Skip to content
Jaan Pehchan  Chapter-2


کنھیّا لال کپور


c1.1
(1980– 1910  )

کنھیّا لال کپور لاہور میں پیدا ہوئے۔ وہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور انگریزی کے استاد مقرّر ہوگئے۔ ہندوستان کی تقسیم کے بعد ہندوستان آ گئے اور گورنمنٹ کالج موگا ( پنجاب) میں پرنسپل کے عہدے پر ملازم ہوگئے، یہیں ان کا انتقال ہوا۔ طنز و مزاح ان کا خاص میدان ہے۔ پیروڈی لکھنے میں انھیں خاص مہارت حاصل تھی۔زندگی کے عام تجربوں سے مزاح پیدا کرلینا ان کی ایک خاص پہچان ہے۔
’نوکِ نشتر‘،’ بال وپر‘ ، ’نرم گرم‘،’ گردِ کارواں‘ ،’ نازک خیالیاں‘، ’نئے شگوفے‘ ، ‘سنگ وخشت‘ ،’ شیشہ و تیشہ‘ اور ’کامریڈشیخ چلّی‘ ان کی مشہور کتابیں ہیں۔



بے تکلفی تکلّفی


کہنے کو تو استاد ذوقؔ فرما گئے ع
اے ذوقؔ تکلّف میں ہے تکلیف سراسر

لیکن یہ غور نہ فرمایا کہ اگرتکلّف میں تکلیف ہے تو بے تکلفی میں کون سی راحت ہے۔ تجربہ شاہد ہے کہ وہ تکلّف بھی جس کی معراج ’’پہلے آپ ہے‘‘ بے تکلّفی سے بدر جہا بہتر ہے۔ فرض کیجیے آپ جہنم کے دروازے پر کھڑے ہیں اور جہنم کا داروغہ آپ سے کہتا ہے ’’تشریف لے چلیے‘‘اور آپ مسکرا کر نہایت لجاجت سے عرض کرتے ہیں،’’جی پہلے آپ‘‘، تو عین ممکن ہے کہ آپ کے حسنِ اخلاق سے مرعوب ہو کر آپ کو جہنم کی بجائے جنّت میں بھجوا دے۔ اس کے برعکس اگر آپ کی داروغہ جنّت سے بے تکلفی ہے تو ہو سکتا ہے کہ ہنسی مذاق میں وہ آپ کو باغِ بہشت کی کسی نہر میں اتنے غوطے دلوائے کہ آپ کو چھَٹی کا دودھ یاد آ جائے۔

C2.2

تکلّف کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ہینگ لگتی ہے نہ پھٹکری اور ظاہر داری جوں کی توں قائم رہتی ہے۔ مثلاً آپ کے گھر کوئی صاحب تشریف لائے ہیں۔ آپ کہتے ہیں، ’’کچھ منگواؤں آپ کے لیے؟‘‘ وہ فرماتے ہیں ’’اجی صاحب، تکلّف مت کیجیے۔‘‘
’’چائے پئیں گے؟‘‘
’’شکریہ! ابھی پی ہے۔‘‘
’’سوڈا منگواؤں؟‘‘
’’نہیں صاحب، آپ تو خواہ مخواہ تکلّف کرتے ہیں۔‘‘
’’شربت پیجیے گا۔‘‘
’’واہ صاحب، آپ تو پھر تکلّف پر اُتر آئے۔‘‘
’’ٹھنڈا پانی پیجیے۔‘‘
’’اچھا صاحب، اگر آپ اصرار کرتے ہیں، تو پی لیں گے۔‘‘
اب اگر اِنہیں حضرت سے آپ کی بے تکلّفی ہو تو آپ کو کتنی زحمت اٹھانی پڑے۔
’’کھانا کھائیں گے آپ؟‘‘
’’ہاں ہاں ضرور کھائیں گے۔ لیکن کھانا کھانے سے پہلے چائے پئیں گے۔‘‘
’’چائے منگواؤں؟‘‘
’’ضرور منگوائیے، لیکن پہلے سگریٹ پلائیے۔‘‘
’’چائے کے ساتھ کیا کھائیے گا؟‘‘
’’اماں یار، تمھیں معلوم تو ہے۔ پاؤ بھر گاجر کا حلوہ۔ دو آملیٹ، چار ٹوسٹ چھ سنبوسے۔ دس بارہ کریم رول اور ہاں ایک آدھ کیک ہو جائے تو سبحان اللہ! لیکن جلدی کیجیے۔‘‘
بے تکلّفی میں یوں تو ہزاروں قباحتیں ہیں، لیکن سب سے بڑی یہ کہ بسا اوقات اس کے طفیل آپ کو سخت خفّت اٹھانی پڑتی ہے۔ آپ چند معزّزاشخاص سے نہایت عالمانہ انداز میں کسی مسئلے پر گفتگو کر رہے ہیں کہ کوئی صاحب دروازے پر اس طرح دستک دیتے ہیں، گویا دروازہ توڑ کر ہی دم لیں گے۔ دو ایک منٹ دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد بلند آواز میں چلّانا شروع کر دیتے ہیں‘‘ ابے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہاں ہے؟‘‘ دروازہ کھول۔ ابے نا ہنجار، سنتا نہیں۔ ہم کب سے چلّا رہے ہیں۔ ارے کوئی ہے۔ سب مر گئے کیا؟!
کمرے میں داخل ہوتے ہی وہ آپ کے احباب پر نگاہِ غلط انداز ڈالتے ہیں اور نہایت متانت سے کہتے ہیں، ’’معاف کیجیے گا صاحب، میری ان سے ذرا بے تکلّفی ہے۔‘‘
یا کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آپ دو بے تکلّف دوستوں کے درمیان کچھ اس طرح گھِر جاتے ہیں کہ نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن۔ ان میں سے ایک دوسرے کو نہایت غلیظ گالی دیتا ہے اور آپ کی طرف عَفو طلب نظروں سے دیکھتے ہوئے کہتا ہے ’’برا نہ مانیے گا۔‘‘ دوسرا جواب میں اسی طرح کی گالی دیتے ہوئے کہتا ہے ’’معاف کیجیے گا‘‘ ہم بہت دنوں کے بعد ملے ہیں۔‘‘ اس معذرت کے بعد گالیوں کا وہ سلسلہ شروع ہو جاتا ہے کہ آپ کو بے ساختہ اس بے تکلّفی کی داد دینا پڑتی ہے۔
ناولوں میں بے تکلّف دوستوں کی بڑی دلچسپ مثالیں ملتی ہیں۔ تھیکرےؔ ایک کردار کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ یہ صاحب جس دوست کے پاس ٹھہرتے تھے رخصت ہوتے وقت اس سے ایک قمیض ضرور مستعار لیا کرتے تھے۔ ہمارے ایک دوست اس معاملے میں تھیکرے کے اس کردار سے بازی لے گئے ہیں۔ وہ صرف قمیض پر اکتفا نہیں کرتے۔ ساری پوشاک کا مطالبہ کرتے ہیں۔ عموماً ٹیکسی میں سوار ہو کر ہمارے یہاں تشریف لاتے ہیں اور کمرے میں داخل ہوتے ہی فرماتے ہیں۔’’پانچ روپے کا ایک نوٹ نکالیے۔ ڈرائیور کو دفع کر لوں۔ پھر باتیں کریں گے۔‘‘ یہ حضرت ہمیشہ ہماری عدم موجودگی میں واپسی کا کرم کرتے ہیں اور وداع ہوتے وقت نوکر سے کہہ جاتے ہیں’’وہ آئیں تو انھیں کہہ دیجیے گا کہ میں ان کا گرم کوٹ، خاکی ٹائی اور کالی پتلون ساتھ لے جا رہا ہوں۔ چند دن استعمال کر کے واپس کر دوں گا۔‘‘
ہمارے ایک اور بے تکلف دوست ہیں۔ وہ جہاں کہیں ہم سے ملتے ہیں، مصافحہ کرنے کے بجائے بار بار بغلگیر ہو کر بے تکلفی کا اظہار کرتے ہیں۔ ایک بار انارکلی میں ملاقات ہوئی۔ بازار کے بیچ انھوں نے یہ عمل جو دہرانا شروع کیا تو راہگیر دانتوں میں انگلیاں داب کر رہ گئے۔ ہر دو منٹ کے بعد بغلگیر ہو کر کہتے ’’بھئی خوب ملے۔‘‘ یار، حد ہو گئی۔ وہ اس انداز سے مجھے اپنے بازوؤں کے شکنجے میں کس رہے تھے، گویا برسوں کے بعد ملے ہیں، حالانکہ اس ملاقات سے صرف دو دن پہلے مال روڈ پر ملے تھے اور وہاں بھی انھوں نے اسی قسم کی گرمجوشی کا مظاہرہ کیا تھا۔
بے تکلف دوست کی تو وہی مثال ہے کہ اسے وبالِ جان سمجھتے ہوئے بھی آپ وبالِ جان نہیں کہہ سکتے۔ اگر اس کے جی میں آئے تو آدھی رات کو آپ کے گھر آ دھمکے اور نہ صرف لذیذ کھانے کا مطالبہ کرے، بلکہ کہے کہ ’’سوئیں گے بھی یہیں اور سوئیں گے بھی آپ کے ساتھ۔‘‘ دوپہر کے وقت آپ سو رہے ہوں تو قینچی لے کر ازراہِ مذاق آپ کی دونوں مونچھوں کا صفایا کر ڈالے۔ شدتِ درد سے آپ کراہ رہے ہوں تو بدتمیزی سے آپ کا منھ چڑانا شروع کر دے۔
بعض اوقات بے تکلف احباب ایسی حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں کہ بے ساختہ پکار اٹھتے ہیں ’’ہائے تکلف! ہائے تکلف!!‘‘ ایک دفعہ مجھے دہلی جانا تھا۔ گاڑی کے آنے میں دیر تھی۔ پلیٹ فارم پر ٹہل رہا تھا۔ اتنے میں ایک دوست سے ملاقات ہو گئی۔ پوچھنے لگے’ کہاں جا رہے ہو؟‘ میں ’ دہلی‘ کہنے لگے: ’’دہلی جا کر کیا کروگے؟ چلو باٹا نگرلے چلیں۔‘‘ میں نے معذرت چاہی۔ اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ یک لخت انھوں نے کہا ’’ذرا ٹکٹ دیکھائیے تو‘‘ میں نے ٹکٹ دکھایا۔ ٹکٹ لے کر انھوں نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے اور قلی سے کہنے لگے ’’صاحب کا سامان واپس لے چلو، انھوں نے دہلی جانے کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔‘‘
انہیں صاحب نے ایک بار اس سے بھی عجیب حرکت کی۔ ایک دن میں دریا کے کنارے کھڑا ہوا، غروب آفتاب کا منظر دیکھ رہا تھا، نہ جانے آپ کہاں سے آ ٹپکے۔ آپ نے آؤ دیکھا نہ تاؤ پیچھے سے مجھے اس زور سے دھکّا دیا کہ میں لڑکھڑاتا ہوا پانی میں جا گرا۔ آپ نہایت ڈھٹائی سے قہقہہ لگا کر فرمانے لگے ’’واہ خوب چھلانگ لگائی آپ نے!‘‘ جب میں بڑی مشکل سے تیر کر کنارے کے قریب پہنچا تو ایک قہقہہ لگا کر کہنے لگے ’’مجھے معلوم نہ تھا، آپ اتنے اچھے تیراک بھی ہیں۔‘‘
تکلّف کے خلاف آپ جو چاہیں کہیں لیکن آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ تکلّف سراسر نفاست ہے۔ اور بے تکلفی سراسرکثافت۔ تکلّف ’’پہلے آپ‘‘ ہے تو بے تکلفی ’’پہلے ہم اور جہنم میں جائیں آپ!‘‘۔ تکلف گز بھر لمبا گھونگھٹ ہے تو بےتکلفی گز بھر لمبی زبان۔ تکلف زیرِ لب مسکراہٹ ہے تو بے تکلفی خندئہ بے باک۔
اب اگر اس پر بھی استاد ذوقؔ فرمائیں کہ ’’تکلّف میں سراسر تکلیف ہے‘‘ تو ہم تو یہی کہیں گے ’’صاحب، آپ کو بےتکلّف دوستوں سے پالا ہی نہیں پڑا۔‘‘
(کنھیّا لال کپور)


مشق


معنی یاد کیجیے:

تکلّف : تکلیف اٹھا کر کوئی کام کرنا، بناوٹ، ظاہرداری، دکھاوا
معراج : بلندی، اونچائی
شاہد : گواہ
راحت : آرام، آسائش
ناہنجار : بری چال چلنے والا
عفو طلب : معافی مانگنے والا
یک لخت : فوراً، اچانک
معذرت : عذر
مستعار :     مانگا ہوا، ادھار لیا ہوا
اکتفا :         کافی سمجھنا، کفایت کرنا
عدم موجودگی : غیر حاضری
کرم : عنایت، مہربانی
وداع : رخصت،جدائی
غروب : سورج یا چاند کا ڈوبنا
نفاست : خوبی، عمدگی، لطافت
کثافت : غلاظت، گاڑھا پن


غور کیجیے:


٭ ضرورت سے زیادہ تکلّف اور بے تکلّفی دونوں ہی پریشانی کا سبب بن جاتے ہیں۔

سوچیے اور بتائیے:


بے تکلفی سے کیا پریشانی ہوتی ہے؟
تھیکرے نے اپنے ایک کردار کی بے تکلفی کا ذکر کس طرح کیا ہے؟
’’اے ذوقؔ تکلف میں ہے تکلیف سراسر ‘‘اس مصرعے میں شاعر کیا کہنا چاہتا ہے؟

نیچے لکھے ہوئے محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے:


ہینگ لگے نہ پھٹکری چھَٹی کا دودھ یادآنا دانتوں میں انگلیاں دابنا

نیچے دیے ہوئے لفظوں سے واحد، جمع بنائیے:


ہاتھ نشانات جوتی ٹوپیاں فرض احسانات
سوال جنگل جوابات منزل

درج ذیل جملوں کو غور سے پڑھیے:


اکبر نے ایک کہانی پڑھی۔
حمید کھانا کھا رہا ہے۔
میں کل جے پور جا ؤں گا۔
ان جملوں میں ’’پڑھی‘‘، ’’کھا رہا ہے‘‘ اور ’’ جاؤں گا‘‘ سے کام کرنے کا وقت معلوم ہوتا ہے۔
پہلے جملے میں کہانی پڑھنے کا کام گزرے ہوئے وقت میں ہوا، اس زمانے کو ماضی کہتے ہیں۔
دوسرے جملے میں کھانے کا کام موجودہ وقت میں ہورہا ہے۔ اس زمانے کو حال کہتے ہیں۔
تیسرے جملے میں جے پور جانے کا کام آنے والے وقت میں ہوگا۔ یہ زمانہ مستقبل کہلاتا ہے۔

عملی کام:


٭ اس سبق کے جن جملوں پر آپ کو ہنسی آتی ہو انھیں اپنی کاپی میں لکھیے۔