محمد طفیل

(1986 – 1923)
محمد طفیل ایک اچھے مدیر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کامیاب خاکہ نگار بھی تھے۔ ان کے لکھے ہوئے خاکوں کے مجموعے ’’مخدومی‘‘،’’محبی ‘‘، ’’معظّم ‘‘،’’مکرم ‘‘، ’’محترم ‘‘، ’’آپ‘‘،’’جناب‘‘اور ’’صاحب ‘‘کے ناموں سے کتابی صورت میں شائع ہو چکے ہیں ۔
محمد طفیل کا مشاہدہ گہرا تھا ۔ صاف گوئی ،بے باکی اور بیان کی روانی ان کی تحریروں کے اوصاف ہیں ۔ خاکہ ’’جگر صاحب ‘‘ محمد طفیل کی کتاب ’’صاحب ‘‘سے ماخوذ ہے ۔
جگر ؔصاحب
لکھنؤ کی سرزمیں ہی ایسی ہے کہ وہاں آ پ کو قدم قدم پر شاعرملیں گے۔ بعض دانشوروں کا خیال ہے کہ وہاں سب سوتے اور جاگتے میں شعر ہی کہتے ہیں اور شعر ہی سنتے ہیں ۔ وہاں پہنچ کر مجھ پر بھی یہ اثر ہوا کہ سوتے ہی سوتے شعر سُنے۔ ان میں سے ایک شعر میں آپ کو بلا ترنّم سُناتا ہوں ۔
اللہ اگر تو فیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں
فیضانِ محبت عام سہی عرفانِ محبت عام نہیں
میں بیدار ہونے کے موڈ میں نہ تھا۔ لیکن اس شعرکے ساتھ جو ترنّم تھا اس نے کچھ کچھ آنکھیں کھول دیں ۔ پھر دوسرا شعر نیم بے داری کی حالت میں آدھا سُنا آدھا اونگھ گیا ، تیسرے شعر نے خاصا چونکا دیا ۔ رفتہ رفتہ نیند غائب تھی اور میں بیدار ۔ پہلے خیال آیا کہ شوکت تھانوی صاحب اپنے اشعار جگر ؔصاحب کی لے میں پڑھ رہے ہیں ۔ (اس لیے کہ ان دنوں میرا قیام شوکت صاحب کے یہاں تھا ) لیکن اس بات کا فیصلہ جلد ہی کر لینا پڑا کہ اشعار جگر صاحب ہی کے ہیں …اتنے میں شوکت صاحب نے آواز دی۔
’’بھئی طفیل جاگ رہے ہو، ادھرآؤ تمھیں ایک چیزدکھائیں ۔‘‘میں اٹھ کر دوسرے کمرے میں آیا تو چیز کے بجائے جگرؔ صاحب کو دیکھا …شوکت صاحب نے جگر ؔکی طرف اشارہ کر کے کہا آپ انھیں جانتے ہیں ؟
’جی ہاں ‘
شوکت صاحب کو میرا صرف جی ہاں کہنا پسند نہ آیا اس لیے اُنھوں نے بات بڑھائی بھلا کون ہیں ؟…جو اباًگزارش کی کہ ’’انھیں تو سب جانتے ہیں لیکن یہ سب کو نہیں جانتے۔‘‘
جگر ؔصاحب کے شعری کا رنامے امٹ ہیں ۔ جگر صاحب نے خود اپنے ہاتھ سے شعر ی ادب کی تاریخ میں اپنا نام جلی حروف سے لکھ دیا ہے اور یہ کسی کے مٹائے مٹنے والا نہیں … اچھا انسان ہی اچھے شعر کہہ سکتا ہے ۔ یہ بات کسی اور کے لیے صحیح ہو یا نہ ہو ، جگر ؔصاحب کے سلسلے میں غلط نہیں کہ سچے شاعر کا ماحول سے متاثّر ہونا لازمی ہے …جگرؔصاحب کی سوچ اور اس کے اظہار اور عمل میں تضاد نہیں ،کھوج لگانے سے کوئی نہ کوئی کمزوری اُن میں مل ہی جائے گی ۔میں بھی نہیں چاہتا کہ ہم اچھّے بھلے انسان کوفرشتہ کہہ کر اس کی تذلیل کر یں لیکن کھوج لگانے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اگر کھوج لگانا ہی ہے تو مقابلتاً کھو ج لگائیے اور پھر دیکھیے کہ جگرؔصاحب کتنے اونچے مقام پر ہیں …جگر ؔصاحب بڑے خوش مذاق ہیں ہر وقت بقراط بنے نہیں بیٹھے رہتے ۔ دوستوں کو دیکھ کر ،کھل اور کھل جاتے ہیں ۔ باتوں باتوں میں کوئی نہ کوئی فقرہ چپکا دیں گے پھر کھِلکھلاکر ہنسیں گے پھر ذراسی ہنسی کو روکیں گے اور ’’اوٗں ‘‘کہہ کر پھر ہنسیں گے اور خوب ہنسیں گے۔ ایک محفل میں جگر صاحب شعر سُنا رہے تھے اور ایک صاحب بے نیا زسے بیٹھے تھے۔ ایک شعر پر انھوں نے ایکاایکی اور بے ساختہ داد دے ڈالی ۔ جگر ؔصاحب ان کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا ۔
’’آپ کے پاس قلم ہے ؟‘‘
’’کیا کیجیے گا ؟‘‘
میرے اس شعر میں ضرور کوئی خرابی ہے ورنہ آپ داد نہ دیتے ۔ اس لیے اسے اپنے دیوان سے خارج کرنا چاہتا ہوں …جگرؔصاحب روزبروز فلسفی اور ’’ولی اللہ‘‘بنتے جارہے ہیں ۔ ہر بات کو فلسفیانہ رنگ میں سوچیں گے ۔ مذہبی رنگ میں اس پر تبصرہ کریں گے …جگر ؔصاحب اپنی باتوں میں بعض اوقات ایسے ڈوب جاتے ہیں کہ دوسرے کے پلے کچھ نہیں پڑتا۔اگر دوسرے کے پلے کچھ پڑگیا تو مزا آگیا ۔ ان کی باتیں غزل کے شعر ہوتی ہیں ۔ جس طرح غزل کے شعر اپنے مفہوم کے اعتبار سے علاحدہ علاحدہ حیثیت رکھتے ہیں اُسی طرح جگر ؔصاحب کی باتوں کا مسئلہ ہے۔ …گفتگومیں اضافتوں کا کثرت سے استعمال کر تے ہیں جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ باتیں کسی پڑھے لکھے انسان سے ہو رہی ہیں ۔…انھیں اس بات کا بڑا صدمہ ہے کہ لوگ ان کی دعوتیں کرتے ہیں اور پھر قیمت وصول کر نے کے لیے ان سے شعروں کی فر مائش کرتے ہیں ۔…اگر ان کی کوئی چیز چوری ہو جائے تو یہ کہتے ہیں کہ ’’اگر چور صاحب مجھ سے پوچھ لیتے کہ جگر ؔصاحب مجھے آپ کی فلاں چیز کی ضرورت ہے تو میں چور صاحب سے کہتا کہ لے جاؤ ۔‘‘
جگر ؔصاحب اوّل تو بہت کم لوگوں کو خط لکھتے ہیں ، جنھیں لکھتے ہیں ان میں سے ہر ایک کے خط کا مضمون قریب قریب یکساں ہو تا ہے ۔ وہی خلوص،وہی محبت ، وہی یگانگی …ہر ایک سے ایک سطح پر ملیں گے ۔خواہ کوئی گورنرجنرل ہو، خواہ معمولی کلرک۔یہ بات ہرایک میں کہاں ؟مشرقیت ان کی رگ وپے میں موجزن ہے ۔ کسی کے ہاں ملنے جائیں گے تو اس کے بچوں کے لیے مٹھائی پھل یا کھلونے لے جائیں گے۔طبیعت میں جماؤ نہیں ،ذراسی خلافِ طبیعت بات ہوئی تو سمجھیے آئی شامت ۔احباب سے ملنے میں پہل کرتے ہیں ۔جگرؔ ؔصاحب گھر کے بجائے سفر میں رہتے ہیں ۔ انھوں نے اتنا سفر کیاہوگا کہ اگر وہ تمام اعداد و شمار جمع کر لیے جائیں تومجموعی حیثیت سے انھوں نے متعددبار تمام دنیاکا سفر کر لیا ہوگا۔
جگر ؔصاحب ہر بات میں نفاست پسندہیں ۔نفاست ان کی زندگی ہے ،بظاہر ان کی نفاست پر کوئی زندگی نہیں برستی ۔ یہی وجہ ہے کہ کسی نے پہلی بار انھیں کسی مشاعرے میں پڑھتے سُنا تو اس نے بآواز بلند کہا کہ جتنے یہ بدصورت ہیں ،پڑھتے ہوئے اتنے ہی خوب صورت معلوم ہوتے ہیں ۔ البتہ جن کی نظریں ان کے چہرے سے ہٹ کر ان کے دل کو بھی ٹٹول آتی ہیں وہ چہرے کے بھدے سے سیاہ رنگ کو بھول جاتے ہیں ۔جگر ؔصاحب بڑی بھول بھلیّاں ہیں ۔ اُنھیں کوئی بات یاد نہیں رہتی ۔ آپ کا ان کا ہفتوں ساتھ ہوجائے اتفاق سے درمیان میں دو چار برس ملاقات نہ ہو تووہ آپ کو قریب قریب بھول جائیں گے ۔دوبارہ ملاقات پر جب آپ ان سے کہیں گے کہ جگرؔ ؔصاحب پہچانا ؟تو وہ کہیں گے ’’بھئی !کچھ آنکھیں مانوس ہیں اس وقت یاد نہیں آرہا ہے کہ کہاں ملاقات ہوئی تھی ‘‘۔اب انھوں نے یادداشت کا یہ طریقہ نکالاہے کہ ایک ڈائری پر لکھتے رہتے ہیں ۔لیکن برا ہو یادداشت کا کہ اب بھی یہ پتہ نہیں کہ ڈائری کہاں رکھی ہے۔ حفظِ ماتقّدم کے لیے وہ عرصے سے اپنے ساتھ ایک مددگار رکھتے ہیں اس کے باوجود وہ سب کچھ بھول جاتے ہیں ۔ان کے یوں کھوئے کھوئے رہنے سے کئی لوگ ناجائزفائدہ اُٹھاتے ہیں ۔یہ اپنی سیکڑوں چیزیں گم کر تے رہتے ہیں ۔
ایک دفعہ کا ذکرہے کہ میں نے لکھنؤ میں یہ بات سنی کہ کل جگر ؔصاحب کا بٹوہ گم ہو گیا ہے اور اس میں ہزار بارہ سو روپے تھے ، چنانچہ بھوپال ہاؤس اس حادثے کے افسوس کے لیے پہنچا اور پوچھا۔
’’آپ کو کچھ معلوم نہیں کہ بٹوہ کیسے اور کہاں گم ہوا ؟‘‘کہنے لگے مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ کل ایک صاحب سے چلتے چلتے ملاقات ہوئی تھی انھوں نے بڑی نیازمندی کا اظہار کیا ۔ میں نے سوچاکوئی ملنے والا ہوگا ۔ بازار سے کچھ سوداسلف خریداپھر تانگے میں بیٹھے اور یہاں آئے ۔راستے میں ان صاحب نے میری جیب سے کچھ نکالا۔میں نے سوچا مجھے کچھ بدگمانی ہوئی ہے، یہ بات نہیں ہو سکتی ۔ جب جیب کو ٹٹولاتو بٹوہ غائب تھا۔ میں نے اپنا بٹوہ ان کے پاس اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ لیا ۔لیکن میں نے ان سے کچھ کہانہیں ۔‘‘
میں نے پوچھا کیوں ؟
’’کہنے لگے اگر میں اُن سے یہ کہتا کہ میرابٹوہ آپ نے چرالیاہے تو اُس وقت جو اسے پشیمانی ہوتی ،وہ مجھ سے نہ دیکھی جاتی ۔‘‘
سوالوں کے جواب لکھیے:
- خاکہ نگار پہلی مرتبہ جگر صاحب سے کس طرح متعارف ہوا؟
- لکھنؤ کی سرزمیں کے متعلق خاکہ نگار نے کیا بات کہی ہے ؟
- خاکہ نگار نے کیوں کہا ہے کہ جگر صاحب کی باتیں غزل کے شعر ہوتی ہیں ؟
- جگر ؔ صاحب کی شخصیت کے کس پہلو سے آپ متاثر ہوئے، بیان کیجیے ۔