پانی کی مدھر قل قل کو سنتا رہتا۔ یہاں تک کہ کبھی کبھی تو اندر بھگوان کی نگری میں پہنچ کر کسی سروور کے صاف شفاف پانی میں اٹھکھیلیاں کرتا رہتا۔ لیکن یہ سب تصوّر ہی تصوّر میں ہوتا تھا، تصوّر ہی تصوّر میں یہ کئی قسم کے انوکھے چہرے میرے سامنے لاکر کھڑا کردیتا۔
’’یہ کون ہیں؟‘‘ میں ٹوکتا۔
’’یہ تمھارے تخیل کی اُپج ہیں۔‘‘ من کا طوطا کہتا۔
’’میرا تخیل یا تمھارا اپنا فتور؟‘‘
’’کچھ بھی سمجھو، زندگی میں تمھارا اِن سب سے رشتہ ہے۔‘‘
’’نہیں، یہ میرے کچھ نہیں لگتے۔‘‘
’’کیا تم خدا کی کائنات سے باہر ہو؟‘‘ من کا طوطا پوچھتا۔
’’باہر تو نہیں ہوں، لیکن میں ان کو نہیں جانتا۔‘‘
’’اگر کائنات کے بھید جاننا چاہتے ہو تو ان سب کو دیکھو، جو میں نہیں دِکھا رہا ہوں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ ایک نیا چہرہ میرے سامنے لاکر کھڑا کردیتا۔ یا پھر آن کی آن میں کسی انجانے دیش کے انجانے شہر میں کسی پُل پر کھڑا ہو کر نیچے بہتے ہوئے دریا کا نظارہ دیکھنے میں محو ہوجاتا۔
یہ سب تو اکثر ہوتا تھا۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا جیسا اُس دن ہوا کہ وہ بذاتِ خود میرے وجود سے باہر نکل آیا اور اب پتا نہیں خدا کی کائنات میں کہاں بھٹک رہا تھا۔
اُس دن میں سارا دن پریشان رہا۔
اسی پریشانی کے عالم میں کہیں آنکھ لگ گئی تو کندھے کے نیچے میرے بازو پر پتہ نہیں کسی چیز نے کاٹ لیا۔ میرے گھر میں چوہے بہت ہیں، ادھر ادھر بھی گھومتے رہتے ہیں اور پھر کوڑھ کرلیاں بھی ہیں۔ پتہ نہیں کس نے مجھے بے سدھ پاکر کاٹ لیا تھا۔ پٹّی کردینے سے لہو بہنا تو بند ہوگیا تھا مگر بازووں میں درد کافی ہوتا رہا۔
اِسی پریشانی میں کسی نہ کسی طرح شام ہوگئی۔ بازو کے درد سے زیادہ مجھے من کے طوطے کی فکر تھی، اسی لیے آسمان کی طرف آنکھیں جمائے بیٹھا تھا۔تبھی میرے من کا طوطا دھیرے دھیرے اُڑتا ہوا آیا اور کھڑکی کے راستے سے کمرے میں داخل ہوکر تپائی پر بیٹھ گیا۔
میں نے دیکھا اُس کا حُلیہ بے رنگ ہورہا تھا، پنکھ نُچے ہوئے تھے، چہرے پر ہوائیاں اُڑرہی تھیں۔
’’کہو کیسی بیتی؟‘‘ میں نے اسے دلاسہ دیتے ہوئے تپائی سے اُٹھا کر ہاتھ کی ہتھیلی پر بٹھا لیا۔
کچھ دیر تک وہ اپنی سانس قابو میں کرتا رہا۔ جب اس کا دم میں دم آیا تو بولا ’’آج میرے ساتھ بہت بُرا ہوا‘‘ اور پھر اُس نے اپنی کہانی سُنانی شروع کی۔
’’میں یہاں سے اُڑا تو بہت دور ایک بہت بڑے پیڑوں کے جھنڈ میں اترا، وہاں طرح طرح کے پکشی چہک رہے تھے۔ وہاں اپنے بھائی بندوں کے بیچ پہنچ کر مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ جس پیڑ پر میں اترا تھا وہ بھی بڑا سندر تھا۔ جسم میں کچھ ٹھنڈک آئی تو میں نے چاروں طرف دیکھا۔ کبوتر، کوّے، مینا، چڑیا سبھی پُھدک رہے تھے۔ تبھی میں نے ایک ٹہنی پر طوطوں کی ایک ٹولی دیکھی۔ ان میں ایک طوطی مجھے بہت اچھی لگی۔ میرے من میں آیا کہ اس طوطی کے پاس چل کر بیٹھتا ہوں، کچھ من بہل جائے گا۔ ابھی میں اُس کے پاس جانے کی بات سوچ ہی رہا تھا کہ ایک طوطے کی نظر مجھ پر پڑگئی۔ پہلے تو وہ کچھ دیر مجھے گھور گھور کر دیکھتا رہا، مگر پھر اس نے ایسی ٹیں ٹیں شروع کی کہ اس کے ساتھ مل کر باقی طوطے بھی ٹیں ٹیں کرنے لگے۔ میری سمجھ میں ہی نہ آیا کہ ماجرا کیا ہے۔ اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ سبھی طوطے ایک ساتھ وہاں سے اُڑے اور میری طرف جھپٹے، ان سے گھبرا کر میں ایسا دُم دبا کر اڑا ہوں کہ کچھ پوچھو نہیں۔‘‘
’’اور ان طوطوں نے تمھارا پیچھا چھوڑ دیا؟‘‘
’’مجھ سے تیز بھلا اِس دنیا میں کون اُڑسکتا ہے، پیچھا نہ چھوڑتے تو کیا کرتے۔ مگر تم بیچ میں ٹوکو نہیں‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی روداد پھر سنانی شروع کی:
’’اب میں پیڑوں کے اُس جُھنڈ سے اُڑا تو اُڑتے اُڑتے ایک دریا کے کنارے پہنچا۔ وہاں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی، اس لیے میں کتنی دیر تک دریا کے ساتھ ساتھ اُڑتا رہا، بڑا مزا آیا۔ آگے گیا تو دریا کے کنارے ایک بڑا ہی خوب صورت سا پیڑ اُگا ہوا دکھائی دیا۔ اس پر لگے ہوئے پھولوں سے بڑی بھینی بھینی خوش بو آرہی تھی۔ دور سے پھول ایسے لگ رہے تھے جیسے آسمان کے ستارے پیڑ پر بیٹھ کر دریا کے بہتے ہوئے پانی کو دیکھ کر من بہلا رہے ہوں۔
میں جلدی جلدی پنکھ مارتا ہوا جب اُس پیڑ کے قریب پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس پیڑ کے نیچے ایک بہت ہی خوبصورت عورت گہرے آسمانی رنگ کی ساڑی پہنے اپنے دھیان میں مگن دریا کی لہروں کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اسے دیکھتے ہی میں جلدی سے زمین پر اُترا اور طوطے کا جامہ چھوڑ کر انسانی جامہ پہن لیا اور اپنے ذہن میں بہت سے حسین سپنے بُنتا ہوا اُس پیڑ کی طرف چلنے لگا۔ ابھی میں اُس سے دس پندرہ قدم دوری پر ہی تھا کہ اس عورت کی باندی نے میرا راستہ روک دیا۔‘‘
’’مالکن کے پاس جانے کی کسی کو اجازت نہیں۔‘‘
’’کیوں، کیا بات ہے؟‘‘
’’دیکھتے نہیں، وہ اپنے محبوب کی یاد میں کس طرح ڈوبی ہوئی ہیں۔‘‘
’’کون ہے ان کا محبوب؟‘‘ میں نے بے چین ہوکر پوچھا۔
’’دیکھا تو اس کو انھوں نے بھی نہیں، بس ایک بار سپنے میں آیا تھا۔‘‘
’’ہوسکتا ہے وہ میں ہی ہوں، ہوسکتا ہے وہ میری ہی باٹ دیکھ رہی ہوں۔ میں بھی ایسے سپنے بہت دیکھتا ہوں‘‘ یہ کہتے ہوئے میں نے آگے قدم بڑھانا چاہا تو اونچے پھن لہراتے ہوئے دو سانپوں نے میرا راستہ روک دیا۔
میں نے ڈر کر جھٹ سے اپنا قدم واپس لے لیا تو وہ سانپ بھی نظروں سے اوجھل ہوگئے۔
’’میری مالکن کے پاس جاکر قسمت آزمانا چاہتے ہو تو پہلے تمھیں اس بستی میں جانا ہوگا۔‘‘ باندی نے دریا سے تھوڑا ہٹ کر بسی ہوئی ایک بستی کی طرف اشارہ کیا۔‘‘ وہاں ہاٹ لگی ہوئی ہے، ہیرے موتی بِک رہے ہیں، چمکتے دمکتے زیور بِک رہے ہیں، خوب صورت مکان بِک رہے ہیں، یہ سب خرید کر آؤ تو تمھیں چند قدم دریا کے کنارے چلتے ہوئے مالکن سے بات کرنے کا موقع مِل جائے گا۔ اور اب جو میں کہہ رہی ہوں اُسے دھیان سے سنو۔ اگر دریا کے کنارے چلتے ہوئے ریت پر بننے والے تمھارے پاؤں کے نشان پانی کی لہروں سے مٹے نہیں تو مالکن سمجھ جائے گی کہ تم ہی اس کے سپنے والے محبوب ہو۔‘‘
’’یہ پاؤں کے نشان نہ مٹنے کا کیا راز ہے؟‘‘
’’کوئی راز نہیں، سپنے میں جو محبوب اس کے پاس آیا تھا، اُس نے اپنی یہی نشانی بتائی تھی۔‘‘
’’یہ کہ دریا کے کنارے جب وہ مالکن کے ساتھ چلے گا تو اس کے پاؤں کے نشان مٹیں گے نہیں؟‘‘
’’ہاں‘‘
میں نے ایک نظر بھر کر مالکن کی طرف دیکھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے مینکا اوراروشی اِندر کا دربار چھوڑ کر اس دھرتی پر آگئی ہوں، یا پھر وہ اسی دھرتی کا سب سے خوب صورت پھول تھی۔
مجھے اُس کی خوب صورتی میں گم ہو کر بُت بنتے دیکھ کر اس کی باندی نے جھنجھوڑا ’’اگر تمھیں کوشش کرنی ہے تو جلدی جاؤ، تم سے پہلے بھی کئی لوگ جاچکے ہیں۔ اگر وہ سب کچھ حاصل کر کے پہلے لَوٹ آئے تو تم ہاتھ ملتے رہ جاؤ گے۔‘‘
میں نے سوچا قِسمت آزمانے میں کوئی حرج نہیں اور فوراً چل دیا۔
جب میں اس بستی میں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بازار میں بڑی گہماگہمی ہے۔ پہلی ہی ہاٹ پر ہیرے، موتی اور سونے کے سکّوں کا بہت بڑا ڈھیر لگا ہوا تھا اور اس کا مالک ایک ایسا آدمی تھا جس کی گردن کے اوپر آدمی کے سرکے بجائے سانپ کا پھن لہرا رہا تھا۔
’’یہ دھن دولت کا ڈھیر کتنے کا ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’دھن دولت کی قیمت دھن تو ہو ہی نہیں سکتا۔‘‘ دوکان دار نے اپنی دو پھاڑزبان کو لہراتے ہوئے کہا۔
’’تو پھر یہ کیسے مِل سکتا ہے؟‘‘
’’مل سکتا ہے، بڑی آسانی سے مل سکتا ہے۔‘‘
’’بتاؤ تو کیسے؟‘‘
’’صرف ایک بار اپنے بازو پر مجھے کاٹ لینے دو، یہ ساری دولت تمھاری ہوجائے گی۔‘‘
سانپ کے کاٹنے سے مجھے درد تو بہت ہوالیکن میں نے وہ دولت کا ڈھیر حاصل کرلیا۔
اس کے ساتھ ہی ایک آدمی کہ جس کا چہرا جونک جیسا تھا، زیور بیچ رہا تھا۔ اس کی شرط یہ تھی کہ جو بھی اسے ایک بار پیٹ بھر خون چوس لینے دے گا، اسے وہ سارے زیور دے دے گا۔
میں نے جلدی سے جونک سے اسی جگہ سے خون چُسوا لیا جہاں سانپ نے کاٹا تھا اور اس طرح میں نے سارے زیور حاصل کرلیے۔ اب مکان کی کسر رہ گئی تھی۔ اتفاق سے اگلا دوکان دار مکان ہی بیچ رہا تھا۔ جب وہ مجھے اپنا مکان دکھا رہا تھا تو اس کے چہرے پر کوئل کا چہرہ تھا اور اس کی آواز بڑی سریلی اور میٹھی تھی۔ لیکن جب مکان مجھے ہر لحاظ سے پسند آگیا اور دام طے کرنے کی نوبت آئی تو اس دوکان دار نے اپنی گردن سے کوئل کا چہرہ اُتار کر اس پر عقاب کا چہرہ لگا لیا۔ اُف کتنی بھیانک تھی اس کی وہ شکل، اس کی گول گول آنکھوں میں تو جیسے خون اُتر آیا تھا۔
وہ بولا ’’یہ دھن دولت اور زیور سب کچھ ایک طرف رکھ دو اور آسمان پر اڑتے ہوئے ان پکشیوں کو گنو۔ اگر تم نے صحیح گِن دیا تو مکان کے ساتھ ساتھ روپیہ پیسہ اور زیور سب کچھ تمھارا ہوجائے گا۔ لیکن اگر گنتی غلط ہوگئی تو مکان تو ملے گا نہیں، اپنے دھن دولت سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا۔‘‘
میں نے اس کی شرط مان لی اور پکشی گِن کر کہا ’’بیس۔‘‘
’’نہیں، اکیس۔ اور اس نے مجھے اکیس پکشی گِنوا کر میرا سارا دھن دولت سمیٹ لیا۔
اس طرح میں نے پانچ بار سانپ کو کٹوایا، پانچ بار جونک سے لہو چُسوایا۔ لیکن ہر بار یہ ہوتا کہ پکشی گنتے وقت مجھ سے غلطی ہوجاتی۔ میں گنتا اکیس تو پکشی بائیس نکلتے، میں کہتا تیئیس تو پکشی چوبیس نکلتے۔
آخر چھٹی بار مکان کے مالک کو مجھ پر ترس آگیا، ویسے بھی وہ اپنے مکان کے پانچ گُنا دام تو مجھ سے وصول کر ہی چکا تھا، اس لیے اس نے کہا ’’تیرا عشق سچّا ہے تیری ضرورت بھی بڑی ہے، اس لیے پکشی گنےبغیر ہی میں مکان تم کو دیتا ہوں۔‘‘
بس پھر کیا تھا میں اپنا دھن دولت اور زیور اس مکان میں رکھ کر اُلٹے پاؤں دریا کے کنارے پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ نہ تو وہ پھولوں سے لدا پیڑ ہی مجھے دکھائی دیا اور نہ ہی وہ پھول سی عورت ہی وہاں موجود تھی۔
جہاں تک میری نظر جاتی تھی دریا کا پانی تھا جو قل قل کرتا ہوا حدِ نظر تک بہتا چلا جارہا تھا۔ میں بہت دیر تک وہاں مایوس سا کھڑا رہا۔
ٓٓآخر سوچا واپس ہی چلوں۔
تبھی دریا کے کنارے پر میری نظر گئی۔ کسی کے پاؤں کے گہرے نشان بستی کی طرف جاتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔
’’تو اس عورت کو اس کا محبوب مل گیا۔‘‘ میں نے سوچا۔
میری نظر ان قدموں کے نشانوں کا پیچھا کرتی ہوئی بستی کی طرف اُٹھی تو مجھے لگا جیسے میرے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکتی جارہی ہو۔
دور دور تک کسی بستی کے کوئی آثار نہیں تھے۔ بس ایک چٹیل میدان تھا جو اُفق تا اُفق پھیلتا چلا گیا تھا۔
اب حیران ہوکر یہ دیکھتا ہوں کہ میرے پاؤں کے نیچے زمین بھی ہے یا نہیں تو پایا کہ زمین تو ہے مگر وہ دریا اور اس کا قل قل کرتا پانی غائب ہے۔
میں کسی جادو نگری میں پہنچ گیا ہوں۔ میں نے سوچا اور گھبرا کر جلدی سے اپنے انسانی جامے کو وہیں چھوڑا۔ پھر وہی من کا طوطا بن کر اڑان بھری، اب تمھارے پاس آگیا ہوں۔‘‘
میرے من کے طوطے کی کہانی ختم ہوگئی تو اس نے اپنی گردن یوں نیچے ڈال دی جیسے بہت تھک گیا ہو۔
ایک ہی ہتھیلی پر اسے بٹھائے ہوئے میرا بازو بھی تھک گیا تھا، اس لیے میں اسے دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی پر بٹھانے لگا تو بازو میں درد کے مارے میری چیخ نکل گئی۔
’’کیوں کیا ہوا؟‘‘ اس نے گھبرا کر پوچھا۔
’’جہاں تم نے سانپ سے کٹوایا تھا وہاں درد ہورہا ہے۔‘‘
’’تب تو بہت سا خون بھی شریر سے نکل گیا ہوگا؟‘‘
’’ہاں ، جونک چھ چھ بار چوسے گی تو وہ کچھ تو ہوگا ہی۔‘‘
’’مجھے واقعی بڑی شرمندگی ہے‘‘ من کے طوطے نے کہا، اور اس نے ایک مرتبہ پھر گردن نیچے ڈال دی۔
’’تمھیں آرام کی ضرورت ہے۔‘‘ میں نے اسے ڈھارس بندھاتے ہوئے کہا۔
’’ہاں ہے تو‘‘ یہ کہتے ہوئے من کاطوطا فوراً جسم میں داخل ہوگیا۔
اگلے دن صبح ہوئی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ پھر پہلے کی طرح نوبہ نو، تازہ بہ تازہ میرے جسم سے نکل کر میرے سامنے تپائی پر بیٹھ گیا، پھر اسی طرح پُھدکتا ہوا پہاڑ کی تصویر کے پاس گیا اور پھر وہاں سے مجھے کچھ کہے بغیر کھڑکی کے راستے باہر نکل گیا۔
تب سے میرے من کے طوطے کا یہی حال ہے۔ پتہ نہیں زندگی کی کون کون سی کششیں ہیں جو میرے من کے طوطے کو اپنی طرف بلاتی ہیں، پتہ نہیں کیسے کیسے میٹھے سپنے اپنے دل میں سموئے ہشاش بشاش وہ گھر سے روز نکلتا ہے اور ہر شام تھکا ہارا، مایوس اور اُداس واپس لوٹ آتا ہے۔
اپنے من کے طوطے کی نئی درد بھری داستان سننے کے لیے میں ہر شام تیار رہتا ہوں۔
سوالوں کے جواب لکھیے:
- مصنّف نے ’من کا طوطا‘ سے کیا مراد لی ہے؟
- ’’تمھاری عقل کی دنیا اتنی چھوٹی ہے کہ میرا اس میں دم گھٹنے لگا ہے‘‘ طوطے نے ایسا کیوں کہا؟
- ہر شام مایوس لوٹنے کے بعد بھی من کا طوطا ہر صبح گھر سے کیوں نکل جاتا ہے؟
