Skip to content
Jaan Pehchan  Chapter-4


منشی پریم چند



c4.1

(1936 – 1880 )


پریم چند کی پیدائش بنارس کے ایک گاؤں لمہی میں ہوئی۔ ان کا اصل نام دھنپت رائے تھا۔ ان کی ابتدائی تعلیم گاؤں کے مدرسے میں ہوئی۔میٹرک پاس کرنے کے بعد1899 میں بنارس کے قریب چُنارگڑھ کے ایک مِشن اسکول میں اسسٹنٹ ماسٹر کی حیثیت سے ملازم ہوگئے۔ 1905 میں کان پور کے ضلع اسکو ل میں استاد کی حیثیت سے ان کا تقرر ہوا۔

پریم چند کو لکھنے کا شوق بچپن سے تھا۔ انھو ں نے زندگی کے دکھ درد کو قریب سے دیکھا اور محسوس کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی کے مسائل ان کی تحریروں کا موضوع بن گئے۔ ان کی زبان بہت سادہ اور سلیس تھی۔ ان کے بیشتر ناول اور افسانے دیہاتی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔ 

پریم چند نے تقریباً ایک درجن ناول اور تین سو سے زیادہ افسانے لکھے۔ ان کا شمار اردو کے اہم ترین ناول اور افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔

’نرملا‘، ’بیوہ‘،’میدانِ عمل‘،’بازارِ حسن‘اور ’گئودان ‘ ان کے مشہور ناول ہیں۔



قول کاپاس



اکبر بادشاہ مغلوں کا بہت مشہور بادشاہ گزرا ہے۔ اس نے لڑائیاں لڑکر ہندوستان کا بہت سا حصّہ فتح کر لیا تھا۔ ایک راجپوتانہ رہ گیا تھا، اکبر نے چاہا کہ اسے بھی فتح کر لے اور وہاں بھی سلطنت کرے۔ یہ ارادہ کر کے راجپوتانہ پر فوج کشی کی۔ راجپوت اپنا ملک بچانے کے لیے لڑے تو بڑی بہادری سے، مگر آخرکار ان کے پاؤں اُکھڑ گئے۔ راجپوتوں کا سردار رانا پر تاپ سنگھ اپنے بال بچّوں کو لے کر کسی جنگل میں جا چھُپا۔

راجپوتوں کے ایک سردار کا نام رگھوپت تھا۔ یہ بڑا بہادر اور جَری تھا۔ اس نے کچھ لوگ اپنی فوج میں داخل کر لیے تھے اور ان کو ساتھ لے کر لڑا کرتا تھا۔ اس نے بہادری میں ایسا نام پیدا کر لیا تھا کہ بڑے بڑے مغل اس کا نام سن کر گھبرا جاتے تھے۔ اکبر کے سپاہیوں نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح اس کو پکڑ لیں مگر وہ ایک جگہ کب رہتا تھا جو اسے پکڑ سکتے۔



c4.2


رگھو پت سنگھ کی ایک بیوی تھی اور ایک اکلوتا بیٹا تھا۔ جب وہ اپنے دشمنوں سے لڑنے کو گھر سے نکلا تھا، اس کا بیٹا بہت بیمار تھا۔ لیکن اس نے نہ تو اپنے بیمار بچّے کا خیال کیا، نہ بیوی کا۔ مغلوں سے لڑنے کو گھر سے نکل کھڑا ہوا۔ ہاں کبھی کبھی چوری چھپے سے کسی کو گھر بھیج دیتا تھا اور بیوی بچّے کی خبر منگوا لیا کرتا تھا۔
رگھوپت سنگھ کو پکڑنے کو اکبر بادشاہ نے بہت سی فوج بھیجی مگر وہ کسی کے ہاتھ نہ آیا۔ پھر بادشاہ نے اس کے گھر پر پہرہ بٹھا دیا۔ اکبر کا خیال تھا کہ کسی دن رگھوپت سنگھ اپنے بال بچّے سے ملنے کو ضرور گھر آئے گا۔ بس اسی دن سپاہی اس کو پکڑ لیں گے۔ ادھر کسی نے رگھوپت سنگھ کو خبر کر دی کہ تیرا بیٹا گھڑی دو گھڑی کا مہمان ہے، چل کر اُسے دیکھ لے۔
یہ سن کر رگھوپت سنگھ بہت گھبرایا۔ سورج ڈوب رہا تھا۔ جنگل میں سفر کرنے کا وقت تو نہیں تھا مگر رگھوپت نے سوچا کہ ’’اگر میں نے ذرا بھی دیر کی تو شاید میں لڑکے کی صورت بھی نہ دیکھ سکوں۔’’ اسی وقت چلنا چاہیے‘‘ رگھوپت سنگھ اسی وقت چلنے کو تیار ہو گیا۔ جب رگھوپت سنگھ گھر پہنچا تو دروازے پر اکبر بادشاہ کے سپاہیوں میں سے ایک پہرہ دار نے کہا ’’بادشاہ کا حکم ہے کہ تم جہاں ملو، پکڑ لیے جاؤ‘‘ رگھوپت سنگھ نے کہا ’’میرا لڑکا مر رہا ہے، اسے دیکھنے آیا ہوں ذرا دیر کے لیے مجھے اندر چلا جانے دو، ابھی دیکھ کر لوٹ آتا ہوں۔ اس وقت جو جی چاہے کر لینا۔ میں راجپوت ہوں، جھوٹ ہر گز نہ بولوں گا۔‘‘

c4.3

اس پہرہ والے سپاہی نے کہا ’’دیکھ آؤ۔‘‘ جب رگھوپت سنگھ گھر میں گیا تو دیکھا کہ لڑکا بے چین ہو رہا ہے اور بیوی فکر کے مارے بے حال ہو رہی ہے۔ میاں کو دیکھ کر بیوی کی ڈھارس بندھی۔ رگھوپت سنگھ نے بچّے کو پیار کیا اور دوا کی تدبیریں بتائیں۔ پھر اپنی بیوی سے کہا۔ ’’دروازے پر سپاہی کھڑا ہے، میں کہہ آیا ہوں کہ میں قید ہونے کو ابھی واپس آتا ہوں۔‘‘ بیوی نے کہا۔’’ایسا نہ کرو، دوسرے دروازے سے نکل جاؤ‘‘ رگھوپت نے کہا ’’یہ مجھ سے ہر گز نہیں ہو سکتا۔ میں قول دے چکا ہوں اس کے خلاف نہیں کر سکتا۔‘‘
یہ کہہ کر وہ دروازے پر آیا اور سپاہی سے کہنے لگا ’’لو میں آ گیا اب مجھے پکڑ کر جہاں چاہو لے چلو۔‘‘ سپاہی نے کہا ’’تمھیں پکڑنے کو میرا جی نہیں چاہتا، تم بھاگ جاؤ۔‘‘ رگھوپت نے کہا ’’بہت بہتر، تم نے اس وقت میری مدد کی ہے، جب تم پر بُرا وقت آئے گا تو میں بھی تمھاری مدد کروں گا۔ یہ کہہ کر رگھوپت آگے بڑھا اور غائب ہو گیا۔
اس بات کو تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ مغلوں کا ایک افسر کچھ آدمیوں کو ساتھ لے کر آ پہنچا۔ پہرے والے سے کہا ’’ہم نے سنا ہے رگھوپت اِدھر آیا ہے‘‘پہرے والے نے سچ سچ کہہ دیا کہ ’’رگھوپت سنگھ اپنے بیمار بیٹے کو دیکھنے آیا تھا اور میں نے اسے جانے کی اجازت دے دی‘‘ یہ سن کر افسر نے پہرہ دار کو قید کر لیا۔ رگھوپت سنگھ کو بھی سپاہی کے قید ہونے کی خبر مل گئی۔ وہ اسی وقت واپس آیا اور آکر مغل افسر کے پاس کھڑا ہو گیا اور کہا کہ ’’میں رگھوپت ہوں، میں واپس آ گیا ہوں، مجھے پکڑ لو اور اس بے گناہ قیدی کو چھوڑ دو۔‘‘ افسر نے رگھوپت کو پکڑ لیا اور قید خانے میں ڈال دیا لیکن سپاہی کو نہ چھوڑا، افسر نے دونوں کے قتل کرنے کا حکم دیا۔
دوسرے دن سپاہی رگھوپت اور پہرہ دار کو میدان میں لائے کہ ان کو قتل کیا جائے۔ دونوں کے ہاتھ پیر بندھے ہوئے تھے۔ مغل افسر نے جلّاد سے کہا کہ دونوں کی گردنیں اُڑا دو۔ جلّاد نے تلوار اٹھائی ہی تھی کہ گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز آئی۔ لوگوں نے دیکھا تو اکبر بادشاہ اپنے افسروں کے ساتھ چلا آ رہا ہے۔ سب نے جھُک کر سلام کیا۔ اکبرگھوڑے پر سے اُتر پڑا اور کہنے لگا ’’رگھوپت کی گرفتاری کا پورا حال مجھ کو معلوم ہو چکا ہے۔‘‘پھر پہرہ دار سے کہا ’’ہر بھلے آدمی کا دل دوسروں کا دکھ دیکھ کر پگھل جاتا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ اس راجپوت کی تکلیف دیکھ کر تمھارا دل بھر آیا تھا۔ اس لیے تم نے اس کو چھوڑ دیا تھا۔ اس میں تمھارا کوئی قصور نہیں ہے۔ اگر کچھ ہے بھی تو میں نے معاف کیا۔ مجھے ایسے ہی سپاہی چاہیے۔ جو اپنے بادشاہ سے زیادہ خدا سے ڈرتا ہے۔‘‘ یہ سنتے ہی پہرہ دار خوشی سے پھولا نہ سمایا۔ 
پھر اکبر نے رگھوپت کی طرف دیکھ کر کہا۔’’مجھے پہلے یہ معلوم نہ تھا کہ بہادر راجپوت بات کے اتنے دھنی ہوتے ہیں۔ تمھاری بہادری اور ایفائے وعدہ سے میں بہت خوش ہوا، میں نے تم کو بھی چھوڑا۔‘‘ رگھوپت سنگھ گھٹنوں کے بل زمین پر جھُک گیا اور کہا ’’آپ جس رگھوپت کو اتنی مشکل سے بھی جیت نہ سکے، آج اپنی دریا دلی دکھا کرآپ نے اسے جیت لیا۔ آپ بہادروں کی وقعت کرانا جانتے ہیں۔ اب میں کبھی آپ کا دشمن ہو کر تلوار نہ اٹھاؤں گا۔‘‘
جو آدمی اپنے وعدے کے پکّے ہوتے ہیں اور سچائی پر جمے رہتے ہیں اور دوسرے کے دکھ میں مدد کرتے ہیں خدا ہمیشہ ان کی مدد کرتا ہے۔
(منشی پریم چند)


مشق



معنی یاد کیجیے:


فتح              :          جیت
فوج کشی      :     حملہ، چڑھائی
جَری         :       جنگجو، بہادر
قول       :       وعدہ
دریا دِلی     :          فراخ دلی
وقعت    :       عزّت

غور کیجیے:


٭ انسان کو اپنے وعدے کا پکا ہونا چاہیے۔ جو لوگ وعدے کے سچّے ہوتے ہیں انھیں زندگی میں عزّت اور کامیابی ضرور ملتی ہے۔

•  سوچیے اور بتائیے:


اکبر کس خاندان کا بادشاہ تھا؟
راجپوتوں کے اس سردار کا نام کیا تھا، وہ جنگل میں کیوں چھپ گیا تھا؟
رگھوپت نے پہرے دار کی مددکس طرح کی؟
.4 اکبر، رگھوپت کی کس بات سے متاثر ہوگیا؟
اکبر نے رگھوپت کا دل کس طرح جیت لیا؟

نیچے لکھے ہوئے لفظوں سے جملے بنائیے:


سلطنت فوج پہرے دار تدبیر قصور

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کی مدد سے خالی جگہوں کو بھریے :


دروازے وعدے اکبر سپاہی رگھوپت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بادشاہ مغلوں کا بہت مشہور بادشاہ گزرا ہے۔
راجپوتوں کے ایک سردار کا نام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تھا۔
بیوی نے کہا ’’ایسا نہ کرو، دوسرے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سے نکل جاؤ۔
دوسرے دن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رگھوپت اور پہریدار کو میدان میں لائے۔
جو آدمی اپنے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کے پکّے ہوتے ہیں خدا ہمیشہ ان کی مدد کرتا ہے۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں سے واحد کی جمع اور جمع کی واحد بنائیے:


افواج تدابیر مدد ملک سفر

نیچے لکھے ہوئے لفظوں سے مذکّر سے مؤنّث اور مؤنّث سے مذکّر بنائیے:


بادشاہ گھوڑا لڑکا عورت بیٹی

نیچے لکھے ہوئے محاوروں کو جملوںمیں استعمال کیجیے:


پاؤں اُکھڑنا ڈھارس بندھنا قول دینا دل بھر آنا پھولا نہ سمانا

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کے متضاد لکھیے:


سچائی دکھ بہادر قید دشمن محبت

اسم خاص اور اسم عام کو الگ الگ کیجیے:


اکبر بادشاہ بہادر رگھوپت بیٹا راجپوتانہ گھوڑا

عملی کام:


٭ اس سبق سے کیا نصیحت ملتی ہے اپنے الفاظ میں لکھیے۔
٭ اکبر کی شخصیت پر پانچ جملے لکھیے۔