Skip to content
Jaan Pehchan  Chapter-3


نظیرؔاکبر آبادی



c3.1
(1740-1830)

نظیرؔ اکبر آبادی کا پورا نام ولی محمّد تھا۔ وہ دہلی میں پیدا ہوئے۔ اپنے خاندان کے ساتھ آگرہ میں آکر بس گئے۔ نظیرؔ عوامی شاعر تھے۔ ان کی شاعری میں ہندوستانی ماحول کی عکّاسی کی گئی ہے۔ انھوں نے یہاں کے موسموں ،میلوں، تہواروں اور انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر بہت سی نظمیں لکھی ہیں۔سامنے کے موضوعات کو سیدھی سادی زبان میں بیان کرنا نظیرؔ کی بہت بڑی خوبی ہے۔ ان کے پاس الفاظ کا غیر معمولی ذخیرہ تھا۔ وہ موقعے اور موضوع کے اعتبار سے مناسب الفاظ کا استعمال کرتے ہیں۔ ان کے کلام میں تاثیر بہت ہے۔
’روٹیاں‘،’ بنجارا نامہ‘،’ مفلسی‘،’ ہولی‘،’ آدمی نامہ‘ اور ’کرشن کنھیّا کا بال پن‘ وغیرہ ان کی مشہور نظمیں ہیں۔ اسی طرح ہندوستان کے مختلف موسموں، پھلوں اور شخصیتوں پر نظیرؔ کی نظمیں بھی اپنی خاص پہچان رکھتی ہیں۔وہ اردو کے سب سے معروف  شاعر ہیں۔



نیکی اور بدی



ہے دُنیا جس کا ناؤں میاں یہ اور طرح کی بستی ہے
جو مہنگوں کو تو مہنگی ہے اور سَستوں کو یہ سَستی ہے

یاں ہر دم جھگڑے اُٹھتے ہیں ہر آن عدالت بستی ہے
گر مَست کرے تو مستی ہے اور پَست کرے تو پستی ہے

کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں، انصاف اور عدل پر ستی ہے
اس ہاتھ کرو اُس ہاتھ ملے یاں سودا دست بدستی ہے

جو اور کسی کا مان رکھے تو پھر اُس کو بھی مان مِلے
جو پان کھِلاوے پان ملے، جو روٹی دے تو نان ملے

نقصان کرے نقصان ملے، احسان کرے احسان ملے
جو جیسا جس کے ساتھ کرے، پھر ویسا اس کو آن ملے

کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں، انصاف اور عدل پرستی ہے
اس ہاتھ کرو اُس ہاتھ ملے یاں سودا دست بدستی ہے

جو پار اُتارے اوروں کو اس کی بھی ناؤ اُترنی ہے
جو غرق کرے پھر اس کو بھی یاں ڈُبکوں ڈُبکوں کرنی ہے

شمشیر، تبر، بندوق، سناں اور نشتر، تیر، نہرنی ہے
یاں جیسی جیسی کرنی ہے پھر ویسی ویسی بھرنی ہے

کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں، انصاف اور عدل پرستی ہے
اس ہاتھ کرو اُس ہاتھ  ملے یاں سودا دست بدستی ہے

جو اور کا اونچا بول کرے تو اُس کا بول بھی بالا ہے
اور دے پٹکے تو اُس کو بھی پھرکوئی پٹکنے والا ہے

بے ظُلم و خطا جس ظالم نے مظلوم ذبح کر ڈالا ہے
اس ظالم کے بھی لوہو کا پھر بہتا ندّی نالاہے

کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں، انصاف اور عدل پرستی ہے
اس ہاتھ کرو اُس ہاتھ ملے یاں سودا دست بدستی ہے

(نظیرؔ اکبر آبادی)


مشق


معنی یاد کیجیے:


عدل پرستی :    انصاف پرستی
شمشیر         :       تلوار
تبر        :          کلہاڑی جیسا بڑا ہتھیار
سناں         :       بھالا
بالا        : اونچا، بلند
دست بدستی : ہاتھوں ہاتھ، ’’ایک ہاتھ سے دینا، دوسرے ہاتھ سے لینا‘‘، کسی چیز کا ایک ہاتھ سے 
         دوسرے ہاتھ میں پہنچانا
نان        : روٹی
غرق کرنا : ڈبونا
نہرنی         : ناخن کاٹنے کا آلہ

غور کیجیے:


٭ اس نظم میں ناؤں، یاں اور لوہو جیسے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے۔ پہلے یہ الفاظ رائج تھے۔ آج کل ناؤں کو نام، یاں کو یہاں اور لوہو کو لہو کہا جاتا ہے۔
٭ نظم میں ایک لفظ ’’ذبح ‘‘ بھی آیا ہے۔ اس کا صحیح تلفّظ ’ب‘اور ’ح‘ پر جزم کے ساتھ ہے۔

سوچیے اور بتائیے:


نظم کے پہلے بند میں دنیا کو کس طرح کی بستی بتایا گیا ہے؟
’کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں ‘ سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
کس کی ناؤ پار اترتی ہے؟
4 ۔ ظالم کو ظلم کا کیا بدلہ ملتا ہے؟

نیچے لکھے ہوئے محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے:


جیسی کرنی ویسی بھرنی
بول بالا ہونا
پار اتارنا
مان رکھنا

•  خالی جگہوں میں اسم یا فعل بھریے:


یہ دنیا اور طرح کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہے۔
یہاں ہر دم جھگڑے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رہتے ہیں۔
جو اوروں کو پار اتارتا ہے اس کی ناؤبھی پار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاتی ہے۔

عملی کام:


٭ آپ کو جو محاورے یاد ہیں ان میں سے تین محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے۔