جیلانی بانو

(پیدائش: 1933)
جیلانی بانو کا پہلا افسانوی مجموعہ’’روشنی کے مینار‘‘ 1958 میں شائع ہوا۔ ’’نروان ‘‘ اور ’’کُن‘‘ اُن کے دوسرے افسانوی مجموعوں کے نام ہیں۔ انھوں نے کئی ناولٹ بھی لکھے جن میں ’’جگنو اور ستارے‘‘ اور ’’نغمے کا سفر‘‘ کے نام نمایاں ہیں۔ان کے دو ناول ’’ایوانِ غزل‘‘ اور ’’بارش سنگ‘‘ بہت مقبول ہوئے۔
جیلانی بانو کے افسانوں اورناولوں کا اصل موضوع حیدرآباد کے زوال کے بعد جاگیرداروں کی بکھرتی ہوئی زندگی ہے۔انھیں زبان وبیان پرقدرت ہے۔اس کے علاوہ وہ حیدرآباد کی مخصوص بولی کا استعمال بھی بڑی چابکدستی سے کرتی ہیں۔
دوشالہ
گھِسی ہوئی آدھی آدھی سلیم شاہی جوتیاں انگوٹھوں میں اٹکائے وہ سارے گھر میں سٹر پٹر کرتی پھر رہی تھیں۔ اپنی سٹھیائی ہوئی یادوں کو اکٹّھا کرکے بار بار سوچتیں کہ ابھی کون کون سی چیزوں کی اُٹھا دھری کرنی ہے؟ اُن پر وہ وحشت سوار ہو چکی تھی جو سفر کا آغاز ہوتی ہے۔
اِدھر اُنھوں نے کمرے سے باہر قدم رکھا اُدھر ان کا پوتا توقیر اور اس کی بہن جمال کوٹھری کا جائزہ لینا شروع کر دیتے تھے۔ وہاں کی ہر چیز اماں جان کے کام کی تھی۔ مکڑی کے جالے بھرے، ٹوٹے پھوٹے سامان کے ڈھیر پر وہ مایا کا سانپ بنی بیٹھی تھیں۔ جمال محض انھیں ستانے کے لیے اگر زمین پر سے پان کا ڈنٹھل بھی اُٹھا لیتی تھی تو وہ چونک پڑتیں۔
’’اے بیٹا کیا لیے جائے ہے۔ وہ میرے کام کی ہے۔‘‘ اب انھیں دور سے سوجھائی تھوڑی دیتا تھا۔ بس یوں ہی الل ٹپ کہہ دیتیں۔
’’یہ پان کا ڈنٹھل بھی۔۔۔؟‘‘ جمال بُرا مان کر دکھاتی۔۔۔
’’دیکھوں ۔۔۔‘‘ وہ اس کی ہتھیلی اپنی آنکھوں سے لگا کر یقین کر لیتیں۔
’’مگر تجھے ہرچیز اُٹھانے کا لپکا کیوں ہے۔۔۔؟‘‘
ان کا جی ڈوب جاتا تھا۔ ان بچّوں کی وجہ سے تو ہر وقت ان کی گردن پر تلوار لٹکتی رہتی تھی۔ یہ بات نہ تھی کہ انھیں اپنے پوتے اور پوتی سے نفرت ہو۔ مگر جن کے پاس دولت ہو اس کا دل تو دھڑکا ہی کرتا ہے۔ ہر طرف ڈاکوؤں کے پڑاؤ نظر آتے ہیں۔ ان کے چار بڑے لڑکے ایک لڑکی سمیت پاکستان سِدھار چکے تھے۔ ایک سرور تھا کہ کلر کی پرقناعت کیے، باپ دادا کی اس پرانی حویلی میں چراغ جلا رہا تھا۔ اس حویلی کی بھی امّاں جان کی طرح کمر جھُک چکی تھی اور دانت بھی ٹوٹ گئے تھے۔ در اصل سرور کی بیوی نہ چاہتی تھی کہ وہاں بھی چار جٹھانیاں اور ایک ساس ہر وقت اُسے بہو بہو پکار کر اس کی گردن جُھکائے رکھیں۔ مگر امّاں جان گھر نہ چھوڑنے کے بہانے اب بھی آنکس سنبھالے اس کی گردن پر سوار تھیں۔
ویسے گھر سے مراد اب صرف ان کی کُٹھریا تھی۔ جوں جوں گھر پر بہوؤں اور ان کی اولاد کا قبضہ ہوتا گیا وہ پیچھے ہٹتی گئیں۔ یہاں تک کہ اب اس ٹپکتی چھت کی سیلی کوٹھری پر ان کی اجارہ داری رہ گئی تھی، وہاں انھوں نے ہر وہ چیز جمع کر رکھی تھی جو ان کی بہوؤں کے خیال میں پھینک دینے کے قابل تھی۔ وہاں ان کی زندگی کے سارے ٹوٹے پھوٹے زنگ آلودہ کل پُرزے پڑے تھے۔ ٹوٹے ہوئے فانوس کے رنگین ٹکڑے۔ زندگی بھر ساری تقریبوں میں سیے جانے والے کپڑوں کی کترنیں۔ اُن بچّوں کے کھلونے جن کے بچّے بھی اب کھلونوں سے نہیں بہلائے جا سکتے۔ یہ سب دولت انھوں نے لکڑی کے صندوقوں میں اتنی احتیاط سے چھپا رکھی تھی جیسے حنوط کر کے اپنی یادوں کی ممیاں سجا رکھی ہوں۔ اس میں وہ زربفت کی اچکن تھی جو امّاں جان کے ابّانے دولھا بنتے وقت پہنی تھی اور ان سچّی چینی کی رکابیوں کے ٹکڑے تھے جو ان کی امّاں اپنے جہیز میں لائی تھیں، ان کے ابّا کا فرغل تھا اور ان کے دادا کا تاریخی دوشالہ۔
جس وقت وہ ساری بازیاں ہار کے زندگی کے ناپیدا کنار سمندر میں غوطے لگا رہی تھیں تو اس دوشالے کی محبت گُم شدہ جزیرے کی طرح پالی تھی، ان کی اندھیری کوٹھری میں وہ ہزار کینڈل پاور کا بلب تھا جس کی روشنی میں کوئی راہ کٹھن نہ لگتی تھی۔
دوشالے کا کپڑا ہر ہر تہہ پر سے پا پڑ کی طرح ٹوٹ چکا تھا۔ مگر اس کے کارچوب میں سے کئی سیر چاندی نکالی جا سکتی ہے… یہ بات ایک دن بیوی نے سرور کو سمجھائی۔

کبھی کبھی جمال ان کا پلوپکڑ کر ٹھنکنے لگتی۔’’دادی! ہمیں لکڑدادا کا دوشالہ دکھائیے۔‘‘
’’اچّھا اچّھا کسی دن دکھا دوں گی۔‘‘ وہ ٹال جاتیں کیوں کہ سامان کھول کر بیٹھتی تھیں تو جمال اور توقیر چھیناجھپٹی شروع کر دیتے تھے۔ کوئی فانوسوں کے شیشے لیے بھاگا جا رہا ہے۔ کوئی مٹّی کی ٹوٹی گڑیا پار کرنے کی فکر میں ہے۔ گھبرا کر وہ صندوق بند کر دیتی تھیں۔ اگر یوں سخی داتا بن کر بیٹھتیں تو یہ گنجہائے گراں ما یہ کیسے جمع ہو پاتے۔ نو ادرات جمع کرنا کیسا جان جوکھم کا کام ہے۔ یہ تو کچھ وہی جانتا ہے جس نے امّاں جان کی طرح اپنا عیش و آرام تج دیا ہو۔
وہ تو زندگی کے بچے کُھچے دن بھی اسی طرح گزار نے کا پکا ارادہ کیے بیٹھی تھیں کہ اُن کے بڑے بیٹے کا خط آیا۔ ان کی بڑی پوتی کا بیاہ طے ہو چکا تھا۔ اگر اب بھی امّاں جان نہ آئیں تو پھر کبھی نہ آئیں۔ ان کے بیٹے سمجھتے تھے کہ امّاں ٹوٹے ٹھیکروں کے نیچے سونے کی اینٹیں چھپائے بیٹھی ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی دن امّاں کے سو جانے کا تار آ جائے اور سرور کے نصیب جاگ اُٹھیں۔ کوٹھریا کی دولت زندگی کی طرح پیاری تھی مگر زندگی تو نہ تھی۔ کیا معلوم کل کلاں کو ان کی آنکھیں پٹ سے بند ہو جائیں اور اُن کے بچّے پاکستان میں بیٹھے انھیں پکارتے رہ جائیں۔
انھیں سمجھانے کے لیے حالات اپنی دلیلیں لے کر آئے اور وہ بے بس ہو گئیں۔ سرور کو تو اللہ میاں نے چھپّرپھاڑ کر موقع دیا تھا۔ لُپائیں چھپائیں پاسپورٹ تیّار کروا لایا۔ ساتھ کے لیے ایک دوست بھی ڈھونڈ دیا۔ بہو نے آناً فاناً سامان تیّار کرکے دالان میں رکھ دیا۔ مارے محبت کے امّاں جان کے لیے خالص گھی کی کہہ کر بناسپتی میں کھجوریں بھی تل دیں۔
’’اب یہ کوٹھری تمھارے حوالے کر رہی ہوں۔ میرے بعد تم ہی اس کی مالک ہوگی۔‘‘
یہ بات اُنھوں نے بڑے سوچ بچار کے بعد کہی تھی۔ تاکہ بہو ابھی سے بے صبر نہ ہو جائے۔
’’دادی آپ لکڑ دادا کا دوشالہ کون سے صندوق میں رکھے جا رہی ہیں…؟‘‘ توقیر نے بڑے اشتیاق سے پوچھا۔
’’خبردار جو دادی کو جاتے وقت ستایا۔‘‘ بہو نے اس کے دو تھپّڑ لگائے اورامّاں جان کو قسم کھا کر یقین دلایا کہ وہ کوٹھری کی کوئی چیز نہ چھوئیں گی۔
ریل میں بیٹھیں تو ان کا جی بالکل ہلکا تھا۔ انھوں نے کوٹھری میں یہ موٹا علی گڑھ کا تالا ڈالا تھا۔
صرف تین مہینے کی تو بات ہے۔ انھوں نے غیرارادی طور پر ازاربند میں کُنجی ٹٹولی۔
بمبئی پہنچ کر ایک ہفتہ ہوٹل میں ٹھہرنا پڑا۔ سرور کے دوست نے جانے کیا مشکل سا نام بتایا کہ امّاں جان کا’’وہ‘‘ نہیں بنا ہے۔ آخر اللہ اللہ کر کے تھکی ہاری امّاں جان جہاز میں سوار ہوئیں۔ تب سرور کے دوست نے جیب میں سے ایک پوسٹ کارڈ نکال کر انھیں سُنایا۔ یہ پوسٹ کارڈ اُن کے پوتے توقیر نے بڑی نستعلیق اردو میں لکھا تھا۔
دادی جان۔ سلام الیکم اور قدم بوسی
یہاں سب خیریت ہے اور آپ کی خیریت نیک متلوب۔ دیگر اہوال یہ ہے کہ جناب لکڑ دادا صاحب کا دوشالہ کہیں نہ ملا۔ میں نے اور جمالو نے سارا کمرہ چھان مارا۔ براکرم بواپسی ڈاک مُتلّے فرمائیے کہ آپ دوشالہ کہاں رکھ گئی ہیں…!
جمالو آپ کو سلام لکھوا رہی ہے۔ فقط
آپکا خادم
توقیر مرزا۔ متعلّم جماعت پنجم (الف)
سوالوں کے جواب لکھیے:
- امّاں جان کو دوشالے سے لگاؤ کیوں تھا؟
- امّاں جان دوشالے کی حفاظت کے لیے کیا کیا تدبیریں کرتی تھیں؟
- ’’ان کی اندھیری کوٹھری میں وہ ہزار کینڈل پاور کا بلب تھا جس کی روشنی میں کوئی راہ کٹھن نہ لگتی تھی‘‘ اس جملے کی وضاحت کیجیے۔
- توقیرکا خط صحیح الفاظ کے ساتھ لکھیے۔