اشرف صبوحیؔ

(1905 – 1990)
ابتدا میں بچوں کے لیے کہانیاں لکھیں۔دہلی سے شائع ہونے والے ادبی رسالوں میں کئی مضامین شائع ہوئے۔ایک ادبی ماہنامہ ’’ارمغان‘‘بھی جاری کیا جو دوسال تک شائع ہوتا رہا۔1947میں تقسیم ملک کے بعد لاہور (پاکستان) چلے گئے۔ ان کا انتقال کراچی میں ہوا۔
اشرف صبوحی نے دہلی کے روزمرہ بامحاورہ ٹکسالی زبان میں ادبی مضامین اور افسانے لکھے اور تراجم بھی کیے۔ ’’دلی کی چند عجیب ہستیاں‘‘ اور’’غبارِ کارواں‘‘ ان کے خاکوں کے مجموعے ہیں۔ ’’جھروکے‘‘ افسانوںاور خاکوں کا مجموعہ ہے۔’’سلمیٰ‘‘ (بغداد کا جوہری) ،’’بن باسی دیوی‘‘ ،’’دھوپ چھاؤں‘‘ ،’’ننگی دھرتی‘‘ اور’’موصل کے سوداگر‘‘ انگریزی کے تراجم ہیں۔ ان کے علاوہ بیس سے زائد بچوں کی کہانیوں پرمشتمل کتابیں ہیں۔
مرزا چپاتی
کہتے ہیں کہ دِلّی کے آخری تاج دار ظفر کے بھانجے تھے۔ ضرور ہوں گے۔ پوتڑوں کی شاہ زادگی ٹھیکروں میں دم توڑ رہی تھی، لیکن مزاج میں رنگیلاپن وہی تھا۔ جلی ہوئی رسّی کے سارے بل گِن لو۔ جب تک جیے پرانی وضع کو لیے ہوئے جیے۔ مرتے مرتے نہ کبوتر بازی چھوٹی، نہ پتنگ بازی۔ مُرغے لڑائے یا بُلبل، تیراکی کا شغل رہا یا شعبدے بازی کا۔ شطرنج کے بڑے ماہر تھے۔ غائب کھیلتے تھے۔ خدا جانے غدر میں یہ کیوں کر بچ گئے اور جیل کے سامنے والے خونی دروازے نے اِن کے سر کی بھینٹ کیوں نہ قبول کی؟ انگریزی عمل داری ہوئی۔ بدامنی کا کوئی اندیشہ نہ رہا تو مراحم خسروانہ کی لہر اُٹھی۔ خاندانِ شاہی کی پرورش کا خیال آیا پینشنیں مقرر ہوئیں۔ مگر برائے نام ۔
لیکن صاحبِ عالم مرزا فخرالدین عرف مرزا فخروالملّقب بہ مرزا چپاتی نے مردانہ وار زندگی گزاری۔ گھر بار جب کبھی ہوگا، ہوگا۔ ہماری جب سے یاد اللہ ہوئی دم نقد ہی دیکھا۔ قلعے کی گود میں بازیوں کے سوا اور سیکھاہی کیا تھا جو بگڑے وقت میں آبرو بناتا۔ اپنے والد رحیم الدین حیاؔ سے ایک فقط شاعری ورثے میں ملی تھی، پڑھنا لکھنا آتا نہ تھا۔ پھر زبان توتلی مگر حافظہ اس بَلا کا تھا کہ سو سو بند کے مسدّس ازبر تھے۔ کیا مجال کہ کہیں سے کوئی مصرع بھول جائیں۔ گویا گراموفون تھے، کوک دیا اور چلے۔
ایک دن کسی شخص نے مرزا صاحب کے سامنے یہ مصرع پڑھا
اور اس پر مصرع لگانے کی فرمائش کی۔ مرزا صاحب نے اسی وقت بہترین مصرع لگا کر اس طرح ایک اعلاپایہ کا شعر بنا دیا ؎
قلعہ مرحوم کے حالات اور موجودہ تہذیب پر اُن کی نوکا جھونکی جتنی مزہ دیتی تھی، وہ میرا دل ہی جانتا ہے۔ کبھی کبھی وہ مجھے پتنگ بازی کے دنگلوں میں لے جاتے تھے۔ مُرغ اور بُلبلوں کی پالیاں بھی دکھائیں۔ تیراکی کے میلوں میں بھی لے گئے۔ کبوتر بھی مجھے دکھا دکھا کر اُڑائے۔ سب کچھ کیا، میں جہاں تھا وہیں رہا۔ ہر جگہ اُن کا دماغ کھایا۔ انھیں بھی میری خاطر ایسی منظور تھی کہ بادلِ خواستہ یا ناخواستہ وہ سب کچھ مجھے بتاتے۔
ایک دن دوپہر کے کوئی دو بجے ہوں گے۔ برسات کا موسم تھا۔ کئی گھنٹے کی موسلادھار بارش کے بعد ذرا بادل چھٹے تھے کہ حضرت معمول کے خلاف میرے پاس تشریف لائے۔ مُنھ بنا ہوا، آنکھیں اُبلی ہوئی۔ چہرے سے غصّہ ٹپک رہا تھا۔ میں نے کہا خدا خیر کرے۔ آج تو صاحب عالم کے تیور کچھ اور ہیں۔ کئی منٹ تک خاموش بیٹھے رہے اور میں ان کا مُنہ تکتا رہا۔ ذرا سانس درست ہوا تو بولے ’’سید! اس پٹھانچے کا ٹِٹرمغزاپن بھی دیکھا۔ بڑاافلاطون بنا پھرتا ہے۔ باوا تو جھُک جھُک کر مجرا کرتے کرتے مر گیا، یہ بابو بن کر بابو کی طرح دُلتیاں جھاڑتا ہے۔ ہے شرط کہ چار جامہ کس دوں، ساری ٹرفش نکل جائے گی۔‘‘
میں : میں بالکل نہیں سمجھا۔ ہوا کیا؟ کون پٹھانچہ؟
مرزا : ایسے ننھّے سمجھے ہی نہیں۔میاں! وہی کالے خاں کا لڑکا جو کچہری میں نوکر ہے۔
میں : منیر۔ کیا اس نے کچھ گستاخی کی؟
مرزا : گستاخی! نہ ہوا ہمارازمانہ، خاندان بھر کو کولھومیں پسوا دیتا۔
میں : بڑا نالائق ہے۔ کیا بات ہوئی؟
مرزا : ہوا یہ کہ میں کبوتروں کا دانہ لینے نکلا۔ گلی کے نکڑ پر بنیے کی دُکان ہے۔ نالیوں میں دھائیں دھائیں پانی بہہ رہا تھا۔ ساری گلی میں کیچڑ ہی کیچڑ تھی۔ محلّے والوں نے جابجا پتّھر رکھ دیے تھے کہ آنے جانے والے اِن پرپانٗو(پاؤں) رکھ کر گزر جائیں۔ دیکھتا کیا ہوں وہ اکڑے خاں بیچ گلی میں کھڑے ہوئے ایک خوانچے والے سے جھِک جھِک کر رہے ہیں۔ گلی تنگ، کیچڑ اور پانی۔ پتھّروں پر ان کا قبضہ۔ کوئی بھلا اس پر گزرے تو کہاں سے؟ میں نے کہا کہ میاں راستہ چھوڑ کر کھڑے ہو۔ یہ کون سی انسانیت ہے کہ سارا راستہ روک رکھا ہے۔ ٹرّا کر جواب دیا کہ چلے جاؤ۔ مجھے تاؤ آ گیا۔ بولا کہ تمھارے سر پر سے جاؤں۔ بس پھر کیا تھا جامے سے باہر نکل پڑا۔ وہ تو پاس پڑوس کے دو چار آدمی نکل آئے اور بیچ بچاؤ کرا دیا ورنہ آج یا وہ نہیں تھا یا میں۔ خیر جاتا کہاں ہے۔آج کے تُھپے آج ہی نہیں جلا کرتے۔
میں : صاحب عالم! آپ اپنی طرف دیکھیے۔ جو ظرف میں ہوتا ہے وہی چھلکتا ہے۔ آنے دیجیے وہ ڈانٹ بتاؤں کہ ہاتھ جوڑتے بنے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سُنا ہے کہ قلعے کے آخری دور ہی میں شہر کی حالت بدل گئی تھی۔ نہ چھوٹوں کا رکھ رکھاؤ رہا تھا نہ بڑوں کا ادب۔
مرزا : توبہ توبہ تم نے تو دلّی کو دم توڑتے بھی نہیں دیکھا۔ اس کا مردہ دیکھا ہے۔ مُردہ، وہ بھی لاوارث! میاں شہر آبادی کی باتیں قلعے والوں کے صدقے میں تھیں۔ جیسے جیسے وہ اُٹھتے گئے دلّی میں اصلیت کا اندھیرا ہوتا گیا۔ اب تو نئی روشنی ہے نئی باتیں۔ اور تو خدا بخشے دلّی کی صفتیں تم کیا جانو۔ پڑھے لکھے ہو۔ شاعری کا بھی شوق ہے۔ بھلا بتاؤ تو سہی اُردو کی کتنی قسمیں ہیں؟ میں نے حیران ہو کر پوچھا ’’صاحب عالم اُردو کی قسمیں کیسی؟ یہ بھی ایک کہی۔ مجھ پر بھی دانوٗکرنے لگے۔‘‘ ’’واہ بھئی معلوم ہوا کہ تم دلّی والے نہیں۔ کہیں باہر سے آکر بس گئے ہو۔‘‘ میں شرمندہ تھا کہ کیا جواب دوں۔ میرے نزدیک تو صرف ایک ہی قسم کی اُردو تھی۔زیادہ سے زیادہ عوام د خواص کا فرق سمجھ لو۔ مگر یہ قسمیں کیا معنی؟ مجھے چُپ دیکھ کر مرزا مُسکرائے اور کہنے لگے ’’سیّد پریشان نہ ہو۔ مجھ سے سُن اور یاد رکھ۔ بھولیو نہیں پھر پوچھے گا تو نہیں بتاؤں گا۔‘‘ میں بڑے شوق سے متوجّہ ہوا اور انھوں نے انگرکھے کے دامن سے مُنہہ پونچھ کر کہنا شروع کیا۔ دیکھ اوّل نمبر پر تو اُردوئے معلّیٰ ہے جس کو ماموں حضرت اور اُن کے پاس اٹھنے بیٹھنے والے بولتے تھے۔ وہاں سے شہر میں آئی اور قدیم شرفا کے گھروں میں آ چھُپی۔ دوسرا نمبر قل آعوذ اُردو کا ہے جو مولویوں، واعظوں اور عالموں کا گلا گھوٹتی رہتی ہے۔ تیسرے خود رنگی اُردو۔ یہ ماںٹینی باپ کلنگ والوں نے رنگ برنگ کے بچّے نکالے ہیں۔ اخبار اور رسالوں میں اِسی قسم کی اُردو، ادب کا اچھوتا نمونہ کہلاتا ہے۔ چوتھے ہُڑدنگی اُردو، مسخروں اور آج کل کے قومی بلّم ٹیروں کی مُنہ پھٹ زبان ہے۔ پانچویں لفنگی اُردو ہے جسے آکا بھائیوں کی لٹھ مار، کڑاکے دار بولی کہو یا پہلوانوں، کرخنداروں، ضلع جگت کے ماہروں، پھبتی بازوں اور گلیروں کا روز مرّہ۔ چھٹے نمبر پر فرنگی اُردو ہے جو تازہ ولایت انگیز۔ہندستانیوں عیسائی ٹوپ لگائے ہوئے کرانی، دفتر کے بابو، چھاونیوں کے سوداگر وغیرہ بولتے ہیں۔ پھر ایک سربھنگی اُردو ہے یعنی چرسیوں، بھنگڑوں، بے نواؤں اور تکیے داروں کی زبان۔‘‘ میں نے کہا آج تو بہرہ کھُلا ہوا ہے۔ بھئی خوب تقسیم ہے کیوں نہ ہو، آخر شاہ جہانی دیگ کی کھُرچن ہے۔ میری طرف دیکھ کر ایک گہرا ٹھنڈا سانس بھرا۔ آنکھوں میں آنسو آ گئے اور کہنے لگے ’’سیّد! ابھی تم نے کیا دیکھا ہے اور کیا سُنا ہے۔ قلعہ آباد ہوتا، دربا ر دیکھے ہوتے تو اصلی زبان کا بناوسنگار نظر آتا۔ اب تو ہماری زبان بیسنی ہو گئی ہے۔وہ لچیلی چونچلے کی باتیں، شریفوں کے انداز، امیروں کی آن، سپاہیوں کی اکڑفوں، وہ خادمانہ اور خوردانہ آداب وانکسار، شاعروں کے لچھّے دار فقرے، شہروالوں کا میل جول، پرانے گھرانوں کے رسم ورواج، وہ مرّوت وہ آنکھ کا لحاظ کہاں؟ مجلسوں محفلوں کا رنگ بدل گیا، میلے ٹھیلے، پرانے کرتب، اگلے ہنرسب مٹتے جاتے ہیں۔ اشراف گردی نے بھلے مانسوں کو گھر بیٹھا دیا۔ فیل نشین، پالکیوں میں بیٹھنے والے کھپریلوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ مفلسی، ناداری نے رذالوں کے آگے سر جھکوادیے۔ موری کی اینٹ چوبارے چڑھ گئی۔ کم ظرفوں، ٹینیوں کے گھر میں دولت پھٹ پڑی۔ زمانہ جب کمینوں کی پشتی پر ہو تو خاندانیوں کی کون قدر کرتا؟ پیٹ کی مار نے صورتیں بگاڑ دیں، چال چلن میں فرق آ گیا۔ ہمّت کے ساتھ حمیّت بھی جاتی رہی۔
مرزانے یہ تقریر کچھ ایسے عبرت خیز لفظوں میں کی کہ میرا دل بھر آیا اور میں نے گفتگو کا پہلو بدلنے کی کوشش کی۔
میں : کیوں حضّت، غدر سے پہلے دِلّی والوں کا لباس کیا تھا؟ دو چار پرانی وضع کے لوگ دیکھنے میں آئے ہیں۔ اُن کی برزخ تو کچھ عجیب ہی سی معلوم ہوتی تھی۔
مرزا : جھوٹے ہو تم نے کہاں دیکھا ہوگا۔ کوئی بہروپیایا نقّال نظر آ گیا ہوگا۔ میاں اُن وقتوں میں ادنا اعلا میں یک رنگی نہ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ درباری اور بازاری لوگ لباس سے پہچانے جاتے تھے۔ عام طور پر اپنی شکل و شباہت، تن وتوش، جسامت اور پیشے کے مطابق کپڑا پہنا جاتا تھا کہ دُور سے دیکھ کر پہچان لیں کہ کس خاندان کا اور کیسا آدمی ہے؟ اگر نوجوان ہے؟تو ایک ایک ٹانکے پر جوانی برستی ہے۔ بوڑھا ہے تو پیری اور سادگی ٹپکتی ہے۔ بانکوں کا بانک پن، چھیلاؤں، ملاّؤں کی ملاّئی، پہلوانوں کی پہلوانی، رذالوں کی رذالت اور شریفوں کی شرافت لباس سے صاف بھانپ لی جاتی تھی۔ چھوٹے آدمی جس پوشاک کو اختیار کر لیتے تھے، بھلے مانس چھوڑ دیتے تھے۔ دو پلڑی ٹوپیوں کا عام رواج تھا مگر چو گوشی، پچ گوشی، گول، مغلئی، تاج دار ٹوپیاں، مغل بچّے اور شریف زادے پہنتے تھے۔ قلعے کے آنے جانے والوں میں مندیلیں، بنارسی دوپٹّے، گولے دار پگڑیاں— مسلمانوں کا حصّہ تھا۔ درباری جامہ بھی پہنا کرتے تھے۔ اُمراچغہ سرپچ اور شہزادوں میں کلغیاں بھی مروّج تھیں۔ ہندوؤں میں پہلے جامے کا زیادہ دستور تھا، پھر نیم جامہ اور اُلٹی چولی کے انگرکھے پہننے لگے۔ علاوہ ازیں الخالق، اچکن، قبا، عبا، جبّہ،چغہ، مرزیٔ وغیرہ بھی استعمال ہوتے تھے۔ پایجامے یا تو تنگ موری کے یا اِک برے یا غرارے دار ہوتے تھے۔ ڈاڑھی مونچھوں کی وضع بھی ہر خاندان اور ہر پیشہ ور کی علاحدہ تھی۔
میں : مگر یہاں والوں کو فضول کھیلوں، دولت کو لٹانے والی بازیوں اور بے کار مشغلوں کے سوا کام ہی نہ تھا۔
مرزا : تم کیا جانو کہ وہ بازیاں اور اُن کے مشغلے کیسے کمال کے تھے۔ ویسے ہُنر آج کوئی نہیں پیدا کر لیتا۔ زہرہ پھٹ جائے زہرہ۔ بات یہ ہے کہ ساری چیزیں وقت سے ہوتی ہیں۔ نامردوں کا زمانہ ہے تو نامردوں کی سی باتیں بھی ہیں۔ شریفوں کا شغل ڈنڑ، مگدر، بانک، بنّوٹ، پھیکتی، اِکنگ، تیراندازی، نیزہ بازی، پنجہ کشی تھا۔ کہہ دوبے کار تھا۔ تیراکی، کشتی، شکرے اور باز کا شکار، پتنگ لڑانا، کبوتر بازی وغیرہ سے دل چسپی تھی۔ کہہ دویہ بھی فضولیات ہیں۔
میں : فضولیات نہیں تو اور کیا ہیں؟
مرزا : جی ہاں فضولیات ہیں۔ خُدا کے بندے ان ہی باتوں سے تو دِلّی دِلّی تھی۔ ورنہ شاہجہاں کی بسائی ہوئی محمد شاہی دِلّی اور خورجہ بلند شہر میں کیا فرق۔ پھکیت اور بنّوٹیے ایسے ہوتے تھے کہ موقع پڑتا تو رومال میں صرف پیسا یا ٹھیکری باندھ کرحریف کے سامنے آ جاتے اور دو جھکائیوں میں ہتھیار چھین لیتے۔ تیراکی کا یہ حال تھا کہ پالتی مارے ہوئے پانی پر بیٹھے ہیں جیسے مسند پر… دُھواں اُڑاتے اور ملہار سنتے چلے جاتے ہیں۔ قلعے کی حمام والی نہر تو دیکھی ہوگی۔ گزسوا گز کا پاٹ ہے اور بالشت بھر سے زیادہ گہرائی نہیں۔ اس میں آج کوئی مائی کا لال تیر کر دکھائے تو میں جانوں۔ میر مچھلی تو خیر اُستاد تھے، ان کا ساکمال تو کسے میسّر ہے۔ دو چار گز تو اتنے پانی میں تیر کر میں بھی دکھا سکتا ہوں۔
مرزا : ارے میاں ایرانی تورانی منچلے، دہم ہو کر کیا چوڑیاں پہن لیتے۔ جنگ و جدال کا خیال انسانی قربانیوں، ملک ستانیوں کے چاؤ، خون کی پچکاریوں سے ہولی کا وقت تو لد گیا تھا۔ نہ ان پر کوئی چڑھ کر آتا تھا نہ یہ کہیں چڑھائی کرتے تھے۔ انگریزی عمل داری کی برکت سے نکسیریں بھی نہیں پھوٹتی تھیں۔ وہ جانوروں کو ہی لڑا کر اپنے دل کی بھڑاس نکال لیتے تھے۔
ان باتوں کو کوئی ایک مہینا گزرا ہوگا کہ صبح ہی صبح مرزا صاحب چلے آتے ہیں۔آتے ہی فرمانے لگے ’’پرانی عیدگاہ چلنا ہوگا۔‘‘ میں نے کہا ’’خیریت؟‘‘ بولے’’ لکھنؤوں سے پینچ ہیں۔ جانوں ڈھیری یا مالوں ڈھیری۔ پانچ روپے، پینچ ٹھہرا ہے، بڑا معرکہ ہوگا۔‘‘ میں نے عرض کیا ’’صاحب عالم مجھے نہ تو پتنگ بازی سے کوئی دل چسپی ہے نہ میرے پاس اتنا فضول وقت ہے کہ آپ کے ساتھ واہی تباہی پھروں۔‘‘ تاؤ کھا کر آنکھیں نکال لیں اور حاکمانہ انداز سے کہنے لگے’’تمھاری اور تمھارے وقت کی ایسی تیسی۔ بس کہہ دیا کہ چلنا ہوگا۔ دوپہر کو آؤں گا تیّار رہنا۔‘‘ میں بہت پریشان ہوا مگر کرتا کیا، دوستی تھی یا مذاق۔ قہردردیش بجانِ درویش۔ اپنی ساری ضرورتوں کو طاق پر رکھا اور حضرت مرزا چپاتی کا منتظرتھا کہ ٹھیک بارہ بجے آواز پڑی’’ سیّد آؤ‘‘۔ آگے آگے مرزا صاحب اور پیچھے پیچھے میں۔ اجمیری دروازے سے نکل کر قبرستان لانگتے پھلانگتے پرانی عیدگاہ پہنچے۔وہاں دیکھا تو خاصا میلا لگا ہوا ہے۔ کبابی، کچالووالے، دہی بڑوں کی چاٹ، پان بیڑی، پانی پلانے والے سقّے، پوری خرافات موجود ہے۔ جابجا پتنگ بازوں کی ٹکڑیاں بیٹھی ہیں۔ مرزا صاحب کو دیکھتے ہی’’صاحب عالم ادھر‘‘،’’ مرزا صاحب ادھر‘‘، ’’اُستاد پہلے میری سن لیجیے‘‘، ’’میاں ادھر آنے دو۔بات سمجھتے ہیں نہ بات کی دُم، اُڑنے سے کام۔‘‘ ’’حضّت آپ یہاں آئیے۔میر کنکیّاآپ سے کچھ کہنا چاہتے ہیں‘‘۔ چاروں طرف سے آوازیںپڑنے لگیں۔ مرزا چوکنّے ایک ایک کو جواب دیتے ،شامیانے کے نیچے جہاں میر کنکیّا تشریف فرما تھے، پہنچے۔
میر کنکیّالکھنؤ کے واجد علی شاہی پتنگ باز تھے۔ کاکریزی رنگ، گول چہرہ، چھوٹی چھوٹی آنکھیں، بڑی ناک، دانتوںمیں کھِڑکیاں،سر پر کڑبڑے پٹّھے۔ خشخاشی ڈاڑھی، چھاتی کھُلا، سنجاف دار ڈھیلا ڈھالا انگرکھا، سر پر دو انگل کی کلابتّوکے حاشیے کی ٹوپی، پاؤں میں مخملی گرگابی، کلّے میں گلوری، اُٹھ کر مرزا چپاتی سے بغل گیر ہوئے۔ پھر جو پتنگ بازی کا ذِکر شروع ہوا تو تین بج گئے۔ میں بے وقوفوں کی طرح بیٹھاہوا ایک ایک کا مُنہ تک رہا تھا۔ پتنگ بازی کی ہوتی تو اُن کی اصطلاحیں سمجھ میں آتیں۔ آخر خداخدا کرکے لوگ اپنی اپنی ٹکڑیوں میں گئے۔ آسمان پر چیل کوّے منڈلانے شروع ہوئے۔ میں مرزا صاحب کے ساتھ تھا۔ عید گاہ کی دیوار کے نیچے سے اُنھوں نے بھی اپنا اختربخترکھول کر ایک انگارا ادّھا اُڑایا۔ ہُچکاایک لڑکے کے ہاتھ میں تھا۔ کوئی دس منٹ تک جھکایاںدیتے رہے، پینچ ہوا۔ کبھی آگے بڑھتے تھے کبھی پیچھے ہٹتے تھے۔ ایک دفعہ ہی جھلّا کر لڑکے کو تمانچا رسید کیا اوربولے ’’ابے ہُچکا پکڑنے کی سُرت بھی نہ تھی تو یہاں آن کیوں مرا آخر کٹوا دیا نا۔‘‘
پھر ایک الفن بڑھائی اور اب کے ہچکا پکڑنے کی خدمت مجھے انجام دینی پڑی۔ بدقسمتی سے یہ گڈّی بھی کٹ گئی۔ بہت بگڑے کہ بس جب تم جیسے منحوس ساتھ ہوںتو ہم اُڑا چکے۔ غضب ہے سانولیا ہمیں اُستاد کہنے والا، میرگولنداز ہمارے ہاں کے شاگرد، شیخ پیچک جیسے برابر پینچ نکالے جاتے ہیں اورمرزافخرو اوپر نیچے دو کنکوّے کٹوائے۔’’ سمیٹو میاں سمیٹومجھے اپنی استادی تھوڑی گنوانی ہے۔‘‘ وہ کہتے رہے، میں تو وہاں سے ہٹ کر رومال بچھا کر الگ جا بیٹھا۔ تھوڑی دیر میں وہ بھی اپنا اسبابِ جہالت لُنگی میں باندھے میرے پاس آ بیٹھے۔ تیوری پر بل تھے، چہرہ سُرخ، آنکھیں اُبلی ہوئی۔ میں نے کہا مرزا صاحب ہوا کا کھیل ہے۔ اس میں کسی کی کیا پیری۔ آپ کی اُستادی میں کہیں فرق آتا ہے۔ سلطنت ہی جب ہتّھے پر سے کٹ گئی تو ان دو کاغذکے ٹکڑوں کا کیا غم! آپ، آپ ہی ہیں۔ کہنے لگے ’’سچ کہتے ہو میاں۔ ہم قلعے والوں کی تقدیر ہی خراب ہے۔ ہوا بھی موافقت نہیں کرتی۔ میں نے اُن کے بشرے سے اُن کی دِلی تکلیف کا اندازہ کرتے ہوئے اس ذکر کو موقوف کر دیا۔ اور پوچھا ’’کیوں مرزا صاحب قلعہ جب آباد تھا اس وقت بھی پتنگ بازی کے ایسے ہی دنگل ہوتے تھے؟‘‘
مرزا : اِک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے۔ اس وقت کا سماں کیوں کر دکھاؤں۔ میاں ہر بات میں اک شان تھی، ایک قاعدہ تھا اور ہزاروں غریبوں کی روٹیوں کے سہارے۔ معمول تھا کہ عصر کا وقت ہوا اور سلیم گڑھ پر جمگھٹ لگا۔ بڑے بڑے پتنگ، دوتاوی اور سہ تاوی تُکلّیں، ڈور کی چرخیاں لے کر شاہی پتنگ باز پہنچ گئے، خلوت کے امیر اور شوقین شہزادے مرزا نبّو، مرزا کدال، مرزا کالیٹن، مرزا چڑیا، مرزا جھِرجھری بھی آموجود ہوئے۔ یہ سلاطین زادے بہت مُنہ چڑھے تھے۔
میں : (بات کاٹ کر) حضّت یہ نام کیسے؟ کیا اسی بولی کا نام اُردوے معلّیٰ ہے؟
مرزا : کچھ پڑھا لکھا بھی، یا گھاس ہی کھودتے رہے ہو۔ ارے زبان کی ٹکسال قلعے ہی میں تو تھی وہاں محاورات نہ ڈھلتے تو کہاں ڈھلتے۔ طبیعتیں ہر وقت حاضر رہتی تھیں۔ ہر بات میں جدّت مدِّ نظر تھی۔ ہنسی مذاق میں جو مُنہ سے نکل گیا گویا سکّہ ڈھل گیا۔ کسی کے پھٹے پھٹے دیدے ہوئے مرزا بٹّو کہہ دیا۔ لمبا چہرہ، چگّی ڈاڑھی دیکھی، مرزا چُکّایا مرزا کدال کہنے لگے۔ چکلے چہرے والے پر چوپال کی اور ٹھنگنے پر گھٹنّے کی پھبتی اُڑا دی۔ غرض کہ مرزا چیل، مرزا جھپٹ، مرزا یاہو، مرزا رنگیلے، مرزا رسیلے، بیسوںاسم بامسمیٰ تھے۔ میں جمعرات کو چپاتیاں اور حلوا بانٹا کرتا تھا، میرا نام مرزا چپاتی مشہور کر دیا۔
میں : لیجیے ہمیں آج تک مرزا چپاتی کی وجہ تسمیہ ہی معلوم نہ تھی۔ یہ آپ کا خیر سے ٹکسالی نام ہے۔
مرزا : اب زیادہ نہ اِتراؤ۔ قصّہ سُنتے ہو یا کوئی پھبتی سُننے کو جی چاہتا ہے۔
میں : اچھا اب کان پکڑتا ہوں بیچ میں نہیں بولوںگا۔فرمائیے۔
مرزا : سب سامان لیس ہو گیا تو بڑے حضرت کی سواری آئی۔ دُعا سلام مجرے کے بعد حکم لے کر دریا کی طرف پتنگ بڑھایا گیا۔ دوسری جانب سے معین الملک نظارت خاں بادشاہی ناظر کا، مرزا یاور بخت بہادر یا جس کے لیے پہلے سے ارشاد ہو چکا ہے، پتنگ اٹھا۔ ریتی میں سوار کھڑے ہو گئے۔ پینچ لڑے، ڈھیلیں چلیں۔ پتنگ یا تُکلّیں چھپکتی ہوئی چلی جاتی ہیں۔ یا ہاتھ روک کر ڈور دی تو ڈوبتے آسمان سے جا لگیں۔ پیٹا چھوڑ دیا، ڈوریں زمین تک لٹک آئیں، سواروں نے دو شاخے بانسوں پر لے لیں۔ پتنگ کٹا تو دریا کے وار پار ڈور پڑ گئی۔ ڈوریں لٹیں۔ پتنگ کے پیچھے پیچھے غول کے غول شاہد رہ تک نکل گئے۔ جس نے وہ تکّل یا پتنگ لوُٹی پانچ روپے کی مزدوری کی۔ ڈور بھی بیس بیس تیس تیس روپے سیر بک جاتی تھی۔ بادشاہ کبھی تو خالی سیر ہی دیکھتے رہتے۔کبھی جی میں آتا تو تختِ رواں سے اُتر پڑتے۔ مچھلی کے چھلکوں کے دستانے پہن لیے۔ پتنگ ہاتھ میں لیا، ایک آدھ پینچ لڑایا اور ہنستے بولتے محل معلّیٰ میں داخل ہو گئے۔ سیّد! یہ بھی خبر ہے کہ وہ پتنگ یا تکلّیں کتنی بڑی اور کیسی محنت سے بنائی ہوئی ہوتی تھیں۔ تکلّیں تو تمھارے پیدا ہونے سے پہلے مر چکیں۔ خیر میں کبھی ان کی تصویر دکھاؤں گا۔ تو وہ قدِ آدم ہوتی تھی اور ایک ایک کی تیاری میں کئی کئی دن لگ جاتے تھے۔ ڈوریں بھی اِک بلی، دو بلی، تبلی، چوبلی کنکّوں اور تکلّوں کے زور کے موافق بنتی تھیں۔ مانجھوں کے نسخے بھی ہر گھرانے کے الگ تھے۔ تکلّیں تو تکلّیں آج ویسے پتنگ بھی نہ بنتے ہیں نہ کسی میں اتنا بوتا ہوتا ہے کہ اُن کی جھونک سنبھال سکے۔ چھوٹی تنّخیں رہ گئی ہیں یا بڑے نامی پتنگ بازوں کے ہاں ادّھے۔ وہ بھی کنکوّے نہیں گڈّیاں ہوتی ہیں۔ لنڈوری بن پنچھلّے کی۔
میں : بھئی واقعی لُطف تو بڑا آتا ہوگا۔
مرزا : جہاں اپنی حکومت، گھر کی بادشاہت اور پرائی دولت ہوتی ہے، یہی رنگ ہوا کرتے ہیں۔ عشرت گاہوں میں ہر وقت نمازیں نہیں پڑھی جاتیں۔ مجاہدے اور مراقبے نہیں ہوتے، یہ نہ اٹھائیں تو زندگی کی راحتیں کون اٹھائے۔ دنیا میں ہمیشہ یہی ہوتا رہا ہے اور یہی ہوتا رہے گا۔ سلطنتوں کی بھی عمریں ہوتی ہیں۔ جس طرح آدمی کوئی پیٹ میں، کوئی پیدا ہوتے ہی، کوئی بچپن میں، کوئی جوان ہوکر، اور کوئی عمرِ طبعی طے کرنے کے بعد مرتا ہے، اسی طرح بادشاہتیں ہیں۔ کوئی ایک پُشت چلتی ہے، کوئی دو پُشت۔ کسی کا سلسلہ سوپچاس ہی برس میں ٹوٹ جاتا ہے اور کسی کی عمارت صدیوں کی خبر لاتی ہے۔ مغلوں نے چھے سو برس تخت کو سنبھالا۔ آخر بڑھاپا تو سب ہی کو آتا ہے۔ اُن کے کندھے بھی شل ہو گئے۔ دنیا کا یہی کارخانہ ہے۔ آج اس کا، تو کل اس کا زمانہ ہے۔ موت اور زوال بہانہ ڈھونڈتے ہیں۔ ہمارے لیے عیش و عشرت ہی بہانہ ہو گئی۔
سوالوں کے جواب لکھیے:
- مرزا چپاتی کون تھے اور ان کا حلیہ کیا تھا؟
- مرزا چپاتی نے اردو زبان کی جو قسمیں بتائیں ان کے نام اور خصوصیات لکھیے؟
- مرزا چپاتی نے کیوں کہا کہ’’ دنیا کا یہی کارخانہ ہے۔ آج اِس کا، تو کل اُس کا زمانہ ہے۔‘‘
- قلعے کی پتنگ بازی اور آج کی پتنگ بازی میں کیا فرق ہے؟
