خاکہ
مولوی عبدالحق

مولوی عبدالحق محقق، سوانح نگار، خاکہ نگار، لغت نویس، ماہرقواعد اور صاحبِ طرز انشاپرداز تھے۔زبان سادہ اور پُراثر لکھتے تھے۔انھوں نے کئی کتابیں لکھیں اور مرتب کیں۔ان کا سب سے بڑا کارنامہ دکن اور شمالی ہندوستان کے قدیم ادبی سرمائے کی بازیافت ہے۔اس طرح بہت سی بیاضیں اور رسالے ضائع ہونے سے بچ گئے۔
گدڑی کا لال –نورخاں
نورخاںمرحوم کنٹنجنٹ کے اوّل رسالے میں سپاہی سے بھرتی ہوئے۔انگریزی افواج میں حیدرآباد کی کنٹنجنٹ خاص حیثیت اور امتیاز رکھتی تھی۔ ہرشخص اس میں بھرتی نہیں ہوسکتا تھا، بہت دیکھ بھال ہوتی تھی۔بعض اوقات نسب نامے تک دیکھے جاتے تھے تب کہیں جاکر ملازمت ملتی تھی۔کوشش یہ ہوتی تھی کہ صرف شرفا اس میں بھرتی کیے جائیں۔ یہی وجہ تھی کہ کنٹنجنٹ والے عزّت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔لیکن بعد میں یہ قید بھی اُٹھ گئی اور اس میں اور انگریزوں کی دوسری فوجوں میں کوئی فرق نہ رہا۔پہلے زمانے میں سپاہ گری بہت معزّز پیشہ سمجھا جاتا تھا۔ اب اس میں اور دوسرے پیشوں میں کوئی فرق نہیں رہا۔بات یہ ہے کہ اشراف کا سنبھالنا مشکل کام ہے۔اس میں ایک آن بان اور خودداری ہوتی ہے جو بہادری اور انسانیت کا اصل جوہر ہے، ہر کوئی اس کی قدر نہیں کرسکتا۔اس لیے شریف روتا اور ذلیل ہنستا ہے۔ یہ جتنا پھیلتا ہے وہ اتنا ہی سکڑتا ہے۔کرنل نواب افسرالملک بہادربھی نورخاں مرحوم ہی کے رسالے کے ہیں۔کنٹنجنٹ کے بہت سے لوگ اکثر تو کرنل صاحب موصوف کے توّسط سے اور بعض اور ذرائع سے حیدرآباد ریاست میں آکر ملازم ہوگئے۔ان میں بہت سے نواب، کرنل، میجر،کپتان اور بڑے بڑے عہدے دار ہیں۔لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کوئی نورخاں بھی ہے؟
اوّل رسالے کے بعض لوگوں سے معلوم ہوا کہ خان صاحب مرحوم فوج میں بھی بڑی آن بان سے رہے اور سچائی اور فرض شناسی میں مشہور تھے۔یہ ڈِرل اِنسٹرکٹر تھے یعنی گوروں کو جو نئے بھرتی ہوکر آتے تھے ڈِرل سکھاتے تھے۔اس لیے اکثر گورے افسروں سے واقف تھے۔وہ بڑے شہسوار تھے۔گھوڑے کو خوب پہچانتے تھے۔ بڑے بڑے سرکش گھوڑے جو پُٹھے پر ہاتھ نہ دھرنے دیتے تھے، انھوں نے درست کیے۔گھوڑے کے سدھانے اور پھیرنے میں اُنھیں کمال تھا۔چوں کہ بدن کے چھریرے اور ہلکے پھلکے تھے، گھڑدوڑوں میں گھوڑے دوڑاتے تھے اور اکثر شرطیں جیتتے تھے۔اُن کے افسر اُن کی مستعدی، خوش تدبیری اور سلیقے سے بہت خوش تھے لیکن کھرے پن سے وہ اکثراوقات ناراض ہوجاتے تھے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ان کے کمانڈنگ افسر نے کسی بات پر خفا ہوکر جیسا کہ انگریزوں کا عام قاعدہ ہے انھیں’ڈیم‘ کہہ دیا۔یہ تو گالی تھی، خاں صاحب کسی کی ترچھی نظر کے بھی روادار نہ تھے۔انھوں نے فوراً رپورٹ کردی۔لوگوں نے چاہا کہ معاملہ رفع دفع ہوجائے اور آگے نہ بڑھے، مگرخاں صاحب نے ایک نہ سُنی۔ معاملے نے طول کھینچا اور جنرل صاحب کو لکھا گیا۔کمانڈنگ افسرکا کورٹ مارشل ہوا اور اُس سے کہا گیا کہ خان صاحب سے معافی مانگے۔ہر چند اُس نے بچنا چاہا مگرپیش نہ گئی اور مجبوراً اُسے معافی مانگنی پڑی۔ایسی خودداری اور نازک مزاجی پر ترقی کی توقع رکھنا عبث ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ دفعداری سے آگے نہ بڑھے۔
اچھے بُرے ہر قوم میں ہوتے ہیں۔شریف افسرخاں صاحب کی سچائی، دیانت اور جفاکشی کی بہت قدرکرتے تھے اور اُن کو اپنی اردلی میں رکھتے تھے۔مگربعض ایسے بھی تھے جن کے سر میں خنّاس سمایا ہوا تھا، انھیں خاں صاحب کے یہ ڈھنگ پسند نہ تھے اور وہ ہمیشہ ان کے نقصان کے درپے رہتے تھے۔ایسے لوگ اپنی اور اپنی قوم والوں کی خوداری کو تو جوہرِشرافت سمجھتے ہیں لیکن اگریہی جوہر کسی دیسی میں ہوتا ہے تو اُسے غرور اور گستاخی پر محمول کرتے ہیں۔تاہم اُن کے بعض انگریزی افسر اُن پر بہت مہربان تھے۔خاص کر کرنل فرن ٹین اُن پر بڑی عنایت کرتے تھے اور خاں صاحب پر اس قدر اعتبار تھا کہ شاید کسی اور پر ہو۔ جب کرنل صاحب نے اپنی خدمت سے استعفا دیا تو اپنا تمام مال و اسباب اور سامان جو ہزارہا روپے کا تھا، خاں صاحب کے سپرد کرگئے۔یہ امرانگریز افسروں کو بہت ناگوار ہوا۔اس وقت کے کمانڈنگ افسرسے نہ رہا گیا اور اس نے کرنل موصوف کو خط لکھا کہ آپ نے ہم پر اعتماد نہ کیا اور ایک دیسی دفعدار کو اپنا تمام قیمتی سامان حوالے کرگئے۔اگر آپ یہ سامان ہمارے سپرد کرجاتے تو اسے اچھے داموں میں فروخت کرکے قیمت آپ کے پاس بھیج دیتے۔اب بھی اگر آپ لکھیں تو اس کا انتظام ہوسکتا ہے۔کرنل نے جواب دیا کہ مجھے نورخاں پرتمام انگریز افسروں سے زیادہ اعتماد ہے، آپ کو ز حمت کرنے کی ضرورت نہیں۔اس پر یہ لوگ اور برہم ہوئے۔
ایک بار کمانڈنگ افسر یہ سامان دیکھنے آیا اور کہنے لگا کہ فلاں فلاں چیز میم صاحب نے ہمارے ہاں سے منگائی تھی، چلتے وقت واپس کرنی بھوٗل گئے، اب تم یہ سب چیزیں ہمارے بنگلے پر بھیج دو۔ خاں صاحب نے کہامیں ایک چیز بھی نہیں دوں گا، آپ کرنل صاحب کو لکھیے وہ اگر مجھے لکھیں گے تو مجھے دینے میں کچھ عذر نہ ہوگا۔وہ اس جواب پر بہت بگڑا اور کہنے لگا تم ہمیں جھوٹا سمجھتے ہو؟ خاں صاحب نے کہا میں آپ کو جھوٹا نہیں سمجھتا، یہ سامان میرے پاس امانت ہے اور میں کسی کو اس میں سے ایک تنکا بھی دینے کا مجاز نہیں۔غرض وہ بڑبڑاتا ہوا کھسیانا ہوکر چلا گیا۔خاں صاحب نے ایک انگریزی محرّر سے اس سامان کی مکمل فہرست تیار کرائی اور کچھ تو خود خریدکر کچھ نیلام کے ذریعے بیچ کر ساری رقم کرنل صاحب کو بھیج دی۔
نہ معلوم یہی کرنل تھا یا کوئی دوسرا افسر، جب ملازمت سے قطع تعلق کرکے جانے لگا تو اس نے ایک سونے کی گھڑی، ایک عمدہ بندوق اور پانسو روپے نقدخاں صاحب کو بطور انعام یا شکرانے کے دیے۔ خاں صاحب نے لینے سے انکار کیا، کرنل اور اس کی بیوی نے بہتیرا اصرار کیا مگر انھوں نے سوائے ایک بندوق کے دوسری چیز نہ لی اور باقی سب چیزیں واپس کردیں۔
کرنل اسٹوارٹ بھی جو ہنگولی چھاؤنی کے افسر، کمانڈنگ افسر تھے، اُن پر بہت مہربان تھے۔ رسالے کے شریف انگریز ان سے کہا کرتے تھے کہ ہمارے بعد انگریزافسر تم کو بہت نقصان پہنچائیں گے۔وہ ان کی روش سے خوش نہ تھے اور خوش کیوں کرہوتے، خوشامد سے انھیں چِڑتھی اور غُلامانہ اطاعت آتی نہیں تھی۔ ایک بار کا ذکر ہے کہ اپنے کرنل کے ہاں کھڑے تھے کہ ایک انگریز افسر گھوڑے پر سوار آیا، گھوڑے سے اُترکر اس نے خاں صاحب سے کہا کہ گھوڑا پکڑو۔انھوں نے کہا، ’’میں سائیس نہیں ہوں۔‘‘ اس نے ایسا جواب کاہے کو سنا تھا،بہت چِیں بہ جبیں ہوا مگر کیا کرتا، آخر باگ درخت کی ایک شاخ سے اٹکاکر اندرچلا گیا۔اب نہ معلوم یہ خاں صاحب کی شرارت تھی یا اتفاق تھا کہ باگ شاخ میں سے نکل گئی اور گھوڑا بھاگ نکلا۔اب جو صاحب باہر آئے تو گھوڑا ندارد۔ بہت جھنجھلایا، بڑی مشکل سے تلاش کرکے پکڑوایا تو جگہ جگہ سے زخمی پایا۔اس نے کرنل صاحب سے خاں صاحب کی بہت شکایت کی۔معلوم نہیں کرنل نے اس انگریز کو کیا جواب دیا لیکن وہ خاں صاحب سے بہت خوش ہوا اور کہا کہ تم نے خوب کیا۔
خاں صاحب نے جب یہ رنگ دیکھا تو خیراسی میں دیکھی کہ کسی طرح وظیفہ لے کر الگ ہوجائیں۔وہ بیمار بن گئے اور ہسپتال میں رجوع ہوئے۔کرنل اسٹوارٹ نے ڈاکٹر سے کہہ کر ان کو مدد دی اور اس طرح وہ کچھ دنوں بعد ڈاکٹر کی رپورٹ پر وظیفہ لے کر فوجی ملازمت سے سبک دوش ہوگئے۔سچ ہے انسان کی برائیاں ہی اس کی تباہی کا باعث نہیں ہوتیں بعض وقت اس کی خوبیاں بھی اسے لے ڈوبتی ہیں۔
کرنل اسٹوارٹ نے بہت چاہا کہ وہ مسٹرہنکن ناظم پولیس سے سفارش کرکے انھیں ایک اچھا عہدہ دلادیں مگر خاں صاحب نے اسے قبول نہ کیا اور کہا کہ میں اب اپنے وطن دولت آباد ہی میں رہنا چاہتا ہوں۔اگر آپ صوبے دار صاحب اورنگ آباد سے سفارش فرمادیں تو بہت اچھا ہو۔کرنل صاحب بہت اصرار کرتے رہے کہ دیکھو تمھیں پولیس میں بہت اچھی خدمت مل جائے گی انکار نہ کرو مگر یہ نہ مانے۔آخر مجبور ہوکر نواب مقتدر جنگ بہادر صوبے دار صوبہ اورنگ آباد سے سفارش کی۔صوبے دار صاحب کی عنایت سے وہ قلعۂ دولت آباد کی جمعیت کے جمعدار ہوگئے اور بہت خوش تھے۔
نواب مقتدر جنگ کے بعد نواب بشیرنواز جنگ اورنگ آباد کی صوبے داری پر آئے۔وہ بھی خاں صاحب پر بہت مہربان تھے۔اسی زمانے میں لارڈکرزن وائسراے دولت آباد تشریف لائے۔خاں صاحب نے سلامی دینے کی تیاری کی۔کئی توپیں ساتھ ساتھ رکھ کر سلامی دینی شروع کی۔لارڈ کرزن گھڑی نکال کر دیکھ رہے تھے۔جب سلامی ختم ہوئی تونواب صاحب سے خاں صاحب کی تعریف کی۔سلامی ایسے قاعدے اور اندازے سے دی کہ ایک سکنڈ کا فرق نہ ہونے پایا۔نواب صاحب نے اس کا تذکرہ خاں صاحب سے کیا اور کہا کہ میاں اب تمھاری خیرنہیں معلوم ہوتی۔
لارڈکرزن جب قلعہ کے اوپر بالاحصار پر گئے تو وہاں سستانے کے لیے کرسی پر بیٹھ گئے اور جیب سے سگرٹ دان نکال کر سگرٹ پینا چاہا۔دِیا سلائی نکال کر سگرٹ سلگایا ہی تھا کہ یہ فوجی سلام کرکے آگے بڑھا اور کہا کہ یہاں سگرٹ پینے کی اجازت نہیں ہے۔لارڈکرزن نے جلتا ہوا سگرٹ نیچے پھینک دیا اور جوتے سے رگڑڈالا۔یہ حرکت دیکھ کر نواب بشیرنواز جنگ بہادر اور دوسرے عہدے داروں کا رنگ فق ہوگیا۔مگرموقع ایسا تھا کہ کچھ کہہ نہیں سکتے تھے، لہو کے سے گھونٹ پی کر چپ رہ گئے۔بعد میں بہت کچھ لے دے کی مگر اب کیا ہوسکتا تھا۔خاں صاحب نے قاعدے کی پوری پابندی کی تھی، اس میں چوں وچرا کی گنجائش نہ تھی۔
اب اسے اتفاق کہیے یا خاں صاحب کی تقدیر کہ لارڈکرزن نے جانے کے بعد ہی فنانس کی معتمدی کے لیے مسٹرواکر کا انتخاب کیا۔ریاست کے مالیے کی حالت اس زمانے میں بہت خراب تھی۔مسٹرواکر نے اصلاحیں شروع کیں۔اس لپیٹ میں قلعۂ دولت آباد بھی آگیا، اوروں کے ساتھ خاں صاحب بھی تخفیف میں آگئے۔
دولت آباد میں ان کی کچھ زمین تھی، اس میں باغ لگانا شروع کردیا۔مسٹرواکردورے پر دولت آباد آئے تو ایک روز ٹہلتے ٹہلتے ان کے باغ میں بھی آپہنچے۔خاں صاحب بیٹھے گھاس کھرپ رہے تھے۔مسٹرواکر کو آتے دیکھا تو اُٹھ کر سلام کیا۔ پوچھا کیا حال ہے، کہنے لگے آپ کی جان ومال کو دُعا دیتا ہوں۔اب آپ کی بدولت گھاس کھودنے کی نوبت آگئی۔مسٹرواکرنے کہا یہ اچھا کام ہے۔دیکھو تمھارے درخت انجیروں سے کیسے لدے ہوئے ہیں۔ایک ایک آنے کو بھی ایک ایک انجیر بیچوتوکتنی آمدنی ہوجائے گی۔خاں صاحب گھبرائے کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ کم بخت انجیروں پر بھی ٹیکس لگادے۔تڑسے جواب دیا کہ آپ نے انجیر لدے ہوئے تو دیکھ لیے اور یہ نہ دیکھا کہ کتنے سڑگل کر گِرجاتے ہیں۔کتنے آندھی ہوا سے گِرپڑتے ہیں، کتنے پرندکھا جاتے ہیں اور پھر ہماری دِن رات کی محنت۔مسٹرواکر مسکراتے ہوئے چلے گئے۔
اسی زمانے میں ڈاکٹرسیدسراج الحسن صاحب اورنگ آباد کے صدرمہتمم تعلیمات ہوکر آئے تھے۔ڈاکٹر صاحب بلا کے مردم شناس ہیں۔تھوڑی ہی دیر میں اور چند ہی باتوں میں آدمی کو ایسا پرکھ لیتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔ پھر جیسا وہ آدمی کو سمجھتے ہیں ویسا ہی نکلتا ہے۔کبھی خطا ہوتے نہیں دیکھی۔ڈاکٹر صاحب ایسے قابل جوہروں کی تلاش میں رہتے ہیں، فوراً ہی اپنے سایۂ عاطفت میں لے لیا۔ڈاکٹر صاحب کا برتاؤ ان سے بہت شریفانہ اور دوستانہ تھا۔نواب برزور جنگ اس زمانے میں صوبے دار تھے۔مقبرے کا باغ ان کی نگرانی میں تھا۔ڈاکٹر صاحب نے سفارش کرکے باغ سے پانچ روپے ماہانہ الونس(الاؤنس) مقرّر کرادیا۔
نواب برزورجنگ کے پاس ایک گھوڑا تھا، وہ اسے بیچنا چاہتے تھے۔کلب میں کہیں اس کا ذکر آیا۔ڈاکٹر صاحب نے کہا مجھے گھوڑے کی ضرورت ہے۔میں اُسے خرید لوں گا مگر پہلے نورخاں کو دکھالوں۔وہاں سے آکر ڈاکٹر صاحب نے خاں صاحب سے یہ واقعہ بیان کیا اور کہا کہ بھئی اُس گھوڑے کو دیکھ آؤ کوئی عیب تو نہیں۔خاں صاحب نے کہا آپ نے غضب کیا میرا نام لے دیا۔گھوڑے میں کوئی عیب ہوا تو میں چھپاؤں گا نہیں اور صوبے دار صاحب مفت میں مجھ سے ناراض ہوجائیں گے۔ڈاکٹر صاحب نے کہا تم خواہ مخواہ وہم کرتے ہو، کل جاکے ضرور گھوڑا دیکھ لو۔خاں صاحب گئے۔گھوڑا نسل کا تو اچھا تھا مگرپانچوں شرعی عیب موجود تھے۔انھوں نے صاف صاف آکے کہہ دیا اور ڈاکٹر صاحب نے خریدنے سے اِنکار کردیا۔صوبے دار صاحب آگ بگولا ہوگئے۔دوسرے روز مقبرے میں آئے۔ باغ کا رجسٹرمنگایا اور نورخاں کے نام پر اس زور سے قلم کھینچا کہ اگر لفظوں میں جان ہوتی تو وہ بلبلا اُٹھتے۔ڈاکٹر صاحب کو معلوم ہو ا تو بہت افسوس کیا مگر انھوں نے اس کی تلافی کردی۔یہ سن کر صوبے دار صاحب اور بھی جھنجھلائے۔
ڈاکٹر صاحب ترقی پاکر حیدرآباد چلے گئے۔اُن کی خدمت کا دوسرا انتظام ہوگیا۔کچھ دنوں بعد ڈاکٹر صاحب ناظم تعلیمات ہوگئے اور میں ان کی عنایت سے صدر مہتمم تعلیمات ہوکر اورنگ آباد آیا۔ڈاکٹر صاحب ہی نے مجھے نورخاں سے ملایا اور ان کی سفارش کی۔ڈاکٹر صاحب نے انھیں عارضی طورپر دولت آباد میں مدرّس کردیا تھا، میں نے عارضی طوپر اپنے دفتر میں محرّر کردیا، وہ مدرّسی اور محرّری تو کیا کرتے مگر بہت سے مدرّسوں اور محرّروں سے زیادہ کارآمد تھے۔ڈاکٹر صاحب نے جب باغ کی نگرانی میرے حوالے کی تو خاں صاحب کا الونس بھی جاری ہوگیا۔
یوں محنت سے کام تو اور بھی کرتے ہیں لیکن خاں صاحب میں بعض ایسی خوبیاں تھیں جو بڑے بڑے لوگوں میں بھی نہیں ہوتیں۔سچّائی بات کی اور معاملے کی اُن کی سرشت میں تھی۔خواہ جان ہی پر کیوں نہ بن جائے وہ سچ کہنے سے کبھی نہیں چوکتے تھے۔اس میں انھیں نقصان بھی اُٹھانے پڑے مگر وہ سچائی کی خاطرسب کچھ گوارا کرلیتے تھے۔مستعدایسے تھے کہ اچھے اچھے جوان اُن کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے۔دن ہو، رات ہو، ہر وقت کام کرنے کے لیے تیار۔اکثردولت آباد سے پیدل آتے جاتے تھے۔کسی کام کو کہیے تو ایسی خوشی خوشی کرتے تھے کہ کوئی اپنا کام بھی اس قدر خوشی سے نہ کرتا ہوگا۔دوستی کے بڑے پکےاور بڑے وضع دار تھے۔چونکہ ادنا اعلا سب اُن کی عزّت کرتے تھے اِس لیے اُن سے غریب دوستوں کے بہت سے کام نکلتے تھے۔اُن کا گھرمہمان سرائے تھا۔اورنگ آباد کے آنے جانے والے کھانے کے وقت بے تکلف اُن کے گھر پہنچ جاتے اور وہ اس سے بہت خوش ہوتے تھے۔بعض لوگ جو مسافر بنگلے میں آکر ٹھہرجاتے تھے ان کی بھی دعوت کردیتے تھے۔بعض اوقات ٹولیوں کی ٹولیاں پہنچ جاتی تھیں اور وہ ان کی دعوتیں بڑی فیاضی سے کرتے تھے۔اس قدر قلیل معاش ہونے پر ان کی یہ مہمان نوازی دیکھ کر حیرت ہوتی تھی۔اُن کی بیوی بھی ایسی نیک بخت تھی کہ دفعتًا مہمانوں کے پہنچ جانے سے کبیدہ خاطر نہ ہوتی تھی بلکہ خوشی خوشی کام کرتی اور کھلاتی تھی۔خود دار ایسے تھے کہ کسی سے ایک پیسے کا روادار نہ ہوتے تھے۔ڈاکٹر سراج الحسن ہر چند طرح طرح سے اُن کے ساتھ سلوک کرنا چاہتے تھے مگر وہ ٹال جاتے تھے۔مجھ سے انھیں خاص اُنس تھا۔ میں کوئی چیز دیتا تو کبھی انکار نہ کرتے بلکہ کبھی کبھی خود فرمائش کرتے تھے۔مٹھاس کے بے حد شائق تھے۔اُن کا قول تھا کہ اگر کسی کو کھانے کو میٹھا ملے تو نمکین کیوں کھائے۔وہ کہا کرتے تھے کہ ’’نمکین کھانا مجبوری سے کھاتا ہوں، مجھ میں اگر اِستطاعت ہو تو ہمیشہ مٹھاس ہی کھایا کروں اور نمکین کو ہاتھ نہ لگاؤں‘‘۔ انھیں مٹھاس کھاتے دیکھ کر حیرت ہوتی تھی۔اکثر جیب میں گُڑ رکھتے تھے۔ایک بار میرے ساتھ دعوت میں گئے، قسم قسم کے تکلّف کے کھانے تھے۔خاں صاحب نے چھوٹتے ہی میٹھے پر ہاتھ ڈالا۔ایک صاحب جو دعوت میں شریک تھے یہ خیال کرکے کہ خاں صاحب کو دھوکا ہوا ہے کہنے لگے کہ ’’حضرت یہ میٹھا ہے‘‘۔ مگر انھوں نے کچھ پروانہ کی اور برابر کھاتے رہے۔جب وہ ختم ہوگیا تو دوسرے میٹھے پر ہاتھ بڑھایا۔ان صاحب نے پھرٹوکا کہ حضرت یہ میٹھا ہے، انھوں نے کچھ جواب نہ دیا اور اسے بھی ختم کرڈالا۔جب کبھی وہ کسی دوست کے ہاں جاتے تو وہ اُنھیں ضرور میٹھا کھلاتے اور یہ خوش ہوکر کھاتے۔
خاں صاحب بہت زندہ دل تھے، چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی تھی جسے دیکھ کر خوشی ہوتی تھی۔وہ بچوں میں بچّے، جوانوں میں جوان اور بوڑھوں میں بوڑھے تھے۔غم اور فکر کو پاس نہ آنے دیتے تھے اور ہمیشہ خوش رہتے تھے اور دوسروں کو بھی خوش رکھتے تھے۔ان سے ملنے اور باتیں کرنے سے غم غلط ہوتا تھا۔آخر دم تک ان کی زندہ دلی ویسی ہی رہی۔
ڈاکٹر سراج الحسن صاحب جب کبھی اورنگ آباد آتے تو اسٹیشن سے اُترتے ہی اپنا روپیہ پیسہ سب اُن کے حوالے کردیتے اور سب خرچ انھیں کے ہاتھ سے ہوتا تھا۔جانے سے پہلے ایک روز قبل وہ حساب لے کے بیٹھتے،بعض وقت جب بِدہ نہ ملتی تو آدھی آدھی رات تک لیے بیٹھے رہتے تھے۔ ہر چند ڈاکٹر صاحب کہتے کہ خاں صاحب یہ تم کیا کرتے ہو، جو خرچ ہوا ہوا، باقی جو بچا وہ دے دیا یا زیادہ خرچ ہوا ہو تو لے لیا۔ مگر وہ کہاں مانتے تھے، جب تک حساب ٹھیک نہ بیٹھتا انھیں اطمینان نہ ہوتا۔چلتے وقت کہتے کہ لیجیے صاحب یہ آپ کا حساب ہے، اتنا خرچ ہوا اور اتنا بچا۔یا کچھ زیادہ خرچ ہوجاتا تو کہتے کہ اتنے پیسے ہمارے خرچ ہوئے ہیں یہ ہمیں دلوائیے۔کبھی ایسا ہوا کہ انھیں کچھ شبہ ہوا تو جانے کے بعد پھر حساب لے کے بیٹھتے اور خط لکھ کر بھیجتے کہ اتنے آنے آپ کے رہ گئے تھے وہ بھیجے جاتے ہیں یا اتنے پیسے میرے زیادہ خرچ ہوگئے تھے وہ بھیج دیجیے گا۔ڈاکٹر صاحب ان باتوں پر بہت جھنجھلاتے تھے مگر وہ اپنی وضع نہ چھوڑتے تھے۔
وہ حساب کے کھرے، بات کے کھرے اور دل کے کھرے تھے۔ وہ مہرو وفا کے پتلے اور زندہ دلی کی تصویر تھے۔ایسے نیک نفس، ہم درد، مرنج ومرنجان اور وضع دار لوگ کہاں ہوتے ہیں۔اُن کے بڑھاپے پر جوانوں کو رشک آتا تھا اور ان کی مستعدی کو دیکھ کر دل میں اُمنگ پیدا ہوتی تھی۔ان کی زندگی بے لوث تھی اور اُن کی زندگی کا ہرلمحہ کسی نہ کسی کام میں صرف ہوتا تھا۔مجھے وہ اکثر یاد آتے ہیں اور یہی حال ان کے دوسرے جاننے والوں اور دوستوں کا ہے۔اور یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ وہ کیسا اچھا آدمی تھا۔قومیں ایسے ہی لوگوں سے بنتی ہیں۔کاش ہم میں بہت سے نورخاں ہوتے!
سوالوں کے جواب لکھیے:
- مصنف نے نورخاں کو گدڑی کا لال کیوں کہا ہے؟
- نورخاں نے کمانڈرنگ آفیسر کی رپورٹ کیوں کی اور اس کا کیا اثر ہوا؟
- نورخاں کی فرض شناسی کے کسی ایک واقعے کو اپنے الفاظ میں بیان کیجیے۔
- ’’قومیں ایسے ہی لوگوں سے بنتی ہیں‘‘ اس جملے کی وضاحت کیجیے۔
