میر تقی میرؔ

(1810 – 1722)
میرتقی میرؔ آگرہ میں پیدا ہوئے۔ابھی بچّے ہی تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا۔کچھ دن بعد وہ دلی میں آبسے۔دلی کی زندگی میں جب انتشار پیدا ہونے لگاتو میرؔ تلاشِ معاش میں لکھنؤ چلے گئے۔باقی زندگی لکھنؤ ہی میں گزاری اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔
میرؔ کلاسیکی اردو غزل کے ایک بڑے شاعر ہیں۔ وہ اردو غزل کے امام سمجھے جاتے ہیں۔ سادہ اور عام فہم الفاظ میں سوزو گداز کی کیفیات پیدا کرنے میں میرؔکا کوئی ثانی نہیں۔ غزلوں کے علاوہ شاعری کی دوسری اصناف میں بھی انھوں نے خوب جوہر دکھائے ہیں۔ ان کی مثنویوں’بہارِ عشق‘ ،’شعلۂ عشق‘ اور ’دریائے عشق‘ کو بھی بہت شہرت ملی۔فارسی میں اردو شعرا کا ایک تذکرہ، ’’نکات الشعرا‘‘ اور’’ذکرِ میر‘‘ کے عنوان سے اپنی سوانح حیات بھی لکھی ہے ۔ انھیں خدائے سخن کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
غزل
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
نازُکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
بار بار اُس کے در پہ جاتا ہوں
حالت اب اضطراب کی سی ہے
میں جو بولا، کہا کہ یہ آواز
اُسی خانہ خراب کی سی ہے
میرؔ اُن نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے
(میر تقی میرؔ)